جموں و کشمیر
دہشت گردی کےخلاف جنگ اکیلے سیکورٹی فورسز کی نہیں بلکہ شہریوں کی بھی ذمہ داری:لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
آرٹیکل370 کی منسوخی کے بعدرونما ہونے والی بڑی تبدیلیاںجموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل
سوشل میڈیا پرTRF بیانیہ ایک سنگین خطرہ، دہشت گردی کا مکمل خاتمہ لازمی
سری نگر :جے کے این ایس : لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کے روز” لوگوں سے انتہا پسندی کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کےلئے متحد ہونے کی تلقین کرتے ہوئے خبردارکیاکہ سوشل میڈیا پر مزاحمتی محاذTRF کا بیانیہ امن وامان کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے ۔منوج سنہا نے کہاکہ اگست 2019 میں آرٹیکل370 کی منسوخی کے بعدرونما ہونے والی بڑی تبدیلیاں جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہیں۔انہوںنے کہاکہ جموں و کشمیر کی تاریخ میں اب پتھراو ¿، دہائیوں کے مصائب کے باوجود، نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔جے کے این ایس کے مطابق ٹیگورہال سری نگرمیںپہاڑی قبائلی برادری کی جانب سے ہفتہ کو منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ سوشل میڈیا پر مزاحمتی محاذ (TRF) جیسے گروپوں کی طرف سے دھکیلنے والے بیانیے کو اگر نظر انداز کیا گیا تو وہ ایک سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔منوج سنہا نے پہاڑی قبائلی برادری کے بھائیوں اور بہنوں کے ایک پرجوش اجتماع سے خطاب میں کہاکہ عزت مآب وزیر اعظم نریندر مودی جی کی قیادت میں جموں و کشمیر میں قبائلی برادری کی تبدیلی کے بارے میں تفصیل سے بیان کرنے کا یہ ایک شاندار موقع تھا۔انہوںنے جموں و کشمیر کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف متحد ہو جائیں اور امن و استحکام کے تحفظ کےلئے شدت پسندی کے پروپیگنڈے کا فعال طور پر مقابلہ کریں۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ ان کا براہ راست تعلق ہے اور اگر ایسی داستانیںTRF کے سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی ہیں اورہم خاموش تماشائی بنے رہے ، تو یہ سنگین خطرہ ہے ۔انہوںنے لوگوں پر زوردیاکہ وہ ایسے پروپگنڈے کا فعال طور پر مقابلہ کریں۔منوج سنہاے کہا کہ دہشت گردی کےخلاف جنگ اکیلے سیکورٹی فورسز کی نہیں بلکہ شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے 40 سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں، اور اسے نہ صرف فورسز بلکہ شہریوں کو بھی مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ لوگوں کو آگے آنا چاہیے ۔انہوںنے کہاکہ دہشت گردی کا مکمل قلع قمع کرنا ضروری ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ دہائیوں کے مصائب کے باوجود، جموں و کشمیر ایک اہم تبدیلی کا مشاہدہ کر رہا ہے، جس میں پتھر بازی ماضی کی بات بن گئی ہے اور مقامی دہشت گردوں کی بھرتی میں کمی آ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی کسی خاندان میں تقسیم ہوتی ہے تو ہمیں اپنے گھر کو ترتیب دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔منوج سنہا نے کہا کہ اگست2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد بڑی تبدیلیاں آئیں، جو جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے یہ بھی کہا کہ پہاڑی برادری کو شیڈولڈ ٹرائب (ایس ٹی) کا درجہ دینا، جنگلات کے حقوق کے قانون کو مضبوط کرنا، اور جنجاتیہ گورو دیواس شروع کرنے جیسے اقدامات سماجی اور معاشی انصاف کے تئیں حکومت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اب پہاڑی برادری کو مساوی حقوق دئیے جا رہے ہیں، اس برادری کو کوئی نہیں روک سکتا، ان کا جو حق ہے وہ اس برادری کو دیا جائے گا ۔منوج سنہا نے کہا کہ پورے ملک میں بالخصوص شمال مشرق میں دہشت گردی اور بائیں بازو کی انتہا پسندی میں نمایاں کمی آئی ہے، اور انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ نکسل ازم کا جلد خاتمہ ہو جائے گا۔انہوںنے مزید کہاکہ جموں و کشمیر نے طویل عرصے سے نقصان اٹھایا ہے، اور دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہاکہ سیکورٹی ایجنسیاں اپنا کام کر رہی ہیں، اور ہمیں بطور شہری ذمہ داری سے برتاو ¿ کرنا چاہیے اور کسی بھی غلط سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہونا چاہیے-
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
