جموں و کشمیر
مرکزی حکومت نے جموں وکشمیرکو مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کا ارادہ کرلیا،فیصلہ کن مشاورت جاری
پارلیمان کے آئندہ مون سون اجلاس میں ریاستی بل پیش ہونے کا امکان
یکم اگست سے 9 اگست بحالی متوقع، ریاستی درجہ کی بحالی سے قبل نئے اسمبلی انتخابات زیرغور نہیں:رپورٹ
سری نگر: جے کے این ایس : وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے منگل کودئیے گئے بیان کہ اگر مرکز ریاست کا درجہ بحال کرتا ہے تو وہ اپنی کرسی کھونے پر کوئی اعتراض نہیں کریں گے،کے ایک روز بعد اسبات کاانکشاف ہواہے کہ مرکزی حکومت نے جموں وکشمیرکو مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کا ارادہ کرلیاہے اوراس سلسلے میں پارلیمان کے مانسون اجلاس کے دوران ممکنہ طور پراگست کے پہلے ہفتے میں بل لوک سبھا میں پیش کیاجائے گا۔اس حوالے سے سینئر صحافی احمد علی فیاض نے باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کی بحالی سے قبل نئے اسمبلی انتخابات کرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
پارلیمنٹ میں ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق بل ممکنہ طور پر یکم اگست سے 9 اگست تک پیش کیا جائے گا۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق میڈیا رپورٹس میںقابل اعتماد ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیاگیاہے کہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کے سلسلے میں مرکزی وزارت داخلہ اور اہم اسٹیک ہولڈرز کے درمیان شدید مشاورت جاری ہے۔ توقع ہے کہ مجوزہ قانون سازی پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران پیش کی جائے گی، جو کہ یکم اور 9 اگست کے درمیان عارضی طور پر طے شدہ ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مشاورت سے جڑے قریبی ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ مرکزجموں وکشمیرکو ریاست کا درجہ بحال کرنے سے پہلے نئے اسمبلی انتخابات کرانے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہاہے کہ مرکزی حکومت ریاستی حیثیت کی بحالی کے بارے میں پارلیمنٹ میں کی گئی یقین دہانی کو پورا کرنے کی خواہشمند ہے۔ اس کا مقصد 2026 کی مردم شماری اور کسی بھی ممکنہ حد بندی کی مشق سے پہلے اس عمل کو مکمل کرنا ہے۔مبینہ طور پر نارتھ بلاک)وزرات داخلہ کا دفتر) کے اہلکار مجوزہ قانون سازی کے ڈھانچے کو حتمی شکل دینے کے لئے وزارت قانون، الیکشن کمیشن اور وزارت پارلیمانی امور کے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں۔ انتظامی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے تکنیکی بات چیت جاری ہے۔میڈیا رپورٹ میں مزید بتایاگیاہے کہ سیکورٹی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیاسی انتقال اقتدار کے دوران عوامی جذبات پر نظر رکھیں اور امن و امان برقرار رکھیں۔ مرکزی اور جموں وکشمیر دونوں سطحوں پر انٹیلی جنس یونٹوں کو پیشرفت کا سراغ لگانے اور کسی بھی خلل کو روکنے کا کام سونپا گیا ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ جموں و کشمیر میں سیاسی جماعتوں کےساتھ غیر رسمی مشاورت جاری ہے، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وقت اہم قومی سنگ میلوں سے پہلے ایک وسیع تر اسٹریٹجک بحالی کی عکاسی کرتا ہے۔آئینی ماہرین کامشاہدہ ہے کہ یہ اقدام ایک آئینی اصلاح اور ایک سیاسی اشارہ کی نمائندگی کرتا ہے جس کا مقصد جموں و کشمیر میں عوامی اعتماد اور جمہوری جگہ کو بحال کرنا ہے۔اُن کامانناہے کہ اگرریاستی درجہ کی بحالی کا منظور کیا جاتا ہے تو، ریاست کا قانون اگست 2019 میں آرٹیکل370 کی منسوخی اور ریاست کی تقسیم کے بعد سے خطے کے سیاسی ارتقاءمیں ایک اہم لمحہ کی نشاندہی کرے گا۔قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کوگلمرگ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھاکہ وہ نئے انتخابات کے لیے تیار ہیں اور اگر مرکز ریاست کا درجہ بحال کرتا ہے تو وہ نئے اسمبلی انتخابات کیلئے تیارہونے کیساتھ ساتھ اپنی کرسی کھونے پر کوئی اعتراض نہیں کریں گے۔
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
