تازہ ترین
مسئلہ کشمیر کا آؤٹ آف بکس حل تمام فریقین کے ساتھ مل بیٹھ کر تلاش کیا جاسکتا ہے: میر واعظ
حریت کانفرنس (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے بی بی سی (ہندی) کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران نئی دہلی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں جس کسی بھی ہندنواز سیاستی جماعت کی حکومت قائم ہو بہر حال راج نئی دہلی ہی کرتی ہے۔ انہوں نے گورنر ستیہ پال ملک کی طرف سے ریاستی اسمبلی کو تحلیل کئے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو اس بات سے کوئی بھی غرض نہیں ہے کہ حکومت نیشنل کانفرنس کی ہو یا پی ڈی پی کی کیوں کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے اور گورنر نے تو بذات خود اس بات کا اعتراف کیا کہ یہاں صرف نئی دہلی کا سکہ چلتا ہے۔ ریاست میں امن و امان کی بحالی میں رول ادا کرنے پر میر واعظ نے بتایا کہ اگر ہم نے اٹل بہاری واجپائی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ بات کی تو ہمیں مودی سرکار کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کون سی ہچکچاہٹ ہوسکتی ہے۔ میر واعظ نے بتایا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ نئی دہلی میں براجمان مودی سرکار اصل میں حقیقت کو ماننے سے کترارہی ہے۔ وہ مسئلہ کشمیر کو حل طلب مانے سے انکار کررہے ہیں لہٰذا اس صورتحال میں مودی سرکار کے ساتھ بات چیت ناممکن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کی قیادت والی سرکار بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔ ہمارا اصولی مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کے تین فریق ہے، ہندوستان ، پاکستان اور کشمیر ی عوام جو آر پار بٹے ہوئے ہیں اور جب تک نہ تینوں فریقین مل بیٹھ کر کوئی ایسا حل تلاش کریں گے جو لوگوں کی خواہشات کا آئنہ دار ہو ۔ میر واعظ نے بتایا کہ بی جے پی نے کبھی بھی نیک نیتی سے مذاکرات کی دعوت نہیں دی بلکہ انہوں نے فی الوقت ریاست جموں وکشمیر میں جبروزیادتیوں پرمبنی پالیسی کو جاری رکھا ہوا ہے اور انہیں لگتا ہے کہ وہ اپنی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے کشمیری عوام کی جدوجہد کو دبانے میں کامیاب ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کے طریق کار نے نوجوانوں کو سیاسی طور پر مایوس کیا ہو اہے اور وہ بیگانگی کی مزید گہرائیوں میں چلے گئے ہیں ۔ میر واعظ نے بتایا کہ وادی میں 1990میں جب کہی کریک ڈاؤن کیا جاتا تھا یا کہی گولیاں چلتی تھی تو لوگ اپنی جانوں کو بچانے کی خاطر علاقوں سے بھاگ جاتے تھے لیکن اب صورتحال مختلف ہے ، آج نوجوان اور عام لوگ انکاؤنٹر والے مقامات کی طرف دوڑکر اپنے بھائیوں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں جوکھم میں ڈالتے ہیں۔ حکومت ہند کشمیریوں پر آج تک یہ الزامات عائد کرتا تھا کہ یہاں جاری عوامی تحریک کی پاکستان درپردہ حمایت کرتا ہے لیکن آج جو صورتحال ہمارے سامنے ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں بلکہ کشمیر یوں کی تحریک آزادی کا کوئی بیرونی معاون نہیں ہے بلکہ یہ سب کشمیریوں کی اپنی شروع کی ہوئی تحریک ہے۔وادی میں جاری قتل و غارت کے سلسلے پر بولتے ہوئے میر واعظ نے بتایا کہ سیکورٹی ایجنسیوں نے جو اعداد و شمار جاری کئے ہیں اُس کے مطابق رواں سال کے جنوری مہینے سے اب تک فورسز نے 400کشمیریوں کو جاں بحق کردیا جن میں 160عسکریت پسند شامل ہیں اور جن میں 155مقامی نوجوان شامل ہیں۔ حریت کانفرنس کے غیر متعلق ہونے پر ایک سوال کے جواب میں حریت (ع) چیرمین نے بتایا کہ آج کے دور میں اگر چہ اس طرح کا شوشہ پھیلانے کی بے حد کوشش کی جارہی ہے تاہم اصل حقیقت تب واضح ہوجاتی ہے جب آپ کی نظریں زمینی حقائق پر ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ آج کی تاریخ میں حریت کانفرنس کی قیادت اور کارکنان کو اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ میر واعظ نے بتایا کہ ہمیں نہ ہی اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت ہیں، نہ ہمیں میڈیا کانفرنس بلانے اور نہ ہی کسی مذہبی پروگرام میں شامل ہونے دیا جارہا ہے لہٰذا ایسے میں حریت پر بلاوجہ الزامات عائد کرنا کہ ہم غیر متعلق ہوچکے ہیں ، صحیح نہیں ہوگا۔
انہوں نے بتایا نئی دہلی آپ کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے لہٰذا تالی ایک ہاتھ سے بج نہیں سکتی۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق حریت (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے بتایا کہ حریت کانفرنس 1993میں وجود میں لائی گئی تاکہ مسئلہ کشمیر کا حل سیاسی طور اور پرامن ذرائع سے نکالا جائے لیکن نئی دہلی نے ہمیشہ ظلم و جبر اور فوجی قوت کے ذریعے کشمیریوں کو دبانے کی کوششیں کیں لہٰذا ہم سمجھتے ہیں نئی دہلی ان جابرانہ پالیسیوں سے ہم ناکام ہوگئے۔ نئی دہلی نے آج کشمیری نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کیا ہوا ہے ، انہیں ہتھیار اُٹھانے پرمجبور کیا جارہا ہے جو کہ کشمیری قوم کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ نئی دہلی پر منحصر ہے کہ وہ ریاست جموں وکشمیر میں حالات کو پٹری پر لانے کا موقعہ فراہم کریں۔نئی دہلی کو چاہیے کہ یہاں فوجی قوت کے ذریعے کشمیریوں کو دبانے کا سلسلہ بند کرے۔ آئے روز نوجوانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، انہیں بدنام زمانہ قوانین کے تحت جیلوں میں ٹھونسا جارہا ہے اوراب آئے روز نوجوانوں کو جاں بحق کیا جارہا ہے۔ لہٰذا اس طرح کی غیر یقینی صورتحال میں امن کا قیام کیسے ممکن ہوگا؟ انہوں نے بتایا کہ جب تک نہ حکومت ہند کشمیر میں فوجی بربریت پر باندباندھے گی اور یہاں کے نوجوانوں پر ظلم و جبر کا سلسلہ روک دے گی تب تک امن کی باتیں کرنا زمینی حقائق کو جھٹلانے کے مترادف ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی نے کشمیریوں کو سزا دینے کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ فی الوقت نہ ہی قیادت کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت دی جارہی ہے اور ہمارے کارکنان کو بے بنیاد کیسوں میں ملوث دکھا کر بیرون ریاست کی جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ عوام پر بھی مصائب کا پہاڑ توڑ ا جارہا ہے ، آئے روز آبادیوں کا محاصرہ کرکے نوجوانوں پر بلاجواز تشدد روارکھا جارہا ہے۔
ریاست میں جاری پتھر بازی کی درپردہ معاونت پر بات کرتے ہوئے حریت (ع) چیرمین نے بتایا کہ یہ صرف اورصرف نئی دہلی کا پروپگنڈہ ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی نے متعدد بار آج تک سنگ باری کو ختم کرانے کے دعوے کئے ہیں لیکن آج جو پتھر بازی ہورہی ہے وہ کیسے دوبارہ شروع ہوگئی۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے حالات نئی دہلی کے سامنے عیاں ہے ، وہاں نہ حریت کانفرنس نوجوانوں کو سنگ بازی کے لیے روپے فراہم کررہے ہیں اور نہ ہی پاکستان یہاں آکرنوجوانوں کو پتھر بازی کے لیے پیسے فراہم کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ کوئی بھی نوجوان اپنی آنکھیں یا جان 100یا 500روپے کے عوض جوکھم میں نہیں ڈال سکتا۔انہوں نے بتایا کہ کشمیری عوام کے اندر ایک جذبہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کیا جائے لیکن نئی دہلی کشمیریوں کے جذبے کی قدر کرنے میں بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے۔انہوں نے بتایا بدقسمتی سے جب ریاست میں حالات کشیدہ ہوجاتے ہیں تو نئی دہلی کو بات چیت کی یاد آجاتی ہے اور جب یہاں حالات پرامن ہوتے ہیں تو بھارت مسئلہ کو اپنے ذہن سے نکال لیتا ہے۔ کشمیرنیو زسروس کے مطابق میر واعظ نے بتایا کہ بندوق مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے لیکن یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ریاست میں بھارت کے لاکھوں بندوقیں راج کررہی ہے لہٰذابھارت کو اس حوالے سے کوئی ٹھوس قدم اُٹھانا چاہیے اور ہمیں اُمید ہے کہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ میر واعظ نے بتایا کہ پاکستان نے بار ہا مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پیش کش کی لیکن بھارت نے ہمیشہ ضد اور ہٹ دھرمی کی راہ اختیار کرتے ہوئے زمینی حالات سے نظریں چرائی ہیں۔میرواعظ نے بتایا کہ نئی دہلی نے گزشتہ دس برسوں سے حریت کانفرنس کی تمام سرگرمیوں پر قدغن عائد کی ہوئی ہے، ہمیں میڈیا کے ساتھ بات کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ ہم حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہماری سیاسی زمین کو تنگ کرنے سے پرہیز کیا جائے اور ہمیں سیاسی اسپیس دے کر عوام کے پاس جانے کا موقعہ دیا جائے۔ ہمیں پرامن طریقے سے عوام کے درمیان اپنی بات رکھنے کا موقعہ دیا جائے۔
ایک سوال کے جواب میں میر واعظ نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر اور انتخابات الگ الگ معاملے ہیں اور دونوں کو خلط ملط نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے بتایا کہ یہاں پر درجنوں مرتبہ اسمبلی کے لیے انتخابا ت ہوئے ، یہاں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے الیکشن میں حصہ لیا ، لیکن مسئلہ کشمیر وہیں پر ہے جہاں پہلے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ این سی اور پی ڈی پی والے جنہوں نے متعدد بار یہاں انتخابات میں حصہ لیا ، آج نئی دہلی انہیں پاکستانی ایجنٹ قرار دے رہی ہے۔ میرواعظ نے بتایا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقعہ دیا جائے اور یہاں ریفرنڈم کرایا جائے ، اس کے بعد ہی الیکشن کوئی معنی رکھتے ہیں۔ انہوں نے صاف کردیا کہ انتخابات ریفرنڈم کا متبادل نہیں ہوسکتے کیوں کہ آج تک ہندوستان نے یہاں 10مرتبہ الیکشن کروائے لیکن مسئلہ کشمیر ہنوز حل طلب ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے عین مطابق تلاش کیا جائے یا پھر تینوں فریق مل بیٹھ کر اس کا ایک ایسا حل تلاش کریں جو کشمیریوں کے لیے قابل قبول ہو۔انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے دوران اگر لوگوں نے کسی موقعے پر شرکت بھی کی ، ووٹ بھی ڈالے لیکن وہ صرف بنیادی ضروریات کے حصول کی خاطر تھا تاہم درجنوں الیکشن کرانے کے بعد بھی مسئلہ کشمیر کی پوزیشن جوں کی توں ہے۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
