تازہ ترین
ہندوستان پر کورونا کا قہر تیز، 16 ہزار نئے معاملے درج، مزید 465 اموات
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہندوستان میں کورونا انفیکشن کے 15968 نئے معاملے سامنے آئے اور 465 اموات ہوئیں۔ اب متاثرین کی مجموعی تعداد 4.56 لاکھ جبکہ ہلاک شدگان کی تعداد 14476 ہوچکی ہے۔
نئی دہلی: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا وائرس کے 15968 نئے کیسز کی اطلاعات ہیں اور ان مریضوں کے اضافہ کے ساتھ متاثرین کی مجموعی تعداد 4.56 لاکھ جبکہ ہلاک شدگان کی تعداد 14476 ہوچکی ہے۔ صحت و خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت کی جانب سے بدھ کے روز جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر 456183 ہوگئی ہے جس میں کورونا وائرس کے 15968 نئے کیسز بھی شامل ہیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اس وبا سے 465 اموات کے ساتھ ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد 14476 ہوگئی ہے۔ دوسری طرف اس بیماری سے شفایاب ہونے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور اسی عرصہ میں 10495 مریض صحتمند ہوئے ہیں۔ شفایاب ہونے والوں کی مجموعی تعداد اب 258685 ہوگئی ہے۔ ملک میں اس وقت کورونا وائرس کے 183022 فعال کیسز ہیں۔
کورونا وائرس سے ریاست مہاراشٹر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں کووڈ۔ 19 کے 3214 کیسز رپورٹ ہوئے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 248 افراد کی موت ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر 139010 اور مرنے والوں کی تعداد 6531 ہوگئی ہے۔ اسی عرصہ کے دوران ریاست میں 1925 افراد شفایاب ہوئے ہیں، جس کے بعد صحت مند افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر 69631 ہوچکی ہے۔
قومی دارالحکومت دہلی میں بھی کورونا وائرس نے زبردست تباہی مچائی ہے اور یہاں متاثرین کے لگا تار بڑھتے ہوئے اعداد و شمار کے ساتھ ملک میں مسلسل دوسرے نمبر پر برقرار ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قومی راجدھانی میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر66602 ہوگئی ہے جس میں ریکارڈ 3947 نئے کیسز بھی شامل ہیں۔ اسی عرصہ میں 68 مریضوں کی ہلاکت کے بعد ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد 2301 ہوگئی ہے۔ ہلاک شدگان کی تعداد کے لحاظ سے دہلی، مہاراشٹر کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ دارالحکومت میں 39313 شفایاب ہوئے جن کو مختلف اسپتالوں سے فارغ کیا چکا ہے۔
کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے معاملہ میں تامل ناڈو تیسرے نمبر پر ہے، جہاں اب متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 64603 تک جا پہنچی ہے اور اب تک اس وائرس کی زد میں آنے سے 833 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ریاست میں 35339 افراد کو علاج کے بعد مختلف اسپتالوں سے فارغ کردیا گیا ہے۔ ملک کی مغربی ریاست گجرات کووڈ 19 سے متاثر ہونے کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر ہے، لیکن اموات کی تعداد کے لحاظ سے یہ مہاراشٹر اور دہلی کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔ گجرات میں اب تک 28371 افراد اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں اور 1710 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ریاست میں 20513 افراد بھی اس مرض سے شفایاب ہوچکے ہیں۔
آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں اب تک کورونا وائرس کے 18893 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور وائرس کی وجہ سے 588 افراد ہلاک جبکہ 12116 مریض صحت مند ہوچکے ہیں۔ راجستھان میں بھی کورونا پھیلنے کا عمل شباب پر ہے اور اب تک متاثرہ افراد کی تعداد 15627 تک جا پہنچی ہے جبکہ اب تک 365 افراد ہلاک اور 12213 افراد مکمل طور پر صحت یاب ہوچکے ہیں۔
مغربی بنگال میں 14728 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں اور580 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اوراب تک 9218 افراد شفایاب ہوئے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں 12261 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں اور 525 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ 9335 افراد صحتمند ہوئے ہیں۔ جنوبی ہندوستان کی دوریاستوں کرناٹک میں 9721 افراد اور آندھرا پردیش میں 10002 افراد متاثر ہوئے ہیں اور ان ریاستوں میں اموات کی تعداد بالترتیب 150 اور 119 ہے۔ مرکز کے زیر کنٹرول جموں و کشمیر میں متاثرہ افراد کی تعداد 6236 ہوچکی ہے اور اب تک اس وائرس سے 87 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
کورونا وائرس سے ہریانہ میں 178، پنجاب میں 105، بہار میں 56، اتراکھنڈ میں 30، کیرالہ میں 22، اڈیشہ میں 17، چھتیس گڑھ میں،12 جھارکھنڈ میں 11، آسام اور پڈوچیری میں نو نو، ہماچل پردیش میں آٹھ، چنڈی گڑھ میں چھ اور تریپورہ، لداخ، گوا و میگھالیہ میں ایک ایک شخص کی موت ہوچکی ہے۔(قومی آواز)
ہندوستان
ترکیہ کے صدر کو ہندوستان کی خود مختاری سے جڑے معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، ہندوستان نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کے جموں و کشمیر کے بارے میں دیے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہندوستان کی خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور اس پر کسی بیرونی فریق کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں اس بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان اس ناپسندیدہ تبصرے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، “ترکیہ کے صدر کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران جموں و کشمیر کے بارے میں ناپسندیدہ تبصرے کو ہندستان مسترد کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کی سالمیت نیز خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور کسی بیرونی فریق کو اس پر بولنے کا حق نہیں ہے۔”
رپورٹوں کے مطابق مسٹر اردگان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے کشمیر کے مسئلے سمیت تمام تنازعات کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرے میں بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں رکنیت کے بارے میں تمام اراکین مل کر فیصلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی رکنیت کا موضوع آتا ہے تو اراکین کو اجتماعی طور پر اس بارے میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
ان سے میڈیا میں آئی ان رپورٹوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا جن میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان ترکیہ کو ایس سی او کا مکمل رکن بنانے کے حق میں نہیں ہے۔
یواین آئی ایف اے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی میں بی جے پی کے احتجاج کے بعد عمر نے ارکان اسمبلی اور وزراء کی تنخواہوں میں اضافے کے بل واپس لیے
سری نگر، بی جے پی کے احتجاج کے بعد منگل کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزراء، وزرائے مملکت اور قانون ساز ادارے کے ارکان کی تنخواہوں اور الاؤنس میں اضافے کی تجویز والے 2 بل واپس لے لیے۔
اتفاق سے جموں و کشمیر اسمبلی کی ایک ایوانی کمیٹی نے، جس کی سربراہی بی جے پی کے رکن اسمبلی سرجیت سنگھ سلاتھیہ کر رہے تھے، مجوزہ اضافے کی منظوری دی تھی۔
بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے ایوان میں کہا کہ حکومت کو یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین اور معاہدے پر کام کرنے والے ملازمین کو راحت فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
بل پیش کیے جانے کے بعد بی جے پی ارکان کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایوانی کمیٹی میں کوئی اختلافی نوٹ نہیں تھا، جس نے تنخواہوں اور الاؤنس میں مجوزہ اضافے کی سفارش کی تھی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کے ارکان ایک طرف تنخواہوں اور الاؤنس کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو درپیش مسائل کا حوالہ دے کر اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’میں کبھی اس کے حق میں نہیں تھا۔ اپنے ارکان اسمبلی سے پوچھ لیجیے۔ اگر ایک بھی رکن اس کی مخالفت کرتا ہے تو یہ کبھی منظور نہیں ہوگا۔ میں بل واپس لیتا ہوں۔‘‘
اس کے بعد ایوان نے اکثریت سے قانون سازی واپس لینے کے حق میں ووٹ دیا۔
وزیر اعلیٰ نے قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کے انچارج وزیر کی حیثیت سے یہ بل واپس لیے۔
تاہم، ایوان نے سابق ارکان قانون ساز ادارے سے متعلق ایک بل منظور کرلیا۔ حکمراں اور اپوزیشن دونوں جانب کے ارکان نے کہا کہ چونکہ یہ بل سابق ارکان سے متعلق ہے، اس لیے اسے واپس نہیں لیا جانا چاہیے۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے بلدیاتی نظم و نسق، کاروبار کرنے میں آسانی اور زندگی گزارنے میں آسانی، ٹیکس نظام، ٹیکسوں کو معقول بنانے اور جرائم کو غیر فوجداری بنانے سے متعلق وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کیے گئے 4 بل منظور کر لیے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بل 24 ستمبر اور 28 ستمبر کو پیش کیے تھے اور متعلقہ تاریخوں پر ارکان میں تقسیم کیے گئے تھے۔ بعد ازاں اسمبلی کے جاری خزاں اجلاس کے دوران انہیں غور و خوض اور منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کیے گئے بلوں میں جموں و کشمیر میونسپل (ترمیمی) بل بھی شامل ہے، جسے انہوں نے مکان اور شہری ترقی کے انچارج وزیر کی حیثیت سے پیش کیا۔
وزیر اعلیٰ نے قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کے انچارج وزیر کی حیثیت سے جموں و کشمیر کاروبار کرنے میں آسانی بل، 2026 پیش کیا۔
اس بل کا مقصد اجازت پر مبنی نظام کی جگہ ضابطوں پر مبنی نظم و نسق قائم کرنے کے لیے قانون کو یکجا اور اس میں ترمیم کرنا اور شہریوں اور کاروباری اداروں کو اعتماد کے ساتھ منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور کام کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد مرکز کے زیر انتظام علاقے میں کاروبار کرنے میں آسانی اور زندگی گزارنے میں آسانی کو اس طرح فروغ دینا ہے کہ روزگار پیدا ہو، سرمایہ کاری راغب ہو اور طویل مدتی اقتصادی ترقی برقرار رہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر خزانہ کے طور پر اپنی حیثیت میں جموں و کشمیر اشیا و خدمات ٹیکس (ترمیمی) بل، 2026 بھی پیش کیا، جس میں جموں و کشمیر اشیا و خدمات ٹیکس ایکٹ، 2017 میں ترمیم کی تجویز ہے۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کیا گیا ایک اور قانون سازی کا مسودہ جموں و کشمیر جرائم کو غیر فوجداری بنانے اور معقول بنانے سے متعلق بل، 2026 تھا۔ اس بل کا مقصد بعض قوانین میں ترمیم کرکے جرائم کو غیر فوجداری بنانا اور انہیں معقول بنانا ہے تاکہ زندگی گزارنے میں آسانی اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ بعض قوانین کو منسوخ کرنے اور اس سے متعلق یا ضمنی معاملات کو نمٹانے کی بھی تجویز ہے۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: سی آئی ایس ایف کیمپ میں فائرنگ، 4 اہلکاروں کی مبینہ موت
جموں، جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع کے بسوہلی علاقے میں منگل کی شام آپسی فائرنگ کے ایک واقعے میں اسسٹنٹ کمانڈنٹ اور سب انسپکٹر سمیت سی آئی ایس ایف کے 4 اہلکاروں کی مبینہ طور پر موت ہوگئی۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ’’ابتدائی اطلاعات کے مطابق سی آئی ایس ایف اہلکاروں کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی، جس کے بعد فائرنگ شروع ہوگئی۔‘‘ بسوہلی کے مَشکا علاقے میں سیوا پروجیکٹ کے قریب واقع سی آئی ایس ایف کیمپ میں آج شام فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ اہلکار پروجیکٹ کی حفاظت کے لیے تعینات تھے۔
اسسٹنٹ کمانڈنٹ، سب انسپکٹر اور 2 جوانوں سمیت سی آئی ایس ایف کے 4 اہلکار شدید زخمی ہوگئے اور انہیں پڑوسی ریاست ہماچل پردیش کے این ایچ پی سی اسپتال لے جایا گیا، لیکن انہوں نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔
مرنے والے اہلکاروں کی شناخت اسسٹنٹ کمانڈنٹ انکِت کمار پانڈے، سب انسپکٹر لکشمن سنگھ، کانسٹیبل رفیق احمد اور کانسٹیبل سندیپ کمار کے طور پر ہوئی ہے۔مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
کٹھوعہ ضلع کی سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس موہیتا شرما نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا7 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
