دنیا
یوکرین روس کو اپنے بعض علاقے دینے کے لیے تیار رہے: ٹرمپ
واشنگٹن، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک صارف کے پیغام کو دوبارہ پوسٹ کیا جس میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کو اپنے علاقوں کا کچھ حصہ روس کے حوالے کرنے کے لئے تیار ہونا چاہئے “یوکرین کو روس کے ہاتھوں کچھ علاقہ کھونے کے لئے تیار ہونا چاہئے بصورت دیگر، جنگ جتنی دیر تک جاری رہے گی وہ مزید علاقے کھوتے رہیں گے قبل ازیں، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ روس اور یوکرین دونوں کو امن معاہدے کے لیے ‘مراعات’ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ دو متحارب دھڑوں کے درمیان اس وقت تک امن معاہدہ نہیں کر سکتے جب تک کہ دونوں فریق کچھ ترک کرنے پر راضی نہ ہوں بصورت دیگر، اگر ایک فریق کو وہ سب کچھ مل جاتا ہے جو وہ چاہتا ہے تو یہ امن معاہدہ نہیں ہے، اس کا نام ہتھیار ڈالنا ہے۔
انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان جمعے کے روز الاسکا کے شہر اینکورج میں ہونے والی ملاقات کے باقی ماندہ اہم معاملات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ان معاملات میں علاقائی حدود کا تعین اور طویل مدتی سلامتی کی ضمانتوں کے بارے میں سوالات اور یوکرین کے ممکنہ فوجی اتحاد جیسے عناصر شامل تھے ۔
روبیو نے مزید کہا کہ علاقائی فیصلے بالآخر یوکرین کے ہیں۔
ٹرمپ اور پوتن نے الاسکا میں تین گھنٹے تک بند کمرے میں ملاقات کی جس میں پوٹن نے کہا کہ وہ ایک “مفاہمت” پر پہنچ گئے ہیں۔
سربراہی اجلاس کے بعد ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ اہم نکات پر اتفاق کیا گیا ہے اور صرف معمولی چیزیں باقی ہیں۔
سینئر یورپی رہنماؤں اور نیٹو کے سربراہ کا ایک گروپ یوکرین کے معاملے پر مذاکرات میں شرکت کے لیے پیر کو واشنگٹن کا دورہ کرے گا۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی، جرمن چانسلر فریڈرک مرز، فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب، یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
اتوار کے روز ایک علیحدہ ٹروتھ سوشل پوسٹ میں ٹرمپ نے میڈیا کی ان خبروں کی مذمت کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پوٹن کو امریکہ میں ایک اہم سربراہی اجلاس کی اجازت دے کر انہیں ‘بڑی شکست’ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
انڈونیشیا کے فلوریس میں ایک اور شدید زلزلے کے جھٹکے، دو روز قبل آنے والے آفٹر شاکس میں 53 افراد ہلاک
جکارتہ، انڈونیشیا کے فلوریس علاقے میں پیر کی صبح 5.9 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
جرمن ریسرچ سینٹر فار جیو سائنسز (جی ایف زیڈ) کے مطابق، آج کے زلزلے کا مرکز ابتدائی طور پر 8.57 ڈگری جنوبی عرض البلد اور 121.55 ڈگری مشرقی طول البلد پر تھا، جو سطح زمین سے تقریباً 10 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ زلزلے سے جانی یا مالی نقصان کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔
دو دن پہلے ہفتے کے روز 7.7 شدت کا ایک طاقتور زلزلہ آیا تھا جس میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو گئے تھے۔ طاقتور زلزلے نے فلوریس میں چھ ریجنسیوں کو متاثر کیا، لینڈ سلائیڈنگ، انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا اور مواصلات میں خلل پڑا۔
انڈونیشیا کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق گزشتہ زلزلے میں کم از کم 53 افراد ہلاک ہوئے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ریسکیو ٹیموں کو سب سے زیادہ متاثرہنگیکو ریجینسی تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ نے کئی علاقوں میں سڑکیں بند کر دی ہیں اور مواصلاتی رابطہ منقطع کر دیا ہے، جس سے بچاؤ اور امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ 15 اگست کو فلورس میں 230 سے زیادہ جھٹکے ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے سب سے زیادہ طاقتور جھٹکے 6.2 کی شدت کے تھے۔ ادھر فلورس سے ہزاروں کلومیٹر دور سماٹرا میں بھی 6.9 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
انڈونیشیا نے سنیچر کے زلزلے کے بعد 14 دن کے ہنگامی ردعمل کا اعلان کیا ہے۔ تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں اتوار کو بھی جاری رہیں، حکام زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور نقصان کا اندازہ لگا رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فلورس کے کچھ حصوں میں ایندھن اور ایل پی جی کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے۔ تقریباً 6000 لوگ مختلف علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جن میں سیکا، مانگرائی، نگیکیو، بیما اور سیلیار شامل ہیں۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق گزشتہ زلزلے میں کم از کم 914 مکانات، 93 تعلیمی ادارے، 36 صحت مراکز اور 38 سرکاری دفاتر کو نقصان پہنچا۔ حکام نے مزید زلزلے کے لیے چوکسی بڑھا دی ہے کیونکہ متاثرہ علاقوں میں راحت اور بچاؤ کا کام جاری ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
پوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
ویٹی کن سٹی، پوپ لیو چہاردہم نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف جاری اسرائیلی ظلم و تشدد کے خاتمے کی اپیل کی ہے۔
ویٹیکن کے سرکاری نشریاتی ادارے ویٹیکن نیوز کی ویب سائٹ کے مطابق ویٹیکن سٹی کے سربراہ پوپ لیو چہاردہم نے اتوار کی دعا کے بعد کئے گئے خطاب میں مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں پر جاری اسرائیلی تشدّد پر بات کی اور بار بار ہونے والے پُرتشدد واقعات کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے بھی دو ریاستی حل اور پائیدار امن کے حصول کی جانب پیش رفت کے دوام کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ نے 12 اگست کو جاری کردہ بیان میں مغربی کنارے میں فلسطینی اراضی پر قبضہ کرنے والے اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کے غیر معمولی سطح تک پہنچنے کی طرف توجہ مبذول کروائی تھی۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق 2026ء کے آغاز سے اب تک تقریباً 260 فلسطینی آبادیوں کو نشانہ بنا کر کئے گئے 1,430 سے زائد حملے ریکارڈ کئے جا چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے یہ بھی کہا ہے کہ تباہی اور جبری بے دخلی کے نتیجے میں تقریباً 3,800 فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں جن میں تقریباً نصف تعداد بچوں کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر5 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا1 week agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 week agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا7 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
ہندوستان4 days agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
