جموں و کشمیر
اب سپریم کورٹ میں وقف ترمیمی ایکٹ پر اگلی سماعت 15 مئی کو ہوگی
وقف ترمیمی ایکٹ 2025کے آئینی جوازکوچیلنج کرنے والی عرضیاں
معاملے میں آج بھی نہیں آیا عدالت عظمیٰ کا فیصلہ
سری نگری:جے کے این ایس : وقف ترمیمی ایکٹ2025 کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ نے پیرکوتقریباً 2ہفتے بعد سماعت کی۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ، جسٹس پی وی سنجے کمار اور جسٹس کے وی وشواناتھن کی بنچ نے پیرکو بعددوپہر2بجے اس کیس کی سماعت کی۔
عدالت کے بیٹھتے ہی سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ سے درخواست کی کہ سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کر دی جائے۔چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ کی سربراہی والی تین رکنی بنچ نے ان کا مطالبہ مان لیا۔ اس طرح اب اس معاملے کی سماعت اگلے جمعرات یعنی 15 مئی کو ہوگی۔آج کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ نے ریکارڈ کیا کہ انہوں نے حکومت کی طرف سے دائر تمام دلائل اور جواب پڑھ لیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ رجسٹریشن اور بعض اعداد و شمار کی بنیاد پر مسائل اٹھائے گئے ہیں، جن پر درخواست گزاروں نے سوال اٹھایا ہے۔ عدالت نے کہا کہ چونکہچیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ کی ریٹائرمنٹ قریب ہے، وہ آخری مرحلے پر بھی کوئی فیصلہ یا حکم محفوظ نہیں رکھنا چاہتی۔ ایسے میں اب اس معاملے کی سماعت جسٹس بی آر گوائی کی سربراہی والی بنچ اگلے جمعرات 15 مئی کو کرے گی، جو ملک کے چیف جسٹس بننے جا رہے ہیں۔وقف قانون کے بارے میں کچھ باتیں۔وقف املاک کو ریگولیٹ کرنے اور ان کا انتظام کرنے کے لیے حکومت نے1995 کے وقف ایکٹ میں کچھ ترامیم کی تھیں۔ اپوزیشن جماعتوں اور مسلم تنظیموں نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے، جس میں اسے مذہبی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون کو لوک سبھا نے3 اپریل کو اور راجیہ سبھا نے 4 اپریل کو پاس کیا تھا۔ یہ ترمیم5 اپریل کو صدر کی منظوری کے بعد عمل میں آئی۔مرکزی حکومت اور بی جے پی کے زیر اقتدار کئی ریاستی حکومتیں عدالت میں اس قانون کا دفاع کر رہی ہیں۔ جبکہ چیلنج کرنے والوں میں کانگریس ممبرپارلیمنٹ محمد جاوید اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کے نام سرفہرست ہیں۔
پچھلی سماعت کے دوران حکومت نے عدالت کو یقین دلایا تھا کہ وہ قانون کی متنازعہ دفعات پر فی الحال کوئی پہل نہیں کرے گی، جس میں استعمال کی بنیاد پر وقف سمجھی جانے والی جائیدادیں، عدالت کی طرف سے اعلان کردہ وقف جائیداد اور وقف بورڈ یا کونسل میں غیر مسلموں کا داخلہ شامل ہے۔ سپریم کورٹ نے 17 اپریل کو ان درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے وقف املاک کی ڈی نوٹیفکیشن اور سنٹرل وقف کونسل سمیت بورڈز میں نئی تقرریوں پر پابندی لگا دی تھی۔ سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر حکومت سے جواب طلب کیا تھا اور درخواست گزار کو اس جواب پر جواب داخل کرنے کا وقت بھی دیا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق وقف ترمیمی ایکٹ سے متعلق مرکزی حکومت کی طرف سے داخل کردہ حلف نامہ میں صارف کے ذریعہ وقف کو حق قرار دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ میں اقلیتی امور کی وزارت کی طرف سے دائر 1332 صفحات پر مشتمل حلف نامہ میں پرانے وقف ایکٹ کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وقف املاک کی رجسٹریشن بشمول صارفین کے ذریعہ وقف سال 1923 سے لازمی ہے۔ مسلمانوں کے مذہبی رسومات کا احترام کرتے ہیں۔مرکزی حکومت کی طرف سے داخل کردہ حلف نامہ کے جواب میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی حلف نامہ داخل کیا ہے۔ جوابی حلف نامے میں مرکزی حکومت کی طرف سے داخل کردہ حلف نامہ میں دیے گئے ڈیٹا پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
مسلم پرسنل لاءبورڈ نے اپنے جوابی حلف نامے میں کہا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کو گمراہ کر رہی ہے۔اے آئی ایم پی ایل بی نے یہ بھی کہا ہے کہ وقف املاک میں اضافے کا حکومت کا دعویٰ غلط ہے۔ جس افسر نے یہ حلف نامہ داخل کیا ہے اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اپنے جوابی حلف نامے میں بورڈ نے حکومت کے اس دعوے پر بھی اعتراض کیا ہے کہ سنٹرل پورٹل پر 2013 کے بعد رجسٹرڈ وقف املاک میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا7 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
