تازہ ترین
ہتھیارلوٹنے کادوسراواقعہ رونما،MLCکی رہائش گاہ سے4-AK47غائب
خبراردو:
کانگریس کے سینئرلیڈراورممبرقانون سازکونسل مظفراحمدپرے کوشہرسری نگرکے جواہرنگرعلاقہ میں بغرض رہائش ایک سرکاری کوارٹرJ-13الاٹ کیاگیاہے ،اورمذکورہ ممبرقانون سازکونسل اپنے کنبے کیساتھ یہاں رہائش پذیرہیں ۔مظفراحمدپرے کی حفاظت کیلئے اس سرکاری کوارٹرپرپولیس محکمہ کی الگ الگ ونگوں سے وابستہ اہلکارتعینات کئے گئے ہیں ۔معلوم ہواکہ اتوارکی صبح یہ بات منکشف ہوئی کہ ایم ایل سی مظفرپرے کی سرکاری رہائش گاہ واقع جواہرنگرسری نگرمیں تعینات 4حفاظتی اہلکاروں کی سروس رائفل غائب ہیں ۔
بتایاجاتاہے کہ چاروں اہلکاروں کوAK47رائفلیں الاٹ کی گئی تھیں اورپُراسرارطورپران چاروں سروس رائفلوں کوکانگریس ایم ایل سی کی سرکاری رہائش گاہ سے پُراسرارطورپرغائب پایاگیا۔اسبات کی اطلاع جب پولیس حکام کودی گئی توپولیس اورفورسزکے دستے افسروں کی سربراہی میں یہاں پہنچے اورانہوں نے پورے علاقہ کومحاصرے میں لے لیا۔بتایاجاتاہے کہ جواہرنگرکے مذکورہ علاقہ کوسیل کرنے کے بعدسب سے پہلے پولیس وفورسزاہلکاروں نے ایم ایل سی مظفرپرے کی زیرتحویل سرکاری رہائش گاہJ13کی تلاشی لی لیکن یہاں کہیں بھی سرکاری ہتھیارنہیں پائے گئے ۔اس دوران یہاں تعینات چاروں اہلکاروں جن میں سے تین کاتعلق پولیس کی سیکورٹی ونگ اورایک کاتعلق ڈسٹرکٹ پولیس لائنزسوپورسے ہے ،سے پوچھ تاچھ کی گئی تاہم اُن سے غائب شدہ سرکاری ہتھیارکے بارے میں کوئی خاطرخواہ جانکاری نہیں مل سکی ۔
پولیس ذرائع نے بتایاکہ جواہرنگرمیں واقع سرکاری کوارٹرسے چارسروس رائفلیں غائب ہوجانے کے بعدپورے شہرسری نگرمیں سیکورٹی ایجنسیوں کوہائی الرٹ کردیاگیاتاکہ چارAK47رائفلیں اُڑانے میں ملوث افرادکے بارے میں جلدسے سراغ لگاکراُنکوگرفتارکیاجاسکے ۔ ذرائع نے بتایاکہ غائب شدہ سرکاری ہتھیاراُرانے میں ملوث افرادکے شہرسے باہرجانے کی کوشش کوناکام بنانے کیلئے فوری طورپرسری نگرکوشمالی ،وسطی اورجنوبی کشمیرسے ملانے والی شاہراہوں پرسیکورٹی دستے تعینات کئے گئے انہوں نے کہاکہ ان شاہراہوں پرکئی مقامات کے نزدیک ہنگامی سیکورٹی اورتلاشی چیک پوائنٹ قائم کئے گئے ہیں ۔ذرائع نے بتایاکہ سبھی شاہراہوں اوردیگررابطہ سڑکوں پربھی چیکنگ کاعمل تیزکردیاگیاہے اورا س مقصدکیلئے پولیس وفورسزکے درجنوں اہلکارفوری طورپرالگ الگ دستوں کی صورت میں متحرک کردئیے گئے ہیں ۔
ایس ایس پی سری نگرامتیازاسماعیل اوراائی جی پی کشمیرایس پی پانی نے جواہرنگرمیں واقع ایک سرکاری کوارٹرسے چارسروس رائفلیں غائب پائے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ اس واقعے کی بڑے پیمانے پرتحقیقات شروع کردئی گئی ہے ۔انہوں نے اس اُمیدکااظہارکیاکہ سرکاری ہتھیارکی گمشدگی کایہ معمہ جلدسلجھالیاجائیگااوراس میں ملوث افرادکی نشاندہی کرکے اُنکی گرفتاری عمل میں لائی جائیگی ۔اس دوران معلوم ہواکہ کانگریس ایم ایل سی مظفرپرے کی سرکاری رہائش گاہ پرتعینات چاروں پولیس اہلکاروں کوپوچھ تاچھ کیلئے پولیس تھانہ راجباغ منتقل کیاگیاہے جبکہ سرکاری ہتھیارکے غائب ہوجانے کے اس معاملے سے متعلق ابتدائی رپورٹ بھی پولیس تھانہ راجباغ میں درج کی گئی ہے ۔ خیال رہے یہ سری نگرشہرکے جواہرنگرعلاقہ میں واقع سرکاری کوارٹروں سے گزشتہ تین ماہ کے دوران سرکاری ہتھیارچھیننے کادوسرابڑااورسنسنی خیز واقعہ ہے کیونکہ رواں سال28ستمبرکواسی علاقہ میں واقع ایک سرکاری کوارٹرجوکہ پی ڈی پی کے سابق ایل ایل سے اعجازاحمدمیرکی زیرتحویل ہے ،سے ایک ایس پی اؤعادل بشیرشیخ نے بیک وقت 7سرکاری رائفلیں اُڑاکرسیکورٹی ایجنسیوں کوہلکابکاکردیاتھا،اوراس معاملے میں متعلقہ اہلکاروں کیساتھ ساتھ سابق ممبراسمبلی اعجازمیرسے بھی پولیس نے پوچھ تاچھ کی تھی
ہندوستان
یو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے یو جی سی – نیٹ کے سوشیلولوجی ، انگریزی اور کامرس مضامین کے امتحانات دوبارہ کرانے کے این ٹی اے کے فیصلے پر وزیر اعظم نریندر مودی سے جواب مانگا ہے۔
سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر پیر کے روز اظہارِ خیال کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ان تین مضامین کے یو جی سی – نیٹ امتحانات 22 سے 30 جون کے درمیان ہوئے تھے اور تقریباً دو ماہ بعد این ٹی اے نے تسلیم کیا ہے کہ سوالناموں میں سنگین خامیوں کے ساتھ پرانے سوالات دہرائے گئے تھے۔ اب ہزاروں طلبہ کو ستمبر میں پھر سے ان مضامین کے امتحانات دینے ہوں گے۔
انہوں نے کہا، “ہزاروں طلبہ نے برسوں تیاری کی، درخواست دی، فیس ادا کی اور دور دراز کے امتحانی مراکز تک سفر کیا۔
اب انہیں یہ سب دوبارہ کرنا ہوگا۔ این ٹی اے غلطی کرتی ہے، لیکن سزا طالب علم بھگتتے ہے۔ اب تعلیمی نظام ایک ایسا نظام بن چکا ہے جو طلبہ کا پیسہ، ان کا وقت، ذہنی صحت اور خود اعتمادی چھین لیتا ہے، لیکن بدلے میں کچھ نہیں دیتا۔ سوال یہ ہے کہ این ٹی اے یہ کیوں نہیں بتا رہی ہے کہ کیا امتحان سے پہلے سوالنامے لیک ہوئے تھے؟”
راہل نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفا پہلا قدم تھا، آخری نہیں۔ این ٹی اے کی قیادت کی جوابدہی بھی طے ہونی چاہیے۔
انہوں نے دوبارہ امتحان دینے والے طلبہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ مسئلہ نہیں ہیں، بلکہ ایسا نظام مسئلہ ہے جو امتحان بھی ٹھیک سے منعقد نہیں کرا سکتا اور پھر طلبہ کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔
اس دوران کانگریس شعبہٴ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے بھی ‘ایکس’ پر کہا کہ این ٹی اے کی غلطی کی سزا ملک کے طلبہ کیوں بھگتیں اور جن نوجوانوں کا نقصان ہوا ہے، اس کی بھرپائی کون کرے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہریانہ، پنجاب میں 17-18 اگست کو شدید بارش کی پیش گوئی، ہماچل اور جموں و کشمیر میں بہت شدید بارش کا خدشہ
پنچکولہ، ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں 17 اور 18 اگست کو الگ الگ مقامات پر شدید بارش ہونے کا امکان ہے، جبکہ ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر-لداخ میں بارش کا سلسلہ زیادہ شدید رہ سکتا ہے۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے مغربی ہمالیائی خطے کے کچھ حصوں میں بہت شدید بارش کی وارننگ جاری کی ہے۔
قومی موسم پیش گوئی مرکز کی جانب سے 17 اگست کو صبح 8.57 بجے جاری آل انڈیا موسمی خلاصہ اور پیش گوئی بلیٹن کے مطابق 18 اگست کو ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں بیشتر مقامات پر بارش ہونے کا امکان ہے۔ شمال مغربی ہندستان کے باقی حصوں میں الگ الگ سے کچھ مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ڈی نے ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں 17 اور 18 اگست کو الگ الگ مقامات پر شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔۔18 اگست کو بارش کا دائرہ بڑھنے کا امکان ہے۔ اس دن ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں بیشتر مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔ 18 اگست کی وارننگ میں بھی ان علاقوں میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
17 اگست کو ہماچل پردیش، جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد، اتراکھنڈ اور اتر پردیش کے ساتھ اروناچل پردیش، چھتیس گڑھ، مشرقی مدھیہ پردیش، گنگائی مغربی بنگال اور جھارکھنڈ میں الگ الگ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔ ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کی پیش گوئی ہے۔
آئی ایم ڈی کے مطابق مغربی ہمالیائی خطے میں پورے ہفتے بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ ہماچل پردیش، جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد اور اتراکھنڈ میں 17 سے 23 اگست کے دوران بیشتر مقامات پر بارش ہونے کا اندازہ ہے۔
19 اگست کو ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کا اندازہ ہے، جبکہ جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد میں الگ الگ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ڈی نے کہا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں ممکنہ بارش کے سبب مکمل طور پر سیراب مٹی والے علاقوں اور نشیبی علاقوں میں سطحی پانی کے بہاؤ یا پانی جمع ہونے کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔
موجودہ موسم کو کئی موسمی نظام متاثر کر رہے ہیں۔ آئی ایم ڈی کے 17 اگست صبح 5.30 بجے کے موسمی تجزیے کے مطابق شمال مغربی خلیج بنگال اور اس سے متصل مغربی بنگال-شمالی اڈیشہ کے ساحل پر ایک دن پہلے بنا واضح کم دباؤ کا علاقہ شمال مغرب کی جانب بڑھتے ہوئے ڈپریشن میں تبدیل ہو گیا ہے۔
آئی ایم ڈی کے مطابق اگلے 24 گھنٹوں کے دوران اس کے گنگائی مغربی بنگال سے گزرتے ہوئے شمال مغربی سمت میں جھارکھنڈ کی طرف بڑھنے کا قوی امکان ہے۔
یو این آئی ایم جے
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر5 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا7 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 week agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا7 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
