تازہ ترین
فاروق عبداللہ کا بیان تاریخی حقائق سے بعید : صحرائی
خبراردو:
تحریک حریت چیرمین محمد اشرف صحرائی نے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے اس بیان کہ ’’ آئیرلینڈ ٹائیب کشمیر حل‘‘ پر اپنا درعمل ظاہرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام نے آج تک جو لاکھوں جانوں کی قربانیاں دی ہیں یہ کسی اٹانومی، سیلف رول یا جوں کی توں پوزیشن کے لیے پیش نہیں کی ہیں،بلکہ بھارت کے غاصبانہ اور جابرانہ فوجی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کے لیے پیش کی ہیں۔انہوں نے نیشنل کانفرنس صدر کے بیان کو جموں کشمیر کے تاریخی حقائق سے بعید قرار دیتے ہوئے کہا کہ موصوف اپنے آپ کو سرخیوں میں رہنے کے لیے ایسے بے تُکے اور بے ہنگم بیانات دیتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قوم سیاسی طور اتنی بالغ ہوچکی ہے اور ان کو معلوم ہے کہ اقتدار کے لیے موصوف کس حد تک جا سکتا ہے۔
تحریک حریت چیرمین نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر میں جو بھی خون خرابہ ہورہا ہے اس کی تمام تر ذمہ داری ہندنواز پارٹیوں نیشنل کانفرنس، کانگریس، پی ڈی پی، پی سی وغیرہ پر عائد ہوتی ہیں جنہوں نے اقتدار کی ہوس اور لالچ میں وقت وقت پر اپنی قوم پر ہورہے مظالم کی نہ صرف خاموش حمایت کی، بلکہ ببانگ دہل بھی دلی کے آقاؤں کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشمیر کی سیاہ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں غداروں کی ایک لمبی فہرست ملے گی جن کی مدد سے جموں کشمیر میں خون کی ہولی کھیلی گئی اور اس خون خرابے کے نقطۂ آغازکا کردار نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ سے شروع ہوتا ہے، جنہوں نے اقتدار کے لالچ میں آکر ہماری قوم کو بھارت کی غلامی کی دلدل میں پھنسا دیا اور پھر یہاں کے دیوااستبداد کی ہر ادا پر مجرمانہ خاموشی کے ساتھ کورنش بجالاتے رہے جو 71سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی برابر اسی طرح ہمارے معصوموں کو نگل رہا ہے
جس طرح 1947میں اس نے جموں میں ایک ساتھ 5لاکھ لوگوں کو نگل لیا تھا۔ تحریک حریت چیرمین نے کہا جموں کشمیر کے لوگوں نے 2008، 2009، 2010، اور 2016 میں پُرامن عوامی تحریک چلاکر بھارت کو اپنے واضح آزادی پسند جذبے کا صور اس کے بہرے کانوں میں پھونکا تھا، مگر یہ ہندنواز لوگ ہی تھے جن کے اقتدار میں ان عوامی تحاریک کو فوجی طاقت کے بل پر کچل کر بھارت کو راہداری فراہم کی گئی۔ یہ نیشنل کانفرنس ہی تھی جنہوں نے محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کی پھانسی کی سزاؤں پر دستخط کرکے کشمیریوں کے سینوں پر ایسے گھاؤ لگائے جو مندمل ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔
تحریک حریت چیرمین نے کہا کہ جہاں تک ہندنواز سیاست دانوں کا تعلق ہے، ان کا صرف اور صرف ایک ہی ایجنڈا ہے کہ بھارت کے فوجی اور جبری قبضے کو دوام بخشا جائے۔ اگر ان لوگوں میں ذرہ برابر بھی اپنی قوم کے تئیں محبت اور ہمدردی ہوتی تو یہ لوگ کب کے ظالم اور جابر کی کٹ پتلیاں بننے کے بجائے اپنی بے بس اور نہتی قوم کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوئے ہوتے، مگر ہوس اقتدار اور لالچ نے ان لوگوں کو اس قدر اندھا بنادیا ہے ان کو اپنے لوگوں پر ہورہے مظالم کی طویل داستان سُنتے اور ان سے لطف اندوز ہونے میں ہی مزہ آتا ہے۔
ہندوستان
طلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جھارکھنڈ میں طالب علموں کے احتجاج کے حوالے سے وزیر اعلٰی ہیمنت سورین کو خط لکھ کر مظاہرین سے ذاتی طور پر ملاقات کرنے اور ان کے مطالبات کا حل نکالنے کی اپیل کی ہے راہل گاندھی نے گزشتہ 14 اگست کو مسٹر سورین کو خط لکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج آئین میں درج جمہوری حقوق کا اہم حصہ ہے اور کانگریس پارٹی طالب علموں کے اس حق کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ میں طالب علم ریاست میں منعقدہ بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے احتجاج کو پرامن قرار دیتے ہوئے طالب علموں کے مطالبات کو جائز قرار دیا۔ خط میں انہوں نے وزیر اعلٰی کی طرف سے تشکیل دی گئی کمیٹی کے ذریعے طالب علموں کے ساتھ بات چیت شروع کیے جانے کی بھی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ کئی مطالبات پر حکومت اور طالب علموں کے درمیان اتفاقِ رائے ہوا ہے لیکن اس کے باوجود تحریک جاری ہے اور کچھ طالب علم غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔
کانگریس رہنما نے وزیر اعلٰی سورین سے مظاہرین کے نمائندوں سے خود ملاقات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے حکومت کے عزم کو تقویت ملے گی اور طالب علموں کے باقی خدشات کے ازالے کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا مستقبل ملک کے نوجوانوں سے وابستہ ہے اور بحران کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
انڈونیشیا کے فلوریس میں ایک اور شدید زلزلے کے جھٹکے، دو روز قبل آنے والے آفٹر شاکس میں 53 افراد ہلاک
جکارتہ، انڈونیشیا کے فلوریس علاقے میں پیر کی صبح 5.9 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
جرمن ریسرچ سینٹر فار جیو سائنسز (جی ایف زیڈ) کے مطابق، آج کے زلزلے کا مرکز ابتدائی طور پر 8.57 ڈگری جنوبی عرض البلد اور 121.55 ڈگری مشرقی طول البلد پر تھا، جو سطح زمین سے تقریباً 10 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ زلزلے سے جانی یا مالی نقصان کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔
دو دن پہلے ہفتے کے روز 7.7 شدت کا ایک طاقتور زلزلہ آیا تھا جس میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو گئے تھے۔ طاقتور زلزلے نے فلوریس میں چھ ریجنسیوں کو متاثر کیا، لینڈ سلائیڈنگ، انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا اور مواصلات میں خلل پڑا۔
انڈونیشیا کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق گزشتہ زلزلے میں کم از کم 53 افراد ہلاک ہوئے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ریسکیو ٹیموں کو سب سے زیادہ متاثرہنگیکو ریجینسی تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ نے کئی علاقوں میں سڑکیں بند کر دی ہیں اور مواصلاتی رابطہ منقطع کر دیا ہے، جس سے بچاؤ اور امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ 15 اگست کو فلورس میں 230 سے زیادہ جھٹکے ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے سب سے زیادہ طاقتور جھٹکے 6.2 کی شدت کے تھے۔ ادھر فلورس سے ہزاروں کلومیٹر دور سماٹرا میں بھی 6.9 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
انڈونیشیا نے سنیچر کے زلزلے کے بعد 14 دن کے ہنگامی ردعمل کا اعلان کیا ہے۔ تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں اتوار کو بھی جاری رہیں، حکام زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور نقصان کا اندازہ لگا رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فلورس کے کچھ حصوں میں ایندھن اور ایل پی جی کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے۔ تقریباً 6000 لوگ مختلف علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جن میں سیکا، مانگرائی، نگیکیو، بیما اور سیلیار شامل ہیں۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق گزشتہ زلزلے میں کم از کم 914 مکانات، 93 تعلیمی ادارے، 36 صحت مراکز اور 38 سرکاری دفاتر کو نقصان پہنچا۔ حکام نے مزید زلزلے کے لیے چوکسی بڑھا دی ہے کیونکہ متاثرہ علاقوں میں راحت اور بچاؤ کا کام جاری ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
پوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
ویٹی کن سٹی، پوپ لیو چہاردہم نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف جاری اسرائیلی ظلم و تشدد کے خاتمے کی اپیل کی ہے۔
ویٹیکن کے سرکاری نشریاتی ادارے ویٹیکن نیوز کی ویب سائٹ کے مطابق ویٹیکن سٹی کے سربراہ پوپ لیو چہاردہم نے اتوار کی دعا کے بعد کئے گئے خطاب میں مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں پر جاری اسرائیلی تشدّد پر بات کی اور بار بار ہونے والے پُرتشدد واقعات کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے بھی دو ریاستی حل اور پائیدار امن کے حصول کی جانب پیش رفت کے دوام کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ نے 12 اگست کو جاری کردہ بیان میں مغربی کنارے میں فلسطینی اراضی پر قبضہ کرنے والے اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کے غیر معمولی سطح تک پہنچنے کی طرف توجہ مبذول کروائی تھی۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق 2026ء کے آغاز سے اب تک تقریباً 260 فلسطینی آبادیوں کو نشانہ بنا کر کئے گئے 1,430 سے زائد حملے ریکارڈ کئے جا چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے یہ بھی کہا ہے کہ تباہی اور جبری بے دخلی کے نتیجے میں تقریباً 3,800 فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں جن میں تقریباً نصف تعداد بچوں کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر5 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا1 week agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 week agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا7 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
ہندوستان4 days agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
