تازہ ترین
گپکار ایلائنس کے کامیاب امیدواروں کو سیاسی پارٹی میں پکڑ کر شامل کیا جا رہا ہے:عمر
[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=af5dg2AJD_o[/embedyt]
کشمیر میں جمہوریت کا قتل ہو رہا ہے،انتظامیہ اور پولیس سے کہا وہ دخل دینا بند کریں
سرینگر: گپکار ایلائنس کے فاتح امیدواروں کو اپنی پارٹی میں طاقت اوردھونس دباکے بل بوتے اور پرشامل کرنے کی روش جمہوریت کا سرعام قتل کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلی جموں و کشمیرعمر عبد االلہ نے آج کہا ہے کہ سیاسی معاملات میں پولیس اور سیول انتظامیہ دخل اندازی سے گریز کریں۔
انہوں نے جمہورہت کی فتح میں جشن منانے والوں سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی لیڈوں کی پکڑ دکھڑ کا سلسلہ بند کرکے ڈی ڈی سی کامیاب امیدواروں کے افراد خانہ کی تنگ طلبی سے باز رہیں۔کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے الزام لگایا ہے کہ انتظامیہ پولیس کا استعمال کرکے پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کے کامیاب امیداروں کو زبردستی اپنی پارٹی میں شمولیت کرا رہی ہے۔
عمر عبد اللہ نے مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر حکومت پر جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا بھی الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر نے ان چیزوں کی پہلے بھی بڑی قیمت ادا کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف ڈی ڈی سی انتخابات کے نتائج کو جمہوریت کی جیت سے تعبیر کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف جمہوری طریقوں کے منفی اقدام کئے جا رہے ہیں۔عمر سنیچر سرینگر میں ایک ہنگامی اورپرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
انہوں نے میڈیا سے مخاطب ہو کر کیا بڑی مدت کے بعد آپ سے سے ملاقات موقع ہوا ہے،شائد چھلے سال کے بعد تمام پریس کو ایک ساتھ بات کرنے کا موقعہ آج ملا ہے۔جموں و کشمیر کے سابق ویزر اعلیٰ نے کہا حال ہی میں حکومت نے یہاں ضلع ترقیاتی انتخاب کونسل (ڈی ڈی سی) منعقد کرائے جن کے نتائج سب کے سامنے ہیں کس نے کتنے سیٹ لئے سب کو معلوم۔نتیجے کیا آیا وہ بھی سب کے سامنے ہیں۔عمر نے کہا کس ضلع میں کس کو کتنی اکثر یت ملی ہے وہ بھی کوئی ڈھکی چبی بات نہیں ہے۔
انہوں نے کہابی جی پی کے ترجمان اور باقی لیڈران ان انتخابات کو منعقد کرنے جمہوریت کی جیت کہا ہے۔اور آج بھی وزیر عظم نرندری مودی نے ان انتخابات کے حوالے سے کافی باتیں کافی باتیں کی ہے۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کیا اگر واقعی جمہوریت کی جیت ہوئی ہے تو جمہوری طریقہ کار کو پنایا جانا چاہے اور اگلام قدم بھی جمہوری طریقے سے لیا جائے جوبد قسمتی سے نہیں ہو رہا ہے جس بات کا ہمیں افسوس ہے۔
عمر عبد اللہ نے کہاکہ ”حکومت کے کچھ افسران نے نے کس کی کمانڈ پر یہ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ نتائج سامنے آنے کے بعد دخل دینا شروع کیا ہے، گرفتاریاں،پکڑ دھڑ،دھمکیوں کا کام شروع کیا ہے جس کا مقصدصرف یہی ہے کہ جن اضلاع میں ایلائنس کی جیت درج ہوئی ہے اب وہ پکڑ دکڑ کے ذریعے سے نتائج کو تبدیل کر سکتے ہیں تاکہ ڈی ڈی سی چیرمین کو ایلائنس کو چھوڈ کر دوسری پارٹی کو بنا سکتے ہیں،اور اس پر زور و شور سے کام چل رہا ہے۔
انہوں نے کہا اس کام کی شروعات شوپیان ضلعی سے کی ہے جہاں سے میرے 2ساتھی وچی کے سابق ایم ایل سی شوکت احمد گنائی اور شوپیان سگمنٹ انچارج شبیر احمد کلی جو بار کے صدر کے علاوہ پارٹی کے سینئر لیڈر بھی ہیں کو وہاں سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔شبیر احمد کلے پانچ اگست 2019ء میں بند نہیں کیا گیا ہے اگر انہیں اس دن گرفتار یا حراست میں لیتے تو ہم مان لیتے ہیں اور آج نتائج آنے کے بعد انہیں بند کیوں کیا گیا ہے؟ انہوں نے کہاآج کہا جاتا ہے کہ انہیں احتیاطی حراست میں رکھنے کاکا دعویٰ کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا وہاں کے جیت درج کرنے والے لوگوں کو سرینگر لا کراپنی پارٹی میں شامل کیا جاتا ہے۔ان میں آزاد،کانگریس،پی ڈی پی اورنیشنل کانفرنس کے امیدوار بھی شامل ہیں۔سابق ویزاعلیٰ نے بتایا کل انہوں نے دیکھا ہے کہ این سی کے نشانے پر ایک خاتون امیدوار جیت کے آئی ہے جس کا نام یاسمینہ ہے کو بھی زبردستی اپنی پارٹی میں شامل کیاگیا ہے۔انہوں نے کہامیں اس لئے زبردستی کہہ رہا ہوں کیوں کہ کل میرے ایک ساتھی نے یہاں فون کال کو ریکارڑ کیا ہے۔اس دوران عمر عبد اللہ نے اس ریکاڈنگ کو بھی پریس کانفرنس موجود نامہ نگاروں کو سنایا ہے۔
انہوں نے کہا اس ریکاڈنگ کے بعد یہ پتہ چلا ہے کہ”حکومت پولیس اور انتظامیہ کے کچھ لوگوں کوگرفتار کروا کر پھر چھوڑنے کی قمیت اپنی پارٹی میں جائن کرنے کے طور چکانی پڑ رہی ہے“۔ان کا کہنا تھاجس شخص کو گرفتار کیا گیا ہے اسکے بیوی کے بھائی کو پکڑا گیا ہے۔خاتونکے شوہر کو کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی بیوی کو جائن کرو اور تین دن کے اندر اندر اسے رہا کیا جا ہے گا“۔
عمر عبد اللہ نے کہا ایک بارپھر جمہوریت کا قتل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا اگر پارلیمنٹ یا اسمبلی میں اینٹی ڈیفکشن ہے تو پنچائتوں میں بھی ہے۔یہاں بھی وہ قانون لگنا چاہے۔پھر نئے سرے سے انتخابات کرائے ہم بھی دیکھتے ہیں کہ کون کہاں پر کھڑا ہے،۔انہوں نے کہا ہے یہ جمہوریت نہیں ہے۔
عوام نے اپنا فیصلہ سنایا آپ قبول کریں اور یہی جموریت کا دستور ہے کہ لوگوں کے فیصلے کو تسلیم کیا جائے۔انہوں نے کہااگر ہم ہار جاتے ہم نے قبول کیا ہوتا۔انہوں نے کہا کشمیرمیں زیادہ تر نشست ایلائنس کو ملی ہے بی جے پی،اپنی پارٹی دونوں سرکاریں یہ کیوں تسلیم نہیں کر رتے ہیں۔سابق وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا ہم اس پریس کانفرنس میں میں دنوں جموں و کشمیرکی حکومت اور دلی کو کہنا چاہتے ہیں کہ جمہوریت کے ساتھ کھلاڑ نہ کریں جموں و کشمیر نے اس کے لئے قیمیت چکائی ہے۔
انہوں نے کہا وزیر عظم خود کہتے ہیں جمہوریت کی جیت ہے دوبارہ زندہ کیا ہے مہر بانی کر کے یہاں کے سیول انتظامیہ اور پولیس کو کہئے کہ وہ ان چیزوں میں دخل نہ دیں۔ انہوں مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار دونوں پارٹی لیڈران و فوری طور رہا کیا جائے جیت درج کرنے والے امیداروں کے کنبوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔(کے این ایس)
دنیا
عمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
مسقط، عمان کے ماحولیاتی حکام نے کہا ہے کہ تباہ حال آئل ٹینکر کیرولین بیزینگی سے خارج ہونے والا خام تیل ملک کے ساحل تک پہنچ گیا ہے، جس سے مرکزی ساحلی علاقے میں 40 کلومیٹر تک ساحلی پٹی آلودہ ہو گئی ہے۔
عمان کی ماحولیاتی اتھارٹی کے مطابق جون میں عمان کے ساحل کے قریب پھنسنے کے بعد سے خام تیل خارج کرنے والے ٹینکر کا تیل راس مدرکہ کے ساحلوں تک پہنچ گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ تیل کے مسیرہ جزیرے کے جنوبی ساحل تک بھی پہنچنے کا خدشہ ہے۔ یہ جزیرہ عمان کے ساحل سے تقریباً 15 کلومیٹر دور ہے اور وہاں مزید 10 سے 20 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماحولیاتی اتھارٹی نے کہا کہ خصوصی ٹیمیں آلودگی کی نگرانی، صورتحال کا جائزہ لینے اور تیل کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترجیح ان علاقوں کو دی جا رہی ہے جو ماحولیاتی اعتبار سے زیادہ حساس ہیں۔
عمانی حکام کے مطابق اس ہفتے کے آغاز تک تیل کا پھیلاؤ تقریباً 400 مربع کلومیٹر تک پہنچ چکا تھا، جبکہ تیل کا زیادہ ارتکاز ہالانیات جزائر کے اطراف میں ہے۔ یہ علاقہ سمندری حیات کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے میرین ریزرو کا حصہ ہے، جہاں سمندری کچھوؤں اور دیگر آبی حیات کے مسکن موجود ہیں۔
تاہم ماحولیاتی تنظیم گرین پیس سمیت بعض اداروں کا کہنا ہے کہ تیل کا پھیلاؤ عمانی حکام کے اندازے سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ گرین پیس نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ایک غیر معمولی ماحولیاتی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
کیرولین بیزینگی 8 جون کو عمان کے ال ہالانیات جزائر کے قریب ناکارہ ہو گیا تھا، جب عملے نے ممکنہ دھماکے کی اطلاع دی تھی۔ واقعے کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔
مغربی حکومتوں کے مطابق یہ ٹینکر روس کے اس نام نہاد شیڈو فلیٹ کا حصہ تھا جس کے ذریعے روسی تیل کی نقل و حمل کی جاتی ہے۔ روس کے یوکرین پر 2022 کے حملے کے بعد اس کے تیل پر متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
2001 میں تعمیر کیا گیا یہ ٹینکر اس وقت یورپی یونین، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا اور یوکرین کی پابندیوں کی زد میں ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹینکر میں موجود تقریباً 8 لاکھ بیرل خام تیل کا اخراج ایک بڑے پیمانے کی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن سکتا ہے۔ لوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی کے تیل کے اخراج کے ماہر کرسٹوفر ڈیلیا نے اسے ایک خاصا بڑا تیل کا اخراج قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی یا پابندیوں سے بچنے والے ٹینکروں کے معاملے میں صفائی کے اخراجات کی ذمہ داری طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے آلودگی کی صورت میں متاثرہ علاقوں کی صفائی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے ’بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی‘ ہیں: وزیراعظم
بیروت، لبنان کی حکومت نے ملک کے جنوبی علاقوں میں گھروں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو جان بوجھ کر تباہ کرنے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے، جبکہ جنگ بندی کی صورت حال مسلسل کمزور ہوتی جارہی ہے۔
لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے بدھ کو کہا کہ اسرائیل کے “حملے، دراندازیاں، مسماری اور گھروں کی منظم تباہی بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں اور قواعد کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔”
سلام نے اسرائیل کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ اس کی جانب سے تباہ کیے گئے دیہات فوجی مقامات تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دعویٰ “کسی بھی منطق پر پورا نہیں اترتا اور ان دیہات کو تباہ کرنے، ان کے رہائشیوں کو بے گھر کرنے اور انہیں واپس آنے سے روکنے کے لیے بطور جواز استعمال نہیں کیا جاسکتا۔”
سلام کا یہ بیان اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے جنوبی لبنان کے دورے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ کاٹز نے کہا تھا کہ اسرائیلی فورسز وہاں “زیر زمین بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہیں” اور “تمام گھروں کو تباہ کر رہی ہیں۔”
کاٹز نے الگ سے کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان، شام یا غزہ میں زیر قبضہ علاقوں سے انخلا نہیں کرے گی۔ اسی روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے بدھ کو الجزیرہ کو بتایا کہ واشنگٹن “تمام فریقوں سے توقع کرتا ہے کہ وہ اس فریم ورک کے مطابق عمل کریں جس پر انہوں نے اتفاق کیا تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے “واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان میں اس کے کوئی علاقائی عزائم نہیں ہیں۔”
5 اگست کو اسرائیل نے منصوری قصبے پر حملے کیے تھے۔ اسرائیل نے الزام عائد کیا تھا کہ حزب اللہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مجدل زون کے قریب دو اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا۔
اسرائیلی فوج نے منصوری کے رہائشیوں کو انخلا کا حکم دیا، جو کئی ہفتوں میں اس نوعیت کا پہلا حکم تھا۔ اسی دوران ایک دوسرے حملے میں ایک شخص ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔ اگلے روز اسرائیلی حملے میں برج الشمالی میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا۔
حزب اللہ نے اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی اس نے اس واقعے پر براہ راست کوئی عوامی بیان جاری کیا ہے۔
2 مارچ کو لبنان بھی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہوگیا، جب ایران نواز حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر حملے کیے۔
اگرچہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی روکنے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی 17 اپریل کو نافذ ہوئی تھی، تاہم اسرائیلی فورسز نے اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور جنوبی لبنان کے درجنوں دیہات پر قبضہ برقرار رکھا ہے۔
مکمل انخلا کے لیے بھی کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔
حالیہ مشروط جنگ بندی کی بنیاد جون میں واشنگٹن میں طے پانے والے ایک فریم ورک معاہدے پر ہے۔ اس کے تحت اسرائیلی فورسز کو مقبوضہ لبنانی علاقوں سے مرحلہ وار انخلا کرنا تھا، جبکہ لبنانی فوج ان کی جگہ تعینات ہوتی۔ یہ عمل محدود “پائلٹ زونز” سے شروع ہونا تھا اور اس کے بدلے حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جانا تھا۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے امریکہ کی ثالثی میں اب تک سات ادوار کے مذاکرات ہوچکے ہیں، جن میں چار واشنگٹن اور تین روم میں ہوئے۔
حزب اللہ، جو ان مذاکرات کا فریق نہیں ہے، کہہ چکا ہے کہ وہ دریائے لیتانی کے جنوب سے پیچھے ہٹ جائے گا، تاہم دریا کے شمال میں اپنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق مارچ سے اسرائیلی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں 4,333 افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جو ملک کی تقریباً پانچویں آبادی کے برابر ہیں۔
جنگ بندی کے باضابطہ طور پر نافذ ہونے کے بعد بھی موسمِ گرما کے دوران یہ اعداد و شمار مسلسل بڑھتے رہے ہیں۔
واشنگٹن میں دو امریکی سینیٹروں نے لبنان کے لیے پانچ سال کے دوران 1.2 ارب ڈالر کے سکیورٹی امدادی پیکیج کی تجویز پیش کی ہے۔ اس امداد کے ایک حصے کو ریاست کی جانب سے ہتھیاروں پر اجارہ داری قائم کرنے اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں پیش رفت سے مشروط کیا گیا ہے۔
یہ امدادی پیکیج ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کے بعد لبنان کا استحکام اب بھی ایک غیر حل شدہ سیاسی اور عسکری کشمکش سے جڑا ہوا ہے، جس میں فی الحال کمی کے بہت کم آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کولمبیا کے صدر نے معاشی ہنگامی حالت نافذ کی
میکسیکو سٹی، کولمبیا کے صدر ابیلاردو ڈی لا ایسپریلا نے 10 اگست کو آئے شدید زلزلے کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آئینی طور پر معاشی ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کی غرض سے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ڈی لا ایسپریلا نے کاراکول ٹیلی ویژن چینل پر نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا، ’’میں نے اس بحران سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے معاشی ہنگامی حالت نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ہمارے آئین میں فراہم کردہ ایک طریقۂ کار ہے۔‘‘
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے 53,526 مکانات کو نقصان پہنچا، 140 عمارتیں منہدم ہوگئیں، جبکہ 1,819 تعلیمی ادارے، 631 کمیونٹی مراکز اور 179 طبی مراکز بھی متاثر ہوئے۔ ایک پیدل پل تباہ ہوگیا، جبکہ 20 شاہراہوں کے پل، سڑکوں کے 203 حصے، پانی کی فراہمی کے 44 نظام اور 5 ہوائی اڈے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
دریں اثنا، قدرتی آفات کے خطرات کے انتظام کی قومی اکائی کے سربراہ ڈیوڈ تامایو نے کہا کہ کولمبیا کو شدید زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں کو مضبوط بنانے کے لیے امریکہ، اسرائیل، ایکواڈور اور ایل سلواڈور سے خصوصی تلاش اور بچاؤ ٹیمیں موصول ہوں گی۔
میریدیانو ریجنل کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق تامایو نے کہا، ’’ہم امریکہ، ایل سلواڈور، ایکواڈور اور اسرائیل کی تلاش اور بچاؤ ٹیموں سے مدد کے لیے تعاون، درخواستوں اور اپیلوں کو باضابطہ شکل دینے کا عمل شروع کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس سے کولمبیا کے ان امدادی کارکنوں کی مدد اور جزوی طور پر متبادل انتظام ممکن ہوگا، جو کئی دنوں سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔
اس وقت کولمبیا بھر میں تلاش اور بچاؤ کی 23 منظور شدہ ٹیمیں تعینات ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ٹیمیں چوکو اور وائے کا ڈیل کاؤکا کے علاقوں کے علاوہ زلزلے سے متاثرہ دیگر مقامات پر کام کر رہی ہیں۔
10 اگست کی صبح کولمبیا میں 7.4 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ اس کا مرکز چوکو محکمہ میں تھا۔ زلزلے کے جھٹکے کولمبیا کے بیشتر علاقوں اور پڑوسی ممالک میں بھی محسوس کیے گئے تھے۔
کولمبیا کے صدر ابیلاردو ڈی لا ایسپریلا نے بتایا کہ زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد 265 ہوگئی ہے، جبکہ 3,494 افراد زخمی اور 496 لاپتہ ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
