تازہ ترین
بادامی باغ چلو مارچ ناکام :میرواعظ اورملک گرفتار
سیدعلی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق اورمحمدیاسین ملک پرمشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے پلوامہ میں سنیچرکی صبح فورسزگولی باری کے نتیجے میں سات عام شہریوں کی ہلاکت کیخلاف دی گئی تین روزہڑتال کال اورسوموارکوبادامی باغ کنٹونمنٹ چلوپروگرام کے پیش نظرمسلسل دوسرے روزبھی شہرخاص اورسیول لائنزکے علاقوں میں بندشیں عائدرہیں ۔مجوزہ احتجاجی مارچ اورممکنہ احتجاجی مظاہروں کوروکنے کیلئے ضلع مجسٹریٹ سری نگرکی ہدایت پردفعہ 144کے تحت سوموارکوعلی الصبح سے ہی پولیس تھانوں رام منشی باغ ،رعناواری ،خانیار،نوہٹہ،مہاراج گنج ،صفاکدل اورمائسمہ کے تحت آنے والے درجنوں علاقوں میں مکمل اورجزوی بندشیں عائدرہیں ،اوران سبھی علاقوں میں صبح سے ہی پولیس وفورسزکے دستے تعینات رکھے گئے تھے اورسیکورٹی دستوں نے بندش والے علاقوں میں جگہ جگہ خاردارتاریں اوردیگررکاؤٹیں ڈال رکھی تھیں تاکہ لوگوں کی آواجاہی پرروک لگائی جاسکے ۔بندش زدہ علاقوں کے لوگوں نے بتایاکہ اُنھیں مسلسل دوسرے روزبھی گھروں سے باہرآکرکہیں جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔
انہوں نے کہاکہ ہم مسلسل دوسرے روزبھی گھروں میں محصوررہے ۔سٹی رپورٹرنے بتایاکہ لالچوک اورسیول لائنزکے دوسرے علاقوں سے سونہ واریابٹہ وارہ جانے والی سڑک پرپولیس وفورسزکاکڑاپہرہ بٹھادیاگیاتھا،اورصبح 12بجے تک یہاں سے کسی کوپیدل یاگاڑی میں سوارہوکرجانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔سونہ وار،اندرانگراوردیگرنزدیکی علاقوں کے لوگوں نے بتایاکہ اُنھیں سوموارکوعلی الصبح ہدایت دی گئی کہ وہ گھروں سے باہرآنے کی کوشش نہ کریں ۔انہوں نے کہاکہ ان علاقوں میں کرفیونافذنہیں تھالیکن اندرون سڑکوں وگلی کوچوں پرپولیس وفورسزکے دستے جگہ جگہ تعینات کئے گئے تھے ،اسلئے لوگ گھروں میں رہے ۔اس دوران سیول لائنزمیں اُسوقت ٹیرگیس شلنگ اورنعرے بازی کی گونج سنائی دی جب بادامی باغ چلوپروگرام کے پیش نظرکئی دنوں سے روپوش سینئرمزاحمتی لیڈرمحمدیاسین ملک اپنے آبائی علاقہ مائسمہ سے درجنوں ساتھیوں بشمول خواتین کی قیادت کرتے ہوئے ایک جلوس لیکرنمودارہوئے۔سوموارکو صبح کے 11بجے لبریشن فرنٹ کے چیئرمین ملک یاسین بزرگوں،نو جوانوں،خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد کے ہمراہ بادامی باغ کنٹونمنٹ کی جانب روانہ ہوگئے ۔ پرامن عوامی ریلی میں شامل پرجوش خواتین تھیں جو کفن باندھے ،ہاتھوں میں ’بھارتی ظالمو ! آؤ ہم سبھی کو مادو‘ کی تحریر یں لئے اور قتل و غارت کے لامتناہی سلسلے کی سخت الفاظ میں مذمت کررہی تھیں ۔
بڈشاہ چوک کے نزدیک پہلے سے ہی پولیس وفورسزکے دستے تعینات تھے اورجب ملک یاسین کی قیادت میں برآمدکیاگیااحتجاجی جلوس نزدیک پہنچاتوپولیس وفورسزنے کارروائی عمل میں لائی ۔احتجاجی مظاہرین کومنتشرکرنے کیلئے آنسوگیس کے کئی گولے داغے گئے جبکہ اس دوران پولیس وفورسزنے محمدیاسین ملک کوکئی ساتھیوں لبریشن فرنٹ کے نائب چیئرمین مشتاق اجمل، محمد حنیف ڈار،امتیاز احمد ڈار،امتیاز احمد گنائی،شاکر احمد آہنگر،فیاض احمد ،بشارت احمد اور کئی دوسرے افرادسمیت گرفتارکرلیا۔لبریشن فرنٹ ترجمان نے کہاکہ گرفتاری کے دوران ملک یاسین زخمی ہوگئے اورپولیس اہلکاروں نے چیئرمین فرنٹ کونیم بے ہوشی کی حالت میں حراست میں لیکرساتھیوں سمیت پولیس تھانہ کوٹھی باغ منتقل کیا۔ گرفتاری سے قبل میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے محمدیاسین ملک نے کہا کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے فیصلہ کرلیا ہے کہ سبھی ایک ساتھ بادامی باغ آرمی کنٹونمنٹ جو کشمیر میں فوج کا مرکز ہے پر جاکر بھارتی آرمی اور ریاست سے کہیں کہ کشمیریوں کو روزانہ کی بنیاد پر ایک ایک کرکے قتل کرنے کے بجائے وہ ہم سبھی کو ایک ساتھ قتل کرڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی آرمی اور نوآبادیاتی ذہن والی فورسز کو کشمیریوں کے خون کی لت پڑچکی ہے اور ہم آج اپنے آپ کو پیش کرکے ان کی اس لت کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں۔یاسین ملک نے کہا کہ پلوامہ میں کیا گیا قتل عام اپنی نوعیت کا پہلا اور واحد قتل عام نہیں ہے بلکہ بھارتی فوج اور فورسز نے اس سے قبل بھی ایسے کئی خونین واقعات رقم کررکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری معصومین کا خون بہاتے بہاتے بھارتی فوج اور فورسز اب انسانی خون کے عادی بن چکے ہیں ۔ اس دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے پلوامہ ہلاکتوں کیخلاف بطور احتجاج بادامی باغ آرمی ہیڈ کواٹر سریگر چلو کال پروگرام کی پیروی میں مزاحمتی قائد میرواعظ محمد عمر فاروق نے اپنی خانہ نظر بندی توڑتے ہوئے کئی مزاحمتی لیڈروں اور کارکنان کے ہمراہ بادامی باغ کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی تو پولیس اور فورسز کی ایک بھاری جمعیت نے اُنہیں گرفتار کرکے نزدیکی پولیس تھانہ نگین میں بند کردیا۔ گرفتاری سے قبل موقعہ پر موجود میڈیا سے بات کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا سرکاری فورسز کشمیر میں لوگوں کو مارنے کی ایک میشین بن گئی ہے اور اس کیلئے انہیں باقاعدہ لائسنس حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف ایک دن میں دس کشمیریوں جن میں ایک 8 ویں جماعت کا طالب علم ، نونہال معصوم بچی کے والد بھی شامل ہیں نے کشمیریوں کے دل مجروح کردئے ہے اور پورا کشمیر ماتم کدہ بنا ہوا ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ یہ المیہ ہے کہ ایک طرف ہمارے معصوم نوجوانوں کو اندھا دھند فائرنگ سے چن چن کے قتل کیا جارہا ہے وہیں دوسری جانب ان معصوموں کو دہشت گرداور بالائی ورکر کا نام دے کر ان کے قتل کا جواز پیش کیا جارہا ہے۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کشمیر میں معصوموں کی ہلاکت کو دہشتگردی کارنگ دے کر درحقیت ہندوستان کے لوگوں کو یہ غلط تاثر دیا جارہا ہے تاکہ ان وؤٹ بنک کی سیاست کر کے آنے والے انتخابات میں فائدے حاصل کئے جاسکے۔ انہوں نے کہا تاہم دنیااصل حقیقت سے واقف ہے کہ کشمیری عوام جو تنازعہ کشمیر کا پُر امن حل چاہتے ہیں کے اومظالم اور پُر تشدد کارروائیوں میں روز مرہ کی بنیادوں پرتشویش ناک اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ میرواعظ نے کہا کشمیری عوام اپنے لخت جگروں اور نہتے شہروں کو شہید کئے جانے پر پُر ہڑتال کے ذریعے تعزیت،ہمدردی اور اپنے دکھی جذبات کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ احتجاج باقی تمام راستوں پر غدغنیں عائد ہیں۔ انہوں نے کہا قتل و غارت گری کے بعد فوج کی جانب سے یہ کہنا کہ ’’فوج عوام کے ساتھ ہے‘‘ ایک مضحکہ خیز دعویٰ ہے۔ انہوں نے کہا قیادت کشمیر میں دائمی امن و امان کی متمنی ہے تاہم قبرستان کی خاموشی ہمارے لئے ہرگز قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کشمیری عوام بھی امن و امان کی خواں ہے جس کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر اور پورے خطے کے مفاد میں ہے۔دریں اثناء پولیس نے حریت(گ)کی خواتین اکائی مسلم خواتین مرکزکی جانب سے بادامی باغ تک جلوس لیکرجانے کی کوشش کاناکام بناتے ہوئے خاتون مزاحمتی لیڈریاسمین راجہ کوپریس کالونی سری نگرمیں کئی رفقاء سمیت حراست میں لیکرپولیس تھانہ منتقل کیا۔خیال رہے مجوزہ احتجاجی مارچ کے پیش نظرپولیس نے پہلے ہی سیدعلی گیلانی ،محمداشرف صحرائی ،انجینئرہلال احمدوار،جاویداحمدمیر،محمدیوسف نقاش ،ظفراکبر بٹ ،سیدامتیازحیدر،محمدیاسین عطائی ،بشیراحمدبٹ بڈگامی اوردیگرکئی مزاحمتی لیڈروں وکارکنوں کوگھروں اورمختلف پولیس تھانوں میں بندکردیاہے ۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا7 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
