ہندوستان
17 ویں لوک سبھا کی میعاد کار اصلاحات اور غیر معمولی کامیابیوں سے بھرپور: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے 17ویں لوک سبھا کی میعاد کار کو نتیجہ خیز اور اصلاحات کے لحاظ سے تاریخی قرار دیا اور دنیا میں جمہوری نظام کے طور پر ہندوستان کی ساکھ کو بڑھانے میں لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے تعاون کی تعریف کی۔
17ویں لوک سبھا کے 15ویں اور آخری اجلاس کے اختتام سے پہلے اپنے آخری خطاب میں مسٹر مودی نے 17ویں لوک سبھا کی کامیابیوں کا تفصیل سے ذکر کیا اور لوک سبھا اسپیکر سمیت تمام اراکین، سیاسی پارٹی کے لیڈروں اور پریذائیڈنگ افسران کے تعاون کو یاد کیا۔ اوم برلا نے سب کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج جمہوریت کی عظیم روایت کا اہم دن ہے۔ 17ویں لوک سبھا نے ملک کے لیے اپنی 5 سال کی خدمت میں کئی اہم فیصلے کئے بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود سب نے اپنی صلاحیت کے مطابق ملک کو درست سمت دینے کی کوشش کی۔
اس دور میں بہت سی اصلاحات ہوئیں۔ 21ویں صدی کے ہندوستان کی مضبوط بنیاد ان تمام چیزوں میں نظر آتی ہے۔ ملک تبدیلی کی طرف تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے اور ایوان میں موجود تمام ساتھیوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ یہ پانچ سال ملک میں اصلاحات، کارکردگی اور عکاسی کے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ہم اصلاحات اور کارکردگی کے بعد ملک میں اس کا عکس دیکھ رہے ہوں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرح سے آج کا دن ہم سب کے لیے ان پانچ برسوں کے نظریات پر غور کرنے کا دن ہے۔
یہ قوم کے لیے وقت اور ملک کے لیے ایک بار پھر اپنی قراردادیں قوم کے قدموں میں وقف کرنے کا موقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اطمینان کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ جس کام کا ہماری کئی نسلیں صدیوں سے انتظار کر رہی تھیں وہ 17ویں لوک سبھا میں پورا ہو گیا۔
مسٹر برلا کے کام کی تعریف کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ ہر سازگار اور ناموافق حالات میں انتہائی متوازن اور غیر جانبدارانہ انداز میں ایوان کو چلایا اور تمام حالات کو پورے صبر کے ساتھ نمٹا۔
کووڈ کے مشکل وقت کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس صدی کے بنی نوع انسان کے سب سے بڑے بحران میں مسٹر برلا نے ایوان کا کام نہیں رکنے دیا اور اس کے وقار کو برقرار رکھا۔
اور رفتار کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا “میں اس کے لئے ممبران پارلیمنٹ کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
میں اس بات پر اظہار تشکر کرتا ہوں کہ بحران کے دوران مل کی ضروریات کے پیش نظر جب میں نے ایم پی فنڈ چھوڑنے کی تجویز اراکین پارلیمنٹ کے سامنے رکھی تو سب نے ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر اس تجویز کو قبول کرلیا۔ انہوں نے اپنی ضرورت کو سوچے بغیر اپنی مراعات ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہندوستان کے شہریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اراکین پارلیمنٹ نے اپنی متعلقہ تنخواہوں اور الاؤنسز میں 30 فیصد کمی کا فیصلہ کیا۔
مسٹر مودی نے کہا کہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت جو ملک کو ملی ہے، اس نے سینگول کو اپنی وراثت کے ایک حصے کے طور پر اور آزادی کے پہلے لمحے کو زندہ رکھنے کی کوشش کے طور پر قائم کیا ہے۔ مسٹر برلا کی قیادت میں اسے رسمی بنانے کا بہت بڑا کام کیا گیا ہے۔ جو ہندوستان کی آنے والی نسلوں کو ہمیشہ آزادی کے اس لمحے سے جوڑے رکھے گا۔ نیا پارلیمنٹ ہاؤس ہماری وراثت اور آزادی کے جذبے کو مجسم کرتا ہے جس کا تجربہ ہم نے پہلی بار 1947 میں کیا تھا۔ ہولی سینگول ہماری آنے والی نسلوں کو ان نظریات کی یاد دلائے گا جن کی ہم پیروی کرتے ہیں اور چیلنجنگ
وقت کے دوران ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ اس دوران ہندوستان کو جی ۔ 20 کی صدارت ملی اور ملک کی ہر ریاست نے دنیا کے سامنے ملک کی طاقت اور اس کی شناخت کو اچھی طرح سے پیش کیا۔ برلا نے پی ۔ 20 تقریب کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی پارلیمنٹ کے اسپیکروں کے سامنے ہندوستان کے جمہوریت کی ماں ہونے کی تفصیلات کو بہت متاثر کن انداز میں پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا “میں ‘پیپر لیس پارلیمنٹ’ کے انعقاد کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کرنے کے لیے اسپیکر کا شکر گزار ہوں۔ یہ آپ کی مہارت اور معزز ممبران کی رضامندی ہے جس کے نتیجے میں 17 ویں لوک سبھا کے دوران 97 فیصد کام کاج عمل میں آیا ہے۔ سات موسموں میں کام کاج کی صلاحیت 100 فیصد رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جیسے ہی ہم 17ویں لوک سبھا کا اختتام کریں گے، ہم 18ویں لوک سبھا میں 100 فیصد سے زیادہ کام کاج کی صلاحیت حاصل کرنے کے عزم کے ساتھ داخل ہوں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مسٹر برلا نے پارلیمنٹ لائبریری کے دروازے عام آدمی کے لیے کھول دیئے۔ ہم نے علم کے اس خزانے کو روایات کی اس وراثت کو عام لوگوں کے لیے کھول کر بہت بڑی خدمت کی ہے۔ اس کے لیے وہ چیئرمین کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا ‘یہ سیشن گیم چینجر تھا۔ 21ویں صدی کے ہندوستان کی بنیاد رکھنے کے لیے مختلف اصلاحات نافذ کی گئی ہیں۔ ہندوستان نے غیر معمولی رفتار سے ترقی کی ہے۔ ’’میں بڑے اطمینان کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پچھلی نسلیں جن تبدیلیوں کا طویل عرصے سے انتظار کر رہی تھیں وہ 17ویں لوک سبھا کے دوران پوری ہو گئی ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا ’’کئی نسلوں نے ایک آئین کا خواب دیکھا تھا۔ لیکن ہر لمحہ اس آئین میں ایک شگاف نظر آرہا تھا، ایک خلاء نظر آرہا تھا، ایک رکاوٹ چبھ رہی تھی۔ لیکن اسی ایوان نے آرٹیکل 370 کو ہٹا دیا، اس طرح آئین کی مکمل شکل پوری روشنی میں سامنے آئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا آئین بنانے والے عظیم انسان آج جہاں بھی ہیں ان کی روحیں ہمیں نواز رہی ہوں گی۔ انہوں نے کہا ’’پہلے دہشت گردی ایک ناسور کی طرح ہوا کرتی تھی اور ملک کے سینے پر گولیاں برساتی رہتی تھی۔ مادر وطن کی سرزمین روز لہو لہان ہو جاتی تھی۔ دہشت گردی کی وجہ سے ملک کے کئی ہیروز قربان ہوئے۔ قوی یقین ہے کہ جو لوگ اس طرح کے مسائل سے نبرد آزما تھے انہیں اس سے راحت ملے گی۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
راہل نے آن لائن فارم-6 میں تبدیلی پر الیکشن کمیشن، ٹی سی ایس سے پوچھے سوالات
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے نئے ووٹرز کے لیے آن لائن فارم-6 میں کی گئی تبدیلی پر الیکشن کمیشن اور ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) سے ضروری سوالات پوچھے ہیں۔
راہل نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا، “آن لائن فارم-6 میں غیر قانونی طریقے سے تبدیلی کی گئی، جیسا کہ الیکشن کمیشن کے اپنے کمشنروں نے درج کیا ہے۔ الیکشن کمیشن میں کس نے ٹی سی ایس کو یہ تبدیلی کرنے کا حکم دیا؟ ٹی سی ایس میں کس نے اسے منظوری دی اور کیا ان پر ایسا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا؟”
قابل ذکر ہے کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے فارم-6 میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) سے متعلق اضافی اعلان کو شامل کیے جانے پر اعتراض درج کرایا تھا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کمرشیل ایل پی جی گیس سلنڈر مہنگا ہوا
نئی دہلی، تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں نے جمعرات سے کمرشیل ایل پی جی ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے، حالانکہ گھریلو سلنڈر کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
دہلی میں ریستوران، ہوٹل وغیرہ میں استعمال ہونے والا 19 کلوگرام کا ایل پی جی سلنڈر آج سے 2810 روپے کا ہوگیا ہے۔ ستمبر میں اس کی قیمت 2747.50 روپے تھی۔ اس طرح یہاں 62.50 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
ممبئی میں تجارتی ایل پی جی سلنڈر 63.50 روپے مہنگا ہوکر اب 2764.50 روپے کا ہوگیا ہے۔ چنئی میں اب یہ 66.50 روپے بڑھ کر 2983 روپے اور کولکاتا میں 70 روپے بڑھ کر 2954 روپے کا ہوگیا ہے۔ اسی طرح دوسرے شہروں میں بھی نقل و حمل کی لاگت وغیرہ کے حساب سے قیمتوں میں تقریباً اسی تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔
یہ مسلسل دوسرا مہینہ ہے، جب کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کے دام بڑھے ہیں۔ اس سے پہلے ستمبر میں دہلی میں 9.50 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔
گھریلو ایل پ جی سلینڈروں کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ دہلی میں اس کی قیمت 942 روپے، کولکاتا میں 968 روپے، ممبئی میں 941.50 روپے اور چنئی میں 957.50 روپے پر برقرار ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
ہندوستان پر 100 فیصد امریکی برآمدی ڈیوٹی کے خدشے کے درمیان مودی اور ٹرمپ نے کی ٹیلی فون پر بات چیت
نئی دہلی، روس-ایران پابندیوں کے قانون کے تحت امریکہ کی طرف سے ہندوستان پر مجوزہ 100 فیصد برآمدی ڈیوٹی کے تعلق سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تبادلۂ خیال کے درمیان وزیرِ اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز بات چیت کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا۔
اس بات چیت کے بعد مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں نے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
انہوں نے کہا، “صدر ٹرمپ کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی۔ ہم نے تجارت، دفاع، توانائی، اہم ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں اپنے باہمی تعاون کا جائزہ لیا۔ ہم اپنی ‘جامع اسٹریٹجک شراکت داری’ کو آگے بڑھانے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر متفق ہوئے۔ ہم نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا، جن میں عالمی امن اور سکیورٹی کو فروغ دینے کے لیے جاری کوششیں بھی شامل ہیں۔”
وزیرِ اعظم کے دفتر نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے ہند-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے تئیں اپنے عزم کو دہرایا اور دونوں ممالک کے لوگوں کے فائدے کے لیے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے قریب رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ امریکی پارلیمنٹ کی طرف سے منظور شدہ یہ قانون امریکی صدر کو روس سے خام تیل یا قدرتی گیس خریدنے والے سرفہرست پانچ ممالک پر 100 فیصد تک برآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
دنیا7 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا7 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
