تازہ ترین
کورونا وائرس:24سالہ نوجوان سمیت5افراد جاں بحق،ہلاکتیں 101تجاوز
جموں وکشمیر میں کورونا وائرس کی قہر سامانیاں
وادی کشمیر میں تازہ اموات،کٹھوعہ جموں میں پہلی موت درج،کشمیر میں اموات کی تعداد89ہوگئی
سرینگر:جموں وکشمیر میں منگلوار کو کورونا وائر س میں مبتلاء ہو کر مزید24سالہ نوجوان سمیت5افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے4کا تعلق کشمیر اور ایک کا تعلق کٹھوعہ جموں سے ہے۔تازہ5ہلاکتوں کیساتھ ہی مرکزی زیر انتظام جموں وکشمیر میں اموات کی تعداد101تجاوز کرگئی۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق چین کے شہر ووہان سے گزشتہ برس دسمبر کے وسط سے نمودار ہوئی وبا ”کورونا وائرس“ دنیا کیساتھ ساتھ جموں وکشمیر میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے جبکہ اموات اور متاثرین کی تعداد میں بھی بدستور اضافہ ہورہا ہے۔منگلوار کے روز جموں وکشمیر میں مزید 4افراد کورونا وائرس میں مبتلاء ہو کر زندگی کی جنگ ہار گئے۔
تازہ ہلاکتوں میں تین اموات کشمیر جبکہ ایک صوبہ جموں میں رپورٹ کی گئی۔معلوم ہوا ہے کہ24سالہ نوجوان جس کا تعلق شوپیان ضلعے سے ہے،کا سنیچر کے روز دلخراش سڑک حادثے میں شدید زخمی ہوا تھا۔زخمی نوجوان کو علاج معا لجہ کی خاطرصدر اسپتال سرینگر میں داخل کیا گیا،جہاں سے اُسے سی ڈی اسپتال منتقل کیا گیا،جہاں وہ منگلوار کو زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ سرینگرکے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ نے بتایا کہ سوموار کے روز 24سالہ نوجوان کوصدر اسپتال سے یہاں منتقل کیا گیا۔
انہوں نے کہا ’مذکورہ نوجوان کے سر میں شدید چوٹ لگی تھی اور اسکی حالت نازک تھی‘۔ان کا کہناتھا کہ مذکورہ نوجوان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ادھر باغات برزلہ سرینگر کی65سالہ خاتون جو کہ وینٹی لیٹر پر تھی کا بھی انتقال ہوگیا۔مذکورہ خاتون ہائپر ٹینسیو،ذیابطیس اور دیگر امراض میں مبتلا ء تھی۔مذکورہ خاتون کا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے۔
اس سے قبل شمالی کشمیر کے بارہمولہ کا ایک55سالہ تاجر منگل کے روزکورونا وائرس کی وجہ سے جاں بحق ہوگیا۔محکمہ صحت ذرائع نے بتایا کہ جے وی سی اسپتال سرینگر میں دیوان باغ بارہمولہ کا شہری کورونا سے فوت ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ مریض وینٹی لیٹر پر تھا اور سینے کی تکلیف میں مبتلا تھا۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج بارہمولہ کے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹر سید مسعود نے بھی اس کی تصدیق کی۔
مذکورہ مریض کو سکمز بمنہ سرینگر میں 27جون کو داخل کیا گیا تھا۔مریض نمونیا کے مرض میں مبتلاء تھا اور منگلوار کو زندگی کی جنگ ہار گیا۔اس دوران سرینگر کے قمر واری علاقے سے تعلق رکھنے والے65سالہ شہری کی موت ہوئی، جسکی کورونا رپورٹ موت کے چند گھنٹوں بعد پازیٹیو آئی۔مقامی خبر رساں ادارے نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتا یا کہ منگلوار کی صبح ساڑھے9بجے کورونا ٹیسٹ کے لئے نمو نہ لیا گیا جسکی رپورٹ سی ڈی اسپتال سے بعد دوپہر مثبت آئی۔معلوم ہوا ہے کہ مہلوک شہری کو سوموار کے روز صدر اسپتال کے آئسو لیشن وارڈ میں داخل کیا گیا تھا۔
اُسے سینے میں درد کی شکایت تھی جبکہ اُسے سانس لینے میں دشواریوں کا سامنا تھا۔سوموار بعد دوپہر اُسے صدر اسپتال میں داخل کیا گیا اور ساڑھے نو بچے صبح اُسکی منگلوار کو موت ہوئی۔ادھر صوبہ جموں کے ضلع کٹھوعہ سے تعلق رکھنے والی کورونا متاثرہ ایک معمر خاتون کی منگل کی صبح موت ہوئی۔یہ کٹھوعہ ضلعے میں کورونا سے ہونے والی پہلی موت ہے۔
گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں کے پرنسپل ڈاکٹر نصیب چند ڈیگرا نے بتایا ہے کہ بسولی کٹھوعہ سے تعلق رکھنے والی عمر رسیدہ خاتون کو یہاں 25 جون کو لایا گیا تھا اور وہ مسلسل وینٹی لیٹر پر تھی۔انہوں نے کہا کہ پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا یہ خاتون منگل کی صبح قریب ساڑھے 7 بجے انتقال کر گئیں۔مذکورہ خاتون کا بھی کورونا ٹیسٹ کرایا گیا تھا،جسکی رپورٹ مثبت آئی تھی۔جموں وکشمیر میں منگلوار کے روز کورونا سے مبتلاء ہوکر5افراد کی موت کیساتھ ہی یہاں کورونا وائر س سے ہلاکتوں کی تعداد101تجاوز کرگئی۔101ہلاکتوں میں سے وادی کشمیر میں 89ہلاکتیں ہوئیں جبکہ صوبہ جموں میں یہ تعداد بڑھ کر اب12ہوگئی ہے۔
وادی کشمیر میں ضلع سرینگر میں اب تک کورونا سے متعلق سب سے زیادہ24 اموات رپورٹ کی گئیں جبکہ دوسرے نمبر پر ضلع بارہمولہ ہے جہاں اب تک16 افراد کی اس وائرس میں مبتلا ہو کر موت واقع ہوئی ہے۔ضلع کولگام میں 13، شوپیاں میں 12، بڈگام میں 7، اننت ناگ میں 7، کپوارہ میں 5، پلوامہ میں 4 اور بانڈی پورہ میں ایک مریض کورونا میں مبتلا ہوکر زندگی کی جنگ ہار گیا۔
ہندوستان
گیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کی کارروائی کے تحت ہٹائے گئے 13.3 کروڑ ووٹروں کے نام اور انہیں ووٹ دینے سے محروم کرنے کی وجہ عام کی جانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے بدھ کے روز یہاں اپوزیشن پارٹیوں کے انڈیا اتحاد کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حقیقی ہندوستانی شہری کو غیر شفاف، من مانی یا نا کافی نگرانی والی کارروائی کے ذریعے ووٹنگ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر نام ہٹائے گئے ہیں، تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ کس کا نام ہٹایا گیا اور کیوں۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 324 کی روح کے مطابق آزاد اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے بغیر قابلِ اعتماد انتخابات ممکن نہیں ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کے دو ساتھی الیکشن کمشنروں نے 10 مہینے میں 14 بار اس کارروائی پر اعتراضات درج کیے ہیں لیکن ان کے اعتراضات پر توجہ نہیں دی گئی، اس لیے چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹایا جانا چاہیے یا انہیں خود استعفیٰ دینا چاہیے۔
کانگریس صدر نے الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی سلیکشن کمیٹی سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ہٹا کر مرکزی وزیر کو شامل کیا گیا۔ انہوں نے الیکشن کمشنروں کو ان کے سرکاری کاموں کے سلسلے میں دی گئی قانونی تحفظ کا بھی معاملہ اٹھایا اور سپریم کورٹ کے اس تبصرے کا ذکر بھی کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا آزاد ہونا ہی نہیں، بلکہ اس کا آزاد دکھائی دینا بھی ضروری ہے۔
مسٹر کھرگے نے پہلی بار ووٹنگ کرنے والے نوجوانوں کے لیے فارم-6 میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ نوجوانوں کے لیے ووٹر رجسٹریشن کی کارروائی آسان اور قابلِ رسائی ہونی چاہیے نیز تمام غیر ضروری رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے۔ ای وی ایم کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ ووٹنگ بیلٹ پیپر سے کرائی جانی چاہیے، تاکہ انتخابی نظام میں لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ بحال ہو سکے۔
انہوں نے پری-ایس آئی آر ووٹر لسٹ کو مستقبل کے انتخابات میں استعمال کرنے، ووٹر لسٹ میں اسمبلی اور بوتھ کی سطح پر نام جوڑنے، ہٹانے اور سدھار کی پوری جانکاری دینے نیز کسی جائز ووٹر کا نام ہٹانے سے پہلے نوٹس، وجہ اور مؤثر اپیل کا موقع دینے کا مطالبہ کیا۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ انتظامی خامیوں، نا کافی دستاویزات یا بیداری کی کمی کی وجہ سے اہل ووٹروں کو ووٹنگ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی ادارہ جاتی جواب دہی یقینی بنانے اور تمام سیاسی پارٹیوں کا اعتماد قائم کرنے والے نظام کو ضروری بتایا اور کہا کہ انتخابات میں شفافیت سے ہی جمہوریت مضبوط ہوگی۔
یواین آئی ایف اے
دنیا
ہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ جنرلوں اور ایڈمرلوں کے لیے مختص فوجی عہدوں کی تعداد میں 20 فیصد کمی کرنے کا اعلان کریں گے۔ پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس فیصلے سے امریکی بری، بحری اور فضائی افواج کی اعلیٰ قیادت متاثر ہوگی۔
عہدیدار کے مطابق ہیگستھ بدھ کو ورجینیا میں میرین کور بیس کوانٹیکو کے دورے کے دوران اپنے ’’اسٹیٹ آف دی فورس‘‘ خطاب میں اس فیصلے کا اعلان کریں گے۔ وہ یہ خطاب جونیئر افسران اور فوجی اہلکاروں کے سامنے کریں گے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے پینٹاگون کے عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ ہیگستھ تمام فوجی شعبوں کو تقریباً 800 جنرل اور فلیگ افسران کے عہدوں میں گزشتہ سال کی گئی 10 فیصد کمی کو دوگنا کرنے کی ہدایت دیں گے۔ اس طرح مجموعی کمی 20 فیصد ہوجائے گی اور اسے یکم جنوری 2027 تک مکمل کیا جانا ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق نئی کٹوتیوں میں ایک اسٹار جنرل یا اس سے اوپر کے عہدے کے افسران، یا بحریہ میں مساوی رینک رکھنے والے افسران شامل ہو سکتے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ ان کٹوتیوں سے موجودہ اور ترقی کے منتظر ’’سینکڑوں فوجی رہنماؤں‘‘ کے کیریئر متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا ہیگستھ نے جنوری 2025 میں حکومت سنبھالنے کے بعد دو درجن سے زائد اعلیٰ فوجی رہنماؤں کو برطرف کیا یا ریٹائرمنٹ پر مجبور کیا ہے۔
ان میں فوج کے اعلیٰ وردی پوش افسر جنرل رینڈی جارج بھی شامل ہیں، جنہیں اپریل میں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ انتظامیہ نے چار اسٹار رینک رکھنے والی دونوں خواتین افسران کو بھی برطرف کیا، جبکہ متعدد دیگر اعلیٰ عہدے دار ریٹائرمنٹ یا استعفوں کے ذریعے عہدے چھوڑ چکے ہیں۔ فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرِسکول نے بھی ہیگستھ کے ساتھ بار بار اختلافات کے بعد رواں ماہ استعفیٰ دیا۔
ہیگستھ نے گزشتہ سال اعلیٰ فوجی عہدوں میں کمی کی کوشش کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ’’قیادت کو بہتر اور منظم بنانے کے لیے غیر ضروری فوجی ڈھانچے‘‘ کو ختم کرنا ہے۔ مئی 2025 میں جاری ایک یادداشت میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ فوج کو ’’غیر ضروری افسر شاہی کی تہوں‘‘ سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔
گزشتہ سال اسی عرصے میں ہیگستھ نے ’’ووک‘‘ ثقافت کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے فوجیوں کے لیے نئی ہدایات بھی جاری کی تھیں، جن میں جسمانی فٹنس کے لیے ’’صنفی غیر جانب دار‘‘ یا ’’مردانہ معیار‘‘ مقرر کرنا شامل تھا۔
سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رینکنگ رکن اور رہوڈ آئی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جیک ریڈ نے اس تازہ اقدام پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ قیادت کے عہدوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کانگریس سے مشاورت کے بعد ہونا چاہیے اور متوقع کٹوتیوں کو ’’ہر امریکی کے لیے باعث تشویش‘‘ قرار دیا۔
ریڈ نے کہا، ’’کانگریس وزیر دفاع پر واضح کر چکی ہے کہ انہیں اس ادارے سے مشاورت کرنی ہوگی اور اعلیٰ افسران کو ہٹانے اور ترقیوں کو روکنے کی وجوہات بتانی ہوں گی۔ اب تک ہمیں تسلی بخش جوابات نہیں ملے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہماری فوج دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کر رہی ہے اور افواج پہلے ہی دباؤ میں ہیں۔‘‘
امریکی قانون کے تحت جنرل افسران کے عہدوں کی تعداد مقرر کی جاتی ہے، تاہم اگر انتظامیہ کانگریس کو نامزدگیاں پیش نہ کرے تو یہ عہدے خالی رکھے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی سپریم کورٹ نے تارکین وطن کو تیسرے ممالک بھیجنے کی اجازت دے دی
واشنگٹن، امریکی سپریم کورٹ نے منگل کو نچلی عدالت کے اس حکم کو عارضی طور پر روک دیا جس نے امریکی حکام کو تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک کے علاوہ تیسرے ممالک میں ڈی پورٹ کرنے سے روک دیا تھا، جس سے انتظامیہ کو ملک بدری کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے 25 فروری 2026 کے حکم اور میساچوسٹس کی وفاقی عدالت کے فیصلے پر روک لگا دی، جس نے پہلے امریکہ سے تارکین وطن کی دوسرے ممالک میں ملک بدری پر عارضی پابندی عائد کی تھی۔
امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ محکمہ انصاف میساچوسٹس کی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرے گا۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ تیسرے ممالک میں تارکین وطن کو تیزی سے ملک بدر کرنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کی قانونی حیثیت پر دسمبر میں سماعت کرے گی۔ سونیا سوٹومائیر، ایلینا کاگن اور کیتنجی براؤن جیکسن نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔ یو ایس ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کے جنرل کونسلر جیمز پرسیول نے اس فیصلے کو محکمے کی ایک اور “فتح” قرار دیا اور تارکین وطن سے رضاکارانہ طور پر امریکہ چھوڑنے کی اپیل کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ تیسرے ممالک کو ڈی پورٹ کرنے کی پالیسی دوبارہ نافذ ہو گئی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 47ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے دن ہی غیر قانونی امیگریشن کو روکنے اور بڑے پیمانے پر ملک بدری شروع کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے امریکی سرحد پر بحران سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں ہنگامی حالت کا اعلان بھی کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
دنیا6 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
