تازہ ترین
سفیر مسکراہٹ کا: افسانہ نگاری
الطاف جمیل ندوی
افسانہ نگاری بنیادی طور ادب کے زمرے میں آتی ہے’ یعنی یہ ایک فنی کام ہے جو مخصوص ہیئتی اور تکنیکی لوازمات کا حامل ہے۔بیشتر افسانے سماجی موضوعات اور مسائل کی تخلیقی عکاسی کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ افسانے کسی بھی سماج کی سیاسی’ سماجی’معاشی اور ثقافتی نشیب وفراز کی ادبی تاریخ بن جاتے ہیں اور اگر کوئی افسانہ نگار اپنے خطے یا اپنے سماجی ماحول کو افسانوی فن کے قالب میں ڈالتا ہے تو وہ اس خطے یا سماج کی ایک جیتی جاگتی کہانی بیان کرتا ہے اور ایک باشعور و ذمہ دار فرد کا ثبوت بھی فراہم کرتا ہے۔ راقم افسانہ لکھنے کے دوران ان باتوں کا خاص رکھتا ہے اس لئے میرے بیشتر افسانے کشمیر کی داستان سناتے ہیں۔ جس کی وجہ سے کشمیر سے باہر کے لوگ انہیں پسند بھی کرتے ہیں افسانہ نگاری ادب کا ایک ایسا جز بن چکا ہے جس سے اب فرار کی راہ تلاش کرنا معیوب لایعنی کام ہے افسانہ نگاری کا یہ سفر انسانی کی فکر و افکار کے ساتھ پروان چڑھتا ہے.
جس بھی سماج سوسائٹی معاشرے سے افسانہ نگار وابستہ ہو اسی طرح کے افسانہ اس کے نوک قلم سے منصئہ شہود پر آتے رہتے ہیں فن افسانہ نگاری ایک الگ بات ہے مجھے اس سے بحث نہیں کرنی ہاں ہم ضرور اس بات کی اور توجہ دے سکتے ہیں کہ افسانہ نگاری کیونکر وجود میں آئی یا آتی ہے یہ ایک تخیل ہے جو انسان کی سوچوں کے ساتھ محو پرواز ہوکر انسانی معاشرے کی عکاسی کرتا ہے اور انسانی معاشرے کے لئے افسانہ نگار افکار و نظریات کی آبیاری کرتا ہے میں نے مختلف افسانے پڑھئے آج تک جن میں افسانہ نگاروں کی مختلف تخلیقات نے مجھے بے حد متاثر کیا جن میں عہد حاضر کے کشمیری افسانہ نگار نور شاہ جناب نذیر مشتاق پرویز مانوس طارق شبنم راجہ یوسف وغیرھم قابل ذکر ہیں جو پوری علمی و ادبی قوت سے اپنے فن میں رنگ بھرتے رہتے ہیں اور وادی کشمیر کے ادبی افق کے یہ پیارے تخلیق کار ایک درخشاں مستقبل کے لئے کوشاں و متفکر ہیں جو ان کی تخلیقات سے مترشح ہے ان کے علاوہ بھی بہت سے ایسے اصحاب علم و ادب کے موتی ہیں جو اپنی افسانہ نویسی سے امید سحر کی نوید سناتے ہیں.
سفیر مسکراہٹ
سوشل میڈیا پر ایک بار کسی پوسٹ پر ایک جناب نے خوبصورت انداز میں کومنٹ کرکے نیچے مسکراہٹ لفظ لکھا ہوا تھا ان کے اس انداز سے میں متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا ان سے دوستی کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے بڑے دل کے ساتھ قبول کرلیا ان کی اکثر تخلیقات سوشل میڈیا پر اسی لفظ پر اختتام ہوجاتی ہیں ہر لمحہ لبوں پر مسکراہٹ لئے یہ صاحب کوئی اور نہیں ہماری وادی کشمیر کے ایک خوبصورت علاقہ جسے ہندواڑہ کے نام سے ہم سب واقف ہیں کہ ایک خوبصورت بستی وڑیپورہ کے مکین ہیں ان کی نشو و نما جس زرخیز بستی میں ہوئی ہے وہ ازخود قابل ستائش ہے .
(میری مراد ان ہواؤں اور ان بہتے پانی کے پیارے چشموں سے ہے جو اس بستی کے لئے قدرت کا انمول تحفہ ہے میں اکثر ان علاقوں سے بے حد محبت و عقیدت رکھتا ہوں جو قدرت کے حسین نظارے پیش کرتے ہیں اور جنہیں قدرت نے خوب سنوارا ہے ایسی ہی بستیوں سے اکثر صاحب قلم و ادب اٹھتے ہیں کیوں کہ ان بستیوں کی مٹی یا پانی میں کوئی ملاوٹ نہیں ہے ) تو ایسی ہی حسین و دلکش بستی سے ہم سب کو اپنی مسکراہٹ کا تحفہ دینے والے ڈاکٹر ریاض توحیدی کا تعلق ہے جو اردو ادب کے تئیں کافی متحرک اور ممتاز مقام کے ساتھ مشغول سفیر ادب بنئے ہوئے ہیں ان سے تعلق کا اصل سبب سوشل میڈیا ہی بنا پھر کبھی کبھی ان سے ملاقاتیں بھی ہوئی جو مختصر ہی تھیں ۲۴ اگست ۲۰۱۹ کو ان کی طرف سے دو کتابوں کا ایک تحفہ ملا مجھے اس تحفہ سے بے حد خوشی و مسرت کا احساس ہوا جس کے لئے میں ان کا بے حد ممنون و مشکور ہوں ان دو کتابوں میں ایک افسانوی مجموعہ بھی ہے جس پر تھوڑی سی روشنی ڈالنے کا خواہستگار ہوں.
ڈاکٹر ریاض توحیدی صاحب کی افسانہ نگاری پر تصنیف ہوئی کتاب
وادی کشمیر سے ہم سب واقف ہیں یہاں کے حالات یہاں کی غربت یہاں کی مجبوریاں تو ایسے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ علم و ادب کے فروغ کے لیے کوشاں رہتے ہوں وہ بلا کیونکر ان حالات سے لاتعلق رہیں ایسے ہی ادبی افق میں سے افسانہ نگار بھی ہیں جو اپنی تخلیقات کے ساتھ اپنی قوم و ملت کی خیر خواہی کے ہی متمنی ہوتے ہیں اور یہ ہمیشہ سے دیکھنے میں آیا ہے کہ ادبی دنیا سے تعلق بنائے رکھنے والے اصحاب علم نے ہمیشہ اپنی قوم و ملت کے غم اور خوشی کو تخلیق کیا اسی تناظر میں جس کی قوم و ملت کو حاجت تھی.
ایسے ہی ہمارے پیارے اور ہر دل عزیز نے اپنی تخلیقات میں کوشش کی ہے کتاب کا نام کالے پیڑوں کا جنگل کالے دیوؤں کا سایہ دراصل یہ دو الگ الگ کتابیں ہیں جن مارکیٹ میں آنے کی تاریخ اور سنہ اشاعت بھی الگ الگ ہیں کتابوں کی مارکیٹ میں عدم دستیابی کے سبب اور ارباب علم اور شائقین ادب کے اسرار پر ڈاکٹر ریاض توحیدی نے دونوں کتابوں کو ایک ساتھ شائع کیا مطلب ایک ہی کتاب کی صورت اور یوں یہ کتاب مارکیٹ میں آئی اور چھا گئی کتاب کی آپ جوں ہی ورق گردانی شروع کرین گئے تو صفحہ نمبر چھ پر جلی حروف میں لکھا انتساب پڑھنے کو ملے گا میرے خیال سے مصنف محترم نے پوری کتاب کا تعارف انتساب میں ہی پیش کیا ہے گر کوئی صاحب ادب اس جانب تھوڑی سی بھی توجہ دے تو بہ آسانی پوری کتاب کے مضامین جو افسانوں پر مشتمل ہیں سمجھنے میں آسانی ہوگی
انتساب کتاب کچھ یوں ہے
وادی گلپوش کے ان ریشم مزاج بلبلوں کے نام
جو کالے پیڑوں کے جنگل کے درمیان
کالے دیوؤں کے سایوں میں بھی چہچہاتے رہتے ہیں
میں ان الفاظ کو سوچتا رہا کچھ سمجھ نہ آیا میں سوچ رہا تھا کہ پریوں کی کہانیاں ہو گئیں یا دیؤؤں کے قصے تخیل میں میری سوچیں محو پرواز تھیں کہ مصنف کی تخلیق انہیں کہانیوں کے آس پاس گھومتی ہوں گئیں جو ہم بڑے زمانے سے اپنے بڑوں سے سنا کرتے تھے جہاں پریوں کے گیت اور دیؤؤں کا جبر ہوا کرتا تھا اور اک مظلوم انسان ان کے ہاتھ آکر اپنی دنیا کو ویران پوتے دیکھا کرتا تھا پر کتاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے جوں ہی پہلے افسانے ماں کو پڑھا تو نگاہ کے کناروں پر نمی سی آگئی پر میری سوچ پر وہی مہیب چھایا ہوا تھا جسے میں نے اپنے تخیل میں بسائے ہوئے رکھا تھا پر اچانک سے کتاب کے ابتدائیہ جو ریاض توحیدی صاحب کے نوک قلم کا ہی کمال ہے اس پر لکھا ہوا تھا پہلے
مجھے پریوں کی یہ جھوٹی کہانی مت سناؤ تم
میں اپنی آنکھ کے اندر کئی کوہ قاف رکھتا ہوں
مجھے اس ایک شعر نے کتاب کا ہلکا پھلکا موضوع اور افسانوں کا موضوع بتا دیا کہ موصوف پریوں یا دیؤؤں کی نہیں بلکہ اپنی وادی کشمیر کے ان بلبلوں کی باتیں ان پر بیتے ستم ان کی مجبوریاں ان کی بے بسی کو تخلیقی پیرائے میں پیش کررہے ہیں اپنے پڑھنے والوں کے سامنے جہاں خوشیاں اور غم ایک ساتھ رقص کر رہی ہیں جہاں مسکراہٹیں تو دم توڑ رہی ہیں پر ہچکیاں محو پرواز ہیں جہاں آہوں اور ہچکیوں کی اک بڑی دنیا آباد ہوکر بھی ویرانے کا تصور پیش کر رہی ہے میرے لئے اس کتاب کے مطالعے کے دوران عجب احساس یہ تھا کہ یہ تمام کہانیاں معاشرے کے آس پاس ہی ہورہے حالات کے عکاس ہیں اس کتاب کے جن افسانوں نے مجھے بے حد متاثر کیا مندرجہ ذیل ہیں
گلوبل جھوٹ گمشدہ قبرستان قتل قاتل مقتول کشمیر نواز کالے پیڑوں کا جنگل ہائی جیک کالے دیوؤں کا سایہ زہریلے ناخدا وطن کی عصمت جن کے پڑھنے کے دوران آپ یقین کریں آپ کی نگاہیں بھیگ جائیں گئیں کتاب کے بقیہ افسانے بھی بہت ہی اعلی ہیں جو ہمارے لئے ایک تحریک کا سبب بن سکتے ہیں اس کتاب کے مطالعے کے لئے ہم ملتمس ہیں کہ اس ادبی روشنی کو بکھیرنے کے لئے آپ کوشش کریں تاکہ آپ اپنے سماج اور سوسائٹی کے لئے خدمت کرسکیں ضروری نہیں ہے کہ آپ قلم اٹھا کر لکھنے بیٹھ جائیں بلکہ ہم بہترین کوششوں کا استقبال بھی کرسکتے ہیں اور یہ کارہائے نمایاں ہم کبھی انجام دے سکتے ہیں جس کے لئے اصحاب علم و ادب کی تخلیقات کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ آئندہ نسلوں تک بھی صحیح کتابوں کے ذریعہ پہنچا جائے.
افسانہ نگاری یا حرام کاری
ادب کی دنیا سے منسلک ارباب علم و ادب بخوبی جانتے ہیں کہ ادب افسانہ نگاری یا شاعری ہو ہر صنف کے نام پر بے حیائی بے شرمی اور بدی کو عام کیا جارہا ہے نئے ادیب جو مغربی افکار و نظریات کی چکا چوند سے متاثر ہیں وہ آئے روز کچھ نہ کچھ تخلیق کر ہی لیتے ہیں یا سرقہ بازی کرکے مختلف ادیب و دانشور حضرات کے ادبی شہہ پارے چرا کر نوجوان نسل کو تباہی کی اور لے جارہے ہیں ان کے افسانوں میں اکثر محبوب و معشوق ہی نکلتے ہیں سوائے اس کے انہیں سماج میں کیا کچھ ہورہا ہے نظر نہیں آتا ہمیں اس بلا سے چھٹکارا پانے کے لئے لازم ہے کہ بہتر ادب اور ادیب کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ صالح اور پاکیزہ ادب ہی منصئہ شہود پر پر آتا رہے
ہندوستان
مودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر نشانہ لگایا اور الزام لگایا کہ وہ مسٹر کمار کا استعمال انتخابات کی ‘میچ فکسنگ’ کے لیے کرتے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے ہفتہ کی دیر شام سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ مسٹر مودی اور مسٹر شاہ نے پہلے مسٹر کمار کو بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں استعمال کیا اور بعد میں انہیں انتخابات میں ‘میچ فکسنگ’ کی ذمہ داری سونپ دی۔
انہوں نے لکھا، “پہلے گیانیش کمار— پھرحاضر سروس آئی اے ایس افسر —کا استعمال بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں کیا گیا۔ پھر مودی اور شاہ نے انہیں (گیانیش کمار) امپائر بنا دیا اور ہندستان کے انتخابات کی میچ فکسنگ کی ذمہ داری سونپ دی۔”
مسٹر گاندھی کا یہ بیان کیرالہ کانگریس کے ایک بیان کے بعد آیا ہے جس میں پارٹی سوشل میڈیا ایکس پر دعویٰ کرتے ہوئے کہتی ہے، “گیانیش کمار کو لے کر بڑا انکشاف۔ کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جی جی تھامسن نے کہا ہے کہ مسٹر کمار نے ان سے رابطہ کر کے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لیے کہا تھا اور انہیں وزیر کے عہدے کی پیشکش بھی کی تھی۔”
کیرالہ کانگریس نے سوال کرتے ہوئے کہا، “گیانیش کمار یہ تجویز کس حیثیت سے دے رہے تھے۔ وہ کس کے اختیار سے بول رہے تھے اور 2016 میں بی جے پی کے لیے سیاسی بھرتی میں ایک الیکشن کمشنر مبینہ طور پر کیوں شامل تھے؟”
اس کے ساتھ ہی کیرالہ کانگریس نے مسٹر تھامسن کا ایک ویڈیو بھی شیئر کیا ہے جس میں وہ ملیالم میں مسٹر گیانیش کمار کے بارے میں دعویٰ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
ابھرتے ہوئے طبی اختراعی نظام میں شامل ہوں: ڈاکٹر جتیندر کی جموں و کشمیر سے اپیل
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ ہندوستان اگلی نسل کے طبی طریقۂ علاج کے میدان میں عالمی رہنما بننے کی جانب گامزن ہے اور ملک حیاتیاتی علوم، طبی تحقیق اور صحت کے شعبے میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔
طب کے موجودہ دور کو انتہائی دلچسپ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے ظہور سے صحت کے شعبے میں ایسے امکانات پیدا ہو رہے ہیں جن کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج ٹیکنالوجی پر مبنی طریقۂ کار اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل پیدا کرنا ہوگا، تاکہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کو مریضوں کے لیے حقیقی اور بامعنی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
انہوں نے یہاں انٹرنیشنل میڈیکل سائنسز اکیڈمی (آئی ایم ایس اے) کے جموں و کشمیر چیپٹر کی جانب سے منعقدہ پہلے ’آروگیہ شکھر سمان۔ ایک میڈیکل انویسٹیچر تقریب‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’مستقبل میں طبی طریقۂ علاج کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقوں اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل ضروری ہوگا۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، جینومکس، کوانٹم ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز صحت کے شعبے میں نئے امکانات کے دروازے کھول رہی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کئی علاج اور تشخیصی طریقۂ کار میں ایک بڑی نعمت ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کلچر ٹیسٹ کے لیے درکار وقت کم کرنے اور جین کی ترتیب معلوم کرنے میں اے آئی کی صلاحیت کا حوالہ دیا، تاہم زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو کلینیکل میڈیسن کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
مرکزی وزیر نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار ایسی صورت حال پیدا کر سکتا ہے جس میں ڈاکٹر کی طبی بصیرت متاثر ہو۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے متبادل طریقوں کو دستیاب رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے، لیکن مریض کے علاج میں ڈاکٹر کا طبی فیصلہ بنیادی حیثیت رکھنا چاہیے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نیا نقشہ شیئر کر کے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ شیئر کرتے ہوئے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن کی جانب سے ایران کی سات روزہ تجویز مسترد کیے جانے کے فوراً بعد ہوئی، جس کا مقصد تزویراتی اہمیت کی اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال کرنا تھا۔
متعدد امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سوال اٹھایا کہ آیا تہران امریکی مطالبات پر عمل کرے گا۔
امریکی میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئے حملے شروع کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق معاملے سے واقف امریکی حکام نے بتایا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے قطر کے ثالثوں کے ذریعے سات روزہ تجویز پیش کی تھی۔
اس تجویز کے تحت ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولتا اور جوہری مذاکرات بحال کرتا، بشرطیکہ واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کر دیتا۔تاہم امریکی حکام نے تہران اور ثالثوں کو بتایا کہ امریکہ ناکہ بندی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
ٹرمپ مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان برقرار ہے، جبکہ واشنگٹن تہران پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
دریں اثنا، ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب نے تصفیے کی نئی شرائط مسترد کر دی ہیں اور جون میں طے پانے والے ایک ابتدائی معاہدے کی بعض شرائط کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
تاہم قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے سفارت کاری جاری رہنے کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورت حال کو ’’بہت مشکل اور چیلنجنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے آبی گزرگاہوں کے معاملے میں ’’جوڑ توڑ اور بلیک میلنگ‘‘ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ’’کچھ مثبت پیش رفت‘‘ ہوئی ہے اور امید ظاہر کی کہ سفارت کاری دونوں فریقوں کو کسی حل تک پہنچا سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اس کی تجویز قبول کی جائے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
