جموں و کشمیر
مربوط کاوشوں سے شعبہ سیاحت کو 6 سے 12 مہینوں میں بحال کیا جا سکتا ہے: رکن اسمبلی پہلگام
پہلگام، جنوبی کشمیر میں واقع مشہور سیاحتی مقام پہلگام گرچہ 22 اپریل کے دہشت گردانہ حملے، جس میں 25 سیاحوں اور ایک مقامی شخص نے جانیں گنوائیں، کے بعد مسلسل سنساں ہے اور ویرانی کا منظر پیش کر رہا ہے تاہم مقامی رکن اسمبلی الطاف احمد وانی، جو الطاف کلو کے نام سے مشہور ہیں، پُر امید ہیں کہ اگر امن بر قرار رہا اور بحالی کی مربوط کوششیں کی گئیں تو نصف سے ایک سال کی مدت میں ہی شعبہ سیاحت کو واپس پٹری پر لایا جا سکتا ہے۔
تین بار رکن اسمبلی رہنے والے اور ریاستی اسمبلی میں حکمراں جماعت جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (جے کے این سی) کے ڈپٹی چیف وہپ الطاف کلو 22 اپریل کے بہیمانہ واقعے کے بعد وادی بیسرن تک پہنچنے والے پہلے سیاسی لیڈر ہیں۔
انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس حملے سے مقامی نفسیات اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
الطاف کلو نے یو این آئی کے ساتھ ایک انٹریو میں کہا: ‘امن بتدریج بحالی کی پٹری پر گامزن ہو رہا ہے تاہم اس کے باوجود مقامی لوگ اور سیاح ابھی بھی خوف محسوس کر رہے ہیں’۔
انہوں نے کہا: ‘سکیورٹی فورسز کی اضافی تعیناتی کے ساتھ سکیورٹی صورتحال بھی بحال ہو رہی ہے اور مقامی انتظامیہ حالات معمول پر لانے کے لئے کوشاں ہے’۔
شعبہ سیاحت پہلگام کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس پر بالواسطہ یا بلا واسطہ ہزاروں لوگوں کی روزی روٹی کا انحصار ہے لیکن 22 اپریل کو ہونے والے حملے سے اس شعبے کو زور دار جھٹکا لگا جس سے ہوٹل مالکان، گھوڑے بان، ٹورسٹ گائیڈ، دکاندار اور دیگر متعلقہ افراد پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔
موصوف رکن اسمبلی کہتے ہیں: ‘شعبہ سیاحت بری طرح سے متاثر ہوا ہے تاہم صورتحال کی بہتری کے ساتھ اس کی بحالی بھی متوقع ہے’۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس طرح کے مشکلات کے حل کے لئے پہلے ہی کئی اقدام پر کام کر رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے: ‘سیاحوں کو واپس راغب کرنے کے لیے تشہیری مہموں اور حفاظتی یقین دہانیوں کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، سیاحوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے وقت کے ساتھ مسلسل کوششیں کرنے کی ضرورت ہے’۔
مسٹر کلو نے کہا: ‘لوگوں کے حوصلے بلند ہیں جو ہمارے لئے امید افزا ہیں’۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ پہلگام میں سیاحت کے بنیادی ڈھانچے میں کئی برسوں میں پہلے ہی وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا چکی ہے اور حملے کے بعد ہونے والے نقصان کا تفصیلی تخمینہ حکومت کو پیش کر دیا گیا ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘ہم نے نقصانات کے حوالے سے حکومت کو تفصیلی رپورٹس پیش کر دی ہیں اور متاثرہ سرمایہ کاروں کے لیے ریلیف پیکجز اور نرم قرضوں کا مطالبہ کیا ہے’۔
ان کا کہنا ہے: ‘حکومت نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن ہم فوری عملدرآمد پر زور دے رہے ہیں’۔
اس حملے سے جو طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے وہ گھوڑے بان ہیں جنہیں پوچھ تاچھ کے لئے تھانوں پر بھی طلب کیا جا رہا ہے۔
موصوف لیڈر نے کہا: ‘میں نے یہ معاملہ حکام کے ساتھ اٹھایا ہے ہم ان یومیہ مزدوروں کے لیے آسان پوچھ تاچھ، شناختی کارڈ کے اجراء اور فوری مالی ریلیف کا مطالبہ کر رہے ہیں’۔
انہوں نے عوامی پارکوں اور سیاحتی مقامات کی مکمل بندش پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
عوامی پارکوں اور سیاحتی مقامات کی بندش کا یہ فیصلہ حملے کے فوری بعد مزید خطرات کو روکنے کے لیے لیا گیا تھا۔
ان کا کہنا ہے: ‘پارکوں کی بندش سے سیاحت کی مزید حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور مقامی کاروبار متاثر ہوتا ہے گرچہ سیکورٹی اہم ہے لیکن مکمل بندش سے بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے’۔
الطاف کلو نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ عوامی مقامات کو کنٹرولڈ حالات میں دوبارہ کھولے اور سیاحتی مقامات کو مکمل طور پر بند کیے بغیر سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔
انہوں نے کہا: ‘میں حکام پر زور دے رہا ہوں کہ وہ پارکس کو کنٹرول شدہ رسائی اور حفاظتی اقدامات کے ساتھ دوبارہ کھولیں’۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
ابھرتے ہوئے طبی اختراعی نظام میں شامل ہوں: ڈاکٹر جتیندر کی جموں و کشمیر سے اپیل
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ ہندوستان اگلی نسل کے طبی طریقۂ علاج کے میدان میں عالمی رہنما بننے کی جانب گامزن ہے اور ملک حیاتیاتی علوم، طبی تحقیق اور صحت کے شعبے میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔
طب کے موجودہ دور کو انتہائی دلچسپ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے ظہور سے صحت کے شعبے میں ایسے امکانات پیدا ہو رہے ہیں جن کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج ٹیکنالوجی پر مبنی طریقۂ کار اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل پیدا کرنا ہوگا، تاکہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کو مریضوں کے لیے حقیقی اور بامعنی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
انہوں نے یہاں انٹرنیشنل میڈیکل سائنسز اکیڈمی (آئی ایم ایس اے) کے جموں و کشمیر چیپٹر کی جانب سے منعقدہ پہلے ’آروگیہ شکھر سمان۔ ایک میڈیکل انویسٹیچر تقریب‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’مستقبل میں طبی طریقۂ علاج کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقوں اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل ضروری ہوگا۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، جینومکس، کوانٹم ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز صحت کے شعبے میں نئے امکانات کے دروازے کھول رہی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کئی علاج اور تشخیصی طریقۂ کار میں ایک بڑی نعمت ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کلچر ٹیسٹ کے لیے درکار وقت کم کرنے اور جین کی ترتیب معلوم کرنے میں اے آئی کی صلاحیت کا حوالہ دیا، تاہم زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو کلینیکل میڈیسن کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
مرکزی وزیر نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار ایسی صورت حال پیدا کر سکتا ہے جس میں ڈاکٹر کی طبی بصیرت متاثر ہو۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے متبادل طریقوں کو دستیاب رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے، لیکن مریض کے علاج میں ڈاکٹر کا طبی فیصلہ بنیادی حیثیت رکھنا چاہیے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
محبوبہ مفتی کی 29 ستمبر کو دہلی میں احتجاج میں شرکت کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کو ’’سیکولر ذہن رکھنے والے‘‘ لوگوں سے ملک میں جمہوریت اور بھائی چارے کے تحفظ کے لیے 29 ستمبر کو دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کی اپیل کی۔
محبوبہ مفتی نے ایکس پر جاری پوسٹ میں کہا کہ احتجاج دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے ان لوگوں سے اس اجتماع میں شرکت کی اپیل کی جو ہندوستان کی ’’جمہوری اور سیکولر اقدار‘‘ کو عزیز رکھتے ہیں۔
پوسٹ کے ساتھ جاری ویڈیو پیغام میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ مساجد، درگاہوں اور گرجا گھروں کو ’’بے رحمی سے منہدم‘‘ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کے حامیوں اور ’’سیکولر ذہن رکھنے والے لوگوں، خاص طور پر مسلمانوں‘‘ کے نام ووٹر فہرستوں سے حذف کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان تمام مظالم کے خلاف انڈین مسلمانوں کی مانیٹرنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ 29 ستمبر کو دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کیا جائے گا۔‘‘
پی ڈی پی صدر نے سیکولر ذہن رکھنے والے لوگوں سے احتجاج میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شرکت جمہوریت، ملک کی فلاح و بہبود اور اس کی ’’گنگا-جمنی تہذیب‘‘ کے تحفظ کی کوششوں میں مددگار ثابت ہوگی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
منشیات اسمگلنگ اور دہشت گرد سرگرمیوں سے منسلک 7.11 کروڑ روپے کی جائیدادیں منسلک
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کو بتایا کہ منشیات کی اسمگلنگ، دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں اور ان کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف جاری کارروائی کے تحت سری نگر میں این ڈی پی ایس ایکٹ اور یو اے (پی) ایکٹ کے تحت تقریباً 7.11 کروڑ روپے مالیت کی چار غیر منقولہ جائیدادیں منسلک اور منجمد کی گئی ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران ان جائیدادوں کی شناخت غیر قانونی سرگرمیوں سے منسلک یا ان سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خریدی گئی املاک کے طور پر کی گئی۔
زکورہ پولیس اسٹیشن نے بلال کالونی، زکورہ میں واقع ایک رہائشی مکان اور اس سے منسلک زمین کو منسلک کیا، جس کی مالیت تقریباً 2.5 کروڑ روپے ہے اور یہ اویس احمد رَیدھر کی ملکیت ہے۔ یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/22 اور 29 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 34/2026 کے سلسلے میں کی گئی۔
این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف (1) کے تحت کی گئی اس کارروائی کے بعد مجاز اتھارٹی کے مزید احکامات تک جائیداد کی فروخت، لیز، منتقلی، ردوبدل یا اس میں کسی تیسرے فریق کا مفاد پیدا کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اس سے قبل نوگام پولیس اسٹیشن نے وگورا، بی کے پورہ کے رہائشی شیراز احمد شیخ کی تقریباً 2.85 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد کو منسلک کیا تھا۔ یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/15 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 121/2023 کے سلسلے میں کی گئی۔
اس جائیداد میں 18 مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ دو منزلہ کنکریٹ عمارت، دو دکانیں اور ایک رائس مل شامل ہیں۔ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف کے تحت جائیداد کو منسلک کیا گیا۔
ایک اور کارروائی میں احمد نگر پولیس اسٹیشن نے حضرت بل کے دانی ہامہ علاقے میں واقع تقریباً 1.30 کروڑ روپے مالیت کی ایک رہائشی جائیداد کو منسلک کیا۔ یہ جائیداد ظہور احمد میر کی ملکیت ہے۔
یہ کارروائی آرمس ایکٹ کی دفعہ 7/25 اور یو اے (پی) ایکٹ کی دفعات 13، 18، 18-B، 19، 20، 23، 38 اور 39 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 20/2026 کے سلسلے میں کی گئی۔ جائیداد میں چھ مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ ایک منزلہ رہائشی مکان اور اس سے منسلک زمین شامل ہے۔ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد اسے یو اے (پی) ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت منسلک کیا گیا۔
دریں اثنا، شالٹینگ پولیس اسٹیشن نے سری نگر کے چیک مجگنڈ میں سات مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ ایک منزلہ رہائشی مکان کو منجمد کردیا۔ اس کی مالیت تقریباً 46 لاکھ روپے ہے اور یہ امیر احمد میر کی ملکیت ہے۔
یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/21 اور 29 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 43/2023 کے سلسلے میں کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ جائیداد منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خریدی گئی تھی، جس کے بعد اسے این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف کے تحت منجمد کردیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ یہ چاروں کارروائیاں مبینہ طور پر منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں سے منسلک مالی وسائل اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے مقصد سے کی گئی ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس نے کہا کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے مبینہ طور پر بنائی گئی جائیدادوں کی شناخت، سراغ لگانے، منجمد کرنے اور منسلک کرنے کا عمل جاری رکھے گی، تاکہ منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کی پشت پناہی کرنے والے مالیاتی نیٹ ورک کو ختم کیا جاسکے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا6 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
