اہم خبریں
ندائے حق: ہماری مساجد کیسی ہونی چاہئیں!…اسد مرزا
اسد مرزا
اسلام میں مسجد انسان کے لئے روئے زمین پر ایک ایسا مقدس مقام ہے جہاں وہ عبادت کرسکتا ہے۔ مسجد ایک عربی لفظ ہے جس کا مطلب سجدہ کا مقام ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ دن میں 5 وقت اور جمعہ کے علاوہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کو مقامی یا شہر کی مسجد میں جمع ہوں۔ اس کو سماجی رابطوں اور اجتماعات کے لئے بھی ایک مقام کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اس لئے مسجد کو ایک ایسے مقام پر ہونا چاہیے جہاں سب کو رسائی حاصل کرنے میں آسانی ہو۔ بستی میں ایک ایسے مقام پر تعمیر کی جائے کہ اندرونی طور پر سب کو قریب رکھے اور اور بیرونی دنیا سے بھی اس کا رابطہ قائم رہے۔ تاہم مسلمانوں کو خاص طور سے ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں مقامی مسجد کو ایک ایسے مرکز میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جہاں برادری سے متعلق مختلف مسائل پر غوروخوض کرنے کے علاوہ علاقائی مسائل کو بھی سامنے لایا جاسکے اور اس کے آسان حل نکالنے کی کوشش کی جائے۔ اس سے مذہبی مقامات پر دیگر عقائد کے لوگوں کے داخلے پر پابندی کے لئے کٹرپسندوں کی جانب سے چلائی جانے والی مہم کا بھی جواب دینے میں مدد ملے گی۔
تعمیر کے اعتبار سے ایک مسجد میں 4 اہم عناصر ہوتے ہیں جن میں نماز کا ہال، ایک محراب جو قبلہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک مینار جو اذان دینے کے لئے ہوتی ہے اور ایک حوض جہاں وضو کیا جاتا ہے۔ مسجد کا رخ جانب کعبۃ اللہ ہوتا ہے اور اسی کو قبلہ کہیتے ہیں جس طرف مسلمان پانچ وقت اپنا منہ کرکے نماز ادا کرتے ہیں۔
عرب طرز کی مساجد ابتدائی دور کی مساجد ہیں جو امیہ اور عباسیہ کے دورخلافت میں تعمیر کی گئیں۔ یہ مساجد مربع شکل کی یا مستطیل شکل کی ہوتی تھیں۔ اور ان کے ساتھ صحن بھی ہوتا تھا۔ نماز کے ہال پر چھت ہوتی تھی۔ تاریخی طور پر مشرق وسطی اور بحرہ روم کے علاقوں میں گرم موسم کے دوران صحن کو بھی عبادت کے لئے استعمال کیا جاتا تھا جہاں جمعہ کی نماز کے وقت بڑی تعداد میں آنے والے لوگ عبادت کرتے تھے۔ تاہم عرب منصوبہ میں سادگی کی وجہ سے مزید تعمیراتی اختراع کے لئے مواقع محدود ہوگئے تھے۔
فارسیوں (ایرانیوں) نے سب سے پہلے عرب طرز تعمیر سے کنارہ کشی اختیار کی۔ انہوں نے اپنی مساجد کے طرز تعمیر میں پارتھیائی اور ساسانی طرز کو استعمال کرنا شروع کیا چنانچہ اسلامی طرز تعمیر میں اس طرح کی مسجدوں میں گنبد، دروں اور محرابوں کا اضافہ دیکھا گیا، جسے ایوان بھی کہا جاتا ہے۔
سلجوق حکمرانوں کے دور میں 4 ایوانوں کا اہتمام شروع کیا گیا۔ اس طرز تعمیرمیں صحن کے کنارے مسجد ہوتی تھی اور صحن میں داخلہ کے لئے چاروں طرف دروازے نصب کیے جاتے تھے تاکہ مختلف سمتوں سے آنے والے مقتدی مسجد میں آسانی سے رسائی پاسکیں۔ فارسیوں نے مسجد کے ڈیزائن میں باغات کا اضافہ متعارف کرایا۔ جلد ہی دنیا بھر میں فارسی طرز کی مساجد کی تعمیر میں اؔضافہ ہوا۔ بعد میں تیمور اور مغل حکمرانوں نے اسی طرز کی مساجد تعمیر کروائیں۔
سلطنت عثمانیہ نے 15 ویں صدی میں مسجد کے وسط میں مرکزی گنبد کو متعارف کروایا۔ ان مساجد میں عبادت کے ہال کے اوپر مرکز میں ایک بڑا گنبد ہوتا تھا۔ ایک بڑے مرکزی گنبد کے اضافہ کے علاوہ چھوٹے گنبدوں کی موجودگی بھی تعمیرات میں شامل کی گئی۔ مسجد کے بقیہ حصہ میں ان گنبدوں کو تعمیر کیا جاتا تھا جہاں عبادت نہیں ہوتی تھی۔ اس طرز تعمیرنے بازنطین مہمانوں کو کافی متاثر کیا جو اپنی تعمیرات میں بڑے مرکزی گنبدوں کا استعمال کرتے تھے۔ نئی دہلی کے مالویہ نگر کی کھڑکی مسجد کی تعمیر میں 81 سے زیادہ گنبد موجود ہیں۔
جنوب مشرقی ایشیاء میں مساجد کی تعمیر عام طور انڈونیشیا کے جاوا کے طرز تعمیر کی عکاسی کرتی ہے جو عظیم تر مشرق وسطی میں پائی جانے والی مساجد سے قدرے مختلف ہیں۔ اسی طرح یوروپ اور شمالی امریکہ میں بھی مساجد کی تعمیر مغربی طرز کی جھلک پیش کرتی ہے۔ چند مساجد قدیم گرجا گھر یا دیگر عمارتوں میں بھی قائم کی گئی ہیں جو پہلے غیرمسلموں کے زیراستعمال ہوا کرتی تھیں۔ افریقہ میں زیادہ تر مساجد قدیم طرزِ تعمیر پر بنائی گئی تھیں۔ تاہم نئی مساجد کو مشرق وسطی کے طرز تعمیر پر ہی بنایا جا رہا ہے۔
تاریخی طور پر ہندوستان میں متعدد مساجد کی تعمیر مغل دور میں کئی گئی تاہم حالیہ عرصے میں زیاہ دتر مساجد سادہ طرز تعمیر پر تیار کی گئی ہیں۔ جب سے بیرون ملک ملازمت کرنے والے تارکین وطن کی جانب سے عطیات کا سلسلہ شروع ہوا تب سے ہندوستان میں مساجد کی تعمیر متمول ہوگئی۔ ہر مسجد کی تعمیر دوسرے سے الگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور مسجد کی تعمیر اس علاقے یا کسی ایک شخص کی انفرادی فکر کی عکاسی کرتی ہے۔
ایک اختراعی مسجد
گجرات کے آرکٹکٹ قطب منڈوی والا نے مسجد کی ڈیزائن کا ایک نیا رجحان شروع کیا ہے۔ 2018 میں پہلی مرتبہ انہوں نے کانپور کے جارج مئو میں گلشن ہاؤزنگ سوسائٹی کے لئے گلستان مسجد کا نقشہ تیار کیا۔ یہ مسجد صرف 250 مربع میٹر کے رقبہ پر انتہائی گنجان آبادی میں تعمیر کی گئی ہے۔ اس مسجد کو ایک منصوبہ بند پراجکٹ کے طور پر تعمیر کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں لوگ بیٹھ سکتے ہیں۔ مسجد کے انتہائی سادہ اور غیرمعمولی ڈیزائن نے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالی ہے۔ مسجد کے دونوں طرف سڑکیں ہیں اور اس کے دو باب الداخلہ ہیں۔ ایک بڑا دروازہ بیرونی سڑک پرکھلتا ہے جب کہ دوسرا دروازہ بستی کے اندر کھلتا ہے۔ مسجد کی تعمیر کے لیے علاقائی طور پر دستیاب تعمیراتی وسائل کو استعمال کیا گیا ہے۔
اس مسجد کی منصوبہ بندی حقیقی دنیا کے مختلف عقائد اور علامتوں کو ذہن میں رکھ کر کی گئی ہے۔ اصل عمارت کے اطراف مختصر صحن ہے۔ جسے گزرگاہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے اور یہاں وضو خانے اور لوگوں کے لئے چپل رکھنے کی جگہ بنائی گئی ہے۔ مسجد کی اصل عمارت ایک مثلث کی شکل کی ہے جو عبادت کے وقت سجدے کی حالت میں معلوم ہوتی ہے۔ بیرونی ڈیزائن انتہائی سادہ ہے اور صحن کو پودوں سے سجایا گیا ہے۔ باہر کی سمت میں مینار کے اطراف ایک حوض بھی ہے۔ مسجد کے اگلے حصہ کو جالی سے ڈھکا گیا ہے جو مغل طرز کی یاد دلاتی ہے۔ اس جالی کو قدرتی ہوا اور روشنی کے لئے لگایا گیا ہے۔ اس جالی کی وجہ سے جہاں قدرتی روشنی اور ہوا اندر آنے سے ماحول پاک و صاف ہو جاتا ہے وہیں اندر کی گرم ہوا بھی باہر آسانی سے نکل جاتی ہے۔
ایک مثالی مسجد
تاہم اس وقت جدید اور مختلف طرز تعمیر کی مساجد تیار کرنے کے علاوہ ہمیں ایک ایسی مسجد کی تعمیر پر توجہ دینی چاہیے جو برادری کے لئے بامقصد ہو۔ ہم اس بحث کو اس طرح سے آگے لے جاسکتے ہیں کہ ایک مسجد کو مسلمانوں کا کمیونٹی ریسورس سنٹر (سی آر سی ) ہونا چاہیے جہاں مسلمانوں کی آبادی موجود ہے وہاں ان مسجد / سی آر سی کو ایک ایسے مقام کے طور پر تعمیر کرنا چاہیے، جہاں مسلمان نہ صرف اپنی مذہبی ضرورتوں کے لئے بلکہ سماجی ضرورت کے لئے جمع ہوسکیں۔ مسجد میں لائبریری، کیریر کونسلنگ سنٹر بھی ہونا چاہیے، جہاں مختلف شعبوں کے ماہرین کے ذریعہ نوجوانوں کو ان کی تعلیم اور کیریر کے انتخاب کے سلسلہ میں رہنمائی کی جاسکے۔ یہاں مسائل پر تبادلہ خیال کے لئے بھی ایک مقام ہونا چاہیے جو بستی کے غریب اور بیمار افراد پر نظر رکھ سکیں اور انہیں راحت فراہم کرسکیں۔ مسجد میں ایک ایسا کمرہ بھی ہونا چاہیے جہاں میتوں کے غسل اور کفن کا بھی انتظام کیا جاسکے۔
ہمیں مقامی مساجد کو ایک ایسے مقام کے طور پر تعمیرکرنا چاہیے جو نہ صرف طرز تعمیر کے لحاظ سے بہتر ہو بلکہ تعمیر پر زیادہ خرچ بھی نہ آئے۔ مسجد کو ہمہ مقصدی مراکز میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی برادری کسی نہ کسی موقع سے اس کا رخ کرسکے اور اپنی مذہبی و دیگر ضروریات کی تکمیل کرسکے۔ یہ اقدام چند یوروپی ممالک میں کچھ وقت پہلے شروع کیا گیا تھا۔ اب ہندوستان میں بھی اس طرح کی مساجد دیکھی جارہی ہیں۔ ایک مشورہ یہ بھی ہے کہ مقامی غیرمسلموں کو مسجد آنے کی دعوت دی جائے تاکہ وہ وہاں آکر مسلمانوں کو عبادت کرتے ہوئے دیکھ سکیں اور مقدس قرآن مجید کی تعلیمات سے مستفید ہوسکیں۔ ایک ایسا ماحول تعمیر کرنے کے لئے جدوجہد کرنی چاہیے جس سے غیرمسلموں میں مسلمانوں کے تعلق سے اعتماد اور بھی مضبوط ہوسکیں اور مختلف عقائد کے لوگوں کے درمیان بات چیت کا موقع فراہم کراسکے جو کہ ملک کے موجودہ حالات میں سب سے بڑی اور اہم ضرورت ہے۔اسد مرزا
اسد مرزا
(قومی آواز)
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر6 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا10 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان8 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا6 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا6 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا10 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا10 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
