جموں و کشمیر
کشمیر میں سیاسی خاندانوں کے نوجوان وارث سیاسی منظر نامے پر چھا رہے ہیں
سری نگر، وادی کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کے زور پکڑنے کے ساتھ ہی سیاسی خاندانوں سے وابستہ ایک نئی نسل یہاں کے سیاسی منظر نامے پر نمو دار ہو رہی ہے جن میں سے بیشتر پہلی بار انتخابی میں میدان میں اتر کر اپنی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔مبصرین کا خیال ہے کہ یہ نوجوان لیڈر خطے کے سیاسی مستقبل کو جدید تقاضوں کے مطابق تشکیل دینے میں نمایاں رول ادا کرسکتے ہیں۔
جموں و کشمیر میں 18 ستمبر سے شروع ہونے والے اسمبلی انتخابات میں پہلی بار قسمت آزمائی کرنے والی سیاسی لیڈروں کی اس نوجوان نسل کا اجمالی تعارف یوں ہے۔التجا مفتی:
37 سالہ التجا مفتی کا تعلق پی ڈی پی سے ہے اور وہ پی ڈی پی کی سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی ہیں۔وہ جنوبی کشمیر کے سری گفوارہ – بجبہاڑہ اسمبلی حلقے سے اپنی سے قسمت آزما رہی ہیں۔ التجا مفتی پی ڈی پی کی میڈیا ایڈوائزر ہیں اور اپنی والدہ محبوبہ مفتی کے سوشل میڈیا اکاوئنٹس کو چلاتی ہیں۔
سال 2019 میں دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد وہ اس فیصلے کے خلاف اپنے دو ٹوک بیانات کے سبب منظر عام پر آگئیں۔ انہوں نے پارلیمانی انتخابات کے دوران اپنی والدہ کے لئے وسیع پیمانے پر انتخابی مہم چلائی تاہم وہ ثمر آور ثابت نہ ہوسکی۔التجا مفتی کو ایک انتہائی متحرک و فعال نوجوان لیڈر کے طور پر مانا جا رہا ہے۔ یاسی کیرئر کا آغاز کر رہی ہیں۔
میاں مہر علی: 38 سالہ میاں مہر علی کا تعلق نیشنل کانفرنس سے ہے۔ وہ نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان میاں الطاف کے فرزند ہیں۔میاں مہر علی اننت ناگ- راجوری اسمبلی حلقے سے الیکشن لڑ رہے ہیں اور چوتھی نسل کے نمائندے کی حیثیت سے اپنے خاندان کی وارثت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔تنویر صادق:45 سالہ تنویر صادق نیشنل کانفرنس سے وابستہ ہیں۔ وہ نینشل کانفرنس کے سابق قانون ساز مرحوم صادق علی کے چشم وچراغ ہیں۔تنویر صادق اس وقت اس پارٹی کے ترجمان اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہیں اور جڈی بل اسمبلی حلقے سے قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔
سلمان ساگر: 40 سالہ سلمان ساگر کا تعلق نیشنل کانفرنس سے ہے اور وہ نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کے چشم و چراغ ہیں۔ وہ پارٹی کے یوتھ صدر ہیں اور سری نگر کے سابق میئر بھی رہ چکے ہیں۔سلمان ساگر سری نگر کے حضرت بل اسمبلی حلقے سے چنائو لڑ رہے ہیں۔
احسان پردیسی: 50 سالہ احسان پردیسی بیوروکریٹ سے سیاست داں بننے والے غلام قادر پردیسی کے فرزند ہیں۔ وہ سری نگر کی لالچوک اسمبلی نشست سے لڑ رہے ہیں۔احسان پردیسی پہلے پی ڈی پی کے ساتھ وابستہ تھے۔یاور بانڈے: 41 سالہ یاور بانڈے پی ڈی پی سے وابستہ ہیں۔ وہ پی ڈی پی کے سابق رکن اسمبلی عبدالمجید بانڈے کے پوتے ہیں۔انہوں نے تین سال قبل پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔
محمد رفیق نائیک: 60 سالہ محمد رفیق نائیک کا تعلق پی ڈی پی سے ہے وہ سابق وزیر اور جموں وکشمیر اسمبلی کے سابق سپیکر علی محمد نائیک کے فرزند ہیں۔ وہ حال ہی میں پی ڈی پی میں شامل ہوئے۔
محمد رفیق نائیک سرکاری ملازم تھے اور سال رواں کے اوائل میں سبکدوش ہوگئے اور وہ جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے ترال اسمبلی حلقے سے قسمت آزامائی کر رہے ہیں۔
ارشاد رسول کار: 56 سالہ ارشاد نیشنل کانفرنس سے وابستہ ہیں وہ سابق رکن پارلیمان مرحوم غلام رسول کار کے بیٹے ہیں۔ وہ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کی سوپور اسمبلی نشست سے قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔پیشے سے تاجر ارشاد کار پانچ برس قبل نیشنل کانفرنس میں شامل ہوئے۔سجاد شفیع: 53 سالہ سجاد شفیع نیشنل کانفرنس سے وابستہ ہیں۔ وہ سابق رکن پارلیمان اور نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر محمد شفیع اوڑی کے چشم و چراغ ہیں۔سجاد شفیع پیشے کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر ہیں انہوں نے سال 2006 میں نوکری چھوڑ دی۔ہلال اکبر لون: 50 سالہ ہلال اکبر لون کا تعلق نیشنل کانفرنس سے ہے۔ وہ سابق رکن پارلیمان اور نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر محمد اکبر لون کے فرزند ہیں۔پیشے سے ایک وکیل ہلال اکبر شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کی سونہ واری اسمبلی سیٹ سے اپنا قسمت آزما رہے ہیں۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں یومِ آزادی سے پہلے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیا
سرینگر، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلن پربھات نے جمعرات کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں یومِ آزادی کی تقاریب سے پہلے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کو مضبوط کرنے کی ہدایت دی۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر پولیس، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کے سینیئر حکام شامل ہوئے۔ ان میں اسپیشل ڈی جی پی (ہم آہنگی)، اے ڈی جی پی (سی آئی ڈی)، کشمیر اور جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی)، رینج ڈی آئی جی، اضلاع کے ایس ایس پی اور دیگر حکام شامل تھے۔
مسٹر پربھات نے میٹنگ میں 15 اگست کی تقاریب کے لیے سیکورٹی انتظامات اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ الرٹ رہیں تاکہ یہ قومی تقریب بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں سیکورٹی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے فورسیز کی موثر تعیناتی، علاقے میں بہتر نگرانی اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر بھی زور دیا۔
پولیس ڈائریکٹر جنرل نے اہم مقامات، بالخصوص سرینگر کے بخشے اسٹیڈیم میں انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے تقریب کے مقام کے اندر اور آس پاس ٹریفک کنٹرول اور پارکنگ مینجمنٹ کو موثر طریقے سے کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ باہمی ہم آہنگی کو بہتر رکھیں تاکہ تقریب میں شرکت کرنے والے لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو اور انہیں تمام ضروری سہولیات آسانی سے مل سکیں۔ سیکورٹی تیاریوں، جوانوں کی تعیناتی، انٹیلی جنس معلومات، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
