ہندوستان
کمیشن نے ووٹنگ ڈیٹا پر کھڑگے کے الزامات کو خارج کیا، باز رہنے کے لئے کہا
نئی دہلی، الیکشن کمیشن نے جمعہ کو کانگریس صدر ملک ارجن کھڑگے کے 6 مئی کو لکھے گئے خط میں جاری لوک سبھا انتخابات میں ووٹنگ کے اعداد و شمار میں تضاد کے بارے میں اٹھائے گئے سوالات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں الزامات اور اعتراضات قرار دیا۔
مسٹر کھڑگے کو بھیجے گئے تفصیلی جواب میں کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر جاری خط میں متعلقہ معاملے پر سوال پوچھنے کی آڑ میں انہوں نے ایسا بیان دیا جو عوامی حقائق کے تناظر میں غلط ہے۔
کمیشن نے مسٹر کھڑگے کو لکھا ہے کہ سب کے سامنے ہونے والے انتخابات کے بارے میں ان کا بیان ناگوار ہے۔ لہذا، ‘انتخابی عمل کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے، کمیشن آپ کے اعتراضات اور الزامات کو صاف طور پر مسترد کرتا ہے اور آپ کو مشورہ دیتا ہے کہ ایسے بیانات دینے سے گریز کریں۔
مسٹر کھڑگے نے 6 تاریخ کو کمیشن کو لکھے گئے خط میں چھ سوالات اٹھائے تھے اور اس خط کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ڈال دیا تھا۔ کمیشن نے کہا کہ خط میں لکھا گیا ہے کہ ‘تاریخ میں پہلی بار’ ووٹنگ کے حتمی فیصد کے اعداد و شمار جاری کرنے میں تاخیر ہوئی ہے اور مختلف میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ‘اس سے کمیشن کے کام کرنے کے طریقہ پر سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
کمیشن نے کانگریس صدر سے کہا کہ آپ نے کہا ہے کہ کمیشن نے ووٹنگ کے اعداد و شمار جاری کرنے میں ‘انتہائی تاخیر’ کی ہے اور ابتدائی اعداد و شمار کے مقابلے حتمی اعداد و شمار میں ‘زیادہ اضافہ’ ہے جس سے ای وی ایم کے بارے میں کچھ سوالات بھی اٹھتے ہیں۔
کمیشن نے کہا ہے کہ ‘اے اے پی نے اعداد و شمار جاری کرنے کے وقت اور اس میں اضافے کو ان حلقوں سے جوڑا ہے جہاں برسراقتدار پارٹی نے 2019 میں اچھی کارکردگی نہیں دکھائی تھی۔ آپ نے الزام لگایا ہے کہ یہ تمام چیزیں انتخابی نتائج کو متاثر کرنے کی کوشش ہیں۔
کمیشن نے مسٹر کھڑگے کو لکھا ہے کہ انہوں نے تصدیق شدہ حقائق اور سپریم کورٹ کے واضح فیصلوں کے باوجود اپنے خط میں جانبدارانہ کہانی پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
کمیشن نے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ کی تیاری کے عمل کے ہر مرحلے میں سیاسی پارٹیاں بھی شامل ہوتی ہیں، اس لیے وہ ہر ووٹنگ سینٹر اور ہر حلقے میں ووٹرز کی تعداد جانتے ہیں۔ انہیں مرکز وار ووٹر لسٹ فراہم کی جاتی ہے۔
اسی طرح ووٹ ڈالنے والے لوگوں کی تعداد فارم 17C کے ریکارڈ سے مختلف نہیں ہو سکتی۔ ووٹنگ ختم ہوتے ہی یہ ریکارڈ امیدواروں کو دستیاب کرا دیا جاتا ہے۔
کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ گنتی کے دن ای وی ایم ووٹوں کا فارم 17 سی میں ڈیٹا سے ملایا جاتا ہے۔
کمیشن نے کہا ہے کہ اسے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے کہ ووٹر لسٹ یا فارم 17C کا ڈیٹا کسی امیدوار کے ایجنٹ کو فراہم نہیں کیا گیا ہے۔ ووٹنگ کے اعداد و شمار اور کمیشن کے ذریعہ شائع کردہ ووٹنگ کے اعداد و شمار کے بارے میں بھی کوئی شکایت نہیں ہے۔
مسٹر کھڑگے کو بھیجے گئے خط میں کمیشن نے 2019 کے عام انتخابات کے دوران ووٹنگ کے حتمی اعداد و شمار شائع کرنے میں لگے وقت کی تفصیلات بھی دی ہیں۔
مثال کے طور پر 11 اپریل 2019 کو ہونے والی پولنگ کا اپ ڈیٹ 18 اپریل (سات دن بعد) کو جاری کیا گیا تھا جس میں ووٹ کا فیصد 69.4 فیصد تھا اور 6 مئی کو 69.61 فیصد کیا گیا تھا۔
یو این آئی۔ م ع۔ 1955
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر10 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا14 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا14 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا10 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا10 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا14 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا13 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
