تازہ ترین
سفیر مسکراہٹ کا: افسانہ نگاری
الطاف جمیل ندوی
افسانہ نگاری بنیادی طور ادب کے زمرے میں آتی ہے’ یعنی یہ ایک فنی کام ہے جو مخصوص ہیئتی اور تکنیکی لوازمات کا حامل ہے۔بیشتر افسانے سماجی موضوعات اور مسائل کی تخلیقی عکاسی کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ افسانے کسی بھی سماج کی سیاسی’ سماجی’معاشی اور ثقافتی نشیب وفراز کی ادبی تاریخ بن جاتے ہیں اور اگر کوئی افسانہ نگار اپنے خطے یا اپنے سماجی ماحول کو افسانوی فن کے قالب میں ڈالتا ہے تو وہ اس خطے یا سماج کی ایک جیتی جاگتی کہانی بیان کرتا ہے اور ایک باشعور و ذمہ دار فرد کا ثبوت بھی فراہم کرتا ہے۔ راقم افسانہ لکھنے کے دوران ان باتوں کا خاص رکھتا ہے اس لئے میرے بیشتر افسانے کشمیر کی داستان سناتے ہیں۔ جس کی وجہ سے کشمیر سے باہر کے لوگ انہیں پسند بھی کرتے ہیں افسانہ نگاری ادب کا ایک ایسا جز بن چکا ہے جس سے اب فرار کی راہ تلاش کرنا معیوب لایعنی کام ہے افسانہ نگاری کا یہ سفر انسانی کی فکر و افکار کے ساتھ پروان چڑھتا ہے.
جس بھی سماج سوسائٹی معاشرے سے افسانہ نگار وابستہ ہو اسی طرح کے افسانہ اس کے نوک قلم سے منصئہ شہود پر آتے رہتے ہیں فن افسانہ نگاری ایک الگ بات ہے مجھے اس سے بحث نہیں کرنی ہاں ہم ضرور اس بات کی اور توجہ دے سکتے ہیں کہ افسانہ نگاری کیونکر وجود میں آئی یا آتی ہے یہ ایک تخیل ہے جو انسان کی سوچوں کے ساتھ محو پرواز ہوکر انسانی معاشرے کی عکاسی کرتا ہے اور انسانی معاشرے کے لئے افسانہ نگار افکار و نظریات کی آبیاری کرتا ہے میں نے مختلف افسانے پڑھئے آج تک جن میں افسانہ نگاروں کی مختلف تخلیقات نے مجھے بے حد متاثر کیا جن میں عہد حاضر کے کشمیری افسانہ نگار نور شاہ جناب نذیر مشتاق پرویز مانوس طارق شبنم راجہ یوسف وغیرھم قابل ذکر ہیں جو پوری علمی و ادبی قوت سے اپنے فن میں رنگ بھرتے رہتے ہیں اور وادی کشمیر کے ادبی افق کے یہ پیارے تخلیق کار ایک درخشاں مستقبل کے لئے کوشاں و متفکر ہیں جو ان کی تخلیقات سے مترشح ہے ان کے علاوہ بھی بہت سے ایسے اصحاب علم و ادب کے موتی ہیں جو اپنی افسانہ نویسی سے امید سحر کی نوید سناتے ہیں.
سفیر مسکراہٹ
سوشل میڈیا پر ایک بار کسی پوسٹ پر ایک جناب نے خوبصورت انداز میں کومنٹ کرکے نیچے مسکراہٹ لفظ لکھا ہوا تھا ان کے اس انداز سے میں متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا ان سے دوستی کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے بڑے دل کے ساتھ قبول کرلیا ان کی اکثر تخلیقات سوشل میڈیا پر اسی لفظ پر اختتام ہوجاتی ہیں ہر لمحہ لبوں پر مسکراہٹ لئے یہ صاحب کوئی اور نہیں ہماری وادی کشمیر کے ایک خوبصورت علاقہ جسے ہندواڑہ کے نام سے ہم سب واقف ہیں کہ ایک خوبصورت بستی وڑیپورہ کے مکین ہیں ان کی نشو و نما جس زرخیز بستی میں ہوئی ہے وہ ازخود قابل ستائش ہے .
(میری مراد ان ہواؤں اور ان بہتے پانی کے پیارے چشموں سے ہے جو اس بستی کے لئے قدرت کا انمول تحفہ ہے میں اکثر ان علاقوں سے بے حد محبت و عقیدت رکھتا ہوں جو قدرت کے حسین نظارے پیش کرتے ہیں اور جنہیں قدرت نے خوب سنوارا ہے ایسی ہی بستیوں سے اکثر صاحب قلم و ادب اٹھتے ہیں کیوں کہ ان بستیوں کی مٹی یا پانی میں کوئی ملاوٹ نہیں ہے ) تو ایسی ہی حسین و دلکش بستی سے ہم سب کو اپنی مسکراہٹ کا تحفہ دینے والے ڈاکٹر ریاض توحیدی کا تعلق ہے جو اردو ادب کے تئیں کافی متحرک اور ممتاز مقام کے ساتھ مشغول سفیر ادب بنئے ہوئے ہیں ان سے تعلق کا اصل سبب سوشل میڈیا ہی بنا پھر کبھی کبھی ان سے ملاقاتیں بھی ہوئی جو مختصر ہی تھیں ۲۴ اگست ۲۰۱۹ کو ان کی طرف سے دو کتابوں کا ایک تحفہ ملا مجھے اس تحفہ سے بے حد خوشی و مسرت کا احساس ہوا جس کے لئے میں ان کا بے حد ممنون و مشکور ہوں ان دو کتابوں میں ایک افسانوی مجموعہ بھی ہے جس پر تھوڑی سی روشنی ڈالنے کا خواہستگار ہوں.
ڈاکٹر ریاض توحیدی صاحب کی افسانہ نگاری پر تصنیف ہوئی کتاب
وادی کشمیر سے ہم سب واقف ہیں یہاں کے حالات یہاں کی غربت یہاں کی مجبوریاں تو ایسے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ علم و ادب کے فروغ کے لیے کوشاں رہتے ہوں وہ بلا کیونکر ان حالات سے لاتعلق رہیں ایسے ہی ادبی افق میں سے افسانہ نگار بھی ہیں جو اپنی تخلیقات کے ساتھ اپنی قوم و ملت کی خیر خواہی کے ہی متمنی ہوتے ہیں اور یہ ہمیشہ سے دیکھنے میں آیا ہے کہ ادبی دنیا سے تعلق بنائے رکھنے والے اصحاب علم نے ہمیشہ اپنی قوم و ملت کے غم اور خوشی کو تخلیق کیا اسی تناظر میں جس کی قوم و ملت کو حاجت تھی.
ایسے ہی ہمارے پیارے اور ہر دل عزیز نے اپنی تخلیقات میں کوشش کی ہے کتاب کا نام کالے پیڑوں کا جنگل کالے دیوؤں کا سایہ دراصل یہ دو الگ الگ کتابیں ہیں جن مارکیٹ میں آنے کی تاریخ اور سنہ اشاعت بھی الگ الگ ہیں کتابوں کی مارکیٹ میں عدم دستیابی کے سبب اور ارباب علم اور شائقین ادب کے اسرار پر ڈاکٹر ریاض توحیدی نے دونوں کتابوں کو ایک ساتھ شائع کیا مطلب ایک ہی کتاب کی صورت اور یوں یہ کتاب مارکیٹ میں آئی اور چھا گئی کتاب کی آپ جوں ہی ورق گردانی شروع کرین گئے تو صفحہ نمبر چھ پر جلی حروف میں لکھا انتساب پڑھنے کو ملے گا میرے خیال سے مصنف محترم نے پوری کتاب کا تعارف انتساب میں ہی پیش کیا ہے گر کوئی صاحب ادب اس جانب تھوڑی سی بھی توجہ دے تو بہ آسانی پوری کتاب کے مضامین جو افسانوں پر مشتمل ہیں سمجھنے میں آسانی ہوگی
انتساب کتاب کچھ یوں ہے
وادی گلپوش کے ان ریشم مزاج بلبلوں کے نام
جو کالے پیڑوں کے جنگل کے درمیان
کالے دیوؤں کے سایوں میں بھی چہچہاتے رہتے ہیں
میں ان الفاظ کو سوچتا رہا کچھ سمجھ نہ آیا میں سوچ رہا تھا کہ پریوں کی کہانیاں ہو گئیں یا دیؤؤں کے قصے تخیل میں میری سوچیں محو پرواز تھیں کہ مصنف کی تخلیق انہیں کہانیوں کے آس پاس گھومتی ہوں گئیں جو ہم بڑے زمانے سے اپنے بڑوں سے سنا کرتے تھے جہاں پریوں کے گیت اور دیؤؤں کا جبر ہوا کرتا تھا اور اک مظلوم انسان ان کے ہاتھ آکر اپنی دنیا کو ویران پوتے دیکھا کرتا تھا پر کتاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے جوں ہی پہلے افسانے ماں کو پڑھا تو نگاہ کے کناروں پر نمی سی آگئی پر میری سوچ پر وہی مہیب چھایا ہوا تھا جسے میں نے اپنے تخیل میں بسائے ہوئے رکھا تھا پر اچانک سے کتاب کے ابتدائیہ جو ریاض توحیدی صاحب کے نوک قلم کا ہی کمال ہے اس پر لکھا ہوا تھا پہلے
مجھے پریوں کی یہ جھوٹی کہانی مت سناؤ تم
میں اپنی آنکھ کے اندر کئی کوہ قاف رکھتا ہوں
مجھے اس ایک شعر نے کتاب کا ہلکا پھلکا موضوع اور افسانوں کا موضوع بتا دیا کہ موصوف پریوں یا دیؤؤں کی نہیں بلکہ اپنی وادی کشمیر کے ان بلبلوں کی باتیں ان پر بیتے ستم ان کی مجبوریاں ان کی بے بسی کو تخلیقی پیرائے میں پیش کررہے ہیں اپنے پڑھنے والوں کے سامنے جہاں خوشیاں اور غم ایک ساتھ رقص کر رہی ہیں جہاں مسکراہٹیں تو دم توڑ رہی ہیں پر ہچکیاں محو پرواز ہیں جہاں آہوں اور ہچکیوں کی اک بڑی دنیا آباد ہوکر بھی ویرانے کا تصور پیش کر رہی ہے میرے لئے اس کتاب کے مطالعے کے دوران عجب احساس یہ تھا کہ یہ تمام کہانیاں معاشرے کے آس پاس ہی ہورہے حالات کے عکاس ہیں اس کتاب کے جن افسانوں نے مجھے بے حد متاثر کیا مندرجہ ذیل ہیں
گلوبل جھوٹ گمشدہ قبرستان قتل قاتل مقتول کشمیر نواز کالے پیڑوں کا جنگل ہائی جیک کالے دیوؤں کا سایہ زہریلے ناخدا وطن کی عصمت جن کے پڑھنے کے دوران آپ یقین کریں آپ کی نگاہیں بھیگ جائیں گئیں کتاب کے بقیہ افسانے بھی بہت ہی اعلی ہیں جو ہمارے لئے ایک تحریک کا سبب بن سکتے ہیں اس کتاب کے مطالعے کے لئے ہم ملتمس ہیں کہ اس ادبی روشنی کو بکھیرنے کے لئے آپ کوشش کریں تاکہ آپ اپنے سماج اور سوسائٹی کے لئے خدمت کرسکیں ضروری نہیں ہے کہ آپ قلم اٹھا کر لکھنے بیٹھ جائیں بلکہ ہم بہترین کوششوں کا استقبال بھی کرسکتے ہیں اور یہ کارہائے نمایاں ہم کبھی انجام دے سکتے ہیں جس کے لئے اصحاب علم و ادب کی تخلیقات کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ آئندہ نسلوں تک بھی صحیح کتابوں کے ذریعہ پہنچا جائے.
افسانہ نگاری یا حرام کاری
ادب کی دنیا سے منسلک ارباب علم و ادب بخوبی جانتے ہیں کہ ادب افسانہ نگاری یا شاعری ہو ہر صنف کے نام پر بے حیائی بے شرمی اور بدی کو عام کیا جارہا ہے نئے ادیب جو مغربی افکار و نظریات کی چکا چوند سے متاثر ہیں وہ آئے روز کچھ نہ کچھ تخلیق کر ہی لیتے ہیں یا سرقہ بازی کرکے مختلف ادیب و دانشور حضرات کے ادبی شہہ پارے چرا کر نوجوان نسل کو تباہی کی اور لے جارہے ہیں ان کے افسانوں میں اکثر محبوب و معشوق ہی نکلتے ہیں سوائے اس کے انہیں سماج میں کیا کچھ ہورہا ہے نظر نہیں آتا ہمیں اس بلا سے چھٹکارا پانے کے لئے لازم ہے کہ بہتر ادب اور ادیب کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ صالح اور پاکیزہ ادب ہی منصئہ شہود پر پر آتا رہے
جموں و کشمیر
ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے: سنہا
سری نگر، ترنگے کو ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت بتاتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو کہا کہ کشمیر میں ترنگا یاترا واضح پیغام دیتی ہے کہ ملک کو کبھی نہیں رکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔
مسٹر سنہا نے قومی فخر اور اتحاد کا جشن منانے کے لیے سری نگر میں ترنگا یاترا کی قیادت کی۔ یہ یاترا دو بڑے واقعات کا سنگم تھی: ‘ہر گھر ترنگا’ عوامی تحریک اور قومی گیت ‘وندے ماترم’ کی 150 ویں سالگرہ۔
اس موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنہا نے کہا کہ ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے پیغام واضح ہے کہ ہندستان کو کبھی نہیں روکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا، “جب ‘آزادی کا امرت مہوتسو’ کے تحت 2022 میں ‘ہر گھر ترنگا’ مہم شروع کی گئی تھی تو اس کا مقصد ہر ہندوستانی کے دل میں ترنگے سے تعلق، احترام اور جذباتی تعلق کے احساس کو پھر سے جگانا تھا۔ جذبہ، وہی عقیدہ، اور وہی عزم آج، ترنگا یاترا لوگوں کے شعور، حب الوطنی کی روایت اور ایک ثقافتی قدر کے طور پر تیار ہوئی ہے جو ہر شہری کو مادر وطن سے جوڑتی ہے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ مہم میں ان کی زبردست شرکت کے لیے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا جوش پورے ملک کے لیے مشعل راہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترنگا ہمارے ملک کی روح ہے اور ‘وندے ماترم’ اس روح کی لازوال آواز ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ہمارے آباؤ اجداد کے تصور کردہ ہندوستان کی تعمیر میں اپنے تعاون پر غور کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں شہداء نے اپنے خون سے قوم کی حفاظت کی وہیں آج کی نسل کو کردار، دیانت، محنت، اتحاد اور خدمت کے ذریعے اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ کا سنگم صرف دو مہمات کا امتزاج نہیں بلکہ ایک نئے دور کا اعلان ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ جموں و کشمیر کے اعتماد سے بھرے اور مستقبل کی طرف مضبوطی سے آگے بڑھنے کی علامت ہے، جہاں ہر شہری کے پاس ‘وجئی وشوا ترنگا پیارا’ رہنے کا عزم ہے، جہاں ہر گھر حب الوطنی کا مرکز ہے، اور جہاں ہر دل قومی اتحاد کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر اور ہندوستان کے مستقبل کی تشکیل میں اجتماعی اور انفرادی ذمہ داری ادا کریں۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ترنگا نہ صرف ہر گھر میں بلکہ ہمارے خیالات، ہمارے کردار اور ہمارے اعمال میں بھی بلند ہو۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، “آئیے یہ عزم کریں کہ ‘وندے ماترم’ کے مقدس جذبے کو ہمارے ہر عمل، ہر فیصلے اور ہر ذمہ داری میں جھلکنا چاہیے۔ ہمیں ایک ایسی قوم کی تعمیر کے ذریعے اپنے لازوال ہیروز کی قربانیوں کا قرض چکانے کا عزم کرنا چاہیے، جو خوشحال، محفوظ، انصاف پسند اور مساوی مواقع کے دروازے کھولے، جہاں ہمیں جموں کے ہر شہری کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ترنگے کے رنگ زندگی کی قدروں میں جھلکتے ہیں جو کہ معاشی طور پر مضبوط ہو اور ہندوستانی ثقافت، تہذیب اور روحانی اقدار پر غیر متزلزل فخر محسوس کرے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے: ٹرمپ
میری لینڈ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں ایران پر بھروسہ نہیں ہے اور آبنائے ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ “میں ایران پر بھروسہ نہیں کرتا۔ آپ کیوں کہہ رہے ہیں کہ میں ایران پر بھروسہ کرتا ہوں؟ میں ایران پر بالکل بھروسہ نہیں کرتا۔ ایرانی فریق نے ہمیشہ جھوٹ بولا ہے،”
مسٹر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے صورت حال کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے۔ اس پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ ہم اسے چلا رہے ہیں۔ اگر ایران نے کبھی کچھ کرنے کی کوشش کی تو اسے اڑا دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت مضبوط پوزیشن میں ہے اور دعویٰ کیا کہ ایران خطے میں اپنا سابقہ اثر و رسوخ کھو چکا ہے۔
انہوں نے کہا، “اس وقت ہم بہت اچھی پوزیشن میں ہیں۔ ہمارے پاس ایک ایسا ملک ہے جو 50 سال تک مشرق وسطیٰ میں بدمعاش تھا… اب وہ مغربی ایشیا میں بدمعاش نہیں رہا۔”
ان کے تبصرے فروری کے آخر میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ امریکہ اور ایران نے ابھی تک تنازع کے خاتمے کے لیے کسی حتمی معاہدے پر پہنچنا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے ارد گرد جاری رکاوٹیں عالمی توانائی کی سپلائی کو خطرہ بنا رہی ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ عام حالات میں گزرتا ہے۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حوالے سے بتایا کہ آبی گزرگاہ 28 فروری 2026 تک کھلی رہی۔ انہوں نے مغربی پابندیوں پر بھی تنقید کی۔
“یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آبنائے ہرمز کے ارد گرد کی صورتحال اور وہاں جو کچھ ہوا وہ امریکی اور اسرائیلی حکومت کی فوجی جارحیت کی وجہ سے ہوا، جو ابھی تک جاری ہے”۔ “جہاں تک شرائط عائد کرنے کے ایران کے دعووں کا تعلق ہے، انہیں یہ معاملہ اپنی حکومت کے ساتھ اٹھانا چاہیے۔”
اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر کشیدگی تنازعہ کا ایک بڑا مرکز بنی ہوئی ہے۔ دریں اثنا، تہران اور عمان کے درمیان اس اہم آبنائے سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے انتظامات پر بات چیت جاری ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں 7 تا 10 ستمبر تک بین الاقوامی فلم فیسٹیول
جموں، جموں و کشمیر میں آنے والے سات سے دس ستمبر تک پہلی بار چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات و تعلقات عامہ ڈائرکٹوریٹ (ڈی آئی پی آر) نے اس فیسٹیول کا خاکہ تیار کیا ہے۔ یہ فیسٹیول نہ صرف جموں و کشمیر کے لوگوں تک بین الاقوامی سنیما کو پہنچائے گا، بلکہ مقامی صلاحیتوں کو فلمی صنعت کی معروف شخصیات کے ساتھ بات چیت کرنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور پیشہ ورانہ نیٹ ورک بنانے کا شاندار موقع بھی فراہم کرے گا۔
جموں و کشمیر کے فنکاروں نے اس پہل کی تعریف کرتے ہوئے اسے مقامی صلاحیتوں اور سنیما سے جڑے وسیع تر طبقے کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔
سال 2014 میں اپنی ڈوگری فلم ‘گیتیئاں’ کی ریلیز کے بعد سرخیوں میں آئے جموں و کشمیر کے معروف ڈائریکٹر راہل شرما نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹیول (آئی ایف ایف جے کے) ایک شاندار پہل ہے۔ انہوں نے کہا، “سنیما میں دلوں اور ذہنوں کو جیتنے کی ایک منفرد صلاحیت ہے، جو ہماری ثقافت، جدوجہد اور کہانیوں کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ اس سطح کے اہتمام بین الاقوامی سطح پر جموں و کشمیر کی بھرپور صلاحیتوں کو یقینی طور پر بیدار کریں گے۔ میں ان تمام شعبوں اور حصہ داروں کو مبارکباد دیتا ہوں جو اس خواب کو شرمندہ تعبیر کر رہے ہیں۔”
جموں و کشمیر کے تھیٹر اور بڑے پردے کی ایک اور معروف شخصیت کسم ٹیکو نے کہا، “بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی میزبانی کرنا حکومت کا ایک خیر مقدمی قدم ہے۔ یہ ہمارے خطے کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ نہ صرف مقامی فنکاروں کو اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ دنیا بھر کی صنعت کے ماہرین کے ساتھ تعاون اور نیٹ ورکنگ کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔”
جموں و کشمیر کے مشہور فنکار پنکج کھجوریا نے بتایا کہ 1947 میں آزادی کے بعد جب سے ہندوستان میں فلمیں بننا شروع ہوئیں، تب سے شاید ہی کوئی ایسا فلم ساز رہا ہو جو اس بات سے ناواقف ہو کہ جموں و کشمیر، بالخصوص کشمیر، ہمیشہ سے فلمی شوٹنگ کے لیے پسندیدہ مقامات میں سے ایک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 تک یہاں کئی فلموں کی شوٹنگ ہوئی اور کئی فلموں کی کہانیاں کشمیر پر مبنی رہیں۔ رامانند ساگر اور وید راہی جیسے جموں کے فلم سازوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے مزید فلم ساز جموں و کشمیر کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ فیسٹیول ہندستانی سنیما کو فروغ دے گا اور مقامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ سیاحت کی صنعت کو بھی بڑا تحرک دے گا۔
جموں کے فلم ساز اور صنعت کار اتل ونود دگل نے بھی اس قدم کو گیم چینجر قرار دیا۔ ‘شکارہ’، ‘ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا’، ‘دی اسکائی از پنک’ اور ’12ویں فیل’ جیسی کئی بالی ووڈ اور علاقائی فلموں سے وابستہ مسٹر دگل نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب ہر سال منعقد کی جائے گی۔
دریں اثنا، بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے سلسلے میں جموں میں منعقدہ ایک تقریب میں ڈائریکٹر اطلاعات شریا سنگھل نے کہا کہ جموں و کشمیر دہائیوں سے فلموں سے گہرے طور پر جڑا رہا ہے۔ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے جموں و کشمیر کی پہچان اکثر سنیما کے ذریعے ہی پہنچی ہے، اس لیے اب یہاں بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا ہونا مکمل طور پر مناسب ہے۔
محترمہ سنگھل نے کہا کہ اس فیسٹیول کا مقصد جموں و کشمیر میں فلم سازی کے جذبے کو دوبارہ بیدار کرنا اور اسے ایک اہم فلم شوٹنگ کا مرکز بنانا ہے۔ ساتھ ہی فلم انڈسٹری سے وابستہ یہاں کے باصلاحیت نوجوانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دینا ہے جہاں وہ سیکھ سکیں، قائم شدہ شخصیات سے رابطہ قائم کر سکیں اور خود آگے بڑھ سکیں۔
ڈائریکٹر اطلاعات نے بتایا کہ فیسٹیول کے دوران بین الاقوامی، قومی اور علاقائی سنیما کی فیچر فلموں، شارٹ فلموں اور ڈاکیومنٹریز کی اسکریننگ کے علاوہ فلم سازی کے جدید پہلوؤں پر ماسٹر کلاس اور تکنیکی سیشن بھی منعقد کیے جائیں گے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا23 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
