تازہ ترین
کشمیر کا فوجی حل ناممکن،پاکستان مسئلے سے دستبردار : اے ایس دلت
خبراردو:
وادی کشمیر میں فوج ، سی آر پی ایف اور ایس او جی کومسلسل جنگجو مخالف آپریشنوں میں بڑی کامیابیاں ملنے کے بیچ سابق انٹیلی جنس افسر امرجیت سنگھ دلت نے نئی دہلی میں ملٹری لٹریچر فیسٹیول میں منعقدہ سیشن بعنوان ’’کشمیر تنازعہ: تشخیص و علاج‘‘میں اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو فوجی قوت کے ذریعے حل کرنا ناممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر سیاسی معاملہ ہے نہ کہ فوجی لہٰذا اس کا بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے ہی سیاسی حل نکالا جانا چاہیے۔سابق را افسر نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر سے دست برداری اختیار کی ہے اسی لیے وادی کشمیر سے اب بات چیت اور مذاکرات کے حق میں صدائیں بلند ہونے لگی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کی مجموعی آبادی اب بات چیت کے حق میں اور وہ تشدد اور کشیدگی کے بجائے امن کے متلاشی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اگر ہمیں آگے بڑھنا ہے تو اس کے لیے تمام فریقین کے ساتھ بات چیت لازمی ہے۔ دلت نے بتایا کہ کشمیر میں اس وقت صورتحال یکسر مختلف ہے، یہاں ناروے کے سابق وزیر اعظم حریت کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہیں لیکن حریت والے نہ ہی پاکستانی ہائی کمشنر اور نہ ہی نئی دہلی کی طرف سے نامزد مذاکرات کے بات چیت کررہی ہے۔تاہم حریت والوں کی طرف سے پیغام بالکل عیاں ہے کیوں کہ وہ لوگ اب کشمیر میں بات چیت کا قیام اور پرامن ماحول چاہتے ہیں۔سابق را افسر کے مطابق اگر چہ ہم کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے رول کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تاہم کشمیر ی اب پاکستان میں دلچسپی نہیں رکھتے۔دلت نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کا اب مسئلہ کشمیر میں کوئی خصوصی رول نہیں ہے ۔ پاکستان صرف 1994تا 1995کشمیر میں دلچسپی رکھتا تھا جس دوران وہ یہاں تمام تر حالات کا بالواسطہ ذمہ دار تھا۔
انہوں نے بتایا کہ کشمیر میں اب حالات بہتر ہے اور سب کچھ قابو میں ہے لیکن یہاں سیاسی پہل کی اشد ضرورت ہے۔اس دوران سابق چیف آف اسٹاف مرکزی کمانڈ لیفٹنٹ جنرل گوتم بینرجی نے بتایا کہ کشمیرمیں اگر چہ حالات پرامن ہے تاہم پھر بھی سیاسی پہل کی انتہائی ضرورت ہے لیکن سوال ہے کہ اس کے لیے زمینی سطح پر سیاسی کھلاڑیوں کی کمی محسوس کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سال 1989 کشمیر میں صورتحال ٹھیک تھی مابعد کے برسوں میں فوج نے چار یا پانچ مرتبہ مسئلہ کشمیر کو سیاسی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے سازگار ماحول تیار کیا البتہ بدقسمتی سے ہماری کوششوں سے کوئی فائدہ نہیں سمیٹا گیا اور اس طرح کشمیر کو فوج کے تصرف میں دیا گیا۔سابق فوجی افسر نے بتایا کہ کشمیری اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ وہ بھارت سے کبھی بھی علیحدگی اختیار نہیں کرسکتے تاہم وہ اپنی طرف سے مزاحمتی راہ پر ڈٹے ہوئے ہیں جو کہ کشمیری سماج کا اب طرہ زمتیاز بن چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر کو سیاسی بنیادوں پر حل کرنے کی خاطر سیاسی پہل وقت کی اولین ضرورت ہے اور اسے وقت ضائع کئے بغیر ہی شروع کیا جانا چاہیے۔سیمینار سے سابق جی او سی 15ویں کور لیفٹنٹ جنرل ستیش دوا نے وادی میں مقامی نوجوانوں کی عسکری صفوں میں شمولیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت وادی میں عسکری صفوں میں مقامی نوجوانوں کی زیادہ تعداد شامل ہورہی ہے جبکہ غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد انتہائی قلیل ہے۔
جولائی 2016میں مارے گئے معروف حزب کمانڈر برہان وانی پر تبصرہ کرتے ہوئے ستیش دوا نے بتایا کہ وانی انتہائی حساس جنگجو تھا جو کشمیری نوجوانوں کے لیے ایک نمونہ بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں نوجوان قیادت کا فقدان ہے کیوں کہ زمینی سطح پر لوگ بھی اس حوالے سے پریشان ہیں کہ کس کے ساتھ رابطہ کیا جائے۔سیمینار سے سابق لیفٹنٹ جنرل ایم سی بنڈاری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں فی الوقت صورتحال انتہائی خطرناک بنی ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کشمیر کا مسئلہ سیکورٹی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک تاریخی، سیاسی اور نظریاتی مسئلہ ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں اطراف کے غرور اور گھمنڈ کا معاملہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل سیاسی طور پر ممکن ہے جبکہ فوجی قوت صرف اس کے حل میں معاون کا کردار ادا کرسکتی ہے۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
