جموں و کشمیر
ڈاکٹروں کی کمی وراثت میں ملی، راتوں رات ٹھیک نہیں ہو سکتی: وزیرتعلیم وصحت سکینہ ایتو
کشمیر وادی میںموسمیاتی پیش گوئی اور والدین کے تاثرات وخدشات کے پیش نظر
اسکولی اوقات کی تبدیلی میںنظر ثانی کا امکان
سری نگر:جے کے این ایس : یہ کہتے ہوئے کہ یہ جموں و کشمیر ہے، امریکہ نہیں، ہمیں اپنی آب و ہوا کے مطابق کام کرنا چاہیے،وزیر تعلیم ، صحت اور طبی تعلیم اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے بدھ کے روز کہا کہ موسم گرما کی تعطیلات کے بعد اسکول کے اوقات میں تبدیلی کے فیصلے پر موسم کی پیش گوئی اور والدین کے تاثرات کے پیش نظر نظر ثانی کئے جانے کا امکان ہے۔اس دوران انہوں نے کہاکہ دُور دراز علاقوں میں ڈاکٹروں کی کمی وراثت میں ملی، راتوں رات ٹھیک نہیں ہو سکتی ہے۔جے کے این ایس کے مطابق جموں وکشمیرکی وزیربرائے تعلیم، صحت اور طبی تعلیم اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے بدھ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر میں تمام فیصلے خطے کی منفرد آب و ہوا اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کئے جا رہے ہیں۔بارہمولہ میں میڈیا نمائندوںسے بات کرتے ہوئے سکینہ ایتو نے کہا کہ اسکول کے اوقات کو صبح سویرے منتقل کرنے کا حالیہ فیصلہ وادی میں غیر معمولی گرمی کی لہر کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد طلباءکی تعلیم میں خلل کو روکنا ہے۔وزیر تعلیم کاکہناتھاکہ اتنی شدید گرمی تھی، شاید اس طرح کا درجہ حرارت کشمیر میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ آخرکار بارشیں آ گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسکول کے اوقات میں تبدیلی ضروری تھی کیونکہ امتحانات اب اکتوبر،نومبر میں ہونے والے ہیں، اور ہم پہلے ہی جولائی میں ہیں۔تاہم سکینہ ایتونے تسلیم کیا کہ بہت سے والدین اور اسٹیک ہولڈرز نے اسکول کے نئے شیڈول پر دوبارہ غور کرنے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے متعلقہ افسران سے پہلے ہی بات کر لی ہے، اور انشاءاللہ ہم مل کر بیٹھیں گے۔ جو کچھ بھی طلباءاور عملے کےلئے سب سے زیادہ آسان اور فائدہ مند ہو گا ،وہ کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ صبح سویرے کا شیڈول خالصتاً طلبہ کو گرمی سے متعلق تکلیف سے بچانے کےلئے نافذ کیا گیا تھا جبکہ اس بات کو یقینی بنایا گیا تھا کہ ان کا تعلیمی کیلنڈر متاثر نہ ہو۔
سکینہ ایتوکاکہناتھاکہ ہمارا ارادہ اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ ان کی تعلیم کو نقصان نہ پہنچے۔ چونکہ تعلیمی سیشن پہلے ہی تبدیل ہو چکا ہے، اس لئے ہم مزید خلل کو کم کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ موسم میں بہتری اور عوامی آراءکے پیش نظر حکومت اسکول کے اوقات پر نظر ثانی کے لئے تیار ہے۔وزیرتعلیم نے کہاکہ ہم اس بات کو یقینی بنانے کےلئے ہر ممکن کوشش کریں گے کہ طلبہ کی پڑھائی بغیر کسی رکاوٹ اور آرام کے ساتھ جاری رہے۔صحت کی دیکھ بھال کے معاملے پر، وزیر صحت وطبی تعلیم سکینہ ایتو نے کہا کہ نظام کو کئی سالوں سے نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ آپ آٹھ مہینوں میں ٹھیک نہیں کر سکتے جو10 سالوں میں نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے علاقے ہیں جہاں 6 سال سے کوئی ڈاکٹر تعینات نہیں تھا، اور بنیادی ڈھانچہ غائب تھا۔وزیر سکینہ ایتو نے بدھ کے روز کہا کہ دُور دراز علاقوں میں ڈاکٹروں کی کمی میراثی مسئلہ ہے، حالیہ ناکامی نہیں، جسے راتوں رات ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سکینہ ایتو، نے کہا کہ ڈاکٹروں کی کمی ایک ایسی چیز ہے جو ورثے میں ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ایک سال میں معاملات ٹھیک ہونے کی توقع نہیں کر سکتے جب چھ سالوں سے نہ ڈاکٹر تھے، نہ طبی عملہ اور نہ ہی مناسب انفراسٹرکچر۔ ان مسائل کو حل ہونے میں وقت لگتا ہے۔وزیر صحت وطبی تعلیم سکینہ ایتو نے کہا کہ عمر عبداللہ کی قیادت میں موجودہ انتظامیہ نے بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، خاص طور پر صحت کے شعبے میں انسانی وسائل کو مضبوط بنا کر۔
انہوںنے کہاکہ ہم نے ڈگری ہولڈرز کو دور دراز اور غیر محفوظ علاقوں میں خدمات انجام دینے کے لیے 309 تقرری کے احکامات جاری کیے ہیں۔ حال ہی میں، صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی کے خلا کو مزید پر کرنے کے لئے مزید 111 تقرریاں کی گئیں۔ماہر کی بھرتی پر وزیرصحت نے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سروسز سلیکشن بورڈ کے ذریعے کنسلٹنٹ کی سطح پر تقرریوں میں بھی پیشرفت ہوئی ہے اور انہیں مو ¿ثر طریقے سے تعینات کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے اعتراف کیا کہ بنیادی ڈھانچے میں اپ گریڈ کے باوجود، نئی پوسٹ کی تخلیق اور ضروری سہولیات جیسے آلات، طبی معاونین، اور معاون عملہ پیچھے رہ گیا ہے۔ وزیرصحت کاکہناتھاکہ عمارتیں تیزی سے تعمیر کی گئیں، لیکن ان میں بنیادی طبی آلات اور افرادی قوت کی کمی ہے۔ ہمیں اب ان کوششوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے نظامی بہتری کے لیے مل کر کام کرنے کی اپیل کی۔ سکینہ ایتو نے کہاکہ ہمیں صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی کو مضبوط بنانے کےلئے میڈیا، عوام اور تمام محکموں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ انتظامیہ دیرپا تبدیلی لانے کے لیے پرعزم ہے۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
