تازہ ترین
35Aپرمرکز دھمکیاں دینے کے بجائے عدالتی فیصلے کا انتظار کرے: عمر عبداللہ
خبراردو: نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے مرکزی سرکار کو 35اے ہٹانے کی دھمکیاں دینے اور ریاست خصوصاً وادی میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنے کی کوششوں سے گریز کرے .
سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو حلقہ انتخاب عیدگاہ میں پارٹی کے یک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے بعد ریاست خصوصاً وادی ایک ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، لوگوں کے دلوں میں ایک خوف ڈالا جارہا ہے، سب کے زبان پر یہی ہے کہ 15اگست کے بعد کیا ہوگا؟ مرکز نے کیا سوچا ہے؟ یہ سب کچھ لوگ خود نہیں سوچ رہے ہیں بلکہ حکومت کی طرف سے لوگوں کے دل و دماغ میں خوف ڈالا جارہا ہے۔راشن خرید کے رکھنا، گاڑیوں میں تیل بھر کے رکھنا، موبائل فون نہیں چلیں گے، لینڈ لائن گھر میں لگا کے رکھو، ہر پولیس تھانے کو کہا گیا ہے سیٹالائٹ فون لاکے رکھو، ہر تھانے کو کہا گیا ہے کہ بلڈوزر رکھو، راستے بند ہونگے،‘ جیسی افواہیں اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران کے بڑے بڑے دفتروں سے نکل رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ”میں مرکز اور ریاستی حکمرانوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس طرح خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرنے اور لوگوں کو دھماکے سے کیا حاصل ہورہا ہے؟ایک طرف سے آپ پارلیمنٹ دعوے کرتے ہیں کہ کشمیر میں دوبارہ امن آگیا ہے، ملی ٹنسی بھی کم ہوگئی ہے، پتھراؤ بھی کم ہوگیا ہے،لوگوں میں ناراضگی بھی کم ہوگئی ہے، دوسری طرف سے آپ یہاں افواہیں پھیلا رہے ہوں کہ ریاست میں 15اگست کے بعد دوبارہ آگ لگے گی۔
اس ریاست میں آگ لگنے سے فائدہ کس کو ہے اور نقصان کس کو ہے وہ آپ خود اندازہ کیجئے۔“ عمر عبداللہ نے کہا کہ نئی دلی میں بڑے بڑے لیڈران دھمکی دے رہے ہیں کہ دفعہ35اے اور 370کوبھی ہٹایا جائے گا،”آپ کو اپنی عدالت پر بھروسہ نہیں، 35اے کا کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، کیا آپ 35اے پر فیصلے کا انتظار نہیں کرسکتے ہیں؟اگر ہم کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہماری سر آنکھوں پر تو آپ بھروسہ کیوں نہیں کرسکتے؟،ہم نے بابری مسجد کے معاملے پر بھی بار بار کہا ہے کہ جو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہوگا وہ ہمیں بھی قبول ہوگا اور ہم 35اے کے بارے میں بھی یہی موقف اختیار کئے ہوئے ہیں، ہماری تنظیم نے اس کیس کے دفاع کیلئے وکلاء کی خدمات حاصل کر رکھیں ہیں جو مقدمہ لڑ رہے ہیں، ہمیں عدالت پر پورا بھروسہ ہے اور میں یہاں کے حکمرانوں اور دلی کے حکمرانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ سپریم کورٹ پر بھروسہ رکھئے، 35اے کو لیکر سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ ہماری سر آنکھوں پر ہوگا،لیکن یہاں پر لوگوں کو دڑانا، دھمکانا اور خوف کا ماحول پیدا کرنا بند کیجئے۔“این سی نائب صدر نے کہا کہ ”ہماری ریاست کے تین حصے کرنے کی بھی باتیں کی جارہی ہیں، لداخ الگ، جموں الگ اور کشمیر الگ، ایسا کیوں؟کیا آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ 1947کا دو قومی نظریہ صحیح تھا؟کیونکہ جس بٹوارے کی آپ بات کررہے ہیں وہ علاقائی بٹوارہ نہیں ہوگا، وہ مذہب کی بنیاد پر بٹوارہ ہوگا، مسلمان علاقے الگ، ہندو علاقے الگ اور بودھ علاقے الگ۔کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہم آپ کی یہ سازشیں کامیاب ہونے کی اجازت دیں گے؟ .
عمر عبداللہ کا مزید کہنا تھا کہ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس نے اس ریاست کیلئے خون کی قربانیاں دیں ہیں، ہم نے جو فیصلے کئے ہم اُن پر اپنی مرضی سے قائم رہے، ہم نے اپنا ایمان نہیں بھیجا، ہم نے پارٹیاں نہیں بدلیں، ہم نے اپنی سوچ نہیں بدلی،آپ مجھے سے کہتے ہیں کہ آپ اپنے گھر کودیکھا، جناب میرا گھر ٹھیک ہے، میرے گھر نے اصولوں کے ساتھ سودا نہیں کیا،آپ کمیشن بٹھانے کی باتیں کرتے ہیں، پوچھ تاچھ اور گرفتاریوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں، لگائے کمیشن، بٹائے انکوائریاں، کھلائیں کتابیں، بلایئے ہم سب کو پوچھ تاچھ کیلئے، ہم بھی تو ذرا دیکھیں کہ آپ کے پاس ہمارے خلاف ڈبل پیسے کے غلط کام کا کوئی ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ ”یہ لوگ والے ہمیں طعنہ دیتے ہیں کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ10فیصدی ووٹنگ میں جیتے ہیں اور انہیں بات کرنے کا حق نہیں، اگر صرف 10فیصد ووٹنگ ہوئی تو یہ ڈاکٹر صاحب کی کمزوری نہیں بلکہ آپ کی حکومت کی ناکامی کا نتیجہ ہے، ہماری حکومت کے دوران 2014کے پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات میں ریکارڈ توڑ ووٹنگ ہوئی۔“
عمر عبداللہ نے کہا کہ ”چلئے یہ بھی مان لیتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کو 10فیصدی ووٹنگ میں کامیاب ہوئے، پھر آپ ہی بتائیں کہ 90فیصدی کس کے ساتھ ہیں؟ پھر آپ اُن90فیصدی لوگوں کیساتھ بات کیجئے۔ آپ الیکشن لڑنے والوں کو بھی نہیں مانتے، آپ علیحدگی پسندوں اور آزادی مانگنے والوں کو بھی نہیں مانتے، پھر آپ یہاں کن سے بات کریں گے؟اُن لوگوں سے جو دلی سے پیسہ لیکر گذشتہ 4سال سے یہاں سے لیڈر بننے کی کوشش کررہے ہیں، کیا آپ کے ایجنٹ ہی یہاں بات کرنے کا حق رکھتے ہیں“۔مباگل گل نے اپنے خطاب میں آنے والے اسمبلی انتخابات کو تشخص اور وجود کا الیکشن قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہمیں کسی بھی صورت میں اس بار ووٹ ڈالنے نکلنا ہے کیونکہ بائیکاٹ سے ریاست کے دشمنوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں کامیابی اور ریاست کے مفادات کا دفاع کرنے کیلئے نیشنل کانفرنس کا مضبوط ہونا انتہائی ضروری ہے اور ہمیں اپنی پارٹی کی مضبوطی کیلئے لوگوں کے ساتھ زمینی سطح پر رابطہ بنائے رکھنا ہوگا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
