تازہ ترین
کھڈپورہ خونریز جھڑپ:عام شہری، حزب جنگجو جاں بحق ، مکمل رپورٹ
خبراردو:
شوپیان کے کھڈ پورہ علاقے میں سنیچر شام کو فوج اور جنگجوؤں کے درمیان ایک خونین معرکہ آرائی میں حزب المجاہدین سے وابستہ جنگجو جاں بحق ہوگیا جس کے بعد اتوار کی صبح جائے جھڑپ سے ایک اور نوجوان کی نعش پولیس نے برآمد کرتے ہوئے اسے بھی جنگجوؤں کا معاونت کار قرار دیا ۔ اطلاعات کے مطابق فوج، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ جمعیت نے کھڈپورہ علاقے کا سنیچر شام دیر گئے ایک مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد محاصرہ کیا جس دوران فورسز اہلکاروں نے علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کردی۔ فورسز کی مشترکہ پارٹی نے علاقے کے اندرون اور بیرون راستوں پر سخت پہرا بٹھاتے ہوئے جنگجوؤں کی نقل و حرکت محدود بنادی جس کے بعد تلاشی پارٹی نے گھر گھر تلاشیوں کا باضابطہ آغاز کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ تلاشی پارٹی جونہی مشتبہ مکان کے نزدیک پہنچی تو یہاں موجود جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر فائرنگ شروع جس کے بعد فورسز نے بھی جنگجوؤں کی فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا اور اسی کے ساتھ یہاں طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوگئی۔ اس دوران طرفین کے درمیان کئی گھنٹوں تک وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا جس کے بعد فورسز نے دیر رات گئے فیصلہ کن کارروائی عمل میں لاتے ہوئے جنگجوؤں کو مار گرانے کے لیے مکان پر چاروں اطراف سے دھاوا بول دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر طرفین کے درمیان جونہی فائرنگ کا تبادلہ جونہی بند پڑگیا تو فورسز اہلکاروں نے مکان کی تلاشی شروع کردی جس کے بعد یہاں ایک جنگجو کی نعش برآمد کی ۔پولیس نے جھڑپ سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ کھڈپورہ علاقے میں جنگجوؤں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد یہاں فورسز کی مشترکہ پارٹی نے گاؤں میں تلاشی آپریشن کا آغاز کیا ۔ پولیس کے مطابق فورسز اہلکار جونہی تلاشی پارٹی میں محو تھے تو اسی دوران گاؤں میں موجود جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی یہاں طرفین کے درمیان جھڑپ کا آغاز ہوگیا۔

اس دوران فورسز نے معیاری عملیاتی طریق کار پر کاربند رہتے ہوئے یہاں آس پڑوس میں کئی رہائشی مکانات سے عام لوگوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل کردیا۔انہوں نے بتایا کہ جھڑپ کے دوران جنگجوؤں نے وقفے وقفے سے فورسز پارٹی پر گولیاں چلائیں تاہم انکاؤنٹر کے اختتام پر فورسز اہلکاروں نے جونہی تلاشی شروع کی تو یہاں 2نوجوانوں کی نعشیں برآمد کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ مارے گئے نوجوانوں میں سے ایک کی شناخت محمد عرفان بٹ ولد علی محمد بٹ ساکن بنڈزو پلوامہ کے بطور ہوئی جس نے جون 2017کو حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی تھی۔پولیس نے بتایا کہ جھڑپ کے مقام پر دوسری لاش کی شناخت شاہد میر ساکن گاگرن شوپیان کے بطور ہوئی جس کے خلاف پولیس تھانہ شوپیان میں جنگجویانہ سرگرمیوں سے متعلق ایک ایف آئی آر زیر نمبر 201/2004زیر دفعہ 7/25آرمز ایکٹ درج ہے۔ پولیس نے مزید بتایا کہ جائے جھڑپ سے کئی جنگجوؤں نے فرار ہونے میں کامیابی حاصل کی ہے کیوں کہ جونہی فورسز نے جائے جھڑپ کے ارد گرد تلاشی لی تو یہاں دور دور تک خون کے دھبے پائے گئے جس سے یہی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ جھڑپ کے دوران زخمی ہوئے جنگجوفرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔پولیس نے بتایا کہ جھڑپ کے دوران مکان کو نقصان سے بچایا گیا البتہ یہاں مکان میں موجود جنگجوؤں کی کمین گاہ کو تباہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جائے جھڑپ سے کچھ ہتھیار اور غیر قانونی مواد برآمد کیا گیا ہے جبکہ جھڑپ سے متعلق ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز شروع کیا گیا ہے تاکہ یہ پتہ لگایا جاسکے کہ جنگجوؤں یہاں کیسے پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔اس دوران طرفین کی فائرنگ کے موقعے پر پولیس نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے عوام کو جائے جھڑپ سے دور رہنے کی اپیل کی ۔

پولیس نے بتایا کہ عین ممکن ہے کہ جھڑپ کے مقام پر طرفین کے درمیان گولہ باری کے نتیجے کوئی بارودی مواد پھٹنے سے رہ گیا ہو لہٰذا جب تک نہ فورسز جائے جھڑپ کی باریک بینی کی تلاشی لے کر مقام پر صاف نہیں کرتی تب تک عوام یہاں آنے سے گریز کریں۔ادھر جھڑپ کے دوران جاں بحق ہوئے شاہد احمد میر ساکن گاگرن کے لواحقین نے پولیس تھیوری کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا اور کہا کہ شاہد کو پولیس غیر ضروری طور پر جنگجوانہ سرگرمیوں میں ملوث کرنے کی کوشش کررہی ہے۔شاہد کے لواحقین اور دیگر لوگوں نے بتایا کہ اگر شاہد کے متعلق کوئی معاملہ تھا تو آج 14برس گزرنے کے بعد پولیس کو کیوں ایف آئی آر کی یاد آئی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کے ہاتھوں جب عام شہری کا قتل ہوا تو اب قتل کو جواز بخشنے کے لیے بے بنیاد کہانی تیار کی جارہی ہے۔اہلخانہ کے مطابق شاہد شٹرنگ کا کام کرتا تھااور اپنی بیوی، ایک سالہ بچے اور بزرگ ماں باپ کا پیٹ پالتا تھا۔
ادھر فورسز نے جائے جھڑپ سے فرار ہوئے جنگجوؤں کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کردی ہے جس دوران جنوبی کشمیر کے حساس مقامات پر فورسز کی اضافی ٹکڑیوں کو تعینات کردیا گیا ہے جو مشکوک افراد کی باریک بینی سے پوچھ تاچھ کررہے ہیں۔ ادھر انتظامیہ نے جھڑپ کے مابعد ضلع بھر میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے موبائل انٹرنیٹ سروس کو اگلے احکامات تک معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انتظامیہ کے اعلیٰ افسر نے کے این ایس کو بتایا کہ کھڈپورہ جھڑپ کے بعد یہاں امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور کسی بھی شرپسند عنصر کو حالات کا ناجائز فائدہ نہ اُٹھانے کے لیے انتظامیہ نے موبائل انٹرنیٹ سروس کو اگلے احکامات تک بند رکھنے کا فیصلہ کای ہے۔
ہندوستان
یو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے یو جی سی – نیٹ کے سوشیلولوجی ، انگریزی اور کامرس مضامین کے امتحانات دوبارہ کرانے کے این ٹی اے کے فیصلے پر وزیر اعظم نریندر مودی سے جواب مانگا ہے۔
سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر پیر کے روز اظہارِ خیال کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ان تین مضامین کے یو جی سی – نیٹ امتحانات 22 سے 30 جون کے درمیان ہوئے تھے اور تقریباً دو ماہ بعد این ٹی اے نے تسلیم کیا ہے کہ سوالناموں میں سنگین خامیوں کے ساتھ پرانے سوالات دہرائے گئے تھے۔ اب ہزاروں طلبہ کو ستمبر میں پھر سے ان مضامین کے امتحانات دینے ہوں گے۔
انہوں نے کہا، “ہزاروں طلبہ نے برسوں تیاری کی، درخواست دی، فیس ادا کی اور دور دراز کے امتحانی مراکز تک سفر کیا۔
اب انہیں یہ سب دوبارہ کرنا ہوگا۔ این ٹی اے غلطی کرتی ہے، لیکن سزا طالب علم بھگتتے ہے۔ اب تعلیمی نظام ایک ایسا نظام بن چکا ہے جو طلبہ کا پیسہ، ان کا وقت، ذہنی صحت اور خود اعتمادی چھین لیتا ہے، لیکن بدلے میں کچھ نہیں دیتا۔ سوال یہ ہے کہ این ٹی اے یہ کیوں نہیں بتا رہی ہے کہ کیا امتحان سے پہلے سوالنامے لیک ہوئے تھے؟”
راہل نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفا پہلا قدم تھا، آخری نہیں۔ این ٹی اے کی قیادت کی جوابدہی بھی طے ہونی چاہیے۔
انہوں نے دوبارہ امتحان دینے والے طلبہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ مسئلہ نہیں ہیں، بلکہ ایسا نظام مسئلہ ہے جو امتحان بھی ٹھیک سے منعقد نہیں کرا سکتا اور پھر طلبہ کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔
اس دوران کانگریس شعبہٴ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے بھی ‘ایکس’ پر کہا کہ این ٹی اے کی غلطی کی سزا ملک کے طلبہ کیوں بھگتیں اور جن نوجوانوں کا نقصان ہوا ہے، اس کی بھرپائی کون کرے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہریانہ، پنجاب میں 17-18 اگست کو شدید بارش کی پیش گوئی، ہماچل اور جموں و کشمیر میں بہت شدید بارش کا خدشہ
پنچکولہ، ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں 17 اور 18 اگست کو الگ الگ مقامات پر شدید بارش ہونے کا امکان ہے، جبکہ ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر-لداخ میں بارش کا سلسلہ زیادہ شدید رہ سکتا ہے۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے مغربی ہمالیائی خطے کے کچھ حصوں میں بہت شدید بارش کی وارننگ جاری کی ہے۔
قومی موسم پیش گوئی مرکز کی جانب سے 17 اگست کو صبح 8.57 بجے جاری آل انڈیا موسمی خلاصہ اور پیش گوئی بلیٹن کے مطابق 18 اگست کو ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں بیشتر مقامات پر بارش ہونے کا امکان ہے۔ شمال مغربی ہندستان کے باقی حصوں میں الگ الگ سے کچھ مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ڈی نے ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں 17 اور 18 اگست کو الگ الگ مقامات پر شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔۔18 اگست کو بارش کا دائرہ بڑھنے کا امکان ہے۔ اس دن ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں بیشتر مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔ 18 اگست کی وارننگ میں بھی ان علاقوں میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
17 اگست کو ہماچل پردیش، جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد، اتراکھنڈ اور اتر پردیش کے ساتھ اروناچل پردیش، چھتیس گڑھ، مشرقی مدھیہ پردیش، گنگائی مغربی بنگال اور جھارکھنڈ میں الگ الگ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔ ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کی پیش گوئی ہے۔
آئی ایم ڈی کے مطابق مغربی ہمالیائی خطے میں پورے ہفتے بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ ہماچل پردیش، جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد اور اتراکھنڈ میں 17 سے 23 اگست کے دوران بیشتر مقامات پر بارش ہونے کا اندازہ ہے۔
19 اگست کو ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کا اندازہ ہے، جبکہ جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد میں الگ الگ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ڈی نے کہا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں ممکنہ بارش کے سبب مکمل طور پر سیراب مٹی والے علاقوں اور نشیبی علاقوں میں سطحی پانی کے بہاؤ یا پانی جمع ہونے کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔
موجودہ موسم کو کئی موسمی نظام متاثر کر رہے ہیں۔ آئی ایم ڈی کے 17 اگست صبح 5.30 بجے کے موسمی تجزیے کے مطابق شمال مغربی خلیج بنگال اور اس سے متصل مغربی بنگال-شمالی اڈیشہ کے ساحل پر ایک دن پہلے بنا واضح کم دباؤ کا علاقہ شمال مغرب کی جانب بڑھتے ہوئے ڈپریشن میں تبدیل ہو گیا ہے۔
آئی ایم ڈی کے مطابق اگلے 24 گھنٹوں کے دوران اس کے گنگائی مغربی بنگال سے گزرتے ہوئے شمال مغربی سمت میں جھارکھنڈ کی طرف بڑھنے کا قوی امکان ہے۔
یو این آئی ایم جے
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر5 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا7 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 week agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا7 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا7 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا6 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
