جموں و کشمیر
شدید بارشوں کے بعدمٹی کاتودہ گرآنے، بادل پھٹنے اورسیلاب کے واقعات
ریاسی اور رام اضلاع کے2 دُورافتادہ گاﺅں میں دوران شب موسمی قہر بپا
11قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع، ایک خاتون لاپتہ
مہلوکین میں میاں بیوی ،اُنکے 5معصوم بچے ،2 بھائی اورمہمان بھی شامل
سری نگر: جے کے این ایس : جموں وکشمیرمیں موسم کی قہرسامانیاں جاری ہیں ۔چسوتی کشتواڑ اورکٹرہ میں ویشنو دیوی مندر کے راستے پر بالترتیب بادل پھٹنے،سیلابی ریلے آنے اورمٹی کے تودے گرآنے کے نتیجے میں 102افراد کے جاں بحق ہونے کے بعد ریاسی اور رام بن اضلاع میں مٹی کاتودہ گرآنے اور بادل پھٹنے کے واقعات میں 5معصوم بچوں ،میاں بیوی اور2سگے بھائیوں سمیت 11افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے جبکہ ایک شخص لاپتہ ہے ۔
اس دوران رام بن کے سمبر علاقے میں سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی اور متعدد مکانات اور دکانات کو بھاری نقصان پہنچا ۔جے کے این ایس کے مطابق جموں و کشمیر کے ریاسی ضلع کے ایک دُور افتادہ گاو ¿ں میں سنیچر کی صبح مٹی کا تودہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے 7 افراد ہلاک ہو گئے،جن میں ایک خاتون اور5کمسن بچے بھی شامل ہیں۔حکام نے بتایا کہ مہور کے بدر گاو ¿ں میں شدید بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور تمام سات لاشیں نکال لی گئی ہیں۔مرنے والوں کی شناخت38سالہ نذیر احمد ، ان کی بیوی35سالہ وزیرہ بیگم اور ان کے بیٹے13سالہ بلال احمد ، 11سالہ محمد مصطفی، 8سالہ محمد عادل، 6سالہ محمد مبارک اور 5سالہ محمد وسیم کے طور پر کی گئی ہے۔حکام نے بتایا کہ نذیراحمد اور اس کے افراد خانہ سو رہے تھے ،جب پہاڑی ڈھلوان پر واقع ان کا مکان مٹی کے تودے کی زد میں آ گیا جس سے وہ زندہ دب گئے۔مقامی لوگوں نے ملبے کو تلاش کیا اور بعد میں پولیس بھی ان کے ساتھ مل گئی لیکن صرف لاشیں نکالنے میں کامیاب ہو سکے۔
رات بھر جموں و کشمیر کے وسیع حصوں میں درمیانی سے بھاری بارش ہوئی۔اس دوران جموں و کشمیر کے رام بن ضلع کے ایک گاو ¿ں میں بادل پھٹنے سے 4افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ایک اور لاپتہ شخص کی تلاش جاری ہے۔حکام نے ہفتہ کو بتایاکہ رام بن ضلع کے ایک دور افتادہ گاو ¿ں میں بادل پھٹنے سے دو بھائیوں سمیت چار افراد کی موت ہو گئی، جس سے2 مکانات اور ایک اسکول کو نقصان پہنچا،۔انہوں نے بتایا کہ بادل پھٹنے سے ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً 25 کلومیٹر دور واقع پہاڑی راج گڑھ میں جمعہ کی رات بادل پھٹنے کے بعد تقریباً 11بجکر30منٹ پر سیلاب آیا۔رام بن کے ڈپٹی کمشنر محمد الیاس خان نے کہاکہ بچاو ¿ کرنے والوں کی سخت تلاش کے بعد ملبے کے نیچے سے چار لوگوں کی لاشیں نکالی گئی ہیں، جن میں مقامی رضاکاروں، پولیس اور ایس ڈی آر ایف شامل ہیں۔ایک اور لاپتہ شخص کی لاش کی تلاش جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر محمد الیاس خان، رام بن کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ارون گپتا کے ساتھ، ریسکیو اور ریلیف آپریشن کی نگرانی کےلئے صبح سویرے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔حکام نے مرنے والوں کی شناخت24سالہ اشونی شرما، اس کے بھائی 55سالہ دوارکا ناتھ، بھتیجی26سالہ ورتا دیوی اور ان کے مہمان38سالہ اوم راج کے طور پر کی ہے، جو راج گڑھ کے بنشارا کے رہنے والے ہیں۔
ایک 55سالہ خاتون بدیا دیوی کی تلاش کر رہے ہیں۔ایک مقامی اجے کمار نے کہا کہ بادل پھٹنے کا واقعہ پرائمری اسکول کے قریب پہاڑی کی چوٹی پر واقع گاو ¿ں پر ہوا اور اس نے ڈروبلا،گڈگرام گاو ¿ں کے ذریعے ایک تیز بہنے والی ندی بنا دی، جس سے اسکول کی عمارت کے علاوہ دو رہائشی مکانات اور ایک گائے کی چھت بھی بہہ گئی۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور بشیر احمد ماگرے کی قیادت میں مقامی رضاکاروں کی کوئیک ری ایکشن ٹیم کو آفت کے فوری ردعمل پر سراہا۔ضلعی انتظامیہ نے پہاڑی اور لینڈ سلائیڈنگ کے شکار علاقوں میں رہنے والے مکینوں سے اپیل کی ہے کہ وہ الرٹ رہیں اور شدید بارش کے دوران کمزور ڈھانچے میں رہنے سے گریز کریں۔
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا5 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان5 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
