جموں و کشمیر
مرکزی حکومت ریٹا ئرڈ ملازمین کے حقوق صلب نہ کرے:اعجازاحمدخان
جموں وکشمیر،لداخ پنشنرس یونائٹیڈ فرنٹ کی23جون کیلئے احتجاجی کال
ملازمین کے بڑے فورمEJCCنے کیا مکمل حمایت کااعلان
سری نگر: جے کے این ایس : آٹھویں تنخواہ کمیشن کو لاگو کئے جانے سے متعلق مرکزی سرکار کے اعلان کیخلاف جموں وکشمیر،لداخ پنشنرس یونائٹیڈ فرنٹ کی جانب سے23جون کیلئے دی گئی کال کی مکمل حمایت کرتے ہوئے ملازم انجمنوںکے سب سے بڑے پلیٹ فارم ایمپلائز جوائنٹ کنسلٹیٹو کمیٹیEJCCنے تمام محکموں کے ریٹائرڈ ملازمین سے اپیل کی ہے کہ وہ 23جون کو متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کے دفتروں کے باہر مجوزہ پُرامن احتجاج میں شرکت کریں ۔جے کے این ایس کوموصولہ بیان کے مطابق مرکزی حکومت نے آٹھویں تنخواہ کمیشن کو جنوری 2026میں لاگو کرنے کااعلان کردیا ہے تاہم مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں اپنا یہ ارادہ ظاہر کیاہے کہ نئے تنخواہ کمیشن کی سفارشات کااطلاق ریٹائرڈ ملازمین پر نہیں ہوگا۔ مرکزی حکومت کے اس اعلان کیخلاف جموں وکشمیر،لداخ پنشنرس یونائٹیڈ فرنٹ نے 23جون 2025بروز پیر کے روز جموں وکشمیرکے تمام اضلاع میں متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کے دفتروں کے باہر پُرامن احتجاج کے بعداس سلسلے میں ڈپٹی کمشنروںکو یادداشت یا میمورنڈم پیش کرنے کا اعلان کیاہے ۔جموں وکشمیرکے لاکھوں مستقل وعارضی ملازمین کی تنظیموں کے سب سے بڑے پلیٹ فارم ایمپلائز جوائنٹ کنسلٹیٹو کمیٹیEJCCنے جموں وکشمیر،لداخ پنشنرس یونائٹیڈ فرنٹ کی کال کی حمایت کااعلان کرتے ہوئے تمام محکموں کے ریٹائرڈ ملازمین سے اپیل کی ہے کہ وہ 23جون کو متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کے دفتروں کے باہر مجوزہ پُرامن احتجاج میں شرکت کریں ۔چیئرمینEJCC اور سینئر ٹریڈیونین رہنما و سماجی کارکن اعجاز احمدخان نے جموں وکشمیر،لداخ پنشنرس یونائٹیڈ فرنٹ کی کال کو برمحل اور برحق قرار دیتے ہوئے اسبات پر سخت افسوس اور تشویش کااظہار کیاہے کہ مرکزی حکومت نے دہائیوں تک مختلف سرکاری محکموںمیں خدمات انجا م دینے والے کروڑوں ریٹائرڈ ملازمین کے سرسے اپنا ہاتھ اسوقت اُٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے ،جب ایسے ریٹائرڈ ملازمین کو سب سے زیادہ تعاون اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے ۔اعجاز احمدخان نے مرکزی حکومت کے اعلان کو غیر انسانی ،غیر جمہوری اور سراسر ناانصافی سے تعبیر کرتے ہوئے کہاہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جب ملازمین اپنی باقی گھریلوذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی باقی زندگی پُرسکون انداز میں گزارنے کا من بنالیتے ہیں ،توحکومت نے ایسے کروڑوں ملازمین کو بے سہارا کرنے کا سخت فیصلہ لیاہے ۔سینئر ٹریڈ یونین رہنما اعجاز احمد خان نے مرکزی حکومت کے مجوزہ اقدام کو خلاف آئین و قانون قرار دیتے ہوئے اسبات کی یاددہانی کرائی ہے کہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے اپنی ایک رولنگ میں یہ واضح کیاہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری ملازمین کو تمام وہ مراعاتیں لینے کا حق حاصل ہے ،جو حاضر سروس ملازمین کو حکومت کے کسی بھی اقدام یا کسی کمیشن کی سفارشات کے بعد دی جاتی ہیں ۔سماجی کارکن اور چیئرمینEJCCاعجاز احمدخان نے ریٹائر منٹ کے بعد ملازمین کو Dead-woodیافضول عضو قرار دئیے جانے کے فکروعمل کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے سوال کیاہے کہ جب سابق ارکان پارلیمان اور ممبران اسمبلی کو تمام مراعاتیں دی جاسکتی ہیں اور اُن کو موجود عوامی نمائندوںکو دی جانے والی مراعات کا مستحق قرار دیاجاتاہے تو اپنی زندگی کے تیس یا چالیس اہم ترین سال عوامی خدمات میں گزارنے والے ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد کیوں تمام مراعات اور فوائد سے محروم کردینے کی غیر منصفانہ اور خلاف انسانیت پالیسی اپنائی جارہی ہے ۔اعجاز احمدخان نے ریٹائرڈ ملازمین کو سماج اور معاشرے کا سب سے باوقار حصہ قرار دیتے ہوئے حکومت کو خبردارکیاہے کہ وہ ملک کے سینئر سٹیزنز اور معززشہریوں کیساتھ کوئی ایساسلوک کرنے سے گریز کرے ،جو ہمارے سماج اور معاشرے کی بنیادوں اور ہماری اقدار کوملیا میٹ کرنے کا موجب بنے ۔
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان5 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا4 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
