تازہ ترین
کورونا کیسز میں تیزی: وادی کے علما دین کی بھی لوگوں سے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی اپیل
سری نگر، (یو این آئی): کورونا وبا کی موجودہ تیز لہر کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے جہاں انتظامیہ انتہائی کمر بستہ و مستعد نظر آ رہی ہے وہیں وادی کے علما دین بھی لوگوں کو اس وبا سے محفوظ رہنے کے لئے ماہرین صحت و انتظامیہ کی طرف سے جاری کی جا رہی گائیڈ لائنز پر عمل پیرا ہونے کی تاکید کر رہے ہیں۔
جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن موسوی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کورونا کیسز میں ہورہے اضافے کے پیش نظر لوگوں سے کورونا پروٹوکال پر من و عن عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا:‘کورونا نے چند دنوں سے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اس سلسلے میں لوگوں سے التماس کرتا ہوں کہ وہ انتظامیہ اور ماہرین کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کی جانے والی گائیڈ لائنز پر سختی سے عمل کریں ’۔
ان کا کہنا تھا:‘دین اسلام میں صحت کو ہر دنیاوی چیز پر ترجیح ہے اور روزہ جو ایک واجب عمل ہے یہ واجب عمل بھی صحت ناساز ہونے کی صورت میں دوبارہ صحت مند ہونے تک موقوف ہوجاتا ہے ’۔موصوف صدر نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہماری شرعی ذمہ داری بھی ہے کہ ہم احتیاط کریں اور مساجد میں ماسک اور دوسرے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کے بعد ہی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم لاپرواہی برتیں گے تو وہ جرم ہی نہیں بلکہ بہت بڑا گناہ بھی ہے۔آغا حسن موسوی نے لوگوں سے مساجد و امام بارگاہوں میں عالم انسانیت کے حفظ و امان کے لئے بار گاہ ایزدی میں دست بدعا ہونے کی اپیل کی۔میر واعظ وسطی کشمیر مولانا سید عبدالطیف بخاری نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اگر لوگوں نے انتظامیہ کے ساتھ تعاون نہیں کیا تو دوبارہ لاک ڈاؤن لاگو ہوسکتا ہے جس سے ہمارے بچوں کی تعلیم اور ہمارے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں انتطامیہ کی طرف سے جاری کی جانے والی ہدایات پر سختی سے عمل کرنا چاہئے تاکہ ہم اس وبائی بیماری سے نجات حاصل کر سکیں۔انہوں نے لوگوں سے مساجد میں بھی تمام گائیڈ لائنز پر عمل کرنے کی تاکید کی۔قابل ذکر ہے کہ ملک بھر کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بھی کورونا کیسز میں آئے روز ہوش ربا اضافہ درج ہو رہا ہے۔
انتظامیہ کورونا کی اس لہر کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے مختلف النوع اقدام کر رہی ہے۔جہاں بازاروں اور بھیڑ بھاڑ والی جگہوں میں کورونا پروٹوکال کی عمل در آدمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے وہیں محکمہ صحت نے بھی داکٹروں ور دیگر طبی عملے کی چھٹیوں کو منسوخ کیا ہے۔
دنیا
ایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی :ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے سلسلے میں الاباما ریلی پر روانہ ہونے سے قبل وائٹ ہاؤس کے باغیچے میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیا۔
پیٹرول کے بلند نرخوں کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، “جب ایران کا معاملہ حل ہو جائے گا — جو زیادہ دیر نہیں لے گا— تو پیٹرول کی قیمتیں اپنی پرانی سطح پر، یا شاید اس سے بھی نیچے آ جائیں گی۔”
ٹرمپ نے کہا کہ یورپی ممالک ڈیزل ایندھن کے معاملے میں تعاون کریں گے اور اس مسئلے کو حل کر دیا جائے گا۔
امریکی صدر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا، “یورپ کے پاس وافر مقدار میں ڈیزل موجود ہے، وہ دنیا کو بڑا حصہ فراہم کریں گے، ہم بھی ایسا کریں گے۔ ہم برآمدات پر پابندی نافذ نہیں کریں گے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ اور جاپان نے سائنس و ٹیکنالوجی معاہدے میں غیر معینہ مدت تک توسیع کردی
ٹوکیو، امریکہ اور جاپان نے اپنے دوطرفہ سائنس و ٹیکنالوجی معاہدے میں غیر معینہ مدت تک توسیع کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس سے تحقیق، ترقی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی تعاون کی توثیق ہوتی ہے۔
امریکہ اور جاپان کے درمیان سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق و ترقی کے تعاون سے متعلق معاہدے میں توسیع اور ترمیم کا پروٹوکول جمعہ کو ٹوکیو میں دستخط کیا گیا۔
امریکہ کی جانب سے صدر کے معاون اور وائٹ ہاؤس آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کے ڈائریکٹر مائیکل کراٹشیوس نے جبکہ جاپان کی جانب سے وزیر خارجہ موتیگی توشیمتسو نے دستخط کیے۔
1988 میں پہلی مرتبہ طے پانے والا یہ معاہدہ امریکہ اور جاپان کی حکومتوں کے درمیان سائنسی تعاون کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے محققین اور سائنسی اداروں کے درمیان وسیع روابط کو فروغ ملا ہے۔
ترمیم شدہ معاہدے کے تحت واشنگٹن اور ٹوکیو نے کہا ہے کہ وہ اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے شعبے میں تعاون کو برقرار رکھنے اور مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں، جس میں محفوظ اور قابل اعتماد اختراعی نظام کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ معاہدے میں غیر معینہ مدت تک توسیع دونوں حکومتوں کے طویل مدتی سائنس و ٹیکنالوجی شراکت داری اور ایسے تعاون کے عزم کی عکاسی کرتی ہے جس سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
ہندوستان
دنیا میں اگلے مالیاتی بحران کا سبب غیر مالیاتی عوامل بھی ہو سکتے ہیں: آر بی آئی گورنر
نئی دہلی، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترا نے ہفتہ کے روز کہا کہ دنیا میں آئندہ مالیاتی بحران کی وجہ غیر مالیاتی عوامل بھی ہو سکتے ہیں۔
مسٹر ملہوترا نے یہاں پانچویں کوٹلیہ اقتصادی کانفرنس میں ’’غیر یقینی صورتحال کے دور میں مرکزی بینکوں کا کردار‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ قطعی ضروری نہیں کہ دنیا میں اگلا مالیاتی بحران مالیاتی وجوہات ہی کی بنا پر آئے۔ اس لیے موجودہ معاشی استحکام مستقبل میں مالیاتی بحران سے تحفظ کی کوئی قطعی ضمانت نہیں ہے، اور بحیثیت مرکزی بینک بدلتے ہوئے حالات پر مسلسل نگاہ رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگلا مالیاتی بحران جغرافیائی و سیاسی (جیو پولیٹیکل) وجوہات، کسی بڑے سائبر حملے یا پھر کسی سنگین تکنیکی خرابی کی صورت میں بھی رونما ہو سکتا ہے، اور اس کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ اس کا دائرہ اثر کتنا وسیع اور گہرا رہتا ہے۔
مسٹر ملہوترا نے کہا کہ اگرچہ مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا براہ راست ریزرو بینک کی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن بالواسطہ طور پر یہ اس کے دائرہ اختیار سے منسلک ہے۔ مالیاتی استحکام کے بغیر افراطِ زر (مہنگائی کی شرح) میں استحکام لانا ممکن نہیں، اور اس کے بنا معیشت میں بھی استحکام پیدا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور عالمی سطح پر طویل عرصے تک برقرار رہنے والے مالیاتی استحکام کی بدولت ہی ہم حالیہ برسوں کے دوران مختلف بحرانوں کا کامیابی سے سامنا کر سکے ہیں—چاہے وہ کورونا وبا کا چیلنج رہا ہو یا پھر جغرافیائی و سیاسی بحران۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران کے اثرات سے ہندوستانی معیشت بھی محفوظ نہیں رہی ہے اور اس کا اثر قیمتوں پر پڑا ہے، تاہم معیشت کی مضبوط بنیادوں کے باعث افراطِ زر طے شدہ ہدف کے دائرے میں رہی ہے اور ترقی کی شرح بھی مستحکم ہے۔
آر بی آئی گورنر نے کہا کہ موجودہ صدی کے ابتدائی برسوں کے دوران بینکوں کی جانب سے بغیر سوچے سمجھے دیے گئے قرضوں (این پی اے) کے منفی اثرات سے نجات پانے میں ملک کو ایک دہائی کا وقت لگ گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملکی معیشت میں نقد رقم (لیکویڈیٹی) کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی ہندوستان میں مرکزی بینک کی اہم ذمہ داری ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے بعض اوقات افراطِ زر میں اضافے کا خطرہ بھی مول لینا پڑتا ہے۔
یو این آئی۔ م س
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
-
دنیا1 week agoیو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
-
کھیل1 week agoسروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ نے ہندوستان کو ایشیائی کھیلوں میں دوسرا طلائی تمغہ دلایا
-
دنیا1 week agoامریکہ-چین سربراہ اجلاس کے آغاز پر ٹرمپ کا شی جن پنگ کا شاندار استقبال
