پاکستان
کیا کچھ نہیں دیا گوا کی مسیحی برادری نے کراچی کو
ایک صدی پرانی کراچی گوان ایسوسی ایشن کی عمارت سر اٹھائے آج بھی اس عہد رفتہ کی یاد دلاتی ہے، جب انیسویں صدی میں گوا سے نقل مکانی کر کے آنے والی اس مسیحی کمیونٹی نے کراچی میں قدم رکھے۔
کراچی کے گورا قبرستان میں مقدس صلیب کے سائے میں بیٹھے تریپن سالہ پیٹرک جیمز کے آباء و اجداد گوا سے نقل مکانی کر کے کراچی آئے تھے۔ پیٹرک جمیز کے مطابق انہوں نے بہت سارے پادریوں کے ہمراہ کام کرنے کے ساتھ ساتھ عمر کا ایک بہت بڑا حصہ اپنی والدہ کی خدمت میں گزارا۔ ان کی والدہ کا انتقال 2015 ء میں ہوا، یہی وجہ ہے کہ پانچ بھائیوں اور دو بہنوں میں صرف پیٹرک نے ہی ابھی تک شادی نہیں کی۔
معاشی زبوں حالی کا شکار پیٹرک جیمز کہتے ہیں، ”میں خداوند کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے زندگی دی، یہ ملک اور یہ زندگی دونوں خداوند کی طرف سے ایک تحفہ ہیں۔‘‘
تنہا پن کا احساس پیٹرک کو پچھلے پینتیس برسوں سے گورا قبرستان لے آتا ہے، جہاں وہ گھنٹوں مقدس سلیب کے نیچے بیٹھ کر اپنے پیاروں کو یاد کرتا ہے۔ گوا برادری کے ایک فعال سماجی کارکن رونالڈ ڈیسوزہ کے مطابق گوا کے مسیحیوں نے 1820ء میں گوا سے نقل مکانی شروع کی۔ انہوں نے مزید بتایا، ”انیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں گوا سے نقل مکانی کرنے والے کم پڑھے لکھے عیسائیوں کے بعد پڑھے لکھے افراد نے بھی یہاں کا رخ کیا۔ انگریزی زبان سے واقفیت کی بناء پر برطانوی راج میں اچھی نوکریاں ان کے حصے میں آئیں۔‘‘
پاکستان میں آباد کیتھولک مسیحیوں کی کل تعداد میں سے گوا سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ ان میں سے بہت سارے اب ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ دوران گفتگو پیٹرک نے بتایا، ”صدر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے سارے مسیحی ملک سے باہر چلے گئے ہیں، کوئی امریکا اور کوئی یورپ، وہ لوگ واپس آکر اب یہاں کیا کریں گے۔‘‘
ایک اندازے کے مطابق قیام پاکستان کے وقت تقریبا 20 ہزار گوا کے مسیحیوں میں سے اکثریت کراچی میں آباد تھی۔ لیکن آج ان کی تعداد صرف چھ ہزار سے آٹھ ہزار کے درمیان ہی رہ گئی ہے۔ پاکستان میں آج انہیں بہت کم لوگ ہی جانتے ہیں۔ کراچی کی ترقی میں بھی اس برادری کے کردار سے اکثریت ناواقف ہی ہے۔
سن 1862ء میں پیدا ہونے والے سنسنّاٹس فیبین ڈی ابیرو کے والد نے گوا سے سندھ 1846ء میں نقل مکانی کی۔ سینٹ پیٹرک سے ابتدائی تعلیم کے بعد ترقی کے زینے طے کرتے کرتے اسسٹنٹ کلکٹر سکھر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ کراچی واپسی کے بعد وہ بلدیہ کے صدر بنے۔ فیبین ڈی ابیرو کو سندھ کی بارہ معتبر شخصیات میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ اسی دوران انہوں نے شہر کراچی کی ترقی کے لیے بہت سے کام کیے۔ انہوں نے 1908ء میں ایک زمین خریدی جسے بعد میں کراچی کا پہلا باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بنایا گیا ٹاؤن شپ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
اس ٹاؤن شپ کا نام سنسنّاٹس ٹاؤن رکھا گیا۔ اس کی منصوبابندی کرنے والے پیڈروڈی سوزا اور جارج بریٹو تھے۔ ان کی یہ کاوش اپنے دور میں شہری منصوبہ بندی کا ایک شاندار نمونہ تھی۔ بعد میں اس کا نام تبدیل کر کے گارڈن ایسٹ رکھ دیا گیا۔ آج بھی پیڈرو روڈ اور بریٹو روڈ کراچی کے علاقے گارڈن ایسٹ میں موجود ہیں۔
فرینک ڈی سوزا بھی اس برادری کا ایک اور بہت اہم نام ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ریلوے گارڈ سے کیا اور پھر زینہ بزینہ ترقی کرتے ہوئے 1929ء میں ریلوے بورڈ آف انڈیا کے پہلے انڈین ممبر بنے۔ تقسیم ہند کے بعد محمد علی جناح نے فرینک کو درخواست کی کہ وہ پاکستان آ کر ریلوے کا نظام ترتیب دیں۔ اس کام کے اختتام پر فرینک اپنی جائیداد عمر رسیدہ افراد کے نام وقف کر کے خود ہندوستان چلے گئے۔
جیروم ڈی سلوا کا شمار کراچی کے ان لوگوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے اس شہر کو بے تحاشہ رہائشی عمارتیں، پارک، حکومتی کوارٹر اور شاپنگ پلازہ دیے۔ انہوں نے اپنے ساتھی حسین کے ساتھ مل کر 500 گھروں پر مشتمل حسین ڈی سلوا ٹاؤن نارتھ ناظم آباد بنایا۔ حسین ڈی سلوا کراچی کی پہلی بلند رہائشی عمارت تھی۔ کراچی میں ان کی تعمیرات کی ایک طویل فہرست ہے، جس نے نئے کراچی کی بنیاد رکھی۔
برصغیر کی تاریخ کے پہلے کیتھولک میئر مینول مسقوٹہ 1945ء سے 1946ء تک کراچی کے میئر رہے۔ انہوں نے دو بار کراچی گوا ایسوسی ایشن کے سربراہ کے طور پر خدمات بھی انجام دیں۔ کراچی اور ہندوستان کے پہلے کارڈنل والیریان گراسیاس اور جوزف کوردیرو کا تعلق بھی گوا سے تھا۔ کارڈنل والیریان گراسیاس کا ذکر ٹائمز میگزین میں اگلے ممکنہ پوپ کے طور پر بھی کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ اور پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین چارلس لوبو، جنہیں یو این میں پاکستان کا سفیر بھی بنا کر بھیجا گیا تھا، گوا برادری کا معتبر نام ہے۔
ہرمن ریمنڈ ہائی کورٹ کے جج ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور سندھ کے چیف پراسیکیوٹر بھی رہے۔ اس کے علاوہ سڈنی پریرا جوہری توانائی کمیشن کے چیئرمین کے عہدے پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ اگر کھیل کے میدان کی بات کی جائے تو مینن سوریز نے مردوں کے اور فوبی باربوزہ نے خواتین کی بیڈمنٹن، مائیکل روڈریگز نے ٹیبل ٹینس میں پاکستان کا نام روشن کیا۔
ایک بہت لمبے عرصے تک اس برادری نے اپنی موسیقی سے بھی کراچی کے باسیوں کا دل لبھایا ہے۔ رالف ڈی ارانج گزشتہ پچاس برسوں سے کلاسیکی گٹار بجا رہے ہیں۔ یہ پاکستان میں موجود چند پرتگالی فنکاروں میں سے ایک ہیں۔ آج بھی پاکستان کے ایک انتہائی مایہ ناز فنکار لوئس جے پنٹو عرف گمبی اپنے فن سے مداحوں کو محضوظ کر رہے ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے بتایا، ”پاکستان کے سابق صدر جرنل ضیاء الحق سے پہلے کراچی میں گوا برادری نے موسیقی میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ تقریباً سارے کلبوں اور ہوٹلوں میں یہی لوگ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے۔ ضیاء الحق کے برسرِاقتدار آنے کے بعد ان فنکاروں نے مغربی ممالک کا رخ کیا۔‘‘
انہوں نے مزید بتایا، ”میں یہ سمجھتا ہوں کے میری پہچان ہمیشہ پاکستان کے اس موسیقار کی حیثیت سے ہی ہو گی، جس نے موسیقی میں مشرقی رنگ شامل کیا۔‘‘ گوانس کی مادری زبان کونکنی آج بھی اس برادری میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ کسی بھی محفل میں کونکنی زبان میں موسیقی کا ہونا لازمی سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے کھانے بھی بہت مشہور رہے ہیں۔ کراچی میں سو سال پرانی مسقوٹہ بیکری آج بھی اپنے ذائقے دار کیک کی وجہ سے مشہور ہے۔
شہر کراچی میں گوا مسیحیوں کی ایک صدی پرانی نشانی کراچی گوان ایسوسی ایشن کے بارے میں کینیڈا میں مقیم 62 سالہ مینن روڈریگز نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ”یہ کلب گوا پرتگالی ایسوسی ایشن کے نام سے 1887ء میں وجود میں آیا تھا۔ اس کی خوبصورت عمارت 1905ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ 1936ء میں اس کا نام تبدیل کر کے کراچی گون ایسوسی ایشن رکھ دیا گیا۔‘‘
مینن روڈریگز نے گوانس کے عیسائیوں پر ایک تحقیقی کتاب”کراچی کے گوانس” بھی مرتب کی ہے۔ یہ کتاب اس لیے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اس دور میں بہت کم لوگ ہیں، جو گوان کمیونٹی کے بارے میں جانتے ہیں۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد ہی گوا کےمسیحیوں نے بیرونی ممالک کا رخ کر لیا تھا۔ مینن نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا گیا، 1953 ’’ء کے بعد سے ہی گوانس نے انگلستان، کینیڈا، آسٹریلیا اور امریکا کا رخ کیا۔ یہ لوگ سیاسی اور اقتصادی تبدیلیوں کے تناظر میں اچھی زندگی کی تلاش میں ملک سے باہر گئے۔‘‘
جب کہ رونالڈ ڈی سوزا کا کہنا تھا کہ ”1925ء میں جب کینیڈا میں اچھے مواقع موجود تھے تو بہت سے گوانس نے وہاں کا رخ کیا۔ لیکن ضیاء الحق کی حکومت میں جب بین المذاہب ہم آہنگی میں کمی آنا شروع ہوئی تو بہت سے لوگ اچھی زندگی اور مذہبی آزادی کی تلاش میں بھی دوسرے ممالک چلے گئے۔‘‘
کراچی شہر میں اتنے عرصے تک فعال رہنے والی گوان برادری آج بھی اپنے کلب میں کرسمس اور دیگر تقریبات منعقد کرتی ہے مگر یہ اب اس چار دیواری تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
اس حوالے سے کراچی گوانس ایسوسی ایشن کے ٹرسٹی لیذلی روڈریگز نے ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ”اس وقت کا کراچی کچھ اور ہی تھا، کرسمس پر پورا صدر سجایا جاتا، گلیوں میں چراغاں ہوتا تھا۔ ہم سب بلا کسی خوف و خطر خوشیاں مناتے تھے۔ کوئی کسی سے اس کے مذہب اور عقیدے کے بارے میں نہیں پوچھتا تھا کہ وہ پارسی ہے مسلمان یا عیسائی۔ ہم سب بس ایک ہو کر خوشیاں مناتے تھے مگر اب یہ سب کچھ ممکن نہیں رہا۔‘‘
ملک چھوڑ کر جانے کے حوالے سے اک سوال پر انہوں نے کہا کہ ”میں ملک چھوڑ کر کہاں جاؤں گا۔ کراچی جیسا کوئی شہر نہیں، اس شہر کی بات ہی کچھ اور ہے۔ میں یہ ملک اور شہر چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا۔‘‘ انیسویں اور بیسویں صدی میں گوا کے مسیحیوں نے تعلیم، موسیقی، کھیل اور سماجی کاموں میں وہ خدمات سرانجام دیں، جو فراموش نہیں جا سکتیں۔ آج بھی گوانس مختلف محکموں میں اپنی خدمات ایک محبِ وطن شہری کے طور پر سرانجام دے رہے ہیں۔(قومی آواز)
پاکستان
تحریک انصاف تحریک ختم کرکے مذاکرات کے لیے آگے آئے، شہباز شریف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن اور لانگ مارچ کی سیاست ترک کر کے مذاکرات کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل احتجاج ملک کی اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی امیج کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کو کم کرنے کے لیے بنائے جانے والے کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جناب شریف نے کہا، “میں اب بھی ان سے کہتا ہوں کہ ہوش میں آجائیں، اپنے لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو ہم ضرور آپ کے ساتھ بیٹھیں گے اور بات کریں گے تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے، یہ آپسی محنت اورپاکستانی قوم کی آواز ہے ۔”
تقریب میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سہیل اشرف سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے تھے لیکن حتمی مسودہ تیار ہونے کے بعد تحریک انصاف کے آخری لمحات میں تبدیلی کے مطالبات کی وجہ سے یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا براہ راست معیشت پر اثر پڑے گا، برآمدات، مینوفیکچرنگ اور درآمدات متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کارکن یا انجینئر وقت پر فیکٹری یا دفتر نہ پہنچ سکے تو پورے ملک کو نقصان پہنچے گا۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت نے میکرو اکنامک استحکام کو بحال کیا ہے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے معاشی ترقی کی جانب کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات، ترسیلات زر اور صنعتی پیداوار میں اضافہ جیسے اشارے مثبت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کو نقصان پہنچانا ریاست کے مفادات کے خلاف ہوگا۔
انہوں نے کہا، “ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اسے ہر ممکن طریقے سے یقینی بنائیں گے۔”
مسٹر شریف نے کشمیر چوک پروجیکٹ کو ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر مسٹر نقوی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔ منصوبے کی لاگت 1.6 بلین پاکستانی روپے تھی، جبکہ ٹھیکہ 1.4 بلین روپے میں دیا گیا تھا۔ چار سلپ روڈ بنائے جائیں گے۔ اس چوراہے پر فی الحال تقریباً 107,000 گاڑیاں چلتی ہیں اور خاص طور پر وی آئی پی کی نقل و حرکت کے دوران یہ ٹریفک جام کا شکار ہوتا ہے۔
یو این آئی۔ الف الف ۔ م الف
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
پشاور، جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ہزاروں حامیوں نے ان کی رہائی اور آئینی و سیاسی حقوق میں اضافے کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
لانگ مارچ اتوار کو پی ٹی آئی کے زیر اقتدار صوبہ خیبر پختونخوا سے شروع ہوا۔ شرکا اسلام آباد پہنچنے سے قبل راستے میں کئی مقامات پر قیام کریں گے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جلوس کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے نوجوانوں سے اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکام مارچ کو دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ شہر کے اطراف ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اہم شاہراہوں اور سرکاری علاقے کے اطراف رکاوٹوں کے طور پر مال بردار کنٹینر بھی رکھے گئے ہیں۔ اس علاقے میں پارلیمنٹ، وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
تازہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر پی ٹی آئی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ یہ مارچ، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات پر مذاکرات کی پیشکش کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔
عمران خان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان سیاسی تنازع 2022 میں پارلیمنٹ کے ذریعے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری ہے۔ خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام فوج پر عائد کیا تھا، جس کی فوج نے تردید کی ہے۔
مئی 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو بعد میں فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔
سابق بین الاقوامی کرکٹ اسٹار اور ملک کی اہم سیاسی شخصیت عمران خان خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔
فوج اور سویلین حکومت اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کا حوالہ دیتی ہیں۔ عمران خان کو کئی مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، تاہم ان میں سے ایک کے سوا باقی تمام سزائیں بعد میں معطل یا کالعدم قرار دی جا چکی ہیں اور ان کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں۔
حکومت نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد سے متصل صوبے میں بڑھتے ہوئے عسکریت پسندانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کی جانب سے وضع کردہ حکمت عملی میں تعاون کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے مذاکرات کے خاتمے کے حوالے سے اسلام آباد کی وضاحت مسترد کر دی ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت وفاقی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عمل نہیں کرتی تو اس کے خلاف آئینی اور قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
ہندوستان7 days agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
