تازہ ترین
کووڈ 19کے مخالف سرکاری اقدامات قابل تعریف:تاریگامی
سی پی آئی ایم کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے اپنے ایک بیان میں سرکار پر زور دیا ہے کہ بیرون ریاست میں درماندہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو فوری طور واپس لایا جائے ۔
انہوں نے وبا کے خلاف سرکار کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی ۔ انہوں نے کہا لاکڈون میں توسیع کے بعد سماجی کے کمزور اورغریب لوگوں کے مسائل انتہا تک پہنچ گئے،جن کا ازالہ کرنے کے لئے سرکار کو اقداماٹھانے چاہے ۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس ) کے مطابق سی پی آئی( ایم ) کے سینئر لیڈرمحمد یوسف تاریگامی نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں سرکار سے مطالبہ کیا ہے ملک اور بیرون ممالک میں درماندہ تمام لوگوں کو فوری طور اپنے اپنے گھروں کو لایا جائے تاکہ درماندہ افراد کے مشکلات کے ازلے کے ساتھ ساتھ انکے افراد خانہ بھی راحت کی سانس لے سکیں ۔
انہوں نے کہا اگرچہ سرکار کے مہلک عالمگیروباکورونا وائرس کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس بات میں شک نہیں ہے کہ لاکڈون میں توسیع کے نتیجے میں غریب و غربات اور مزدور پیشہ لوگوں کے مسائل میں بے انتہا اضافہ ہوا ،جس کے نتیجے میں وہ سخت پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں ۔ ۔ انہوں کہا سرکار کو چاہے کہ لاکڈون کے نتیجے میں عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائے ۔ محمد یوسف تاریگامی نے بتایا ہزاروں کی تعداد میں جموں کشمیر کے طلباء،مزدور،شال پھیری کرنے والے افراد،کے علاوہ باقی قسم کے کار باری افراد درماندہ ہیں ۔
انہوں نے بتایا کے علاوہ جموں کشمیر اور لداخ سے تعلق رکھنے والے مریضوں کی ایک بڑی تعداد جو بیرون ریاستوں کے مشہور شفا ء خاں جن میں ایمز دہلی،پی جی آئی،چندی گڈھ،ٹاٹا ہسپتال ممبئی وغیرہ میں علاج معالجے کے لئے گئے تھے درماندہ ہو کر رہ گئے ہیں انہوں نے بتایا درماندہ مسافروں کے پاس سب ختم ہوا ہے اور وہ اب بھوکے پیاسے کھلے آسمان کے تلے زندگی سر راہ بسر کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ تاریگامی نے بتایا کورونا وائرس کے باعث لاک ڈون ان درمان دہ افرادکے لئے تکلیف دہ بنتا جا رہا ہے ۔ سی پی آئی(ایم)لیڈر نے مزید کہا بیرون ریاست میں درماندہ جموں کے لئے وہاں کے حسب معمول درجہ حرات میں اضافہ پریشانی کا باعث بن گیا ہے ۔
انہوں نے کہا ان اس بات کی جانکاری موصول ہوئی ہے بیشتر مقامات پر مزدور اور باقی لوگ تمام اخراجات ختم ہونے کے بعد ٹنٹوں میں قابل رحم حالات میں زندگی بسر کرنے میں مجبور ہوئے ہیں ۔ تاریگامی نے بتایا اگرچہ سرکار نے درماندہ افراد کو خوراک کے پیک فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے تاہمی زمینی صورت حال اعلان کے برعکس ہیں ،کیوں کہ مزکورہ لوگ خوراک اور رہائش کے سلسلے میں طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ لیڈر کا کہنا تھا انہیں اس بات کی جانکاری دی گئی ہے کہ کئی مقامات پر کچھ لوگ دن میں ایک ہی بار کھانا کھاتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کی حالت اسے بھی خراب ہے جو گزشتہ ایک ماہ سے بناء مزدوری کے ہیں ۔
انہوں نے کہاجب ملک مہلک وائرس کے خلاف لڈ رہے ہیں اور اپنے گھروں کے اندر بیٹھے ہیں تاہم جموں کشمیر کے لوگو کو نا ہی گھروں تک پہنچایا جاتا ہے اور نا ہیان کے قیام اور طعام کا بہتر انتطام کیا جات ہے جو قابل افسوس بات ہے ۔ تاریگامی نے بتایاحال ہی میں مرکزی وزارت داخلہ امور کی ارہنمائی خطوط پریشانی مایوس کن ہے اور انھیں ایک جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ آبادی کے اس بڑے حصے کی واپسی کے عمل کوبحال کیا جاسکے ۔
انہوں نے کہا ان لوگوں کو یہاں واپس لا کر قرنطین مراکز میں رکھا جائے گا ۔ انہوں نے جموں و کشمیر سرکار سے اپیل کی ہے یہاں درماندہ غیر ریاستی مزدورکار باری افراد کے علاوہ باقی لوگوں کا بہتر انداز سے خیال رکھا جائے تاکہ انہیں کسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ انہوں یہاں اور بیرون ریاست میں درماندہ افراد کو سرکاری سطح پر غذائی اجناس فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
