ہندوستان
یونیسیف کا خاندانی نگہداشت کی بحالی کے لیے قومی مشاورتی پروگرام کا انعقاد
نئی دہلی، ہندوستان میں بچوں کے تحفظ اور بچوں کی نگہداشت کے نظام کو مضبوط بنانے کی طرف ایک بڑے قدم کے طور پر، مہاراشٹر کے محکمہ خواتین اور اطفال کی ترقی کی قیادت میں ‘خاندانی بنیاد پر نگہداشت کی بحالی’ پر ایک دو روزہ قومی مشاورتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا اس میں 17 ریاستی حکومتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے حصہ لیا اس تقریب کا اہتمام یونیسیف نےیو بی ایس آپٹمس فاؤنڈیشن کے اشتراک سے اور ٹرانسفر نیو کلیکٹیو اور انڈیا الٹرنیٹیو کیئر نیٹ ورک کے تعاون سے کیا تھا۔
مہاراشٹر حکومت میں وزیر برائے خواتین اور بہبود اطفال، محترمہ ادیتی سنیل تاٹکرے کہا، “خاندان بچے کی نشوونما کے لیے بہترین ماحول فراہم کر سکتا ہے۔ میں حکومت مہاراشٹر کے ساتھ مل کر کمزور بچوں اور خاندانوں کو کفالت، بچوں کی دیکھ بھال کی اسکیموں، دن کی دیکھ بھال اور دیگر معاون خدمات کے ذریعے مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہوں۔ ضرورت پڑنے پر ہمارے پاس متبادل رشتہ داری یا گود لینے والے خاندانوں کا اختیار ہونا چاہیے۔ میرے لیے ‘چائلڈ پروٹیکشن’ کا مطلب خاندانوں کی حمایت کرنا ہے، بچوں کو ان کے خاندانوں سے الگ نہیں کرنا۔
محترمہ ترپتی گورہا، آئی اے ایس، ایڈیشنل سکریٹری، وزارت برائے خواتین اور بچوں کی ترقی (ایم ڈبلیو سی ڈی ) اور عبوری چیئرپرسن، نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (اینسی پی سی آر) بھی مشاورتی پروگرام میں موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم ڈبلیو سی ڈی خاندان کی بنیاد پر دیکھ بھال پر توجہ دینے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ مشن وتسالیہ کے تحت غیر ادارہ جاتی دیکھ بھال کی خدمات کے کل بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مرکزی اسکیموں کے فوائد کو فروغ دیں جن کے ذریعے ہم خاندان پر مبنی متبادل دیکھ بھال کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
خاندان پر مبنی دیکھ بھال کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے، یونیسیف مہاراشٹر کے فیلڈ آفس کے سربراہ نے کہا، “مہاراشٹر کی حکومت نے ضرورت مند بچوں کے لیے تعاون کرنے کے لیے مختلف اسٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ لایا ہے، جس کی مدد سے پورے ہندوستان میں کامیابی کے کئی شعبے ہیں، جن کی مدد سے ملک بھر میں قانونی اور پالیسی کے ڈھانچے کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ مختلف اسٹیک ہولڈرز خاندان کی بنیاد پر دیکھ بھال کو آگے بڑھانے کی کلید ہیں۔
دو روزہ ورکشاپ کے دوران، موضوع کے ماہرین نے خاندان کو مضبوط بنانے کی حکمت عملیوں کو فروغ دینے جیسے کفالت، معاش کے لیے سرکاری سماجی تحفظ کی اسکیموں، ہنر مندی کی ترقی، بچوں کی دیکھ بھال کے لیے نقد امداد اور انتظامی رہنماؤں، پولیس، اسکول کے اساتذہ، صحت اور غذائیت کے فرنٹ لائنرز (آشا اور آنگن واڑی کارکنوں) اور سی ایس او کے ساتھ ساتھ سیکورٹی ورکرز کی تبدیلیوں کی کامیاب مثالیں بھی پیش کیں۔
محترمہ وندنا کندھاری، چائلڈ پروٹیکشن اسپیشلسٹ، یونیسیف انڈیا نے بھی اس بات پر روشنی ڈالی کہ دیہاتوں اور وارڈوں میں مقامی ادارے اور ‘چائلڈ ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن کمیٹیاں’ بچوں کے لیے محفوظ کمیونٹیز بنانے اور خاندانوں کو مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بحث میں بچوں کی دیکھ بھال کے لیے کمیونٹی پر مبنی پروگراموں اور خدمات کو مضبوط بنانے اور والدین کی دیکھ بھال کے بغیر بچوں کی حفاظت کے لیے خاندان پر مبنی متبادل دیکھ بھال کو فعال کرنے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔
خاندان پر مبنی دیکھ بھال اور کمیونٹی کی بنیاد پر رضاعی دیکھ بھال میں اختراعات کو کئی ریاستوں نے اشتراک کیا تھا۔ دو دنوں کے دوران، 60 مقررین نے اہم حکومتی اور کمیونٹی اقدامات پیش کیے جو کمزور حالات میں بچوں اور خاندانوں کی مدد کرتے ہیں۔ بچوں کی دیکھ بھال کو بہتر بنانے کے لیے ریاستوں کے ایکشن پلان اور وژن کا اعادہ کیا گیا، تاکہ تمام بچوں کو اچھے خاندانی ماحول میں پروان چڑھنے کا موقع ملے۔ اس تقریب کا اختتام سماجی تحفظ کو بڑھانے، ہنر مند انسانی وسائل میں سرمایہ کاری اور خاندان پر مبنی نگہداشت کے لیے جامع ریاستی ایکشن پلانز کے لیے کوششوں کے مطالبے کے ساتھ ہوا تاکہ کمزور اور ضرورت مند بچوں کے خاندانوں کو مضبوط کیا جا سکے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا20 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا20 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر20 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا24 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان22 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا24 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا24 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
