تازہ ترین
نیا و قف قانون اب ہم کیا کریں اور کیا نہ کریں ؟
لمبے عرصے سے یہ مسلہ زیر بحث تھا کہ حکومت وقف ترمیمی بل پیش کرے گی یعنی وقف کا جو قانون ہے اس میں تبدیلی کرے گی ، وقف املاک کی جو حیثیت ہے اس میں ردوبدل ہوگا نتیجہ یہ ہوا کہ جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی بھی وجود میں آئی خوب میٹنگیں ہوئیں اس کمیٹی میں بھی ایک دوسرے پر الزام تراشیاں ہوتی رہیں پھر وہ دن بھی آیا کہ حکومت نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں وقف ترمیمی بل پیش کیا مخالفت اور حمایت میں زوردار بحث ہوئی تمام بحث و مباحثے کے بعد وقف ترمیمی بل پاس ہوگئی اور صدر جمہوریہ نے دستخط بھی کردیا ،، اب یہ بات ذہن نشین ہونا چاہئے کہ وقف بل،، اب بل نہیں بلکہ قانون بن گیا ،، بحث کے دوران بہت کچھ باتیں تلخ بھی رہیں ، خوش کن بھی رہیں ، روشن مستقبل کے خواب بھی دکھائے گئے ، غریبوں ، یتیموں اور مسکینوں کا ذکر بھی ہوا ، بے سہاروں کو سہارا دینے کی بات کہی گئی ، کمزوروں کو طاقتور بنانے کی بات کہی گئی ، غریبوں کو بسانے کی بات کہی گئی اور مسلم خواتین کا بھی خوب تذکرہ کیا گیا ،، تمام طرح کے عہد اور وعدوں کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی میں وہ سب کچھ عملی طور پر ہوگا جس کا ذکر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تال ٹھونک ٹھونک کر کیا گیا ہے.
بحث کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ کے اندر مسلمانوں اور پسماندہ مسلمانوں اور مسلم خواتین کا درد بہت دکھا اب یہاں پر بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور پسماندہ مسلمانوں و مسلم خواتین کا درد امت شاہ کے سینے میں ہے یا صرف زبان پر ہے ،، سینے میں درد ہے تو اس کا ثبوت کیا ہے کیونکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ایک بھی بی جے پی سے مسلم ایم پی نہیں ملک کی تمام ریاستوں کی اسمبلی میں بی جے پی سے ایک بھی ایم ایل اے نہیں پھر کس بنیاد پر یہ ہمدردی دکھائی جارہی ہے اتنا ہی نہیں ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ کیا وقف میں پسماندہ مسلمانوں اور غریب مسلمانوں ، داؤدی بوہرہ مسلمانوں کو نمائندگی نہیں ملنی چاہئے اگر نہیں ملنی چاہئے تو کیوں ؟ اور اگر ملنی چاہئے تو ہم وہی کام تو کرہے ہیں ،، اب یہاں پر بھی پھر سوال پیدا ہوتا ہے .
کہ وقف میں وزیر داخلہ مسلمانوں کو ، پسماندہ مسلمانوں کو ، چھوٹے بڑے مسلمانوں کے تمام طبقات کو نمایندگی دینا چاہتے ہیں تو وہی نمائندگی بھارتیہ جنتا پارٹی میں کیوں نہیں دیتے وقف میں نمایندگی دینے سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ سیاسی طور پر پارٹی میں پہلے نمائندگی دی جائے اور مسلم خواتین کی اتنی فکر ہے تو پھر یہ فکر اور یہ ہمدردی بلقیس بانوں کے ساتھ کیوں نہیں دکھائی گئی اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مذکورہ طبقات کے ساتھ ہمدردی کی بات صرف زبان خرچی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں ،، اب دوسری اہم بات یہ ہے کہ وقف ترمیمی قانون بن جانے کے بعد احتجاج کی بات ہورہی ہے مسلم پرسنل لاء بورڈ ابھی احتجاجی لائحہ عمل مرتب کرہا ہے دوسری طرف جمیعۃ علماء ہند کا کہنا ہے کہ احتجاج کے لئے سڑکوں پر نہ آئیں تو یہ بات بھی کہنے والوں نے کہا ہے کہ غریب مسلمانوں کو سڑکوں پر اترنے کے لئے اکسایا جارہاہے اور سرمایہ دار و سیاسی مسلم لیڈران ایر کنڈیشن روم میں بیٹھے ہیں اور عالیشان ہوٹلوں میں بیٹھ کر فرمان جاری کررہے ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ یہ ساری باتیں اخباروں کے صفحات پر دیکھی گئی ہیں اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں اور ہورہی ہیں ،، جب مسلم رہنماؤں کا یہ حال ہے تو پھر عام مسلمان کیا کرے جبکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ وقف قانون کے خلاف احتجاج کرنا ہے تو اس احتجاج میں پیشوایان قوم اور ان کے اہل وعیال صف اول میں ہونے چاہئیں ،، خانقاہوں کے پیران کرام اپنے مریدوں کے ساتھ وقف قانون کی مخالفت میں علم بغاوت بلند کرتے نظر آنے چاہئیں مگر ایسا نہیں ہو رہا ہے ،، ملک کے گنے چنے علاقوں میں احتجاج ہوا ہے ساتھ ہی ساتھ عام مسلمانوں کو وقف ترمیمی قانون کے نقصان و فوائد بھی معلوم نہیں ہیں کیونکہ انہیں بتایا ہی نہیں گیا ہے اسی وجہ سے تو مسلمانوں میں بھی بہت بڑا طبقہ ایسا ہے جس کا کہناہے کہ مسلمانوں کے بازوؤں پر کالی پٹی نہیں باندھی گئی بلکہ ان کی آنکھوں پر کالی پٹیاں باندھی گئی احتجاج میں شامل کسی صف میں داخل ہوکر میڈیا کے لوگ سوال کردیں کہ ترمیم شدہ وقف قانون سے آپ کا کیا نقصان ہے تو کیا جواب دیں گے ،، یہ مسلمانوں کا بہت بڑا المیہ ہے کہ سیاسی صف بندی نہیں ، سماجی صف بندی نہیں اسی وجہ سے سیاسی و سماجی بیداری بھی نہیں اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کے جلوسوں میں دوسرے لوگ داخل ہوکر اصل مقاصد کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں اور ماحول خراب کردیتے ہیں اس لئے اب احتجاج کرنے کے ساتھ ساتھ احتجاج کے تحفظ کا بھی بندوبست کرنا ہوگا،، یہ بھی دھیان رہے کہ احتجاج تشدد کا رخ اختیار نہ کرے ورنہ اس کا فائدہ بی جے پی کو ہی ملے گا اور ویسے بھی بی جے پی نے بڑی ہی چالاکی سے کام لیا ہے2014 سے 2019 تک وہ بھر پور اکثریت میں تھی تو وقف ترمیمی بل پیش نہیں کیا بلکہ ایسے دور میں پیش کیا ہے جب بی جے پی کو مرکز میں حکومت چلانے کے لئے بیساکھی کی ضرورت ہے اور اسی کے سہارے چل بھی رہی ہے ایک طرف چندرا بابو نائیڈو سر پر ٹوپی اور بدن پر جبہ پہن کر نماز پڑھنے کے لئے صف میں شامل ہوگئے تو دوسری طرف نتیش کمار کاندھے پر رومال ڈال کر سر پر ٹوپی پہن کر افطاری کا اہتمام کیا اور دونوں نے مسلمانوں کے ساتھ دغا کیا اور شائد بی جے پی یہی چاہتی تھی کہ نائیڈو اور نتیش این ڈی اے میں رہتے ہوئے بھی انہیں مسلمانوں کی جو مقبولیت حاصل ہے اس سے محروم کرنے کی کوشش کی جائے پھر تو خود بخود ان کا سیاسی وجود خطرے میں پڑ جائے گا اور ان کا سیاسی پر کتر جائے گا پھر یہ ہمیں آنکھیں دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے اور بظاہر بی جے پی اس معاملے میں کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے ،، نائیڈو کی پارٹی سکتے میں ہے مگر نتیش کی پارٹی میں بھونچال نظر آرہاہے اور اسی سے بوکھلا کر نتیش کمار کے وزیر نے بہار کے ایم ایل سی خالد انور کے ذریعے منعقدہ عید ملن پروگرام میں میڈیا سے یہ کہا کہ ہمیں مولانا کی ضرورت نہیں ہے ،، یہ تو صحیح ہے کہ جے ڈی یو کو مولانا کی کیا ضرورت ہے ارے مولانا کی ضرورت تو مسلمانوں کو ہے مگر یہی بات رمضان میں کیوں نہیں کہی گئی کہ ہمیں افطاری کے اہتمام کی ضرورت نہیں ، ہمیں سر پر ٹوپی اور پگڑی اور کاندھے پر رومال ڈالنے کی ضرورت نہیں معلوم یہ ہوا کہ اب نظریہ بدل رہا ہے اصل خمیر آواز دے رہا ہے اور زعفرانی سیاست وقت کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور امکان تو یہی ہے کہ بہار اسمبلی انتخابات میں جے ڈی یو کو گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ،، ایک بات اور قابل ذکر یہ ہے کہ آخر کس بنیاد پر نتیش اور نائڈو سے یہ امید لگائی گئی تھی کہ وقف ترمیمی بل کے معاملے میں یہ حکومت کی حمایت نہیں کریں گے یہ کیوں بھلادیا گیا کہ ساتھ رہنے کے لئے مزاج اور نظریہ کا ملنا ضروری ہے ساتھ مل کر الیکشن لڑے پھر حکومت سازی کی اور کابینہ میں شامل ہوئے ایسا تو کبھی نہیں دیکھا گیا ہے کہ ایک مخالف اپنے دوسرے مخالف کی منگنی میں شامل ہو ، بارات میں شامل ہو اور ولیمہ میں شامل ہو ،، اب سب کچھ ہوجانے کے بعد بھی وقف سے متعلق نئے قانون کی مخالفت مسلمان کررہاہے ہے تو حمایت بھی مسلمان ہی کررہا ہے بعض مسلم رہنمائے سیاست اور علماء تو اب وہ باتیں بھی کرنے لگے ہیں جو باتیں پارلیمنٹ میں بحث کے دوران برسراقتدار بی جے پی کے بہت سے لیڈران نے کہا ہے کہ وقف کی املاک سے اور اس کی آمدنی سے آخر مسلمانوں کا بھلا کیوں نہیں ہوا؟ مسلمان تعلیم کے میدان میں پیچھے کیوں ہوا؟ ملک کا ہر چوتھا مسلمان بھکاری اور غریب کیوں ہے؟ راقم نے بہت پہلے کہا تھا کہ حالات تبدیل ہورہے ہیں چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں ،، مسلمانوں کے ایک طبقے کو بھی اپنے اندر تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ورنہ کل کوئی سیاسی لیڈر یا میڈیا رپورٹر و اینکر کی جانب سے یہ بھی سوال ہوسکتا ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا صدر اب تک کسی پسماندہ سماج کے عالم دین کو کیوں نہیں بنایاگیا ؟ جمیعۃ علماء ہند دو حصوں میں تقسیم ہونے کے باجود بھی ایک ہی خاندان کے لوگ صدارت کے منصب پر کیوں قابض ہیں ؟ دہلی کی شاہی جامع مسجد کی امامت ایک ہی خاندان میں کیوں ہے ؟ دفعہ 341 پر لگی پابندی کو ہٹانے کے لئے مسلم پرسنل لاء بورڈ ، جمیعۃ علماء ہند ، ملی کونسل ، علما مشائخ بورڈ ، مسلم فورم وغیرہ جیسی بڑی بڑی تنظیموں نے مظاہرہ کیوں نہیں کیا ، اس پر لگی مذہبی پابندی کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کیا آخر پابندی ختم کردینے سے پسماندہ و دلت مسلمانوں کا کتنا زبردست فائدہ ہوا ہوتا لیکن نہیں مسلمانوں کے ہی ایک طبقے نے مسلمانوں کو ہی اندھیرے میں رکھا ہے دودھ ملائی خود کھائیں گے اور ہانڈی برتن کی رکھوالی پسماندہ مسلمانوں سے کرائیں گے اور پسماندہ مسلمان بھی کبھی سینے پر ہاتھ رکھ کر اپنے سلگتے ہوئے مسائل پر غور وفکر نہیں کرتا اگر کرے تو خود معلوم ہو جائے گا کہ پانی کہاں مر رہا ہے ،، 1947 سے لے کر اب تک بے شمار ایسے مواقع آئے ہیں جو مسلمانوں و پسماندہ مسلمانوں کے لئے سبق آموز ہیں ، 60 سالہ کانگریس کا دور اقتدار ، دلتوں اور مسلموں کے حالات ، کانشی رام کی جدوجہد و قربانیاں اور تحریک مسلمانوں و پسماندہ مسلمانوں کے لئے سبق آموز ہے، دلتوں کا سیاسی طور پر بیدار و متحد ہونا اور کانشی رام کے بعد مایاوتی کو لیڈر ماننا ، ووٹ دینا اور اقتدار تک پہنچانا مسلمانوں و پسماندہ مسلمانوں کے لئے سبق آموز ہے ، دلت ووٹ بینک کا ٹوٹنا اور بی ایس ایس پی کا اقتدار سے دور ہونا بھی مسلمانوں و پسماندہ مسلمانوں کے لئے سبق آموز ہے، 1989 کے بعد سے چھوٹے چھوٹے سماج کا سیاسی شناخت قائم کرنا مسلمانوں و پسماندہ مسلمانوں کے لئے سبق آموز ہے ، 1952 سے 2024 تک ہونے والے سبھی پارلیمانی الیکشن مسلمانوں و پسماندہ مسلمانوں کے لئے سبق آموز ہیں ، 2024 کے پارلیمانی الیکشن کے اختتام پذیر ہونے کے بعد جیتن رام مانجھی کا مرکزی حکومت ( کابینہ) میں حصہ داری کے لئے قطار میں لگنا پھر حصہ داری ملنا ان کا وزیر بننا مسلمانوں و پسماندہ مسلمانوں کے لئے سبق آموز ہے ،، ضرورت اس بات کی ہے کہ آئین کے تحت حاصل شدہ اختیارات کی روشنی میں ہم اپنا محاسبہ کریں تو معلوم ہوگا کہ سیاست ہی امراض ملت کی دوا ہے کیونکہ جمہوری ملک میں جس سماج کے اندر سیاست نہیں تو اس سماج کی کوئی حیثیت نہیں ،، آج وقف قانون مسلہ ہے کل کوئی اور مسلہ پیش آسکتا ہے اس لئے احتجاج بھی کریں تو ہوش وحواس کے ساتھ ورنہ وہ بھی ہوسکتا ہے جو بی جے پی کے کچھ لیڈران چاہتے ہیں ۔
دنیا
ایرانی پاسداران کے اعلیٰ کمانڈر نے عراق کا دورہ کرکے مسلح گروہوں کی تخفیفِ اسلحہ کے منصوبے پر بات چیت کی: ذرائع
عراق کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل شیعہ اتحاد کوآرڈی نیشن فریم ورک کے ایک عراقی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے رواں ہفتے کے آغاز میں بغداد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے بتایا کہ قاآنی نے پیر کے روز عراقی سیاسی و سکیورٹی رہنماؤں اور شیعہ نیم فوجی گروہوں کے کمانڈروں کے ساتھ پسِ پردہ ملاقاتیں کیں، جن میں عراقی حکومت کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعے کے مطابق، “تہران نے قاآنی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اس وقت گروہوں سے ہتھیار واپس نہ لیے جائیں۔” ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کا اندازہ ہے کہ خطے میں ایک نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پیغام میں حکومت اور ان مسلح گروہوں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے سیاسی سمجھوتہ تلاش کرنے پر زور دیا گیا جو اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کے مطابق عراقی سیاسی جماعتیں حکومتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالف ہیں۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی کو بڑھتے ہوئے سیاسی اور سکیورٹی بحران کا سامنا ہے، جبکہ تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے لیے 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کی حکومت 2024 میں امریکی قیادت والے اتحاد کے فوجی مشن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت ستمبر کے آخر تک اس مشن کی جنگی فوجی موجودگی ختم ہونا ہے۔
عراقی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری قائم کرنے، ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور تہران کے ساتھ بغداد کے تعلقات کے معاملات گزشتہ ماہ وزیراعظم الزیدی کے دورۂ امریکہ کے دوران بھی زیر بحث آئے تھے۔ مئی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے چند روز بعد الزیدی تہران گئے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی مذاکرات کیے۔
منگل کو الزیدی نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی اور دفاعی کمیٹی کو آئینی تقاضوں کے مطابق ہتھیاروں کو ریاست تک محدود کرنے کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منظم ہتھیار ریاست کے لیے سب سے خطرناک خطرہ ہیں کیونکہ وہ قانون کی بالادستی اور سکیورٹی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے ہیں۔
تاہم متعدد مسلح گروہوں نے ریاستی سکیورٹی فورسز میں ضم ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن بعض طاقتور شیعہ نیم فوجی گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ اور حرکت النجباء شامل ہیں، کی جانب سے مزاحمت حکومت کی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن کولیشن کے اجلاس میں، جس میں اہم شیعہ جماعتوں کے علاوہ بعض سنی اور کرد سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول تک محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اتحاد نے ان اداروں کو، جو سرکاری اداروں سے باہر ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، “غیر قانونی عناصر جن کے خلاف کارروائی ضروری ہے” قرار دیا۔
اتحاد نے حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کسی بھی مسلح سرگرمی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے اطلاق کا بھی عندیہ دیا۔
دوسری جانب دیگر شیعہ رہنما کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکمت تحریک کے سربراہ عمار الحکیم کشیدگی کم کرنے اور مسلح گروہوں کو ڈیڈ لائن کے باقی ماندہ ایک ماہ کے دوران ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں دینے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔
عراقی سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ غازی فیصل نے کہا کہ عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے اپنے ہتھیار برقرار رکھنا معاملے کو ایک وسیع تر سکیورٹی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ گروہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے عراقی سرزمین اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرتے رہے تو ان ممالک کو براہ راست جواب دینے یا خطرات کے ذرائع کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ سکیورٹی انتظامات قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
فیصل کے مطابق خلیج اور اہم بحری راستوں کی سلامتی کے لیے بننے والے نئے علاقائی سکیورٹی اتحاد بھی ان مسلح گروہوں کو محض عراقی سیاسی جماعتوں کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی کے ایک اہم فریق کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ان کے بقول، بحران سے نکلنے کا سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کے اصول کو مضبوطی سے نافذ کیا جائے اور جنگ و امن کا فیصلہ صرف عراقی آئینی اداروں تک محدود ہو، کیونکہ جو ریاست طاقت کے استعمال کا مکمل اختیار اپنے پاس نہیں رکھتی، وہ اپنی قومی سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتی۔
گزشتہ ہفتے بغداد میں مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی اور امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکیوں کے پس منظر میں سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ان حملوں میں گزشتہ ماہ کے آخر میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے 28 جولائی کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان “ایران نواز دہشت گردوں” کے خلاف مشترکہ حملے کیے جوآئی آر جی سی کی ہدایت پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں “ایران نواز دہشت گرد ملیشیاؤں” پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف ڈرون حملے کرکے “غیر ذمہ دارانہ طور پر کشیدگی بڑھانے” کا راستہ اختیار کیا۔
تاہم عراقی حکومت اور سیاسی گروہوں کی کوششوں سے کشیدگی پر قابو پانے میں کامیابی ملی، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی سرگرمیوں کے لیے ایک راستہ کھلا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
