تازہ ترین
گجرات کے موٹیرا میں دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ میدان ’نریندر مودی اسٹیڈیم‘ کا افتتاح
2016 میں جب اس اسٹیڈیم کو تعمیر نو کے لئے مسمار کیا گیا تھا، اس وقت اس میں 54000 شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش تھی اور اس کا نام سردار ولبھ بھائی پٹیل اسٹیڈیم رکھا گیا تھا۔
احمد آباد: صدر رام ناتھ کووند نے آج دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ اسٹیڈیم موٹیرا کے علاقے میں واقع جو اب ’نریندر مودی اسٹیڈیم‘ کے نام سے جانا جائے گا ، کا رسمی افتتاح اور قریب میں ہی تیار ہونے والے سردار ولبھ بھائی پٹیل اسپورٹس انکلیو کا بھومی پوجن کیا۔
اس موقع پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر مملکت برائے کھیل کرن رجیجو بھی موجود تھے۔ آج سے ہندوستان اور انگلینڈ کے مابین موجودہ سیریز کا تیسرا ٹسٹ اسی اسٹیڈیم میں شروع ہوگا۔ 2016 میں جب اس اسٹیڈیم کو تعمیر نو کے لئے مسمار کیا گیا تھا، اس وقت اس میں 54000 شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ اس کا نام سردار ولبھ بھائی پٹیل اسٹیڈیم رکھا گیا تھا۔ اب اس کا نام وزیر اعظم نریندر مودی کے نام پر رکھا گیا ہے، جو ماضی میں گجرات کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر بھی تھے۔ جنوری 2018 میں نئے کرکٹ اسٹیڈیم کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔ انگلینڈ اور ہندوستان کی ٹیمیں تیسرا اور چوتھا ٹسٹ میچ اور مجموعی طور پر 5 ٹی ٹوئنٹی میچ بھی کھیلے گی۔
دوسری جانب قریبی اسپورٹس انکلیوکو 233 ایکڑ کے رقبے میں پھیلایا جائے گا اور اس کے ساتھ ہی انڈور اسٹیڈیم بھی ہوگا جس میں 10000 سے زائد شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی۔ نریندر مودی اسٹیڈیم بھی اس انکلیو کا حصہ بن جائے گا۔
موٹیرا کا اسٹیڈیم 63 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے، جہاں بیٹھنے کی گنجائش 1.32 لاکھ ہے۔ اب تک ملبورن کا ایم سی جی (ملبورن کرکٹ گراؤنڈ) دنیا کا سب سے بڑا کرکٹ اسٹیڈیم تھا جہاں بیک وقت 90000 ناظرین کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ گجرات میں دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ’اسٹیچو آف یونٹی‘ کے بعد ریاست اب کرکٹ کی دنیا کے سب سے بڑے اسٹیڈیم کا ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔
800 کروڑ روپے کی لاگت سے اس اسٹیڈیم کو لارسن اینڈ ٹوبرو (ایل اینڈ ٹی) کمپنی نے تیار کیا ہے جس نے اسٹیچو آف یونٹی کی تعمیر بھی کی تھی۔ یہ اسٹیڈیم 32 اولمپک سائز کے اسٹیڈیم کا سائز ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے اس ڈریم پروجیکٹ میں 76 کارپوریٹ باکسز، اولمپک سطح کے سوئمنگ پول، انڈور اکیڈمی، چار ڈریسنگ روم، فوڈ کورٹ اور جی سی اے کلب ہاؤس کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
اسٹیڈیم میں چھ سرخ اور پانچ کالی مٹی کی مجموعی طور پر 11 پچز تیار کی گئیں ہیں۔ یہ پہلا اسٹیڈیم ہے جس نے مین اور پریکٹس پچوں کے لئے دونوں طرح کی مٹی کا استعمال کیا ہے۔ بارش ہونے کی صورت میں پچ صرف 30 منٹ میں خشک ہوسکتی ہے۔ جدید ترین ایل ای ڈی فلڈ لائٹ ماحول کو گرم نہیں کرے گی اور شائقین کے ساتھ ساتھ کرکٹرز کو بھی آرام ملے گا۔ اس اسٹیڈیم کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ 9 میٹر کی بلندی پر 360 ڈگری پوڈیم کونکورس شائقین کی نقل و حرکت کو آسان بناتا ہے، ساتھ ہی کسی بھی اسٹینڈ سے دیکھنے والوں کو یکساں منظر پیش کرے گا۔
کارپوریٹ باکس میں 25 نشستوں کی گنجائش ہے۔ 150 ٹن ائیر کولنگ ٹاور اسٹیڈیم کے ’کلوزان‘ حصے کو ایئر کنڈیشنڈ رکھے گا۔ ضرورت کے مطابق دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے لئے بڑے ڈریسنگ روم بنائے گئے ہیں۔ دونوں ٹیموں کے لئے الگ الگ جدید ترین جیمز تعمیرکیے گئے ہیں۔ کھلاڑی اور وی آئی پی کے داخلی راستوں کے قریب ایک خصوصی لاؤنج بنایا گیا ہے۔ اسٹیڈیم میں واقع آٹوگراف گیلری میں اب تک آئی پی ایل اور ورلڈ کپ کھیل چکے کھلاڑیوں کے دستخط والے بلوں کی میوزیم (آٹو گراف بیٹ کلیکشن) توجہ کا مرکز ہوگا۔ دنیا کے مشہور کرکٹرز کی تصاویر والا ’ہال آف فیم‘ اسٹیڈیم کا ایک اور دلکش مقام ہے۔
اس اسٹیڈیم نے گزشتہ سال 24 فروری کو اس وقت کے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دورہ ہندوستان کے دوران ’نمستے ٹرمپ‘ کے پروگرام کی میزبانی کی تھی، لیکن اس کا باقاعدہ افتتاح اس وقت تک نہیں کیا گیا تھا۔(قومی آواز)
ہندوستان
مودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر نشانہ لگایا اور الزام لگایا کہ وہ مسٹر کمار کا استعمال انتخابات کی ‘میچ فکسنگ’ کے لیے کرتے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے ہفتہ کی دیر شام سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ مسٹر مودی اور مسٹر شاہ نے پہلے مسٹر کمار کو بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں استعمال کیا اور بعد میں انہیں انتخابات میں ‘میچ فکسنگ’ کی ذمہ داری سونپ دی۔
انہوں نے لکھا، “پہلے گیانیش کمار— پھرحاضر سروس آئی اے ایس افسر —کا استعمال بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں کیا گیا۔ پھر مودی اور شاہ نے انہیں (گیانیش کمار) امپائر بنا دیا اور ہندستان کے انتخابات کی میچ فکسنگ کی ذمہ داری سونپ دی۔”
مسٹر گاندھی کا یہ بیان کیرالہ کانگریس کے ایک بیان کے بعد آیا ہے جس میں پارٹی سوشل میڈیا ایکس پر دعویٰ کرتے ہوئے کہتی ہے، “گیانیش کمار کو لے کر بڑا انکشاف۔ کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جی جی تھامسن نے کہا ہے کہ مسٹر کمار نے ان سے رابطہ کر کے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لیے کہا تھا اور انہیں وزیر کے عہدے کی پیشکش بھی کی تھی۔”
کیرالہ کانگریس نے سوال کرتے ہوئے کہا، “گیانیش کمار یہ تجویز کس حیثیت سے دے رہے تھے۔ وہ کس کے اختیار سے بول رہے تھے اور 2016 میں بی جے پی کے لیے سیاسی بھرتی میں ایک الیکشن کمشنر مبینہ طور پر کیوں شامل تھے؟”
اس کے ساتھ ہی کیرالہ کانگریس نے مسٹر تھامسن کا ایک ویڈیو بھی شیئر کیا ہے جس میں وہ ملیالم میں مسٹر گیانیش کمار کے بارے میں دعویٰ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
ابھرتے ہوئے طبی اختراعی نظام میں شامل ہوں: ڈاکٹر جتیندر کی جموں و کشمیر سے اپیل
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ ہندوستان اگلی نسل کے طبی طریقۂ علاج کے میدان میں عالمی رہنما بننے کی جانب گامزن ہے اور ملک حیاتیاتی علوم، طبی تحقیق اور صحت کے شعبے میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔
طب کے موجودہ دور کو انتہائی دلچسپ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے ظہور سے صحت کے شعبے میں ایسے امکانات پیدا ہو رہے ہیں جن کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج ٹیکنالوجی پر مبنی طریقۂ کار اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل پیدا کرنا ہوگا، تاکہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کو مریضوں کے لیے حقیقی اور بامعنی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
انہوں نے یہاں انٹرنیشنل میڈیکل سائنسز اکیڈمی (آئی ایم ایس اے) کے جموں و کشمیر چیپٹر کی جانب سے منعقدہ پہلے ’آروگیہ شکھر سمان۔ ایک میڈیکل انویسٹیچر تقریب‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’مستقبل میں طبی طریقۂ علاج کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقوں اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل ضروری ہوگا۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، جینومکس، کوانٹم ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز صحت کے شعبے میں نئے امکانات کے دروازے کھول رہی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کئی علاج اور تشخیصی طریقۂ کار میں ایک بڑی نعمت ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کلچر ٹیسٹ کے لیے درکار وقت کم کرنے اور جین کی ترتیب معلوم کرنے میں اے آئی کی صلاحیت کا حوالہ دیا، تاہم زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو کلینیکل میڈیسن کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
مرکزی وزیر نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار ایسی صورت حال پیدا کر سکتا ہے جس میں ڈاکٹر کی طبی بصیرت متاثر ہو۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے متبادل طریقوں کو دستیاب رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے، لیکن مریض کے علاج میں ڈاکٹر کا طبی فیصلہ بنیادی حیثیت رکھنا چاہیے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نیا نقشہ شیئر کر کے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ شیئر کرتے ہوئے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن کی جانب سے ایران کی سات روزہ تجویز مسترد کیے جانے کے فوراً بعد ہوئی، جس کا مقصد تزویراتی اہمیت کی اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال کرنا تھا۔
متعدد امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سوال اٹھایا کہ آیا تہران امریکی مطالبات پر عمل کرے گا۔
امریکی میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئے حملے شروع کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق معاملے سے واقف امریکی حکام نے بتایا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے قطر کے ثالثوں کے ذریعے سات روزہ تجویز پیش کی تھی۔
اس تجویز کے تحت ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولتا اور جوہری مذاکرات بحال کرتا، بشرطیکہ واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کر دیتا۔تاہم امریکی حکام نے تہران اور ثالثوں کو بتایا کہ امریکہ ناکہ بندی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
ٹرمپ مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان برقرار ہے، جبکہ واشنگٹن تہران پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
دریں اثنا، ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب نے تصفیے کی نئی شرائط مسترد کر دی ہیں اور جون میں طے پانے والے ایک ابتدائی معاہدے کی بعض شرائط کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
تاہم قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے سفارت کاری جاری رہنے کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورت حال کو ’’بہت مشکل اور چیلنجنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے آبی گزرگاہوں کے معاملے میں ’’جوڑ توڑ اور بلیک میلنگ‘‘ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ’’کچھ مثبت پیش رفت‘‘ ہوئی ہے اور امید ظاہر کی کہ سفارت کاری دونوں فریقوں کو کسی حل تک پہنچا سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اس کی تجویز قبول کی جائے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
