ہندوستان
کواڈ نے انتہائی اہم معدنیات اور ہند-بحر الکاہل سے متعلق اقدامات متعارف کرائے
نئی دہلی، کواڈ کے رکن ممالک ہندوستان، آسٹریلیا، جاپان اور امریکہ کے وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی قانون، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے آزاد اور کھلے ہند-بحرالکاہل کے لئے اپنے عزم پر زور دیا ہے اس بلاک نے انتہائی اہم معدنیات سے متعلق کواڈپارٹنرشپ سمیت اہم اقدامات متعارف کرائے جن کا مقصد قابل اعتماد اور متنوع سپلائی چینز حاصل کرنا ہے تاکہ علاقائی لچیلے پن اور مشترکہ فلاح و بہبود میں اضافہ کیا جاسکے۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو، ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر، آسٹریلیا کے وزیر خارجہ پینی وونگ اور جاپان کے تاکیشی ایوایا نے واشنگٹن میں اپنی ملاقات کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔
ان رہنماؤں نے ہند-بحرالکاہل میں مواقع اورچیلنجوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔ انھوں نےعلاقائی شراکت داروں کے تعاون سے امن، سلامتی اور خوشحالی کو آگے بڑھانے کے لیے کواڈ کی صلاحیتوں اور وسائل کو مزید بروئے کار لانے کے بارے میں بھی تبادلۂ خیال کیا۔
ایک مشترکہ بیان میں، کواڈ ممالک نے ایک نئے، جرأت مندانہ اور مضبوط ایجنڈے کا اعلان کیا۔ اس ایجنڈے میں چار اہم شعبوں-سمندری اور بین الاقوامی سلامتی، اقتصادی خوشحالی اورسلامتی، انتہائی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور ہنگامی صورتحال میں ردعمل-کو مرکزی توجہ حاصل ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اس نئے سرے سے توجہ مرکوز کرنے کےعمل کے ذریعے، ہم کواڈ کی صلاحیت کو بڑھائیں گےتاکہ خطے کے سب سے اہم چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اپنے وسائل سے استفادہ کرسکیں۔‘‘
مشترکہ بیان میں کہا گیاکہ خطے کے لیے مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے ممالک متحد ہیں اور’’آسیان اور اس کی مرکزیت اور اتحاد اورپیسیفک آئی لینڈز فورم اور پیسفک کے زیر قیادت علاقائی گروپس اور انڈین اوشین رم ایسوسی ایشن(آئی او آر اے) کے لیے کواڈ کا تعاون اور اُس کی حمایت مضبوط رہےگی۔‘‘
مزید برآں، رکن ممالک نے مشرقی اور جنوبی بحیرہ چین کی صورتحال پرسخت تشویش کا اظہار کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ہم کسی بھی قسم کےایسے یکطرفہ اقدامات کے خلاف اپنی سخت مخالفت کا اعادہ کرتے ہیں جن کا مقصد طاقت یا زور زبردستی کے ذریعے موجودہ حالت کو تبدیل کرناہو۔ ہمیں خطرناک اور اشتعال انگیز اقدامات کے بارے میں سخت تشویش ہے۔ ان میں ساحلی وسائل کی ترقی میں مداخلت، جہاز رانی اور اوور فلائٹ کی آزادی میں لگاتار رکاوٹ اور فوجی طیاروں اورساحلی محافظوں اور بحری فوجی کشتیوں کی خطرناک حرکتوں خاص طور پر واٹر کینن کے غیر محفوظ طریقے سے استعمال اور جنوبی بحیرۂ چین میں جہازوں کو ٹکر مارنا اور اُن کی آمد و رفت میں رخنہ ڈالنا شامل ہے۔ ان کارروائیوں سے خطے میں امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔
کواڈ ممالک نے ’’متنازع خصوصیات کی حامل عسکریت کاری‘‘ کے تئیں تشویش کا اظہار کیا اور ’’جہاز رانی اور اوور فلائٹ کی آزادی، سمندر کے دیگر قانونی استعمال اور بین الاقوامی قانون کے مطابق بلاروک ٹوک تجارت کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، جس کا ذکر سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن(یو این سی ایل او ایس)میں کیا گیا ہے۔‘‘
گروپ میں شامل وزرائے خارجہ نے اس بات کی توثیق کی کہ سمندری تنازعات کو پرامن طریقے سے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق حل کیا جانا چاہیے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ 12 جولائی 2016 کو ثالثی ٹریبونل کی طرف سے دیا جانے والا ایوارڈ ایک اہم سنگ میل ہے اور فریقین کے درمیان تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی بنیاد ہے۔
اہم سپلائی چین خاص طور پر اُن اہم معدنیات کے لیے جس میں اہم معدنیات، بعض ماخوذ مصنوعات اور معدنی پروسیسنگ ٹیکنالوجی کے لیے غیرمارکیٹ پالیسیوں اور طریقوں کا استعمال بھی شامل ہے،کی اچانک کمی اور مستقبل میں ان کی اعتباریت کو اہمیت دیتے ہوئے،ہم متنوع اور قابل اعتماد عالمی سپلائی چینز کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا ’’اہم معدنیات اور مشتق اشیا کی تیاری کے لیے کسی ایک ملک پر انحصار ہماری صنعتوں کو معاشی دباؤ، قیمتوں میں ہیرا پھیری اور سپلائی چین میں رکاوٹوں سے دوچار کرتا ہے، جس سے ہماری اقتصادی اور قومی سلامتی کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔‘‘
انھوں نے کہا’’ہم شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے غیر مستحکم کرنے والے لانچوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں(یو این ایس سی آرز) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جوہری ہتھیاروں بنانے کی مسلسل کوشش کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم متعلقہ یو این ایس سی آرزکے مطابق جزیرہ نما کوریا کو مکمل طور پر جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور ہم شمالی کوریا پر زور دیتے ہیں کہ وہ یو این ایس سی آرز کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔ ہمیں شمالی کوریا کی بدنیتی پر مبنی سائبر سرگرمی، بشمول کرپٹو کرنسی کی چوری اور شمالی کوریا کے غیر قانونی ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل کے پروگراموں کے لیے شمالی کوریا کے باہر کام کرنے والے ورکرس کا استعمال کیے جانے کے تعلق سے بھی سخت تشویش ہے۔ ہم شمالی کوریا سے متعلق یو این ایس سی آرز کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔‘‘
رکن ممالک نے مشترکہ بیان کے ذریعے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے زور دے کر کہاکہ وہ یو این ایس سی آرزکے تحت شمالی کوریا کو سبھی ہتھیار اور ان سے متعلقہ مواد کی منتقلی یا اس کی خریداری پر روک لگانے سمیت پابندیوں کے نفاذ کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔
رہنماؤں نے ان ممالک کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کیا جو شمالی کوریا کے ساتھ فوجی تعاون کو گہرا کر رہے ہیں، جو عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کو براہ راست نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ہم ایک بار پھر اغوا کے معاملے کے فوری حل کی ضرورت کی تصدیق کرتے ہیں۔
اس مشترکہ بیان میں میانمار کے بگڑتے ہوئے بحران اور خطے پر اس کے اثرات کا بھی ذکر کیا گیا اور میانمار کی حکومت سے جنگ بندی کے اپنے عزم پر قائم رہنے کا مطالبہ کیا گیا اور تمام فریقوں سے جنگ بندی کے اقدامات پر عمل درآمد، اس میں توسیع اور اسے وسیع کرنے کا مطالبہ کیاگیاہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ’’ہم آسیان کی کوششوں کے لیے اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور بحران کے ایک جامع، پائیدار اور پرامن حل کے لیے پانچ نکاتی اتفاق رائے پر مکمل اور موثر عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انسانی امداد کی محفوظ اور بلا روک ٹوک فراہمی میں مدد کریں۔ ہم علاقائی سلامتی پر بحران کے اثرات اور جرائم کے بین الاقوامی پھیلاؤ کے کے بارے میں بھی فکر مند ہیں۔ ہم سائبر کرائم اور آن لائن دھوکہ دہی کے معاملات سے نمٹنے کے تئیں پُر عزم ہیں۔
کواڈ لیڈوں کی اگلی سربراہ کانفرنس کی میزبانی اس سال کے آخر میں ہندوستان کرے گا اور اگلی کواڈ وزرائے خارجہ کی میٹنگ 2026 میں آسٹریلیا کی میزبانی میں ہوگی۔
رکن ممالک نے 22 اپریل کوجموں و کشمیرکے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی واضح الفاظ میں مذمت کی، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کرتے ہوئے وزراء نے دہشت گردی کی تمام شکلوں سے نمٹنے کے لیے اپنے اجتماعی عزم کا اعادہ کیا۔
بلاک نےدہشت گردی کے مرتکب افراد کے خلاف فوری طور پر کارروائی کیے جانے پر زور دیا۔
یو این آئی-ک ح
ہندوستان
بحران میں کام آئیں پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں: وزیراعظم
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ حکومت نے پچھلے 12-10 سال میں ’ناگرک دیوو بھو‘ کے منتر کے ساتھ جو اصلاحات کیں اور جو پالیسیاں اپنائیں، اسی کا نتیجہ ہے کہ کورونا وبا اور مغربی ایشیا کے بحران کے باوجود ملک تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔
لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلے 12-10 سال میں دنیا میں کئی بحران آئے۔ کورونا نے پوری دنیا کو تشویش میں ڈال دیا۔ اس کے بعد یوکرین اور مغربی ایشیا کی جنگیں آئیں۔ ہر جگہ تناؤ کا ماحول تھا۔ ’پیش گوئی کرنے والوں‘ نے تو کہا کہ ویکسین نہیں ملے گی، کووڈ میں لوگ بچیں گے نہیں، پیٹرول ڈیژل نہیں ملے گا، گیس نہیں ملے گی۔ انہوں نے ملک کو ڈرانے کا کام کیا، اسی میں انہیں خوشی ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک نے دیکھ لیا کہ پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں رنگ لا رہی ہیں۔ ’ناگرک دیوو بھو‘ کے منتر کو لے کر جیتے ہوئے ہندوستان نے پچھلے 12-10 سال میں جو تیاریاں کی تھیں، ایک کے بعد ایک جو قدم اٹھائے تھے، …وہ سبھی چیزیں کام آ گئیں۔ آج ملک میں پیٹرول بھی ہے، ڈیژل بھی ہے، گیس بھی ہے، یوریا بھی ہے۔ ہم اپنی طاقت کے بل بوتے پر چل رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے اس بحران کا اثر ہر کسی پر ہوا ہے اور ہندوستان بھی اس سے الگ نہیں ہے۔ ایک بوری یوریا کی قیمت دنیا میں تین ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، لیکن ملک میں کسانوں پر وہ بوجھ نہ ڈال کر آج بھی انہیں صرف 300 روپے میں یوریا کی بوری دی جا رہی ہے۔ ڈی اے پی کی قیمت دنیا میں پانچ ہزار روپے ہے جو ملک کے کسانوں کو 1350 روپے میں دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وسائل کی وجہ سے ملک رکتا نہیں ہے، کئی بار اس کی وجہ سوچ ہوتی ہے۔ ملک کو آج خام تیل پر منحصر رہنا پڑ رہا ہے۔ ایسی سوچ کی وجہ سے سمندری ساحل کا ہمارا 90 فیصد حصہ ’نو گو ایریا‘ (ممنوعہ علاقہ) قرار دے دیا گیا تھا، یہ سوچ کی مفلسی تھی۔ ان کی حکومت نے اسے ’گو اہید ایریا‘ کے طور پر کھول دیا ہے۔ ہم سمندر کے اندر بھی نئے نئے ذخائر تلاش کرنے کی سمت میں کوششیں کر رہے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ گزشتہ برس حکومت کا مقصد رہا ہے کہ ہمیں اب دوسرے ملکوں پر منحصر رہ کر نہیں جینا ہے، ہمیں خودکفیل ہونا چاہیے۔ دنیا میں بہت کچھ ملتا ہے، سستا ملتا ہے، لیکن اس سے ہماری صلاحیت نہیں بنتی ہے۔ ہمیں بھی اپنی صلاحیت بڑھانی ہے۔ “میک ان انڈیا”، “ووکل فار لوکل” جیسے شعبوں میں آج ہر ہندوستانی کا دل جڑ چکا ہے۔
سیمی کنڈکٹر کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے سیمی کنڈکٹر کی باتیں ہوتی تھیں، لیکن ہم اس میں آگے نہیں بڑھ سکے۔ آج کی دنیا میں ہر الیکٹرانک، میڈیکل اور ٹرانسپورٹ کے سامان میں چپ ضروری ہے۔ ملک میں تین سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہو گئے ہیں اور وہاں سے برآمدات بھی شروع ہو چکی ہیں۔ آنے والے سات آٹھ سال میں مزید پانچ چھ سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کریٹیکل منرلز پر مبنی ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے کئی ملکوں کے ساتھ اس کے لیے معاہدے کیے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
نکسل انتہاپسندی ختم ہوئی لیکن ‘دماغی نکسلی’ ابھی ہے، پہچان تو کرنی پڑے گی: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک سے ہتھیاربند نکسل انتہاپسندی کا خاتمہ ہو چکا ہے لیکن ‘دماغی نکسلی’ اب بھی موجود ہیں اور ایسے لوگ موقع کی تلاش میں انارکی کی راہ تلاش کر رہے ہیں اس لیے ان کی پہچان کرنا اور انہیں الگ تھلگ کر کے نئی نسل کو ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کے اہم دھارے سے جوڑنا ہوگا۔
مسٹر مودی نے یوم آزادی پر لال قلعہ کی فصیل سے ہفتہ کو ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “برسوں تک ملک کی اقتدار کے راہداریوں میں ماؤ نواز سوچ کے لوگ اپنی جگہ بنا کر بیٹھے تھے۔ حکومت کی کمیٹیوں میں مشیر کے طور پر ماؤ نوازوں نے ملک کو متاثر کیا اور ان کے نظریات نے پالیسیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ جنگلوں میں ہتھیاربند نکسلیوں کے خاتمے اور اس بحران سے ملک کو نجات دلانے میں ملک کو کامیابی ملی ہے۔ اس کامیابی سے ہتھیاربند نکسلی تو چلے گئے، لیکن ‘دماغی نکسلی’ اور ‘قاتل نکسلی’ ابھی موجود ہیں۔ ایسے لوگ موقع کی تلاش میں انارکی کی راہ تلاش کر رہے ہیں اور معاشرے کو غلط راہ پر گھسیٹنے کے لیے طرح طرح کے داؤ چل رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ ملک کی خوشحالی کے لیے ان ‘نکسلی دماغ’ والے لوگوں کی پہچان کرنا ضروری ہے۔ پہچان کے بعد ان کو الگ تھلگ کرنا ہی ہوگا اور ملک کی ترقی کے لیے ملک کی نئی نسل کو ترقی یافتہ ملک کے اہم دھارے سے جوڑنا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ 21ویں صدی میں دہائیوں سے چلے آ رہے چیلنجوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔ نکسل انتہاپسندی اور ماؤ نوازی نے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل برباد کیا ہے۔ اس نکسلی سوچ نے ان نوجوانوں کو ان کی زندگی کے سب سے اچھے وقت میں ان کی ماؤں سے چھینا، انہیں برباد کیا اور ان کے ماں باپ کے خوابوں کو چکنا چور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکسل انہاپسندی نے آئین کا مذاق بنایا اور عام شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے 3500 سے زیادہ پولیس اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ 2014 میں ملک کے عوام نے ان کی حکومت کو موقع دیا تو انہوں نے ملک کو نکسل انتہاپسندی سے پاک کرنے کا عزم کیا۔ انہوں نے کہا کہ “آج مجھے خوشی ہے کہ نکسل انتہاپسندی-ماؤ نواز تشدد نے اپنی طاقت کھو دی ہے اور شاید اب وہ اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے۔ ہم اس کے مکمل خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں کبھی نکسلیوں کی گولیاں چلتی تھیں، گولیوں کی آواز سے جنگل گونجتے تھے اور سرزمین خون سے لال ہوتی تھی، آج انہی علاقوں میں ترقی، اعتماد اور اجتماعي کوششوں کا ترنگا بلند ہو کر لہرا رہا ہے۔ نکسل انتہاپسندی سے متاثرہ علاقے اب نکسل سے پاک ہو چکے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ نکسل انتہاپسندی اور ماؤ نوازی کے دہائیوں پرانے چیلنج کو 21ویں صدی میں ختم کرنا ضروری ہے اور ملک کی نئی نسل کو وکست بھارت کی تعمیر کی اہم دھارے سے جوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
آنے والے 10 سال میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کرنے کا ہدف: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ آنے والے 10 سال میں ملک میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کیے جائیں گے۔
تاریخی لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلی حکومتوں کی سوچ کی وجہ سے ملک توانائی کے لیے بیرونی ملکوں پر منحصر ہے۔ پچھلے 12 سال میں توانائی کے شعبے میں خودکفالت حاصل کرنے کے لیے ان کی حکومت نے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے ایٹمی توانائی کی پیداوار بڑھانے کے لیے ‘شانتی بل’ منظور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “سال 2047 تک ہم نے 100 گیگاواٹ کا ہدف رکھا ہے۔ اسی دہائی میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ کا ہدف لے کر چل رہے ہیں۔” بریڈر ری ایکٹر سے ایٹمی ایندھن میں خودکفالت کی سمت میں بڑی کامیابی ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سال 2014 سے پہلے ملک میں صرف 70 شہروں میں پائپ کے ذریعے گیس کا نظام تھا۔ بارہ سال میں ان کی حکومت نے اسے 700 شہروں تک پہنچا دیا ہے۔ یہ ہوتی ہے رفتار، یہ ہوتا ہے توسع۔ آج پونے دو کروڑ گھروں میں پائپ سے گیس کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ سال 2014 میں شمسی توانائی کی صلاحیت صرف دو گیگاواٹ تھی۔ آج 160 گیگاواٹ کا ہدف حاصل ہو چکا ہے۔ اس کا فائدہ غریبوں اور متوسط طبقے کو دینے کے لیے پی ایم سوریہ گھر یوجنا شروع کی گئی ہے، جس میں 50 لاکھ گھروں کا ہندسہ پار ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ سے ہزاروں گھروں کا بجلی کا بل صفر ہو گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں وہ اضافی بجلی بیچ کر کمائی بھی کر رہے ہیں۔ اس کام کے لیے ہر خاندان کو حکومت 80 ہزار روپے کی امداد دے رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کی برقی کاری کا کام 1925 میں شروع ہوا تھا۔ اگلے 90 سال میں صرف 30 فیصد ریل کی برقی کاری ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ “ہماری رفتار دیکھیے، ہم نے ایک دہائی کے اندر 100 فیصد کام مکمل کر دیا۔ یہ ہوتا ہے کام۔ اس کی وجہ سے ڈیژل جو ہمیں باہر سے لانا پڑتا ہے، اس کی بچت ہوئی، ماحولیات کو فائدہ ہوا۔” انہوں نے کہا کہ حکومت یہی نہیں رکی۔ ملک نے ہائیڈروجن سے چلنے والی پہلی ٹرین شروع کر دی ہے۔ یہ سب سے لمبی، سب سے طاقتور ٹرین ہے۔ ہندوستان نے ہائیڈروجن ٹرین کے شعبے میں بھی اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
