جموں و کشمیر
وقف ترمیمی ایکٹ2025 کیس :سپریم کورٹ میں سالیسٹر جنرل کے دلائل
۔
وقف کے تحت بھی سرکاری اراضی پر کسی کا حق نہیں
حکومت کو قانونی طور پر ان جائیدادوں پر دوبارہ دعویٰ کرنے کا اختیار حاصل : مرکز
سری نگر :جے کے این ایس: مرکز نے بدھ کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ کوئی بھی سرکاری زمین پر حق کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور اسے قانونی طور پر ان جائیدادوں پر دوبارہ دعویٰ کرنے کا اختیار حاصل ہے جنہیں وقف صارف کے اصول کا استعمال کرتے ہوئے وقف قرار دیا گیا ہے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق وقف (ترمیمی) ایکٹ2025 کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کا جواب دیتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح پر مشتمل بنچ کے سامنے مرکز کی جانب سے اپنے دلائل کو آگے بڑھانا شروع کیا۔انہوںنے کہاکہ وقف بذریعہ صارف ایک ایسے تصور سے مراد ہے جہاں کسی جائیداد کو اس کے مذہبی یا خیراتی مقاصد کےلئے طویل مدتی استعمال کی بنیاد پر وقف کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، چاہے رسمی دستاویزات کے بغیر۔اعلیٰ قانون افسر نے کہاکہ سرکاری زمین پر کسی کا حق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت جائیداد کو بچا سکتی ہے اگر یہ حکومت کی ہے اور اسے وقف قرار دیا گیا ہے۔شروع میں، لاءآفیسر تشار مہتا نے کہا کہ کوئی بھی متاثرہ فریق عدالت میں نہیں گیا اور یہ کسی کا معاملہ نہیں ہے کہ پارلیمنٹ اس قانون کو منظور کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ انہوں نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ اور اس حقیقت کا حوالہ دیا کہ ایکٹ کے وجود میں آنے سے قبل کئی ریاستی حکومتوں اور ریاستی وقف بورڈ سے مشاورت کی گئی تھی۔بنچ نے عرضی گزاروں کی اس درخواست پر مرکز سے جواب طلب کیا کہ ضلع کلکٹر کے عہدے سے اوپر کا افسر اس بنیاد پر وقف املاک پر دعویٰ کا فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ سرکاری ہیں۔ لاءآفیسر نے کہاکہ یہ صرف گمراہ کن نہیں ہے بلکہ ایک غلط دلیل ہے۔ کیس کی سماعت جاری ہے۔مرکز نے اپنے تحریری نوٹ میں ایکٹ کا پرزور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وقف اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک سیکولر تصور ہے اور اس پر رکا نہیں جا سکتا کیونکہ اس کے حق میں آئین کا قیاس ہے۔اس نے ان مسائل کو حل کیا جو عدالت نے پہلے اٹھائے تھے اور کہا کہ قانون صرف مذہبی آزادی کی حفاظت کرتے ہوئے وقف انتظامیہ کے سیکولر پہلوو ¿ں کو منظم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے قیام کا مطالبہ کرنے والی کوئی سنگین قومی عجلت نہیں ہے۔ نوٹ میں کہا گیاکہ یہ قانون میں ایک طے شدہ پوزیشن ہے کہ آئینی عدالتیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر کسی قانونی شق کو برقرار نہیں رکھیں گی، اور اس معاملے کا حتمی فیصلہ کریں گی۔ آئینی ہونے کا ایک مفروضہ ہے جو پارلیمنٹ کے بنائے گئے قوانین پر لاگو ہوتا ہے۔بنچ نے منگل کے روز، قانون کے حق میں آئینی ہونے کے قیاس پر زور دیا اور کہا کہ وقف قانون کو چیلنج کرنے والے درخواست گزاروں کو عبوری ریلیف کے لیے ایک مضبوط اور واضح کیس کی ضرورت ہے۔عدالت عظمیٰ نے عرضی گزاروں سے کہاکہ ہر قانون کے حق میں آئینی ہونے کا ایک مفروضہ ہے۔ عبوری ریلیف کے لیے، آپ کو ایک بہت مضبوط اور واضح کیس بنانا ہوگا۔ ورنہ، آئینی ہونے کا قیاس رہے گا۔چیف جسٹس نے کہا جب سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل، قانون سازی کے خلاف الزام کی قیادت کر رہے تھے، نے اپنی گذارشات شروع کیں۔مرکز نے بنچ سے درخواست کی سماعت کو تین مسائل تک محدود رکھنے کی اپیل کی تھی۔ان میں سے ایک مسئلہ عدالتوں کے ذریعہ وقف قرار دی گئی جائیدادوں کو، صارف کے ذریعہ وقف یا عمل کے ذریعہ وقف قرار دینے کا اختیار ہے۔دوسرا مسئلہ ریاستی وقف بورڈ اور سنٹرل وقف کونسل کی تشکیل سے متعلق ہے، جہاں ان کا دعویٰ ہے کہ صرف مسلمانوں کو ہی کام کرنا چاہئے سوائے سابقہ ممبران کے جب کہ آخری مسئلہ وقف کی جائیداد کو وقف نہیں سمجھا جائے گا جب کلکٹر یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کرے گا کہ آیا یہ جائیداد سرکاری اراضی ہے۔5 اپریل کو صدر دروپدی مرمو کی منظوری کے بعد مرکز نے گزشتہ ماہ وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025کو مطلع کیا تھا۔بل کو لوک سبھا نے288 ارکان کی حمایت سے منظور کیا جبکہ 232 ارکان اس کے خلاف تھے۔ راجیہ سبھا میں اس کے حق میں 128 اور مخالفت میں95 نے ووٹ دیا۔ (ایجنسیاں)
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان5 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا5 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
