جموں و کشمیر
مشکل ترین وقت میں عوام نے کشمیریت اورمہمان نوازی کی شمع کو فروزاں رکھا:وزیراعلیٰ عمرعبداللہ
صرف بندوق یاسیکورٹی فورسزکی وجہ سے نہیں بلکہ عوامی تعاون سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن
ریاستی درجہ کیلئے سیاست کایہ صحیح وقت نہیں
سری نگر:جے کے این ایس : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف عوام کی جنگ کو مضبوط بنائے گی کیونکہ اسے عوام کے تعاون سے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔تاہم عمرعبداللہ نے خبردار کیا کہ حکومت کو کسی بھی ایسے قدم سے گریز کرنا چاہیے جس سے عوام کو الگ کر دیا جائے۔جے کے این ایس کے مطابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کےلئے اسمبلی کے ایوان میں پیش کی گئی قرارداد پر بحث سمیٹتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی تب ختم ہو جائے گی جب لوگ ہمارے ساتھ ہوں گے۔انہوںنے کہاکہ دہشت گردی کےخلاف لوگوں کے غم و غصے کو دیکھتے ہوئے، یہ اس کے خاتمے کا آغاز ہے اگر ہم مناسب اقدامات کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے لوگوں کو الگ کر دیا جائے۔جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاکہ ہم بندوق سے دہشت گرد کو قابو نہیں کر سکتے لیکن اگر لوگ ہمارے ساتھ ہوں تو ہم دہشت گردی کو ختم کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے۔جموں و کشمیر میں بے مثال اور بے ساختہ مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ سری نگر کی جامع مسجد میں پہلی بار نماز جمعہ سے قبل دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاکہ ہم اس کا مطلب سمجھ سکتے ہیں۔ ہم اس تبدیلی کو مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے۔عمر عبداللہ نے جموں کشمیر اسمبلی میں پہلگام حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے ہلاک شدہ سیاحوں کے اہل خانہ کےساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مقامی گھوڑے بان سید عادل حسین شاہ کی بہادری کی تعریف کی وہیں انہوں نے کہا کہ یہ وقت سیاست کرنے یا مرکزی حکومت سے ریاستی درجہ کی بحالی کےلئے زور دینے کا مناسب وقت نہیں نہیں۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ یہ وقت سیاست کرنے یا حکومت ہند سے ریاستی درجہ مانگنے کا نہیں ہے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ایسے وقت میں اگر میں ریاستی درجہ مانگوں تو یہ میرے لئے بددعا ہوگی۔انہوںنے کہاکہ ریاستی درجہ مانگنے کے اور بھی مواقع آئیں گے، لیکن یہ وقت صرف دہشت گردی کی مذمت اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا ہے۔
عمر عبداللہ نے اسمبلی اراکین کو میزیں بجانے سے بھی منع کیا۔عمرعبداللہ نے کہاکہ36 سالوں میں پہلی بار میں نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا،میرے نام پر نہیں، وہ اپنے طور پر نکلے، کسی سیاسی جماعت نے انہیں منظم نہیں کیا، کسی حکومتی حکم نے انہیں طلب نہیں کیا، وہ موم بتیاں جلائے، بینرز اٹھائے اور مجرموں کو یہ بتانے کے لیے سڑکوں پر خاموشی سے چلتے رہے۔وزیراعلیٰ نے حملے کی رات پولیس کنٹرول روم کا دورہ کرنے کا ذکر کیا، جہاں26 شہریوں کی لاشیں پڑی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس غمزدہ خاندانوں کو پیش کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ عمرعبداللہ نے مختصر توقف کرتے ہوئے پوچھاکہ ان خاندانوں کا کیا قصور تھا؟،کہ وہ یہاں پہلی بار سکون پانے کے لیے آئے تھے؟ اور زندگی نے انھیں اتنی بھاری قیمت چکانی پڑی۔
عمرعبداللہ نے گزشتہ3 دہائیوں کے دوران کشمیر کی بھاری قیمت کے بارے میں بات کی۔انہوںنے کہاکہ اکتوبر2001 میں اسی اسمبلی کمپلیکس پر ہونے والے حملے میں ہم نے لوگوں کو کھو دیا تھا۔ کیمپوں پر حملے کئے گئے تھے۔ پنڈتوں کی بستیوں، سکھ کالونیوں میں ، کسی کو بھی نہیں بخشا گیا تھا۔انہوںنے کہاکہ ہم نے سوچا کہ وہ دن اب ختم ہو گئے ہیں۔ لیکن 22 اپریل کے حملے نے ڈراو ¿نا خواب دوبارہ بنا دیا۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ خونریزی کے درمیان بھی امید کی کرن نظر آئی،پہلی بار، کشمیریوں نے معقولیت، جواز یا خاموشی اختیار نہیں کی، انہوں نے بلند آواز اور واضح الفاظ میں مذمت کی۔انہوںنے کہاکہ دہشت گردی صرف بندوقوں یا سیکورٹی فورسز کی وجہ سے ختم نہیں ہوگی، یہ تب ہی ختم ہوگی جب لوگ ہمارے ساتھ چلیں گے اور اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہمارے پاس آنا شروع ہو گئے ہیں۔عمرعبداللہ نے بتایا کہ شاید سب سے زیادہ علامتی لمحہ سری نگر کی تاریخی جامع مسجد سے آیا تھا۔ نماز جمعہ سے پہلے، مسجد، ایک ایسی جگہ جو اکثر شعلہ بیان سیاسی خطبوں سے منسلک ہوتی ہے، خاموش ہوگئی۔ نمازیوں نے متاثرین کی یاد میں 2 منٹ کی خاموشی اختیار کی۔انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ مکمل ریاست کےلئے جدوجہد جاری رہے گی لیکن اس بات پر زور دیا کہ آج کا دن سیاسی مطالبات کا دن نہیں ہے۔ آج، کوئی سیاست نہیں، کوئی کاروباری اصول نہیں، ریاست کا کوئی مطالبہ نہیں، صرف ایک چیز: حملے کی دلی مذمت اور خاندانوں کےساتھ اظہار یکجہتی۔وزیراعلیٰ نے حملے کے دن سے بہادری اور انسانیت کی غیر معمولی داستانیں سنائیں۔ایک نوجوان لڑکے نے ایک سیاح خاندان کو آگ کی زد میں چھوڑنے سے انکار کر دیا، باپ سے کہاکہ اس سے پہلے کہ کوئی آپ کی بیوی اور بچے تک پہنچ جائے، وہ میرے پاس سے گزر جائیں۔ ڈل جھیل میں کشتی والوں نے سیاحوں کو مفت پھل پیش کیے، ٹیکسی ڈرائیوروں اور ہوٹل مالکان نے تشدد سے بھاگنے والے زائرین کے لیے اپنے گھر کھول دئیے، کسی بھی قسم کی ادائیگی سے انکار کیا۔ یہ کشمیرکی مہمان نوازی ہے، یہ ہمارے جذبے پر فخر ہے۔
انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ حملے کے فوری بعد کچھ کشمیریوں کو ملک کے کچھ حصوں میں ہراساں کرنے کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے ریاستی حکومتوں اور پولیس فورسز کی تعریف کی جنہوں نے کشیدگی کو روکنے کےلئے تیزی سے کام کیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت نے اہم شہروں میں وقف ہیلپ لائن نمبر اور نوڈل افسران قائم کرنے کے اقدامات شروع کیے ہیں تاکہ خطرات کا سامنا کرنے والے کشمیری فوری مدد حاصل کر سکیں۔انہوں نے سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنے والوں کو بھی متنبہ کیا کہ وہ غلط بیانی اور جعلی خبریں پھیلائیں جو کشیدگی کو ہوا دے سکتی ہیں۔ اپنی شرارتیں بند کرو۔انہوںنے کہاکہ جب آپ جھوٹ پھیلاتے ہیں، تو آپ حقیقی متاثرین کو مزید تکلیف پہنچاتے ہیں، ہم اسے برداشت نہیں کریں گے۔
جموں و کشمیر
سنیل شرما کا عبداللہ خاندان پر ملک میں ‘سب سے بڑی انتخابی دھاندلی’ کا الزام
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما اور بی جے پی لیڈر سنیل شرما نے پیر کے روز عمر عبداللہ کے خاندان پر انتخابی بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں ووٹ چوری کا سب سے بڑا الزام عبداللہ خاندان پر عائد ہوتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سابق ریاست میں 1987 کے متنازعہ اسمبلی انتخابات کا حوالہ دیا۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات پر نیشنل کانفرنس کی قیادت کے موقف پر سوال اٹھایا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا کہ وہ انتخابات کی شفافیت اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے کام کاج کی حمایت میں دیے گئے اپنے سابقہ بیانات کی وضاحت کریں۔
مسٹر شرما نے کہا، ”اگر ملک میں انتخابی دھاندلی کا سب سے بڑا الزام کسی پر ہے تو وہ جموں و کشمیر میں 1987 کے انتخابات میں دھاندلی کا معاملہ ہے۔” انہوں نے الزام لگایا کہ اس انتخابی بدعنوانی کے بعد فاروق عبداللہ کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو بعد کے انتخابی عمل کی ساکھ پر سوال اٹھانے سے پہلے 1987 کے انتخابات سے متعلق الزامات کا جواب دینا چاہیے۔
مسٹر شرما نے الزام لگایا، ”کانگریس نے یہاں ووٹ چوری کیے ہیں۔ 1987 کے انتخابات انتخابی بدعنوانی کی ایسی مثال ہیں، جسے ملک اور دنیا بھر میں یاد کیا جاتا ہے۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات صرف سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں ہوئے۔
انڈیا اتحاد کی ایک اہم جماعت نیشنل کانفرنس مسلسل بی جے پی پر انتخابی عمل میں ہیرا پھیری کے الزامات لگاتی رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں حلقہ بندی کے عمل پر بھی تنقید کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ یہ عمل بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے انجام دیا گیا تھا۔
جموں و کشمیر میں انتخابات سے متعلق عمر عبداللہ کے سابقہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے دعویٰ کیا کہ نیشنل کانفرنس کے رہنما نے پہلے ایک انتخاب کو منصفانہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ای وی ایم درست طریقے سے کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”آج اچانک ای وی ایم خراب کیسے ہو گئیں؟ اگر انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا اپنا انتخاب بھی دھاندلی زدہ تھا؟ آپ کو اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ مجھے اس تضاد کی سمجھ نہیں آتی۔”
حزب اختلاف کے رہنما نے سابق ڈپٹی کمشنر خالق کے کردار کا بھی ذکر کیا اور الزام لگایا کہ جموں و کشمیر میں کون رکن اسمبلی بنے گا، اس کا فیصلہ کرنے میں ان کا کردار تھا۔
انڈیا اتحاد کے احتجاجی مظاہروں پر مسٹر شرما نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن انہیں عام لوگوں کے لیے پریشانی پیدا نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی ضروری خدمات میں خلل ڈالنا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ”آپ 2 سے 3 کروڑ لوگوں کو یرغمال نہیں بنا سکتے۔ لوگوں کو اسکول جانا ہے، مریضوں کو اسپتال پہنچنا ہے اور کاروبار بھی چلنے چاہئیں۔”
انہوں نے کہا کہ احتجاج مقررہ مقامات پر ہونا چاہیے۔ مسٹر شرما نے مشورہ دیا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں ٹریفک اور عوامی زندگی میں خلل ڈالنے کے بجائے اسٹیڈیم یا رام لیلا میدان میں مظاہرے منعقد کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”اگر آپ احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو کسی اسٹیڈیم یا رام لیلا میدان میں جائیں، 5 لاکھ یا 10 لاکھ لوگوں کو جمع کریں اور جتنا چاہیں احتجاج کریں۔”
مسٹر شرما نے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے بارے میں بی جے پی کے موقف کو بھی دہرایا اور کہا کہ اسے پورے ہندوستان میں نافذ کیا جانا چاہیے اور جموں و کشمیر ملک کا اٹوٹ حصہ ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
سری نگر میں پاکستانی لشکر طیبہ کے دہشت گردوں کو پناہ دینے والی جائیداد این آئی اے نے ضبط کی
سری نگر، قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے پیر کو سری نگر میں ایک رہائشی جائیداد کو ضبط کر لیا۔ یہ کارروائی لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) سے مبینہ طور پر وابستہ سرحد پار دہشت گردی کی سازش کے سلسلے میں کی گئی ہے۔ ایجنسی کے مطابق، اس جائیداد کا استعمال پاکستانی دہشت گردوں کو پناہ دینے اور دہشت گرد نیٹ ورک سے متعلق مجرمانہ شواہد چھپانے کے لیے کیا گیا تھا۔
این آئی اے نے بتایا کہ سری نگر کے حضرت بل علاقے کے گاؤں دانی ہامہ میں واقع یہ رہائشی جائیداد ملزم غلام محمد میر عرف ماما گیس کی ملکیت ہے۔ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سے پیشگی منظوری حاصل کرنے کے بعد غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، 1967 کی دفعہ 25 کے تحت جائیداد ضبط کی گئی۔
ایجنسی کے مطابق سال 2026 کے اس معاملے کی تحقیقات سے جائیداد اور مبینہ دہشت گردانہ سازش کے درمیان براہ راست تعلق ثابت ہوا ہے۔
این آئی اے نے بتایا کہ یہ معاملہ ابتدائی طور پر 31 مارچ 2026 کو سری نگر کے زکورہ پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا، جس کے بعد ایجنسی نے اسے اپنے ہاتھ میں لے کر دوبارہ درج کیا۔
ایجنسی کے مطابق، تحقیقات میں مقامی اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) کے ایک ایسے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، جو مبینہ طور پر پاکستان میں موجود لشکر طیبہ کے سرغنوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا۔ اس نیٹ ورک کا مقصد پاکستانی دہشت گردوں کی دراندازی، نقل و حرکت، قیام اور دیگر ضروری انتظامات میں مدد فراہم کرنا تھا، تاکہ وہ سرکاری اداروں، سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنا سکیں۔
این آئی اے نے بتایا کہ 6 اپریل 2026 کو حضرت بل کے دانی ہامہ علاقے میں میر کی رہائشی جائیداد پر تلاشی کے دوران دو مشتبہ پاکستانی دہشت گردوں کا پتہ چلا، جن کی شناخت ابو ہریرہ اور خبیب کے طور پر کی گئی ہے۔ دونوں مبینہ طور پر لشکر طیبہ سے وابستہ تھے۔
ایجنسی نے کہاکہ ”جائیداد سے دھماکہ خیز مادے جیسا ایک مشتبہ مادہ، ڈیجیٹل آلات اور دیگر مجرمانہ شواہد بھی برآمد کرکے ضبط کیے گئے۔ تحقیقات سے مزید انکشاف ہوا کہ ملزم نے جان بوجھ کر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے کے لیے اپنی رہائشی جائیداد ان کے حوالے کی تھی اور انہیں اپنی سرگرمیوں کے لیے اس جائیداد کے استعمال کی اجازت دی تھی۔”
انسداد دہشت گردی کی ایجنسی نے مزید بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں، جن کا مقصد دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے پورے نیٹ ورک کا پتہ لگانا اور اسے بے نقاب کرنا ہے۔ اس میں دیگر اوور گراؤنڈ ورکرز، سہولت کاروں اور پاکستان میں موجود دہشت گرد سرغنوں سے وابستہ افراد کی شناخت بھی شامل ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
ستمبر میں لداخ کی سیاحت میں 60 فیصد اضافہ، 55 ہزار سے زائد سیاحوں کی آمد
سری نگر، لداخ میں سیاحوں کی آمد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ستمبر میں یہاں 55,582 سیاح پہنچے، جبکہ ستمبر 2025 میں یہ تعداد 34,610 تھی۔ اس طرح گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں سیاحوں کی آمد میں 60.60 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔
عہدیداروں کے مطابق، یکم جنوری سے 30 ستمبر 2026 کے دوران لداخ آنے والے سیاحوں کی تعداد 4,60,667 رہی، جبکہ پورے سال 2025 میں یہاں 3,35,872 سیاح آئے تھے۔ اس طرح 2026 کے ابتدائی نو ماہ میں ہی سیاحوں کی آمد گزشتہ پورے سال کے مقابلے میں 37.16 فیصد زیادہ ہوگئی ہے، جبکہ رواں سال کے اختتام میں ابھی تین ماہ باقی ہیں۔
یہ اعداد و شمار ثقافتی تجربات، مہم جوئی پر مبنی سیاحت، کھیلوں کی سرگرمیوں اور قدرتی ورثے کے باعث لداخ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے سیاحوں کی آمد میں اس نمایاں اضافے کا سہرا بہتر رابطہ سہولتوں اور مختلف تقریبات کے فروغ کو دیا۔ ان تقریبات میں لداخ بائیک ویک، لداخ میراتھن اور لداخ فیسٹیول شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے سب سے زیادہ بلندی پر واقع للیئم پھولوں کے کھیتوں اور ہندوستان کی پہلی بلند پہاڑی جنگلی حیات کی سفاری جیسی نئی اور منفرد اقدامات نے بھی لداخ کی کشش میں اضافہ کیا ہے۔
گزشتہ سال اور رواں سال کے ابتدائی نو ماہ کے اعداد و شمار کا تقابل بھی سیاحت میں نمایاں اضافے کی تصدیق کرتا ہے۔ جنوری سے ستمبر 2025 کے دوران لداخ میں 2,78,599 سیاح آئے تھے، جبکہ اسی مدت میں 2026 کے دوران یہ تعداد بڑھ کر 4,60,667 ہوگئی۔ اس طرح سیاحوں کی آمد میں 65.38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ملکی اور غیر ملکی، دونوں زمروں کے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ 2026 کے ابتدائی نو ماہ میں لداخ آنے والے ملکی سیاحوں کی تعداد 4,20,927 رہی، جبکہ غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 39,740 تھی۔ اس کے مقابلے میں 2025 کی اسی مدت کے دوران 3,03,838 ملکی اور 32,034 غیر ملکی سیاح لداخ پہنچے تھے۔ اس طرح ملکی سیاحوں کی آمد میں تقریباً 38.54 فیصد اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں 24.06 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔
یواین آئی۔ ط ا
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: بارہمولہ میں پولیس نے موبائل، سم اور جراثیم کش دوا کی دکانوں پر جانچ مہم چلائی
-
جموں و کشمیر5 days agoعمر عبداللہ نے ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جموں و کشمیر پہلے ہی انتخابی ‘ہیرا پھیری’ دیکھ چکا ہے
-
ہندوستان6 days agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
-
جموں و کشمیر1 week agoماضی کی حصولیابیوں سے استفادہ کرتے ہوئے پائیدار زراعت کے لیے اختراع کریں: لیفٹیننٹ گورنر کی نوجوانوں سے اپیل
