اہم خبریں
ہندوستان کے ساتھ مل کر کووڈ کا خاتمہ کریں گے: بائیڈن
نیو یارک :
وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر جوزف آر بائیڈین نے ہندوستان اور امریکہ کو دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک ہونے کے ناطے ایک دوسرے کے سبب قریبی شراکت داری قرار دیتے ہوئے آج اس بات پر زور دیا کہ کووڈ اور موسمیاتی تبدیلی سمیت تمام عالمی چیلنجز کا مقابلہ کریں۔
وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کے اوول آفس میں مسٹر بائیڈن نےمسٹر مودی کا پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے افتتاحی بیان کے بعد وفد کی سطح کی ملاقات ہوئی جو تقریبا ًڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔ ہندوستانی وفد میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر ، قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوبھال، سیکرٹری خارجہ ہرش وردھن شرنگلا ، امریکہ میں ہندوستان کے سفیر ترنجیت سنگھ سندھو اور وزارت خارجہ میں جوائنٹ سیکرٹری (یو ایس اے) وانی راؤ شامل تھے۔
اوول آفس میں ہندوستانی وزیر اعظم کا استقبال کرتے ہوئے امریکی صدر مسٹر بائیڈن نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات ، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے ناطے ، قریب اور مضبوط ہونے والے ہیں۔ اس وقت ان تعلقات میں ایک نیا باب بھی شروع ہوگا۔
مسٹر بائیڈن نے کہا ، ’مجھے بہت پہلے سے یقین ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات بہت سے عالمی چیلنجز کو حل کرنے میں ممد و معاون ہو سکتے ہیں۔ سنہ 2006 میں نائب صدر بننے کے بعد ، میں نے کہا تھا کہ 2020 تک ہندوستان اور امریکہ دنیا کے قریب ترین ممالک میں شامل ہوں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ مل کر کووڈ کی وبا کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ وہ وزیر اعظم کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی اور ہند بحرالکاہل خطے کو محفوظ بنانے کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
امریکی صدر نے ملک میں رہنے والے تقریبا 40ً لاکھ ہند نژاد امریکیوں کی امریکہ کی ترقی اور مضبوطی میں شراکت کا ذکر کیا اور کہا کہ اگلے ہفتے مہاتما گاندھی کی سالگرہ ہے اور ان کی عدم تشدد، رواداری اور باہمی احترام کی تعلیمات آج کی دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
مسٹر مودی نے اپنے بیان میں مسٹر بائیڈن کے ہندوستان -امریکہ تعلقات کے وژن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر بائیڈن کا وژن متاثر کن رہا ہے جسے وہ آج امریکہ کے صدر کی حیثیت سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر بائیڈن کی قیادت میں جو بیج آج 21 ویں صدی کی تیسری دہائی کے پہلے سال میں ہمارے دوطرفہ تعلقات میں لگائے جا رہے ہیں ، یہ تعلقات وسعت پائیں گے اور یہ دنیا کے جمہوری مالک کے لیے بھی تبدیلی کا ثبوت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دونوں جمہوری اقدارو روایات جن کے ساتھ ہم دونوںملک جی رہے ہیں ، آنے والے وقتوں میں ان کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔
وزیر اعظم نے ہنر ، ٹیکنالوجی ، کاروبار اور ٹرسٹی شپ کو ہندوستان امریکہ تعلقات میں کلیدی عناصر قرار دیا۔ امریکہ کے ترقیاتی سفر میں ہندنژاد 40 لاکھ انڈین کمیونٹی کی شراکت کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے پیچھے عوام کے درمیان ہنر کی پرورش اہم سبب ہے۔ امریکہ کی ترقی میں اس کی اہمیت رہی ہے۔ امریکہ کے ترقیاتی سفر میں انڈین ٹیلنٹ کا پارٹنر بننے میں مسٹر بائیڈن کا کردار اہم ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ اس دہائی میں ٹیکنالوجی پوری دنیا میں ڈرائیونگ فورس ہونے والی ہے۔ ہندوستان اور امریکہ بھی ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانیت کی خدمت کر سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں تجارت بھی اہم ہے۔ امریکہ اور ہندوستان میں ایسی چیزیں ہیں جو ایک دوسرے کے کام آنے والی ہیں لہٰذا دوطرفہ تعلقات میں تجارت بھی ایک بہت اہم مسئلہ ہوگا۔ مسٹر بائیڈن کے مہاتما گاندھی کے تذکرے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گاندھی جی نے ٹرسٹ شپ کے نقطہ نظر سے زمین کو دیکھا۔ ان کا خیال تھا کہ ہمیں اس زمین کو اگلی نسل کو اس کے ورثہ کے طور پر سونپنی ہوگی۔ یہ دنیا کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر جوزف آر بائیڈین نے ہندوستان اور امریکہ کو دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک ہونے کے ناطے ایک دوسرے کے سبب قریبی شراکت داری قرار دیتے ہوئے آج اس بات پر زور دیا کہ کووڈ اور موسمیاتی تبدیلی سمیت تمام عالمی چیلنجز کا مقابلہ کریں۔
وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کے اوول آفس میں مسٹر بائیڈن نےمسٹر مودی کا پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے افتتاحی بیان کے بعد وفد کی سطح کی ملاقات ہوئی جو تقریبا ًڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔ ہندوستانی وفد میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر ، قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوبھال، سیکرٹری خارجہ ہرش وردھن شرنگلا ، امریکہ میں ہندوستان کے سفیر ترنجیت سنگھ سندھو اور وزارت خارجہ میں جوائنٹ سیکرٹری (یو ایس اے) وانی راؤ شامل تھے۔
اوول آفس میں ہندوستانی وزیر اعظم کا استقبال کرتے ہوئے امریکی صدر مسٹر بائیڈن نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات ، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے ناطے ، قریب اور مضبوط ہونے والے ہیں۔ اس وقت ان تعلقات میں ایک نیا باب بھی شروع ہوگا۔
مسٹر بائیڈن نے کہا ، ’مجھے بہت پہلے سے یقین ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات بہت سے عالمی چیلنجز کو حل کرنے میں ممد و معاون ہو سکتے ہیں۔ سنہ 2006 میں نائب صدر بننے کے بعد ، میں نے کہا تھا کہ 2020 تک ہندوستان اور امریکہ دنیا کے قریب ترین ممالک میں شامل ہوں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ مل کر کووڈ کی وبا کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ وہ وزیر اعظم کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی اور ہند بحرالکاہل خطے کو محفوظ بنانے کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
امریکی صدر نے ملک میں رہنے والے تقریبا 40ً لاکھ ہند نژاد امریکیوں کی امریکہ کی ترقی اور مضبوطی میں شراکت کا ذکر کیا اور کہا کہ اگلے ہفتے مہاتما گاندھی کی سالگرہ ہے اور ان کی عدم تشدد، رواداری اور باہمی احترام کی تعلیمات آج کی دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
مسٹر مودی نے اپنے بیان میں مسٹر بائیڈن کے ہندوستان -امریکہ تعلقات کے وژن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر بائیڈن کا وژن متاثر کن رہا ہے جسے وہ آج امریکہ کے صدر کی حیثیت سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر بائیڈن کی قیادت میں جو بیج آج 21 ویں صدی کی تیسری دہائی کے پہلے سال میں ہمارے دوطرفہ تعلقات میں لگائے جا رہے ہیں ، یہ تعلقات وسعت پائیں گے اور یہ دنیا کے جمہوری مالک کے لیے بھی تبدیلی کا ثبوت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دونوں جمہوری اقدارو روایات جن کے ساتھ ہم دونوںملک جی رہے ہیں ، آنے والے وقتوں میں ان کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔
وزیر اعظم نے ہنر ، ٹیکنالوجی ، کاروبار اور ٹرسٹی شپ کو ہندوستان امریکہ تعلقات میں کلیدی عناصر قرار دیا۔ امریکہ کے ترقیاتی سفر میں ہندنژاد 40 لاکھ انڈین کمیونٹی کی شراکت کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے پیچھے عوام کے درمیان ہنر کی پرورش اہم سبب ہے۔ امریکہ کی ترقی میں اس کی اہمیت رہی ہے۔ امریکہ کے ترقیاتی سفر میں انڈین ٹیلنٹ کا پارٹنر بننے میں مسٹر بائیڈن کا کردار اہم ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ اس دہائی میں ٹیکنالوجی پوری دنیا میں ڈرائیونگ فورس ہونے والی ہے۔ ہندوستان اور امریکہ بھی ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانیت کی خدمت کر سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں تجارت بھی اہم ہے۔ امریکہ اور ہندوستان میں ایسی چیزیں ہیں جو ایک دوسرے کے کام آنے والی ہیں لہٰذا دوطرفہ تعلقات میں تجارت بھی ایک بہت اہم مسئلہ ہوگا۔ مسٹر بائیڈن کے مہاتما گاندھی کے تذکرے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گاندھی جی نے ٹرسٹ شپ کے نقطہ نظر سے زمین کو دیکھا۔ ان کا خیال تھا کہ ہمیں اس زمین کو اگلی نسل کو اس کے ورثہ کے طور پر سونپنی ہوگی۔ یہ دنیا کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ چاہے کوویڈ ہو یا موسمیاتی تبدیلی یا کواڈ ، مسٹر بائیڈن کے اقدامات آنے والے دنوں میں دنیا پر بڑا اثر ڈالیں گے۔ ہندوستان اور امریکہ ایک دوسرے کے لیے اور دونو ں مل کر دنیا کے لیے کیسے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس پر غور و خوض کرنا ہوگا۔
قبل ازیں ایک ٹویٹ میں مسٹر بائیڈن نے کہا کہ وہ آج صبح وائٹ ہاؤس میں وزیراعظم نریندر مودی کی دوطرفہ ملاقات کی میزبانی کریں گے۔ وہ دونوں ممالک کے مابین گہرے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے ، آزاد اور کھلے ہند بحرالکاہل خطہ قائم کرنے کے لیے کووڈ وبا اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔
بشکریہ : قومی آواز
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا21 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا21 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر21 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان23 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان23 hours agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا19 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
