تازہ ترین
کلگام :جنگجوؤں کوپناہ دینے کی پاداش میں سابق فوجی پابندسلاسل
خبراردو:
جنوبی ضلع کولگام میں جنگجوؤں کو پناہ دینے کے جرم میں ایک سابق فوجی گزشتہ2ماہ سے جیل کی زند گی گزار رہا ہے ۔جس دوران 16سال تک فوج کی سخت نوکری کرنے کے دوران حاصل کی گئی تنخواہ کی رقم سے بنایا گیا کنکریٹ رہائشی مکان بھی زمین بوس ہوا ،جبکہ گھریلو اسباب کے علاوہ جھڑپ میں اہلکار کے تینوں بچوں کے مختلف جماعتوں کی کتابیں اور کئی اہم اسناد بھی راکھ کے میں تبدیل ہوئی۔2ماہ سے جیل کی کالی کوٹھری میں زندگی گزانے والے سابق فوجی کی اہلیہ دلشادہ بانو سوال کرتی ہے کہ جنگجوؤں ہمارے مکان میں رکے تھے تو اس میں ہمارا قصور کیا ہے؟۔12گھنٹے تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں حزب اور لشکر کے5جنگجوؤں کے علاوہ ایک عام شہری بھی پتھراو کرنے کے دوران زخمی ہونے کے بعد جاں بحق ہوا تھا .
سیکورٹی اعتبار سے انتہائی حساس جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے دیوسرچوگام علاقے میں 15ستمبر2018کو فورسز نے علاقے میں جنگجوؤں کی موجود گی کی اطلاع ملنے کے بعد محاصرے میں لے کر گھر گھر تلاشی لی ۔اس دوران فورسز اطلاع کے مطابق ہی جب سابق 16سال تک ملک کی خدمت کرنے والے سابق فوجی اہلکار55سالہ منظور احمد گنائی کے صحن میں داخل ہوکراس دوران افراد خانہ کو گھر سے باہر نکالا گیا۔تو اسی اثنا میں مکان میں موجود لشکر طیبہ عسکری جماعت سے سے وابستہ 5جنگجوؤں کے درمیان ایک معرکہ آرائی شروع ہوئی،جو 12گھنٹوں تک فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان جاری رہی ۔میڈیارپورٹ کے مطابق جس دوران جھڑپ میں حز ب المجاہدین اور لشکر طیبہ کے 5جنگجوجاں بحق ہوئے۔ جبکہ مکان کے اندر محصور جنگجوؤں کو بچانے کے لئے جھڑپ کی جگہ نوجوانوں نے فورسز پر شدہد پتھروا کیا جس کے نتیجے میں درجنوں نوجوان زخمی ہوئے جن میں ایک نوجوان بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا ہے ۔اس دوران جھڑپ میں سابق فوجی اہلکار کا کروروں کی جائیداد کے علاوہ تین منزلہ کنکریٹ مکان بکو بھی بارود سے ارانے کے بعد زمین بوس کیاگیا۔اس طرح سے کنبہ منٹوں میں شاہ سے گدہ بن گیا اور سخت سردی کے ان یام میں لوگوں کی مدد سے بنائے گئے ٹین کے شڈ میں زند گئی گزار نے پر مجبور ہوئے ہیں ۔تاہم افراد خانہ پر اس وقت ایک اور افتاد نازل ہوئی جب فورسز نے مکان مالک کو جنگجوؤں کو اپنے مکان کے اندر پناہ دینے کے جرم کی پاداش میں گرفتار کرنے کے بعد جیل بیج دیا ہے جہاں مالک مکان16سال تک ملک کے خدمت کرنے کے باوجود2ماہ سے قید کی زندگی گزار رہا ہے جبکہ افراد خانہ انہیں رہا ئی کے لئے تمام کوششوں کو ناکام دیکھنے کے بعد گھر میں خاموش بے یار مدد گار بیٹھے ہیں۔
واقعے کے درد ناک دور کو یاد کرتے ہوئے افراد خانے ن بتایا15ستمبر کو وہ اپنے گھر میں سوئے تھے اسی اثنا میں فوج،سی آر پی ایف اور ایس او جی اہلکاروں کی ایک باری جمعیت نے ہمارے مکان کو گھرے میں لے کر انہیں مکان سے باہر آنے کے لئے کہا گیا ۔انہوں نے بتایا جب وہ گھر سے باہر آئے تو وہ فورسز نے افراد خانہ کو نزدیک میں رہائش پزیر ہمسائیوں کے گھر محفوظ مقامات پر منتقل کیا ۔ور اسی اثنا میں مکان میں چھپے جنگجوؤں اور فورسز کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہو۔جس دوران گولہ باری سے پورا علاقہ لرز اٹھااورا یہ جھڑپ تقریباً 12گھنٹوں تک جا ری رہی ہے ۔انہوں نے بتایااس دوران جھڑپ میں سابق فوجی اہلکار کا3منزلہ کنکریٹ مکان ان کے سامنے بارود سے اڑا گر زمین بوس کیاگیا۔جبکہ فوجی اہلکار کے تمام افراد خانہ اس ساری صورت حال کو پر نم آنکھوں سے دیکھ کر خون کے آنسوں رورہے تھے بقول افراد خانہ ان کے والد نے ملک سے باہر سخت ڈیوٹی انجام دینے کے دوران اس مکان کو تعمیر کرنے پر ساری کمائی خرچ کی تھے اور مکان صرف 6سال قبل تعمیر کیاگیاتھا ۔جبکہ ملک کے نام اپنی ساری جوانی صرف کرنے والے فوجی اہلکارنے ڈیڈ دھائی کی سخت ڈیوٹی کی کمائی کو سینکڈوں کے اندر راکھ میں تبدیل ہوتے ہوئے اپنے آنکھوں کے سامنے دیکھا۔ اس دوران افراد خانہ نے بتایا انہوں نے تمام جمح پونجی کو اس مکان کی تعمیرپر خرچ کر کے6سال قبل تعمیر کیا تھا۔تاہم مکان پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود افراد خانہ کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوئے ہیں
نمائندے کے مطابق مقید اہلکار کے 3بیٹے ہیں جن میں سب بڑے بیٹے نے پوسٹ گریجویشن کی جبکہ دوسرے نے گریجویشن اور تیسرا لباٹری ٹلنالوجی میں ڈپلوما کر رہا ہے ۔اس دوران گھریلو سامان ان کے تمام تعلیمی اسناد اور کتابیں بھی مکان میں ہی جل کر خاکستر ہو۔اپنے رہائشی مکان سے محروم ہونے والے افراد خانہ نے بتایا کہ بے گھر ہونے کے بعد پڑوسیوں ،دوست احباب نے انہیں کچھ مدد کیا۔جس کے بعد انہوں نے ایک ٹین کا شد تعمیر کیا جہاں کنبہ سخت سردی کے باووجود اسی شڈ میں زندگی گزار رہے ہیں ۔افراد خانہ نے مذید بتایا ابھی ہم اس صدمے سے باہر بھی نہیں آئے تھے تو ایس او جی اور جموں کشمیر پولیس کی ایک پارٹی نے اسی مکان پردوران شب چھاپہ مار کر اور مالک مکان اور سابق فوجی اہلکار کو اپنے ساتھ اٹھا کر ’آمنوں ‘کیمپ میں بند کر رکھا۔ جہاں انہیں کئی روز تک پوچھ تاچھ کے بعد پولیس نے منظور احمد گنائی کو ضلع جیل مٹن اننت ناگ منتقل کیا ۔جہاں وہ گزشتہ2ماہ سے قید بند کی زندگی گزار رہے ہیں۔
افراد خانہ نے بتایا اگر چہ انہوں نے منظور احمد کی رہائی کے لئے تمام کوششیں کی تاہم اس حوالے سے انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی ہے ۔اس دوران پولیس ذرائع نے بتایا گنائی کو جنگجوؤں کو پناہ دینے کے جرم کی پاداش میں جیل بیج دیا گیا ہے ۔ادھر قید کی گزار نے والے سابق فوجی اہلکار کی اہلیہ دلشادہ نے بتایا کہ ہاں جنگجوؤں نے ہمارے مکان میں پناہ لیا ہے اس میں ہمارا کیا قصور ہے ۔ ؟۔دلشادہ بانوں گزشتہ ایک ماہ سے بستر پر ہیں۔دلشادہ کہتی ہے میرے شوہر کی گرفتاری کے بعد فورسز نے میرے ایک رشتہ دار کے گھر پر چھاپہ مارا اور وہاں سے ہمارے ایک قریبی رشتہ دارو کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو اسی ماثنا میں ،میں انہیں چھڑانے کے لئے وہاں دوڑ رہی تھی تو اس دوران میں زمیں پر گر پڑی جس کے نتیجے میں دلشادہ کی ٹانگ کو زبردست چوٹ آئی ۔اور تب سے بستر پر علیل پڑی ہے ۔انہوں نے کہا رگرفتار رشتہ دار کو رہا کیا گیا تاہم منظور احمدکو ہنوز حراست میں رکھا گیا۔قید میں بند سابق اہلکار کی اہلیہ نے بتایا کہ میرا شوہر نے ریاست سے باہر تمام نوکری کی ہے اور سال میں ایک بار گھر آتے تھے اور انہوں نے صرف اپنے بچوں کو بہتر زندگی گزار نے کا موقع فراہم کرنے کے علاوہ انہیں تعلیم کے نور سے آراستہ کیا۔‘‘
کے این ایس
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
