تازہ ترین
کشمیر: چلہ کلان کی کم برف باری شعبہ زراعت و باغبانی کے لئے مضر
سری نگر، یکم فروری (یو این آئی) وادی کشمیر میں چالیس روزہ چلہ کلان نہ صرف ٹھٹھرتی سردیوں کے لئے بلکہ بھاری برف باری کے لئے بھی مشہور ہے لیکن رواں موسم سرما کے اس چلہ کے دوران معمول سے کافی کم برف باری ریکارڈ ہوئی جس نے کسانوں میں گونا گوں خدشات کو جنم دیا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ چلہ کلان میں معمول سے کم برف باری ریکارڈ ہونے سے شعبہ زراعت اور شعبہ باغبانی پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔وادی میں چالیس روزہ چلہ کلان جو شہنشاہ زمستان کے نام سے بھی مشہور ہے، 20 دسمبر کی درمیانی رات سے شروع ہو کر 30 جنوری کو اختتام پذیر ہوجاتا ہے۔
محکمہ جیو انفارمیٹکس کے کاڈینیٹر ڈاکٹر عرفان رشید نے یو این آئی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ چلہ کلان میں معمول سے کم ہونے والی برف باری سے پانی کی قلت ہوسکتی ہے جس کا براہ راست اثر یہاں کے شعبہ زراعت اور شعبہ باغبانی پر پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابھی بھی ماہ فروری یا ماہ مارچ میں بھی بھاری برف باری ہوسکتی ہے لیکن وہ برف جلد ہی پگھل جاتی ہے لیکن دسمبر یا جنوری میں پڑنے والی برف کافی دیر تک رہتی ہے جو زیادہ فائدہ بخش ہوتی ہے اور جس کا پانی سال بھر کام آتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہاڑی علاقوں میں چلہ کلان کے دوران کہیں کہیں دو فٹ برف بھی پڑی ہے لیکن جب مجموعی طور پر دیکھا جاتا ہے تو معمول سے کم ہی برف باری ہوئی ہے۔
موصوف کاڈینیٹر نے کہا کہ پانی کی قلت سے ظاہر ہے کہ پیداوار متاثر ہوگی جس سے کسانوں کو نقصان ہوسکتا ہے۔
متعلقہ محکمے کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق ضلع سری نگر میں سال 2020- 2021 کے ماہ دسمبر اور جنوری میں مجموعی طور پر 212.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی تھی جبکہ سال 2021- 2022 کے ماہ دسمبر اور ماہ جنوری کے دوران مجموعی طور پر 129.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
اسی طرح سرحدی ضلع کپوارہ میں سال 2020 – 2021 کے ماہ دسمبر اور ماہ جنوری میں مجموعی طور پر 185.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی تھی جبکہ سال 2021 -2022 کے ماہ دسمبر اور ماہ جنوری کے دوران مجموعی طور پر 96.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
وادی کے قصبہ قاضی گنڈ میں سال2020 -2021 کے دوران مجموعی طور پر 226.1 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی تھی جبکہ سال2021 -2022 کے ماہ دسمبر اور ماہ جنوری کے دوران مجموعی طور پر 186.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
سری نگر سے تعلق رکھنے والے معروف ماہر موسمیات فیضان عارف کا کہنا ہے کہ معمول سے کم برف باری ہونے سے پانی کی قلت ہوگی جس سے بالواسطہ یا بلا واسطہ تمام لوگ متاثر ہوں گے۔
انہوں نے کہا: ’ماہ جنوری میں معمول سے کم برف باری ہوئی اور اگر اب ماہ فروری اور مارچ میں بھاری برف باری ہوگی بھی لیکن وہ زیادہ دیر تک جمع نہیں رہے گی جلد ہی پانی بن کر بہہ جائے گی جس سے آنے والے موسموں کے دوران جب پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، کسانوں کو گوناگوں مشکلات سے دوچار ہونا پڑے گا‘۔
ان کا کہنا تھا: ’سال گذشتہ بھی بارہ مہینوں میں سے صرف دو ماہ کے دوران معمول سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ باقی دس مہینوں کے دوران معمول سے کم بارش ہی ریکارڈ ہوئی تھی‘۔
موصوف ماہر موسمیات نے کہا کہ دریائے جہلم میں بھی پہلی بار پانی کی سطح بہت کم دیکھی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشاہدے کے مطابق ماہ فروری میں بھی بھاری برف باری متوقع نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گلیشئر تیزی سے پگھل رہے ہیں جبکہ کئی چھوٹے گلیشئرز سرے سے ہی غائب ہوگئے ہیں۔ فیضان عارف نے کہا کہ یہ گلوبل وارمنگ کا نتیجہ بھی ہے کہ ماحولیات میں عدم توازن پیدا ہوگیا ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’اسی عدم توازن کے باعث بے موسم بارشیں اور برف باری ہوتی ہے اور زمین پر قبل از وقت ہی سبزہ اگنے لگتا ہے اور پیڑ پودوں پر وقت سے پہلے ہی شگوفے پھوٹنے لگتے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں آنے والے وقت میں پانی کی قدر کرنی ہوگی اور حکومت کے لئے ضروری ہے کہ پانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے نئی تیکنیکوں کو استعمال میں لائے۔
وسطی ضلع بڈگام کے پارس آباد سے تعلق رکھنے والے اعجاز احمد نامی ایک میوہ باغ مالک کا کہنا ہے کہ سال گذشتہ قبل از وقت بھاری برف باری سے ہمیں کافی نقصان ہوا تھا اور امسال معمول سے کم برف باری ہونا ہمارے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
غلام حسن نامی ایک کسان نے کہا کہ کھیتی باڑی کا انحصار پانی کی فراوانی پر ہے اگر پانی کی قلت ہوگی تو فصل متاثر ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ میرے گھر میں چولھا جلنے کا انحصار میرے میوہ باغ پر ہی ہے اگر امسال بھی نقصان ہوا تو فاقہ کشی کی نوبت آسکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ وادی میں گذشتہ موسم سرما کے دوران بھاری برف باری ہوئی تھی اور ریکارڈ توڑ شبانہ درجہ حرارت بھی ریکارڈ ہوا تھا لیکن رواں موسم سرما کا چلہ کلان، جو چند روز قبل ہی رخصت ہوا، اپنے تیکھے تیور دکھانے میں ناکام رہا۔
ہندوستان
ووٹ چوری کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج کی راہل نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کی یوم پیدائش کے موقع پر جمعہ کو ’ووٹ چوری‘ کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو اب عہدہ چھوڑنا ہی ہوگا۔
مسٹر گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ہزاروں نوجوان ’ووٹ چوری‘ کے خلاف پرامن اور بغیر تشدد کے اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے سڑکوں پر ہیں اور ان کا مطالبہ واضح ہے کہ گیانیش کمار استعفیٰ دیں اور جمہوریت کو بچایا جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی-شاہ حکومت کے جواب میں لڑکے اور لڑکیوں کو سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا ہے اور سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے ووٹ چوری پر سوال اٹھایا۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے۔ سی۔ وینوگوپال نے کہا کہ یہ ملک کی جمہوریت کو بچانے اور عام آدمی کے ووٹ کے تحفظ کی لڑائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ عام لوگوں کے ووٹ چھین رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس، انڈیا اتحاد اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے لیے یہ فیصلہ کن لڑائی ہے اور جمہوریت کو بچانے کے لیے وہ جیل جانے کو بھی تیار ہیں۔
اس دوران کانگریس نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل ایکس پر کہاکہ ’’جمہوریت کے قاتل گیانیش کمار کی خیر نہیں ہے۔ عوام ’ووٹ چوروں‘ کا اطمینان سے حساب لے گی۔‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
ڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
سری نگر، موجودہ رنجی ٹرافی چیمپئن جموں و کشمیر نے سری نگر میں ایرانی کپ کے دوسرے دن زبردست حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو مشکل حالات سے نکل کر ’ریسٹ آف انڈیا‘ کے خلاف پہلی اننگز میں 41 رنز کی برتری حاصل کر لی۔
صبح 37 رنز پر چار وکٹ اور لنچ کے بعد 166 رنز پر آٹھ وکٹ کے مشکل مرحلے سے گزرنے والی موجودہ رنجی ٹرافی چیمپئن ٹیم کو تجربہ کار پارس ڈوگرا (75 رنز) اور نمبر 10 پر کھیلنے والے لون ناصر مظفر (58 گیندوں پر جارحانہ 64 رنز) نے سنبھالا اور ٹیم کو 278 رنز تک پہنچا دیا۔
’ریسٹ آف انڈیا‘ کی ٹیم پہلے دن 237 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔ جموں و کشمیر کی برتری حاصل کرنے کی امیدوں کو اس وقت ابتدائی دھچکا لگا جب مکیش چودھری نے اوور نائٹ بلے باز شبھم کھجوریہ اور کامران اقبال کو پہلے ہی پانچ اووروں میں آؤٹ کر دیا۔
اس کے بعد ڈوگرا اور عبدالصمد نے 97 رنز کی شراکت قائم کرکے اننگز کو سنبھالا اور لنچ تک جموں و کشمیر کا اسکور 134 رنز پر چار وکٹ تک پہنچا دیا۔ صمد (57 رنز) اس جوڑی میں زیادہ جارحانہ رہے اور وقفے سے عین قبل انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی 12ویں نصف سنچری مکمل کی۔
تاہم لنچ کے بعد ’ریسٹ آف انڈیا‘ نے واپسی کرتے ہوئے صمد کو آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد کنہیا ودھاون، عابد مشتاق اور ساحل لوٹرا بھی 11 اوور کے دوران آؤٹ ہوگئے۔ 166 رنز پر آٹھ وکٹ گرنے کے بعد بھی جموں و کشمیر 71 رنز پیچھے تھی۔
اس کے بعد ڈوگرا اور مظفر نے نویں وکٹ کے لیے 64 رنز کی شراکت قائم کرکے اننگز کا رخ بدل دیا۔
ڈوگرا 75 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، جس کے ساتھ ہی چودھری نے اننگز میں اپنی پانچویں وکٹ حاصل کی، لیکن مظفر نے جارحانہ کھیل جاری رکھا اور آخری وکٹ کے لیے سنیل کمار کے ساتھ 48 رنز جوڑ کر جموں و کشمیر کو برتری دلا دی۔ مظفر بالآخر 64 رنز پر آؤٹ ہوئے اور جموں و کشمیر کی پوری ٹیم 278 رنز پر سمٹ گئی۔ چودھری نے 78 رنز دے کر پانچ وکٹ حاصل کیے، جبکہ آکاش دیپ نے 43 رنز دے کر تین وکٹ لیے۔
جواب میں ’ریسٹ آف انڈیا‘ نے اسٹمپس تک ایک وکٹ پر 24 رنز بنا لیے تھے اور وہ اب بھی 17 رنز پیچھے تھی۔ سودیپ گھرامی اور سَنَت سانگوان ناٹ آؤٹ تھے، جبکہ سست اوور ریٹ کے باعث 15 اوورز کا کھیل نہیں ہو سکا۔
مختصر اسکور:
ریسٹ آف انڈیا: 237 اور 1/24 (سنیل کمار 1/9)، جموں و کشمیر: 278 (پارس ڈوگرا 75، لون ناصر مظفر 64، عبدالصمد 57؛ مکیش چودھری 5/78، آکاش دیپ 3/43) — 17 رنز پیچھے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
یمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
صنعا، 2 یمن کی مسلح افواج نے جمعہ کو تعز صوبے میں ایران نواز حوثی فورسز کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے تین گھنٹے کے دوران حوثی جنگجوؤں، کمک اور فوجی تنصیبات پر 20 فضائی حملے کیے۔ اس دوران صوبے کے کئی محاذوں پر شدید لڑائی جاری رہی۔
یمنی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ فضائیہ نے تعز میں حوثیوں کی نقل و حرکت، کمک، اجتماعات، گاڑیوں اور فوجی سازوسامان کو نشانہ بناتے ہوئے 20 ’’درست فضائی حملے‘‘ کیے۔ ان کے مطابق حملوں میں اہداف کو براہ راست نشانہ بنایا گیا اور حوثی جنگجوؤں، سازوسامان اور فوجی نقل و حرکت کو نقصان پہنچا۔
تعز میں حالیہ دنوں لڑائی میں نمایاں شدت آئی ہے۔ یمنی حکومتی فورسز حوثی ٹھکانوں اور ان کی سپلائی لائنوں کے خلاف زمینی و فضائی کارروائیاں کر رہی ہیں، جبکہ حوثیوں نے بھی کئی محاذوں پر حملے تیز کیے ہیں اور سمیعہ ضلع میں نیا محاذ کھولا ہے۔
یمنی فوج کے مطابق صنعا، صعدہ اور تعز میں بھی حوثی ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں۔ فوج نے صنعا میں کارروائی کو ’’اعلیٰ اہمیت کے اہداف‘‘ کے خلاف آپریشن قرار دیتے ہوئے صعدہ میں 11 اہداف کو نشانہ بنانے اور تعز میں حوثیوں کے ایک ’’مکمل فوجی نظام‘‘ پر 27 فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
یمنی حکومت کے مطابق مشرقی محاذوں، البیضاء اور مغربی تعز کے الوازعیہ ضلع کے المنصورہ میں حوثی جنگجوؤں اور فوجی سازوسامان کے خلاف 468 حملے کیے گئے، جن میں سیکڑوں حوثی جنگجوؤں کے ہلاک یا زخمی ہونے اور فوجی سازوسامان کی تباہی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
دریں اثنا، تعز کے مختلف علاقوں میں شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ حکومتی فورسز نے تعز شہر کے شمال میں الاربعین میں حوثیوں کا بڑا حملہ پسپا کرنے اور شہر کے مشرقی مضافات میں دراندازی کی کوششیں ناکام بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت بڑھی ہے جب چند روز قبل حوثیوں کے ڈرون حملے نے سعودی عرب کے مدینہ میں طیبہ بجلی تقسیم مرکز کو نشانہ بنایا تھا۔ سعودی عرب کے اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے حملے کی ذمہ داری حوثیوں پر عائد کرتے ہوئے اسے ’’بزدلانہ دہشت گردانہ کارروائی‘‘ قرار دیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا ۔
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
-
دنیا1 week agoیو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
-
دنیا1 week agoامریکہ-چین سربراہ اجلاس کے آغاز پر ٹرمپ کا شی جن پنگ کا شاندار استقبال
-
کھیل1 week agoسروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ نے ہندوستان کو ایشیائی کھیلوں میں دوسرا طلائی تمغہ دلایا
