جموں و کشمیر
آئیے ان 6مہینوں میںترقیاتی پروجیکٹوں کو تیز اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنائیں:عمرعبداللہ
غیر اعلانیہ ششمائی دربارمﺅ:وزیر اعلیٰ کادفتر6ماہ کیلئے سیول سیکرٹریٹ سری نگر میں کھل گیا
جوابدہی،اچھی حکمرانی اور ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کا عہد
سری نگر:جے کے این ایس : وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر5مئی کوغیراعلانیہ ششمائی دربارمﺅ کے تحت 6ماہ بعد سیول سیکرٹریٹ سری نگر میں دوبارہ دفتر شروع کرتے ہوئے اس عزم کااظہارکیاکہ۔ اب توجہ واضح کارروائی، جوابدہی اوراچھی حکمرانی و ترقی کے ذریعے ہر فرد تک پہنچنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ آئیے ان 6مہینوں کو شمار کریں۔جے کے این ایس کے مطابق مرکز کے زیرانتظام علاقے جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو سری نگر کے سول سیکرٹریٹ میں اپنا دفتر دوبارہ شروع کیا، جس میں 6ماہ کے وقفے کے بعد روایتی مگرغیر اعلانیہ ششمائی دربارمﺅ کا آغاز کیا گیا۔ گرما ئی دارالحکومت سری نگرمیں سول سیکرٹریٹ کا دوبارہ کھلنا انتظامیہ کے گرمی کے مہینوں کےلئے کشمیر منتقل ہونے کا اشارہ ہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر ایک پوسٹ میں اس بات پر زور دیا کہ اگلے 6 ماہ کے دوران ان کی حکومت کی ترجیح واضح کارروائی، احتساب یاجوابدہی اور اس بات کو یقینی بنانا ہو گی کہ ہر فرد کو اچھی حکمرانی اور ترقی سے فائدہ پہنچے۔ انہوں نے افسران سے نتائج پر مبنی نقطہ نظر کو اپنانے کی تاکید کی اور کہا کہ حکومت عوامی شکایات کو دُور کرنے اور پوری کشمیروادی میں ترقیاتی اقدامات کو آگے بڑھانے کی کوششوں کو دوگنا کرے گی۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے پیغام میں ترقیاتی پروجیکٹوں کو تیز کرنے اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے اپنے ارادے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ آئیے ان6 مہینوں کو شمار کریں ۔جموں وکشمیرمیں ششمائی دربار موو،153سال پرانی روایت جو ڈوگرہ حکمرانوں نے شروع کی تھی، کوسال2021میں ختم کیاگیا۔ 5اگست2019کو دفعہ370و35Aکی منسوخی اور جموں وکشمیرکو دو مرکزی زیرانتظام علاقوں(جموں وکشمیر اور لداخ)میں تقسیم کرنے کے بعد سال2021 میں، حکومت نے ہندوستان میں کووڈ19 وبائی امراض کی وجہ سے دربار موو کو موخر کر دیا۔ 30 جون 2021 کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی سربراہی میں یوٹی حکومت نے ششمائی دربارمﺅ کے اقدام کو ختم کر دیا۔ اس اقدام کو بند کرنے کے بارے میں، 30 مارچ2020 کواسوقت کے چیف سکریٹری بی وی آر سبرامنیم نے کہا کہ حکومت نے متحرک محکموں میں ای,آفس شروع کرکے پیپر لیس آفس کو تبدیل کرنے کےلئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔ انتظامیہ نے سرکاری ریکارڈ ای آفس پر اپ لوڈ کر دیا ہے۔ آن لائن موڈ پر سوئچ کرنے سے2 سالہ ٹرانزٹ کے دوران ٹوٹ پھوٹ کےساتھ ساتھ سرکاری ریکارڈ کے نقصان سے بھی بچ جائے گا، اس کے علاوہ نقل و حمل کے متعلقہ اخراجات کو بھی بچائے گا۔ سرکاری دفاتر اب جموں اور سری نگر دونوں جگہ کام کریں گے۔ایل جی ایڈمنسٹریشن نے کہا کہ یہ نتیجہ خیز اور موثر اقدام پیسہ، وسائل اور وقت کی بچت کرے گا، جسے یونین ٹیریٹری کی فلاح و بہبود اور ترقی کےلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان وسائل کوعوام کی ثقافت اور ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ 2024کے اسمبلی انتخابات کے دوران چلائی گئی انتخابی مہم میں نیشنل کانفرنس کاعوام سے ایک وعدہ یہ بھی تھاکہ وہ برسراقتدار آنے کی صورت میں روایتی دربارمﺅ کو بحال کریگی ۔16اکتوبر2024کو بحیثیت وزیراعلیٰ عہدہ سنبھالنے کے بعد عمرعبداللہ نے اپنی پارٹی کے اس وعدے کااعادہ کیاکہ جموں وکشمیر میں ششمائی روایتی دربارمﺅ بحال کیاجائے گا۔وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے چھ ماہ کیلئے اپنادفتر سیول سیکرٹریٹ جموں میں رکھااوراب انہوںنے چھ ماہ کیلئے اپنا دفتر سیول سیکرٹریٹ سری نگرمیں شروع کیاہے لیکن ابھی تک روایتی دربارمﺅ کی بحالی سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیاگیاہے ۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے پونچھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں واقع کس بلاری میں تلاشی مہم شروع کی اور دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پردہ فاش کیا۔
تلاشی کے دوران ٹیم نے ایک بیگ، ٹیپ سے لپٹے ہوئے چھ کنٹینر، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) ہونے کا شبہ ہے، ایک جنگی سازوسامان کا پاؤچ، ایک لوہے کا ڈبہ جس میں میگزین ہونے کا امکان ہے، ٹیپ سے لپٹا ایک اور کنٹینر، 7.62 ایم ایم لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کا ایک میگزین، ایک ایلومینیم کنٹینر، دو اڈاپٹر اور ایک ٹفن برآمد کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
