تازہ ترین
کشمیر: یوم جمہوریہ کے موقع پر موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ قدم امن دشمن عناصر کی جانب سے انٹرنیٹ خدمات کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ معطلی کا مقصد یہ بھی ہے کہ کسی بھی طرح کی افواہوں کو پھیلنے سے روکا جائے۔
سرینگر: وادی کشمیر میں ملک کے 72 ویں یوم جمہوریہ کی تقریبات کے پیش نظر تمام مواصلاتی کمپنیوں کی موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کردی گئی ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ قدم امن دشمن عناصر کی جانب سے انٹرنیٹ خدمات کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ معطلی کا مقصد یہ بھی ہے کہ کسی بھی طرح کی افواہوں کو پھیلنے سے روکا جائے۔
انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کی وجہ سے مقامی لوگوں بالخصوص پیشہ ور افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے جو تیز رفتار تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ کی مسلسل معطلی کی وجہ سے پہلے سے ہی بہت پریشان ہیں۔ وادی میں تمام مواصلاتی کمپنیوں کی انٹرنیٹ سروسز منگل کی صبح منقطع کی گئیں۔ تاہم سرکاری مواصلاتی کمپنی بی ایس این ایل کی براڈ بینڈ انٹرنیٹ خدمات کو معطلی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
کشمیر کے حالات پر گہری نگاہ رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ یوم جمہوریہ یا یوم آزادی کے موقعوں پر وادی میں مواصلاتی نظام پر قدغن عائد کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وادی میں صارفین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ خدمات کی معطلی اب وادی میں روز مرہ کا معمول بن چکا ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ دفعہ 370، جس کو تمام برائیوں کی جڑ قرار دیا جا رہا تھا، کی منسوخی کے بعد انتظامیہ نے اپنی سابقہ روشن برقرار رکھی ہے۔
سیکورٹی اداروں کا ماننا رہا ہے کہ وادی میں پاکستان نوجوانوں کو احتجاج پر اکسانے کے لئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں کا بڑے پیمانے پر استعمال کر رہا ہے۔ وادی میں معمول کے برخلاف سال 2016 اور 2017 میں یوم جمہوریہ کے موقع پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل نہیں کی گئی تھی۔
تاہم سال 2018 میں 26 جنوری کے موقع پر موبائیل انٹرنیٹ خدمات قریب 20 گھنٹوں تک جبکہ موبائل فون خدمات قریب 14 گھنٹوں تک معطل رکھی گئی تھیں۔ یہ وادی میں یوم جمہوریہ کے موقع پر مواصلاتی نظام پر عائد کی جانے والی طویل ترین قدغن ثابت ہوئی تھی۔(قومی آواز)
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
تبدیلی، اتحاد، آئین کے تحفظ کے لیے سیاسی طاقت ضروری: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ ملک میں تبدیلی لانے، اتحاد قائم رکھنے، آزادی کو برقرار رکھنے اور آئین کے تحفظ کے لیے مضبوط سیاسی طاقت کا ہونا ضروری ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعرات کے روز یہاں ‘رچناتمک کانگریس’ کی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاسی طاقت کے بغیر وسیع تر تبدیلی لانا اور آئین و جمہوریت کی حفاظت کرنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی حمایت سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اقتدار میں آئی، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اس کے کچھ رہنماؤں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ بی جے پی اپنے بل بوتے پر حکومت بنا سکتی ہے اور اسے آر ایس ایس کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں، جبکہ لوگوں کو مذہب کے نام پر بانٹتے ہیں اور ایسا کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ ملک میں تعمیری پروگرام ہونے چاہئیں، جن سے ہر شخص معاشی اور سماجی طور پر آگے بڑھ سکے۔ ترقی کا فائدہ صرف کارپوریٹ اور صنعت کاروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ سماج کے ہر طبقے کو اس کا فائدہ ملنا چاہیے۔
پارلیمنٹ کی کارروائی کے حوالے سے اپوزیشن پر لگائے جانے والے الزامات پر انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ صرف وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر دکھانے کے لیے نہیں ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ عوام کی آواز اٹھانے کے لیے پارلیمنٹ میں آتے ہیں اور وہاں تمام خیالات کو سنا جانا چاہیے۔ انہوں نے میڈیا سے بھی تمام فریقین کے نظریات کو سامنے رکھنے کی توقع ظاہر کی۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ ملک کی آزادی کی جدوجہد اورملک کی تعمیر میں تعاون دینے والے رہنماؤں کے بارے میں بھی عوام کو بتایا جانا چاہیے۔ انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو، مہاتما گاندھی، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سرکاری شعبے کے اداروں (پی ایس یوز)، اسکولوں اور انجینئرنگ کالجوں سمیت متعدد اداروں کی تعمیر میں کانگریس کا اہم کردار رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ملک میں بڑی تعداد میں ڈاکٹر، انجینئر، ماہرینِ اقتصادیات اور تاجر موجود ہیں، لیکن ان کی تیاری میں پہلی حکومتوں اور اداروں کے تعاون کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ تاریخ کو سمجھے بغیر ملک کی تعمیر میں تعاون دینے والے رہنماؤں پر تنقید کرنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کانگریس کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کی جمہوریت، آئین اور آزادی کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے جدوجہد کریں، کیونکہ اگر آج کی نسل ملک کے لیے نہیں لڑے گی تو آنے والی نسلوں کا مستقبل متاثر ہوگا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کی توہین پر پرینکا نے جتایا سخت اعتراض، مودی سے مانگا جواب
نئی دہلی، کانگریس رکنِ پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے اتراکھنڈ میں کانگریس کی ریلی میں پارٹی صدر ملکارجن کھرگے کے خطاب کے بعد اسٹیج کی تطہیر (شُدّھی کرن) کے معاملے پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے اس معاملے میں جواب مانگا ہے۔
محترمہ واڈرا نے جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا عمل اور ایسی سوچ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی نظریاتی سوچ کو ظاہر کرتی ہے۔ اس طرح کی سوچ بے حد شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تنگ نظری کو مسترد کیا جانا چاہیے، یہ کیا طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کو اس واقعے کی مذمت کرنی چاہیے اور معافی مانگنی چاہیے۔ مسٹر کھرگے نے اسے خود کا اور دلت برادری کی توہین بتایا ہے اور چھوت چھات جیسا عمل قرار دیا ہے۔
جمعرات کے روز اس مسئلے پر راجیہ سبھا میں کافی ہنگامہ ہوا اور قائدِ ایوان جے پی نڈا نے اس واقعے کی مذمت کی اور کارروائی کا یقین دلایا۔ قابلِ ذکر ہے کہ ایسی خبریں ہیں کہ اٹھ اگست کو ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں کانگریس کی ریلی میں مسٹر کھرگے کے خطاب کے بعد اسٹیج کو دھویا گیا اور تطہیر کے لیے ہون کیا گیا۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
