جموں و کشمیر
لائن آف کنٹرول اوربین الااقوامی سرحد پر بدستورکشیدگی
9ویں رات بھی پاکستانی فوج کی بلااشتعال فائرنگ
ہندوستانی فوج نے دیاموثر اندازمیں جواب:دفاعی ترجمان
سری نگر:جے کے این ایس : پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد جموں وکشمیرمیں لائن آف کنٹرول اوربین الااقوامی سرحد پر کشیدگی برقرار رہے ،کیونکہ پاکستانی فوج نے مسلسل 9ویں شب کو بھی بلااشتعال فائرنگ کرکے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جس کابھارتی فوج نے موثر اوربھرپوراندازمیں جواب دیا۔جے کے این ایس کے مطابق حکام نے ہفتہ کی صبح بتایاکہ 2اور 3 مئی کی رات کے دوران پاکستانی فوج نے جموں و کشمیر کے کپواڑہ، ا ±وڑی، اور اکھنور سیکٹرز میں بلا اشتعال چھوٹے ہتھیاروں سے گولہ باری کی۔ دفاعی ترجمان نے کہا کہ ہندوستانی فوج نے فوری اور متناسب جواب دیا۔ترجمان نے مزید کہا کہ ہندوستانی فوج کے دستوں نے مناسب اور متناسب طریقے سے جوابی کارروائی کی۔ دفاعی ترجمان نے کہاکہ ابتدائی طور پر شمالی کشمیر کے کپواڑہ اور بارہمولہ اضلاع میں لائن آف کنٹرول کےساتھ ساتھ کئی پوسٹوں پر چھوٹے ہتھیاروں سے بلا اشتعال فائرنگ کےساتھ، پاکستانی فوج نے تیزی سے اپنی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو پونچھ سیکٹر اور اسکے بعد جموں خطے کے اکھنور سیکٹر تک پھیلا دیا۔ جنگ بندی کی تازہ خلاف ورزیاں ہندوستان اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان حالیہ ہاٹ لائن بات چیت کے باوجود سامنے آئی ہیں، جس کے دوران ہندوستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنزنے اپنے پاکستانی ہم منصب کوآئندہ خلاف ورزیوں کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
22اپریل2025کوسیاحتی مقام پہلگام کی مضافاتی بائسران وادی میں دہشت گردانہ حملے کے بعد 24 اپریل کوہندوستان کی جانب سے سندھ آبی معاہدہ کو معطل کرنے کے چند گھنٹوں بعد، پاکستانی فوجی جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن کے ساتھ مختلف مقامات پر بلااشتعال فائرنگ کا سہارا لے رہے ہیں۔24 اپریل کو پاکستان نے بھارتی ایئر لائنز کےلئے اپنی فضائی حدود بند کر دی، واہگہ بارڈر کراسنگ بند کر دی، بھارت کےساتھ ہر قسم کی تجارت معطل کر دی، اور خبردار کیا کہ پانی کا ر ±خ موڑنے کی کسی بھی کوشش کوجنگ کا عمل تصور کیا جائےگا۔ بھارت اور پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول اوردیگرسرحدوں پرسال2003میں ہوئے جنگ بندی معاہدے کی فروری 2021 میں دوبارہ توثیق کی گئی تھی، اوراس پر گزشتہ برسوں سے کافی حدتک عمل درآمدہورہاتھا۔ تاہم پہلگام حملے کے بعدسے پاکستانی فوج کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جارہی ہے،جسکے باعث سرحدی علاقوںکی آبادی میں عدم تحفظ کیساتھ ساتھ تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور لوگ زیرزمین بنکروںکی مرمت اورصفائی کررہے ہیں۔ تاکہ گولہ باری میں اضافے کی صورت میں انہیں رہنے کے قابل بنایا جا سکے۔مرکزی حکومت نے2017 میں14460 انفرادی اور کمیونٹی بنکروں کی تعمیر کی منظوری دی۔
حکام نے بتایا کہ5 اضلاع: سانبہ، کٹھوعہ، جموں، پونچھ اور راجوری میں 8699 سے زیادہ کمیونٹی اور انفرادی بنکر بنائے گئے ہیں۔بین الااقوامی سرحد کے ساتھ آر ایس پورہ اور ارنیا سیکٹر کے ساتھ فصلوں کی کٹائی مکمل ہو چکی ہے، یہ کٹھوعہ، سانبہ، راجوری اور پونچھ اضلاع میں ابھی بھی جاری ہے۔ہندوستان کی پاکستان کےساتھ کل 3323 کلومیٹر کی سرحد ہے، جسے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: بین الاقوامی سرحد ، تقریباً 2400 کلومیٹر گجرات سے اکھنور، جموں میں دریائے چناب کے شمالی کنارے تک؛ لائن آف کنٹرول ،740 کلومیٹر لمبی، جموں کے کچھ حصوں سے لیہہ کے کچھ حصوں تک چلتی ہے۔
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
