جموں و کشمیر
جنوبی کشمیرکے کئی علاقوںمیں قہرانگیزژالہ باری،شاہ دانہ سمیت مختلف میوہ جات تباہ
میوہ جات زمین بوس ،فصلیں اور سبزیاں ملیٹ میٹ
ترال اورشوپیان میں چیری سمیت 60سے70فیصد میوہ جات اور فصلیں تباہ :متاثرین
کاشتکاروں اور باغ مالکان کا حکومت سے ’کراپ انشورنس اسکیم‘ لاگوکرنےکا مطالبہ
سری نگر : جے کے این ایس : ترال اور شوپیان سمیت جنوبی کشمیرکے کئی علاقوںمیں پیرکی شام شدید ژالہ باری نے قہر برپا کر دیا۔ اچانک اور شدید ژالہ باری کے نتیجے میںپلوامہ اورشوپیان کے مختلف علاقوں میں سیب، چیری(شاہ دانہ) اور دیگر فصلیں تباہ ہو گئیں۔ جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق پیرکی شام شدیدژالہ باری سے متاثرہ ہونے والے علاقوں میں وڑی پورہ، ناگہ بل، آلشی پورہ اور ان کے مضافاتی گاﺅں شامل ہیں، جہاں ژالہ باری نے چند منٹوں میں میوہ جات اور فصلوں کوملیامیٹ کردیا۔اُدھر ترال سمیت جنوبی کشمیرکے دیگر کئی علاقوںمیں بھی پیرکی شام شدید اور طوفانی ژالہ باری نے میوہ باغات اور کھیتوںمیں قہر برپا کردیا،کیونکہ کچھ منٹ تک جاری رہنے والی شدید ژالہ باری کے دوران گرنے والے اولوںنے درختوں پر تیار چیری (شاہ دانہ ) کیساتھ ساتھ سیب اور دیگرمیوہ جات کوپتوں سمیت زمین بوس کردیا اور ساتھ ہی شدیدژالہ کی وجہ سے کھیتوںمیں بوئی گئی دھان کی فصل اور سبزیاںبھی ملیا میٹ ہوکررہ گئیں ۔متاثرہ علاقوں کے زمیندار ،کاشتکار اور باغ مالکان اپنی فصلوںکی حالت دیکھ کر اشکبار ہوگئے جبکہ کئی ایسے کسان بھی اس قہرانگیز ژالہ باری کی وجہ سے سب کچھ کھوگئے ،جن کا ذریعہ معاش زمینداری کے سواءکچھ بھی نہیں ۔مقامی کسانوں نے زاروقطار روتے ہوئے میڈیا نمائندوںکو بتایا کہ انہیں تباہ کن موسمی تبدیلیوں کےخلاف کوئی تحفظ حاصل نہیں، کیونکہ وہ آج تک ”کراپ انشورنس اسکیم“ کے دائرے میں شامل نہیں کیے گئے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ ہم نے حکومت سے بار بار اپیل کی ہے کہ فصلوں کو زرعی انشورنس فراہم کیا جائے، مگر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی، اور اس طرح کی ناگہانی آفات کے دوران کسانوں کی محنت پر پانی پھر جاتا ہے۔توجہ طلب ہے کہ شوپیاں ضلع کی معیشت کا دار و مدار سیب کی پیداوار پر منحصر ہے، جہاں ہر سال تقریباً 3 ہزار میٹرک ٹن سیب دیگر ریاستوں کو برآمد کیا جاتا ہے۔ اس سال اب تک ضلع میں3 مرتبہ شدیدژالہ باری ہو چکی ہے، جس نے کسانوں کو شدید مالی نقصان سے دوچار کیا ہے۔باغ مالکان اور کاشتکاروں نے کہاکہ ہم گزشتہ کئی سالوں سے حکومتوں سے ”کراپ انشورنس اسکیم“ کا بار ہا مطالبہ کرتے آئے ہیں لیکن آج تک ہمیں اس اسکیم کے دائرے میں نہیں لایاگیا ہے ،جوکہ سراسر ناانصافی ہے۔ہندوشوپیان کے ایک کسان بشارت احمد نے بتایا کہ ژالہ باری پندرہ سے بیس منٹ تک جاری رہی اور اس نے پھلوں کو کافی نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ چنے کے سائز کے اولوں نے سیب کی تقریباً پوری فصل کو نقصان پہنچایا۔کسانوں نے 60 سے70 فیصد کے درمیان نقصان کا تخمینہ لگایا۔پیرکی شام ہونے والی شدیدژالہ باری کے فوراً بعد، ویڈیوز آن لائن منظر عام پر آئیں جن میں پریشان کسان اپنے باغات کو ہونے والے نقصان کا معائنہ کرتے ہوئے دکھایا گیا، بہت سے لوگ نقصانات کا اندازہ لگاتے ہوئے آنسو بہا رہے تھے۔ایک پریشان کسان نے ایک آن لائن ویڈیو میں کہاکہ میری بہن کی اگلے مہینے شادی ہونے والی ہے اور میں نے اپنی تمام امیدیں اس فصل پر لگا رکھی تھیں۔ ہمارے پاس کچھ نہیں بچا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر آفت کے بعد محکمہ باغبانی کے اہلکار نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے باغات کا دورہ کرتے ہیں۔متاثرہ کسان نے کہاکہ بعد میں، وہ معاوضے کے نام پر چند سو روپے دیتے ہیں۔کشمیر سالانہ تقریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن سیب پیدا کرتا ہے جس میں تقریباً 35 لاکھ لوگ براہ راست یا بالواسطہ طور پر اپنی روزی روٹی کے لیے صنعت پر انحصار کرتے ہیں۔پھل کاشتکاروں اور تاجروں کی مختلف تنظیموں کے ذمہ داروں نے بتایا کہ کسانوں کو فصل انشورنس اسکیم اور دیگر حفاظتی اقدامات کی کمی کی وجہ سے بار بار نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ سیب کی جدوجہد کی صنعت کے تحفظ کے لیے جامع، کسان دوست پالیسیاں متعارف کرائے۔
انہوںنے متاثرہ افراد کے لیے مناسب معاوضے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکام کی طرف سے پیش کردہ معاوضہ معمولی ہے۔پھل تاجروں کی مختلف تنظیموں کے ذمہ داروں نے کہاکہ ہم بروقت مالی ریلیف کا مطالبہ کرتے ہیں جو کاشتکاروں کو ہونے والے نقصانات کی صحیح معنوں میں عکاسی کرتا ہے۔کاشتکاروں اورکسانوں کے مطابق جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے ماضی میں کئی مرتبہ اس سلسلے میں یقین دہانی کرائی گئی تھی، لیکن ابھی تک زمینی سطح پر کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔متاثرہ کاشتکاروں اور کسانوں نے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی آفات کے بعد انتظامیہ کے افسران رسمی طور علاقوں کا دورہ کرتے اور نقصان کا تخمینہ لگانے کے بعد 2 سے 3 ہزار روپے کسان کے ہاتھ میں تھما جاتے ہیں، جو کسانوں کے مطابق ایک مذاق ہے۔کسانوںنے لیفٹنٹ گورنر اوروزیراعلیٰ سے نقصانات کا فوری تخمینہ لگاکر متاثرہ زمینداروں اور باغ مالکان کو پورا معاوضہ فراہم کرنے کی مانگ کرتے ہوئے جموں وکشمیرمیں بلاتاخیر کراپ انشورنس اسکیم لاگوکرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
