تازہ ترین
کورونا وائرس :سرینگر،کولگام، پلوامہ کی3 خواتین اور بڈگام کا65سالہ شہری تازہ شکار
انسانوں پر پوشیدہ قاتل وائرس کے وار جاری
جموں وکشمیر میں کورونا وائرس سے مرنے والے افراد کی تعداد80تک پہنچ گئی،وادی میں ہلاکتیں 71ہوگئیں
سرینگر: پوری دنیا کیساتھ ساتھ جموں وکشمیر خاص طور پر وادی کشمیر میں انسانوں پر پوشیدہ قاتل وائرس کے وار جاری ہے اور سنیچروار کو سرینگر،کولگام اور پلوامہ سے اضلاع سے تعلق رکھنے والی3خواتین اس وائرس کی شکار بنیں۔تینوں جاں بحق خواتین کی آخری رسومات پولیس کی موجودگی میں کووڈ۔19کے قواعد وضوابط کے تحت ادا کی گئیں۔
جموں وکشمیر میں اس وائرس سے مرنے والے افراد کی تعداد بڑھ کر79ہوگئی۔کشمیر نیوز سروس کو ہلاکتوں کے کے حوالے سے ذرائع اور اسپتالوں کے حکام سے حاصل ہوئی معلومات کے مطابق کشمیر وادی میں سنیچر کو کورونا وائرس میں مبتلاء3 خواتین کی موت ہونے سے جموں کشمیر میں مہلک وائرس سے مرنے والوں کی تعداد79تک بڑھ گئی ہے۔سی ڈی اسپتال سرینگر کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر سلیم ٹاک نے جی این ایس کو بتایا کہ سنیچر کی صبح جاں بحق ہونے والی2 خواتین کا تعلق سرینگر اور پلوامہ اضلاع سے تھا،جن کی عمر بالترتیب40سال اور55سال تھی۔
سرینگر کے صفا کدل علاقے سے تعلق رکھنے والی کورونا متاثرہ 40 سالہ خاتون کی ہفتہ کی صبح یہاں موت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ متوفی خاتون کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد شری مہاراجہ ہری اسپتال سرینگر سے یہاں منتقل کیا گیا تھا۔ انہوں مزید نے بتایا کہ متوفی خاتون عارضہ قلب اور ذیابیطس میں بھی مبتلا تھی۔
انہوں نے کہا کہ سرینگر کی خاتون جو عارضہ قلب اور زیابطیس میں مبتلاء تھی اسپتال میں 6 روز تک داخل رہنے کے بعد انتقال کرگئیں۔اْسے پہلے صدر اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں اْس کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا جس کے بعد اْسے سی ڈی اسپتال منتقل کیا گیا۔پلوامہ کی جاں بحق خاتون کے بارے میں ڈاکٹر سلیم کا کہنا تھا کہ اْسے بھی ابتدائی طور صدر اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں سے اْسے بعد میں سی ڈی اسپتال منتقل کیا گیا اور وہ سر میں ٹیمور ہونے کی وجہ سے علیل تھی۔
ادھر صدر اسپتال سرینگر کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر نذیر چودھری نے بتایا کہ کولگام ضلع سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اسپتال میں چل بسی جو کئی امراض میں مبتلا تھی اور جس کا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت آگیا۔
کھڈونی کولگام کی مذکورہ خاتون کو2 روز قبل ہی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔مذکورہ تینوں خواتین کے انتقال سے کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد80تک جاپہنچی ہے۔ادھر بڈگام کے65سالہ شہری کی بھی کورونا وائرس سے موت ہوئی ہے۔کانی ہامہ ماگام بڈگام سے تعلق رکھنے والے مذکورہ مریض کی سورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں دوپہرایک بجے30منٹ پر ہوئی ہے۔میڈیکل سپر انٹنڈنٹ پروفیسر فاروق جان نے بتایا کہ مریض کو 19جون کے روز اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔
اسی دن مریض کے کورونا ٹیسٹ کیلئے نمو نے لئے گئے جنکی رپورٹ مثبت آئی۔وادی کشمیر میں کل ہلاکتیں 71ہوگئیں جبکہ جموں میں اموات کی تعداد9ہے۔وادی کشمیر میں ضلع سرینگر میں اب تک کورونا سے متعلق سب سے زیاد19 اموات درج ہوئی ہیں اور دوسرے نمبر پر ضلع بارہمولہ ہے جہاں اب تک 13 افراد کی اس وائرس میں مبتلا ہو کر موت واقع ہوئی ہے۔ ضلع شوپیاں میں 10، کولگام میں 9،، اننت ناگ میں 6، کپوارہ میں 5، بڈگام میں 4، پلوامہ میں 4 اور بانڈی پورہ میں ایک مریض کورونا میں مبتلا ہوکر جاں بحق ہوگیا ہے۔یاد رہے کہ چین کے شہر ووہان سے گزشتہ برس دسمبر کے وسطہ سے پُراسرار طور پر کووڈ۔19کا وائرس نمودار ہو ا اور تیزی سے پھیل کر پوری کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے،دنیا بھر میں کورونا لاکھوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور لاکھوں کی تعداد متاثر ہوئے ہیں۔
ہندوستان
ترکیہ کے صدر کو ہندوستان کی خود مختاری سے جڑے معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، ہندوستان نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کے جموں و کشمیر کے بارے میں دیے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہندوستان کی خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور اس پر کسی بیرونی فریق کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں اس بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان اس ناپسندیدہ تبصرے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، “ترکیہ کے صدر کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران جموں و کشمیر کے بارے میں ناپسندیدہ تبصرے کو ہندستان مسترد کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کی سالمیت نیز خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور کسی بیرونی فریق کو اس پر بولنے کا حق نہیں ہے۔”
رپورٹوں کے مطابق مسٹر اردگان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے کشمیر کے مسئلے سمیت تمام تنازعات کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرے میں بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں رکنیت کے بارے میں تمام اراکین مل کر فیصلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی رکنیت کا موضوع آتا ہے تو اراکین کو اجتماعی طور پر اس بارے میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
ان سے میڈیا میں آئی ان رپورٹوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا جن میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان ترکیہ کو ایس سی او کا مکمل رکن بنانے کے حق میں نہیں ہے۔
یواین آئی ایف اے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی میں بی جے پی کے احتجاج کے بعد عمر نے ارکان اسمبلی اور وزراء کی تنخواہوں میں اضافے کے بل واپس لیے
سری نگر، بی جے پی کے احتجاج کے بعد منگل کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزراء، وزرائے مملکت اور قانون ساز ادارے کے ارکان کی تنخواہوں اور الاؤنس میں اضافے کی تجویز والے 2 بل واپس لے لیے۔
اتفاق سے جموں و کشمیر اسمبلی کی ایک ایوانی کمیٹی نے، جس کی سربراہی بی جے پی کے رکن اسمبلی سرجیت سنگھ سلاتھیہ کر رہے تھے، مجوزہ اضافے کی منظوری دی تھی۔
بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے ایوان میں کہا کہ حکومت کو یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین اور معاہدے پر کام کرنے والے ملازمین کو راحت فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
بل پیش کیے جانے کے بعد بی جے پی ارکان کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایوانی کمیٹی میں کوئی اختلافی نوٹ نہیں تھا، جس نے تنخواہوں اور الاؤنس میں مجوزہ اضافے کی سفارش کی تھی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کے ارکان ایک طرف تنخواہوں اور الاؤنس کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو درپیش مسائل کا حوالہ دے کر اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’میں کبھی اس کے حق میں نہیں تھا۔ اپنے ارکان اسمبلی سے پوچھ لیجیے۔ اگر ایک بھی رکن اس کی مخالفت کرتا ہے تو یہ کبھی منظور نہیں ہوگا۔ میں بل واپس لیتا ہوں۔‘‘
اس کے بعد ایوان نے اکثریت سے قانون سازی واپس لینے کے حق میں ووٹ دیا۔
وزیر اعلیٰ نے قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کے انچارج وزیر کی حیثیت سے یہ بل واپس لیے۔
تاہم، ایوان نے سابق ارکان قانون ساز ادارے سے متعلق ایک بل منظور کرلیا۔ حکمراں اور اپوزیشن دونوں جانب کے ارکان نے کہا کہ چونکہ یہ بل سابق ارکان سے متعلق ہے، اس لیے اسے واپس نہیں لیا جانا چاہیے۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے بلدیاتی نظم و نسق، کاروبار کرنے میں آسانی اور زندگی گزارنے میں آسانی، ٹیکس نظام، ٹیکسوں کو معقول بنانے اور جرائم کو غیر فوجداری بنانے سے متعلق وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کیے گئے 4 بل منظور کر لیے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بل 24 ستمبر اور 28 ستمبر کو پیش کیے تھے اور متعلقہ تاریخوں پر ارکان میں تقسیم کیے گئے تھے۔ بعد ازاں اسمبلی کے جاری خزاں اجلاس کے دوران انہیں غور و خوض اور منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کیے گئے بلوں میں جموں و کشمیر میونسپل (ترمیمی) بل بھی شامل ہے، جسے انہوں نے مکان اور شہری ترقی کے انچارج وزیر کی حیثیت سے پیش کیا۔
وزیر اعلیٰ نے قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کے انچارج وزیر کی حیثیت سے جموں و کشمیر کاروبار کرنے میں آسانی بل، 2026 پیش کیا۔
اس بل کا مقصد اجازت پر مبنی نظام کی جگہ ضابطوں پر مبنی نظم و نسق قائم کرنے کے لیے قانون کو یکجا اور اس میں ترمیم کرنا اور شہریوں اور کاروباری اداروں کو اعتماد کے ساتھ منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور کام کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد مرکز کے زیر انتظام علاقے میں کاروبار کرنے میں آسانی اور زندگی گزارنے میں آسانی کو اس طرح فروغ دینا ہے کہ روزگار پیدا ہو، سرمایہ کاری راغب ہو اور طویل مدتی اقتصادی ترقی برقرار رہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر خزانہ کے طور پر اپنی حیثیت میں جموں و کشمیر اشیا و خدمات ٹیکس (ترمیمی) بل، 2026 بھی پیش کیا، جس میں جموں و کشمیر اشیا و خدمات ٹیکس ایکٹ، 2017 میں ترمیم کی تجویز ہے۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کیا گیا ایک اور قانون سازی کا مسودہ جموں و کشمیر جرائم کو غیر فوجداری بنانے اور معقول بنانے سے متعلق بل، 2026 تھا۔ اس بل کا مقصد بعض قوانین میں ترمیم کرکے جرائم کو غیر فوجداری بنانا اور انہیں معقول بنانا ہے تاکہ زندگی گزارنے میں آسانی اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ بعض قوانین کو منسوخ کرنے اور اس سے متعلق یا ضمنی معاملات کو نمٹانے کی بھی تجویز ہے۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: سی آئی ایس ایف کیمپ میں فائرنگ، 4 اہلکاروں کی مبینہ موت
جموں، جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع کے بسوہلی علاقے میں منگل کی شام آپسی فائرنگ کے ایک واقعے میں اسسٹنٹ کمانڈنٹ اور سب انسپکٹر سمیت سی آئی ایس ایف کے 4 اہلکاروں کی مبینہ طور پر موت ہوگئی۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ’’ابتدائی اطلاعات کے مطابق سی آئی ایس ایف اہلکاروں کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی، جس کے بعد فائرنگ شروع ہوگئی۔‘‘ بسوہلی کے مَشکا علاقے میں سیوا پروجیکٹ کے قریب واقع سی آئی ایس ایف کیمپ میں آج شام فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ اہلکار پروجیکٹ کی حفاظت کے لیے تعینات تھے۔
اسسٹنٹ کمانڈنٹ، سب انسپکٹر اور 2 جوانوں سمیت سی آئی ایس ایف کے 4 اہلکار شدید زخمی ہوگئے اور انہیں پڑوسی ریاست ہماچل پردیش کے این ایچ پی سی اسپتال لے جایا گیا، لیکن انہوں نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔
مرنے والے اہلکاروں کی شناخت اسسٹنٹ کمانڈنٹ انکِت کمار پانڈے، سب انسپکٹر لکشمن سنگھ، کانسٹیبل رفیق احمد اور کانسٹیبل سندیپ کمار کے طور پر ہوئی ہے۔مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
کٹھوعہ ضلع کی سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس موہیتا شرما نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا7 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
