تازہ ترین
کورونا سے ہلاکتیں 34 ہزار کے قریب پہنچ گئیں، مریض 7 لاکھ سے تجاوز
دنیا بھر میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے 30 مارچ کی صبح تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 7 لاکھ 222 ہزار سے زائد ہوچکی تھی۔
جہاں دنیا بھر میں تیزی سے کورونا کے مریض سامنے آ رہے ہیں، وہیں ہلاکتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور مرنے والے افرد کی تعداد 34 ہزار کے قریب پہنچ چکی تھی۔
خیال رہے کہ دنیا کی 40 فیصد سے زائد آبادی کو کورونا وائرس کی وج سے گھروں میں رہنے کا کہا گیا ہے۔
کورونا وائرس کے براہ راست اعداد و شمار دینے والے آن لائن میپ کے مطابق 30 مارچ کی صبح تک دنیا بھر میں کورونا سے مجموعی ہلاکتیں 33 ہزار 997 ہوچکی تھیں، جن میں سے صرف 2 ممالک اٹلی اور اسپین میں ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے 17 ہزار سے زائد تھی۔
اٹلی میں ہلاکتوں کی شرح میں پہلے سے کمی
اٹلی میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی آئی۔
سول پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ اتوار کے روز اٹلی میں 756 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد کل تعداد 10 ہزار 779 ہوگئی ہے جو دنیا بھر میں وائرس سے ہونے والی کل ہلاکتوں کا ایک تہائی حصہ ہیں۔
اٹلی میں اگرچہ اب نئے کورونا وائرس کے مریضوں کی رفتار کچھ سست ہوچکی ہے تاہم اب بھی وہاں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جس وجہ سے اٹلی بھر میں خوف پھیلا ہوا ہے۔
اٹلی میں حیران کن طور پر دیگر ممالک سے زیادہ ہلاکتیں ہونے پر ماہرین صحت بھی پریشان ہیں جب کہ اٹلی کے حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ اب تک سامنے آنے والے کورونا کے مریض وہ ہیں جن کے شک کے بنیاد پر ٹیسٹ کیے گئے تھے۔
حکام کے مطابق تاحال اٹلی میں عام افراد کے ٹیسٹ نہیں کیے جا رہے بلکہ ان علاقوں میں لوگوں کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں، جہاں سے پہلے ہی کیس سامنے آ چکے ہیں۔
اٹلی میں ہفتے کے روز اتوار سے 133 زائد، 889 ہلاکتیں ہوئی تھیں جبکہ جمعے کے روز یہ تعداد 919 تھی۔
اسپین میں ایک روز میں سب سے زیادہ ہلاکتیں
جہاں اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد میں کمی آئی ہے وہیں اسپین میں اتوار کے روز وبا کے پھیلاو سے اب تک ملک میں ایک روز کی سب سے زیادہ 838 ہلاکتیں ہوئیں۔
اسپین اٹلی کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ 6 ہزار 838 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
اسپین اور اٹلی دونوں نے مزید یورپی مدد کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ عالمی جنگ دوئم کے بعد سے انہیں سب سے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اسپین کے وزیر صحت نے اتوار کے روز 6 ہزار 500 نئے کیسز کا اعلان کیا جس کے بعد 80 ہزار 110 ہوگئی۔
وزیر اعظم پیدرو سانشیز نے مزید سخت لاک ڈاون کا اعلان کیا جس میں آئندہ دو ہفتوں کے لیے مزید تمام غیر ضروری ورکرز کو گھر پر رہنے کا کہا گیا۔
30 مارچ سے9 اپریل تک کی تازہ پابندیاں کابینہ کے اجلاس میں منظور کی گئیں۔
وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں کہا کہ ’اس فیصلے سے ہمارے مریضوں کی تعداد میں بڑی کمی ہوگی‘۔
امریکی صدر نے وائرس سے بحالی کی امیدیں توڑ دیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں معمولات زندگی کی بحالی کے لیے پیش کیے گئے اپنے ہی ٹائم ٹیبل کو ترک کرتے ہوئے کورونا وائرس پر پابندیوں میں مزید ایک مہینے کی توسیع کردی۔
ڈونلڈ ٹرمپ جنہیں امریکا کے دوبارہ کھلنے کی امید تھی، نے اعلان کی کہ ملک میں ہلاکتوں کی تعداد آئندہ دو ہفتوں میں مزید بڑھے گی جبکہ ’سماجی دوری‘ کی ہدایات اپریل کے آخر تک برقرار رہیں گی۔
امریکا میں کورونا وائرس کے کیسز میں اچانک سے بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں صرف دو روز میں کیسز کی تعداد دگنی ہوئی۔
سینیئر امریکی سائنسدادن اینتھونی فاکی نے اندازہ لگایا ہے کہ کورونا وائرس سے ایک لاکھ سے 2 لاکھ کے قریب جانیں ضائع ہوسکتی ہیں جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے ’خوفناک‘ اعداد و شمار بتایا۔
خیال رہے کہ امریکا میں اس وقت تک دنیا میں سب سے زیادہ ایک لاکھ 43 ہزار سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں سے 2 ہزار 509 افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔
تاریک ایام آنے والے ہیں، برطانوی وزیر اعظم
برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1200 سے تجاوز کرگئی ہیں وہیں ملک کے وزیر اعظم بورس جونسن جن میں گزشتہ ہفتے کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی نے آگے تاریک ایام کے آنے کی پیش گوئی کردی۔
مزید پڑھیں: اسپین میں کورونا وائرس سے ریکارڈ 832 ہلاکتیں، مجموعی تعداد 5 ہزار سے متجاوز
بورس جونسن کا کہنا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ چیزیں بہتر ہونے سے قبل بدتر ہوں گی‘۔
ملک کے ڈپٹی چیف میڈیکل افسر نے خبردار کیا کہ معمولات زندگی کی بحالی میں 6 ماہ یا اس سے بھی زائد کا وقت لگ سکتا ہے۔
خیال رہے کہ برطانیہ میں اب تک 19ہزار 784 کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں سے ایک ہزار 231 ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔
فرانس میں وائرس سے ہلاکتوں میں اضافہ
فرانس کے صحت حکام نے اتوار کے روز 292ہلاکتیں رپورٹ کیں جو ہفتے کے روز ہونے والی 319 ہلاکتوں سے 13 فیصد کم تھیں۔
فرانس میں کورونا وائرس کے کل کیسز کی تعداد 40 ہزار 723 ہوگئی ہیں جبکہ ہلاکتوں کی کل تعداد 2 ہزار 611 ہوگئی ہے۔
ملک کے مشرقی حصے میں کورونا وائرس کے کیسز کے زیادہ ہونے پر وہاں کے ہسپتالوں میں دباو بہت زیادہ بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے حکومت نے دو خصوصی ٹرینیں بنائی ہیں جو مشرق کے پر ہجوم ہسپتالوں سے کورونا کے مریضوں کو مغربی ساحل کے ہسپتال منتقل کرے گی۔
چین میں ہی رہنا محفوظ ہے، حکام
ابتدائی طور پر کورونا وائرس کا مرکز رہنے والے ملک چین میں اب مقامی سطح پر کیسز کی تعداد میں نہایت کمی آئی ہے وہیں ملک میں اب معمولات زندگی بحال بھی ہورہی ہے۔
چین کے شہر ووہان جہاں سے یہ وائرس پھیلا تھا، میں واپس جانے والے مقامی افراد کے ریلے کی مدد کرنے والے چینی حکام ہان لی کا کہنا تھا کہ ’ابتدائی طور پر ہم بہت خوف زدہ تھے کہ اور سوچ رہے تھے بیرون ملک جانا ہی بہتر ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اب ایسا نہیں لگتا اور لگتا ہے کہ چین میں رہنا ہی محفوظ ہے‘۔
جہاں امیر ترین ممالک میں صحت کی سہولیات پر دباو ہے وہیں امدادی تنظیموں نے غریب ریاستوں اور شام اور یمن جیسے جنگ زدہ علاقوں میں تعداد لاکھوں میں جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر 3 ارب سے زائد لوگ پانی اور صابن جیسی سہولت سے محروم ہیں جو وائرس کے خلاف سب سے بنیادی ہتھیار ہیں۔
ہندوستان
ہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، ہندستان اور لائبیریا نے خلیجی خطے اور اس کے آس پاس کے علاقوں نیز بحیرہ اسود میں گزشتہ چند دنوں میں تجارتی جہازوں اور ملاحوں پر ہوئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ہندستان کے مستقل مشن نے جمعرات کی دیر رات سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں سے سمندری تجارت متاثر ہوتی ہے اور بے گناہ لوگوں کی جانیں جاتی ہیں۔ ایسے افعال کو کسی بھی طرح درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ دونوں ملکوں نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کی۔
ہندستان اور لائبیریا نے کہا ہے کہ وہ ایسے حملوں کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے اور ملاحوں کے حقوق کے تحفظ میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار ہیں۔
ہندستان اور لائبیریا نے حملوں میں جان گنوانے والے ملاحوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی، زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش کی۔
قابل ذکر ہے کہ ہندستان اور لائبیریا نے گزشتہ ماہ سمندری جہازوں اور ملاحوں کی سکیورٹی کے لیے دوست ممالک کے گروپ ایس 4 کی شروعات کی تھی۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ عام لوگ امریکی فوج کے ایک سابق میجر کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کو دیکھ سکیں گے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ندال حسن کو دی جانے والی سزائے موت کی ‘لائیو اسٹریمنگ’ کی جائے گی۔ حسن نے 2009 میں فورٹ ہُڈ میں 13 نہتے امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
مانا جا رہا ہے کہ یہ تقریباً ایک صدی میں امریکہ میں دی جانے والی پہلی عوامی سزائے موت ہوگی۔ موت کی سزا پانے والے قیدیوں کے ساتھ کام کرنے والے وکیل جان ملز نے کہا کہ اس کی لائیو اسٹریمنگ کا فیصلہ “جدید دور میں غیر معمولی” ہے اور یہ “قانونی طور پر غیر یقینی صورتحال” والا معاملہ ہے۔
ہیگسیتھ نے کہا، “ہم یہ بات یقینی بنائیں گے کہ لوگ اسے دیکھ سکیں، تاکہ یہ عوامی ہو۔ لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کی چیزوں کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔”
پینٹاگن نے اس ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ حسن کو سزائے موت دے گا، جو 60 سے زائد برسوں میں پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ہیگسیتھ نے کنزرویٹو ٹی وی چینل ‘ریئل امریکاز وائس’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حسن کو “فوجیوں کے فائرنگ اسکواڈ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ ہونا چاہیے۔”
جب ہیگسیتھ سے پوچھا گیا کہ کیا حسن نے کوئی آخری درخواست کی ہے یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا: “کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اسے 3 دسمبر کو دیکھیں گے۔”
پینٹاگن کے ترجمان شان پارنیل نے پیر کو کہا تھا کہ وزیر دفاع نے اس کی سفارش کی تھی اور ٹرمپ نے اسے منظوری دے دی ہے۔ بی بی سی نے وائٹ ہاؤس سے اس بارے میں تبصرہ مانگا ہے کہ کیا ٹرمپ لائیو اسٹریم کے ذریعے عوامی سطح پر سزائے موت دیے جانے کی حمایت کرتے ہیں۔
اگرچہ گزشتہ سال 17 ممالک میں 2,700 سے زائد افراد کو سزائے موت دی گئی تھی، لیکن صرف دو ممالک نے ہی اسے عوامی طور پر انجام دیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، 2025 میں ایران میں گیارہ اور افغانستان میں چھ افراد کو عوامی طور پر سزائے موت دی گئی تھی۔
امریکی فوج کے سکریٹری نے منگل کو بتایا کہ یہ سزا 3 دسمبر کو ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ میں دی جائے گی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد فائرنگ اسکواڈ سے دی جانے والی یہ پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ورجینیا کے امریکی فوج کے ماہرِ نفسیات حسن نے عدالت میں اعتراف کیا کہ امریکی فوجی اڈے پر ہوئے اب تک کے سب سے مہلک غیر جنگی حملے میں وہی بندوق بردار تھا۔
گولی باری 5 نومبر 2009 کو ایک بھیڑ بھاڑ والی میڈیکل عمارت میں ہوئی تھی، جہاں تعینات ہونے والے فوجی طبی معائنے اور ویکسین کا انتظار کر رہے تھے۔
عدالت میں حسن نے “کسی بھی غلطی” کے لیے معافی مانگی۔ 2013 میں اپنے کورٹ مارشل کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ انہیں لگتا تھا کہ وہ مسلمانوں اور افغانستان میں طالبان کا دفاع کر رہے تھے۔
فوجی قانون کے مطابق، فوجی سزائے موت کے لیے امریکی صدر کی منظوری ضروری ہے۔ اس کے لیے اپیل کی جائزہ کارروائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جس میں ایک ہائی کورٹ فیصلے کی جانچ کرتی ہے اور آگے بڑھنے کے لیے اس کی قانونی حیثیت پر آخری فیصلہ لیتی ہے۔
ملز نے کہا کہ حسن کے لیے اپیل کا عمل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ امکان ہے کہ وہ اپنی سزا اور سزا پر نظرثانی کے لیے فیڈرل کورٹ میں اپیل کریں گے، جس سے شاید سزائے موت پر روک لگ سکتی ہے۔ اس لیے، ملز نے کہا کہ اگر سزائے موت دی جاتی ہے تو انہیں حیرت ہوگی۔
انہوں نے کہا، “ٹرمپ انتظامیہ کا فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کو لائیو اسٹریم کرنے کا خیال صرف توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے ہونے کا امکان کم ہے، اور اس سے انصاف ملنے کی تو کوئی امید ہی نہیں ہے۔”
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان7 days agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک
