جموں و کشمیر
کشمیر میں شہنشاہ زمستان چلہ کلان اختتام پذیر، 8 فروری تک موسم میں کسی بڑی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں
سری نگر، وادی کشمیر میں شہنشاہ زمستان کے نام سے مشہور چالیس روزہ چلہ کلان بغیر کسی بڑے پیمانے کی برف باری کے خشک موسم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جبکہ بیس روزہ چلہ خورد تخت نشین ہوا۔
چالیس روزہ چلہ کلان کے دوران گرچہ ٹھٹھرتی شبانہ سردیوں کا زور جاری رہا تاہم وسیع پیمانے پر بھاری برف باری نہیں ہوئی۔
سری نگر میں 21 دسمبر یعنی چلہ کلان کے پہلے ہی دن شبانہ درجہ حرارت منفی 8.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوکر رواں موسم کی سرد ترین رات ریکارڈ ہوئی تھی جو گذشتہ 133 برسوں میں سری نگر میں ماہ دسمبر میں ریکارڈ ہونے والا تیسرا کم ترین درجہ حرارت ہے۔
معمول کے برعکس اس چلہ کلان کے دوران طویل خراب موسمی صورتحال دیکھنے کو نہیں ملی بلکہ زیادہ تر ایام نہ صرف خشک رہے بلکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
اس سخت ترین موسم کے آخری 29 دنوں کے دوران جموں و کشمیر میں بارش میں 87 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ اس دوران صرف 11.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
چلہ کلان کے اختتام کے بعد 20 روزہ چلہ خورد شروع ہوا ہے گرچہ اس میں بھی بھاری برف باری کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے تاہم سردی کا زور زیادہ نہیں ہوتا ہے۔
دریں اثنا محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق وادی میں 8 فروری تک موسم میں کسی بڑی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے تاہم اس دوران وقفے وقفے سے پہاڑی علاقوں میں ہلکی برف باری یا بارشیں ہوسکتی ہیں۔
متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان نے کہا کہ وادی میں 31 جنوری کو بھی مطلع عام طور پر یا جزوی طور پر ابر آلود رہ سکتا ہے اور اس دوران شام کے وقت کہیں کہیں ہلکی برف باری یا بارشیں متوقع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وادی میں یکم فروری کو بھی مطلع ابر آلود رہنے کے ساتھ صبح کے وقت کہیں کہیں ہلکی برف باری یا بارشوں کا امکان ہے جبکہ بعد میں موسم میں بہتری واقع ہو سکتی ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ وادی میں 2 فروری کو موسم جزوی یا مجموعی طور پر ابر آلود رہ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعد میں 3 فروری کو بھی موسم عام طور پر ابر آلود رہ سکتا ہے اور اس دوراب شام کے وقت کہیں کہیں ہلکی برف باری یا بارشوں کا امکان ہے۔
موصوف ترجمان نے کہا کہ وادی میں 4 فروری کو مطلع مجموعی طور پر ابرت آلود رہ سکتا ہے اور اس دوران بیشتر مقامات پر ہلکی سے درمیانی درجے کی برف باری یا بارشیں متوقع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وادی میں 5 فروری کی صبح یا دوپہر کے بعد کہیں کہیں برف باری یا بارشیں ہوسکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعد میں 6 سے 8 فروری تک موسم جزوی یا مجموعی طو پر ابر آلود رہ سکتا ہے۔
محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں سیاحوں، مسافروں اور ٹرانسپورٹروں سے موسمیاتی ایڈوائزری پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔
ادھر وادی میں مطلع ابر آلود رہنے سے شبانہ درجہ حرارت میں قدرے بہتری واقع ہوئی ہے۔
گرمائی دار الحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت0.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی1.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
وادی کے شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی6.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی6.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی1.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی 3.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
وادی کے ایک اور سیاحتی مقام سونہ مرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی5.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی2.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت 1.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت 0.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی2.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور بانڈی پورہ میں کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی0.1 ڈگری سینٹی گریڈ اور 2.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع میں شبانہ درجہ حرارت بالترتیب منفی1.1 ڈگری سینٹی گریڈ اور 0.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
جنوبی کشمیر کے پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی1.1 ڈگری سینٹی گریڈ، منفی1.9 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی3.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
لداٰخ یونین ٹریٹری کے ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی9.2 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ضلع کرگل میں کم سے کم درجہ حرارت منفی6.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
سائبیریا کے بعد دنیا کے دوسرے سرد ترین علاقہ دراس میں کم سے کم درجہ حرارت منفی11.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا23 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا22 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا22 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا20 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
جموں و کشمیر21 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا5 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان3 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
