ہندوستان
ہندوستان اور نیدرلینڈ کے درمیان سیمی کنڈکٹر اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
نئی دہلی، ہندوستان اور نیدرلینڈ نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے اور سیمی کنڈکٹر، باصلاحیت افرادی قوت کے تبادلے اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر غور کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے جمعہ کو یہاں نیدرلینڈ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ وین ویل کے ساتھ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور نئے شعبوں میں شراکت داری پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ بعد ازاں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ڈاکٹر جے شنکر نے بتایا کہ انہوں نے تجارت، دفاع، جہاز رانی، پانی، زراعت، صحت اور ثقافت سمیت دیگر امور پر مفید بات چیت کی۔ انہوں نے ہند-یورپی یونین تعلقات کو مضبوط بنانے اور آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کی تکمیل کے لیے نیدرلینڈ کی حمایت کو بھی سراہا۔
وزارتِ خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت کے دوران ہندوستان-نیدرلینڈ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور حالیہ برسوں میں شراکت داری میں ہونے والی نمایاں پیش رفت پر غور کیا۔ انہوں نے تعلقات کے تزویراتی پہلو کو مضبوط بنانے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان آئندہ فروری میں ’اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ کے لیے نیدرلینڈ کے وزیر اعظم ڈک شوف کے دورۂ ہند کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہے۔
دونوں وزراء نے دوطرفہ شراکت داری کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے نئے شعبوں مثلاً سیمی کنڈکٹر، دفاع، ڈیجیٹل، اے آئی، قابلِ تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن، تعلیم اور نقل و حرکت کے شعبوں میں وسعت دینے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا، تاکہ اسے مزید تزویراتی سمت دی جا سکے۔ اس تناظر میں انہوں نے رواں سال ہونے والے مختلف مفاہمت ناموں اور معاہدوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے سیمی کنڈکٹر اور متعلقہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر شراکت داری سے متعلق مفاہمت نامے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ڈیجیٹل اور سائبر اسپیس کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے مشترکہ اعلامیہ پر بھی اطمینان کا اظہار کیا، جس سے دونوں فریق ابھرتے ہوئے چیلنجز کے مقابلے میں ڈیجیٹل شعبے میں سکیورٹی تعاون کو مضبوط کر سکیں گے۔
انہوں نے تجارت اور اقتصادی تعلقات کو ہندوستان-نیدرلینڈ شراکت داری کے اہم ستونوں میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ تجارت اور سرمایہ کاری کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ تعاون کو گہرا کرنے، تجارت میں سہولت سے متعلق مسائل حل کرنے اور دوطرفہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ہندوستان اور نیدرلینڈ کی بھرپور بحری تاریخ کو یاد کرتے ہوئے، وزراء نے گجرات کے لوتھل میں ’قومی سمندری ورثہ کمپلیکس‘ کی ترقی کے لیے مفاہمت نامے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے سمندری اور جہاز رانی کے شعبوں میں خاص طور پر گرین شپنگ، بندرگاہوں کی ترقی اور جہاز سازی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
دونوں وزراء نے ’پانی، زراعت اور صحت (ڈبلیو اے ایچ) ایجنڈے کے تحت نتائج کو مستحکم کرنے اور مزید بہتر بنانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس سلسلے میں، انہوں نے دوا سازی اور طبی آلات سے متعلق شعبے میں تعاون سے متعلق نئے معاہدے کا خیرمقدم کیا۔
فریقین نے ہند-بحرالکاہل ، یوکرین، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی اہم پیش رفتوں سمیت مشترکہ مفاد کے دیگر علاقائی اور عالمی مسائل پر بات چیت کی۔ مسٹر ویل نے دہلی میں حال ہی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے متاثرین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ فریقین نے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی اور جامع طریقے سے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ہندوستان نے دہشت گردی کو قطعی برداشت نہ کرنے کی اپنی پالیسی کا اعادہ کیا۔
ہندوستان کے دورے پر آئے ہوئے جناب ویل نے اس سے قبل وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کے ساتھ بھی ملاقاتیں کی تھیں۔
یو این آئی – م ک
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
