ہندوستان
آل انڈیا ملی کونسل کا بہار میں نتیش کمار کی 20 سالہ حکمرانی پر وائٹ پیپر جاری
نئی دہلی، بہار کے اسمبلی انتخاب کع موقع پر معروف غیر سرکاری تنظیم آل انڈیا ملی کونسل نے بہار میں نتیش کمار کی 20 سالہ حکمرانی پر’بہار میں ‘سوشاسن بابو’ گورننس کی کارکردگی’ کے عنوان سے وائٹ پیپرجاری کیا ہے جس میں ان کے دور میں ہونے والی بدعنوانی رائم،روزگار اور تعلیم کا جائزہ لیا گیا ہے آل انڈیا ملی کونسل کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق اے آئی ایم سی نے ایک جامع وائٹ پیپر 2025 میں دعوی کیا ہے کہ معاشی ترقی اور سماجی انصاف سے لے کر تعلیم، روزگار اور قانون کے نفاذ تک، ریاست گہری نظامی ناکامی کے آثار دکھاتی ہے۔
ترقی کے سرکاری دعووں کے باوجود بہار کی اقتصادی بنیاد کمزور ہے۔
● ای-شرم پر 3.16 کروڑ کارکن رجسٹرڈ ہیں، جو بے روزگاری کی نشاندہی کرتے ہیں۔● بے روزگاری کی شرح : 5.2فیصد (اپریل تا جون 2025)● لیبر فورس کی شرکت کی شرح (ایل ایف پی آر ): 48.8فیصد – ہندوستان کی سب سے کم۔ ● بہار میں صرف 3,386 فیکٹریاں ہیں، جن میں 1.17 لاکھ کارکن کام کرتے ہیں – جو کہ ہندوستان کی صنعتی افرادی قوت کا صرف 0.75 فیصد ہے۔ ● نیتی آیوگ 33.76 فیصد کے ساتھ کثیر جہتی غربت میں بہار کو سب سے زیادہ درجہ دیتا ہے۔
غربت اور مہنگائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ بہار بدستور ہندوستان کی غریب ترین ریاست ہے۔ ● دیہی غربت: 36.72فیصد، شہری : 13.55فیصد ●کم ماہانہ کھپت کے اخراجات گہری اقتصادی عدم مساوات کو ظاہر کرتے ہیں۔ ● اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں نے حقیقی آمدنی کو ختم کر دیا ہے۔
ہجرت: نہ ختم ہونے والا سلسلہ ● تقریباً 3 کروڑ بہار کے باشندے ریاست سے باہر رہتے اور کام کرتے ہیں۔ ● آؤٹ مایگریشن نقل 74 لاکھ (2024) سے بڑھ کر 75 لاکھ (2025) ہوگئی۔ ● بہار میں صنعت اور روزگار کے مواقع کی کمی نوجوانوں کو دہلی، مہاراشٹر، مغربی بنگال اور جھارکھنڈ کی طرف دھکیل رہی ہے۔
کرپشن اور گورننس خسارہ
ان کے “سوشاسن” کے دعوے کے باوجود نتیش کمار کی قیادت میں بہار نے بار بار بدعنوانی کے گھپلوں کا مشاہدہ کیا ہے – بشمول سریجن، منریگا، دھان اور بی پی ایس سی گھپلے – کمزور ادارہ جاتی جوابدہی کی عکاسی کرتے ہیں۔
پل گرتا ہے: بنیادی ڈھانچہ ٹوٹ جاتا ہے۔ 2024-2025 کے درمیان 18 پل گرے، جن میں 2024 کے وسط میں صرف 20 دنوں کے اندر 12 شامل ہیں۔ ارریہ، سیوان، مشرقی چمپارن، کشن گنج، اور نالندہ (نتیش کا آبائی ضلع) میں بڑے واقعات رونما ہوئے، جن سے عوامی کاموں میں بدعنوانی کا پردہ فاش ہوا۔
فرقہ وارانہ اور صنفی تشدد کے زمرے میں ● بہار میں 65 فرقہ وارانہ واقعات (2020-2025) ریکارڈ کیے گئے، زیادہ تر جلوسوں اور تہواروں کے دوران۔ ● خواتین کے خلاف تشدد اب بھی زیادہ ہے – 3 میں سے 1 عورت کو جسمانی یا جذباتی زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ● صرف 2023 میں گھریلو تشدد کے 28,811 واقعات رپورٹ ہوئے۔ 8. صحت عامہ کا بحران ● 45 فیصد ڈاکٹروں کی کمی: 70فیصد ماہرین: 84 فیصد پیرامیڈیکس۔ ● دل کی بیماریاں 35 فیصد سے زیادہ بالغوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ● دیہی صحت کی دیکھ بھال بدستور کم ترین سطح اور ناقص عملہ ہے۔
پبلک ایجوکیشن اور پیپر لیکس کے بارے میں وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے، ● 2022-2024 کے درمیان اسکول کے اندراج میں 9.28 لاکھ کی کمی ہوئی۔ ● 2.77 ملین طلباء نے ابتدائی سطح پر تعلیم چھوڑ دی۔ ● 4,400 سے زیادہ اسکول بند یا انضمام؛ 2.5 لاکھ اساتذہ کی اسامیاں خالی ہیں۔ ● بار بار امتحانی پیپر لیک ہونے – بی پی ایس سی، کانسٹیبل، این ای ای ٹی – نے بہار کے تعلیمی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
امن و امان کی خرابی۔
بہار کی مجموعی طور پر جرائم کی شرح 80.2فیصد (2005-2024) بڑھی جب کہ قومی سطح پر 32.5فیصد (2015-2023)۔
کبھی نظم و ضبط کی بحالی اور ‘جنگل راج’ کو ختم کرنے کے لیے سراہا جانے والے نتیش کمار کے بہار کو اب دوبارہ پیدا ہونے والی مجرمانہ سرگرمیوں اور کمزور پولیسنگ کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ ہر الیکشن شہریوں کو ان کی امنگوں کی تکمیل اور ان کے ووٹوں کے ذریعے حکومت کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے بااختیار بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے، لیکن یہ اتنا ہی ضروری ہے کہ یہ مشق آزادانہ، منصفانہ، شفاف ہو۔ بہار کے انتخابات 2025 بہت سے معاملوں میں منفرد ہے- نہ صرف اس وجہ سے کہ میدان میں ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں نے لوگوں کو زیادہ سیاسی اختیارات فراہم کیے ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ یہ انتخاب نتیش کمار کی گزشتہ 20 سال کی حکمرانی پرایک ریفرنڈم ہے۔
جیسے جیسے ریاست کی انتخابی مہم تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے بڑے اتحادوں جیسے این ڈی اے اور مہاگٹھ بندھن کو ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے اکٹھا کر رہی ہے۔
یہ رپورٹ معروضی طور پر اس بات کا تجزیہ کرتی ہے کہ نتیش کمار حکومت نے کلیدی شعبوں میں کس طرح کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے- گورننس، معیشت، بنیادی ڈھانچہ، ہجرت، بدعنوانی، غربت، مہنگائی، تعلیم، صحت عامہ، خواتین کی حفاظت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، اور سرکاری اعداد و شمار اور فیلڈ مشاہدات پر امن و امان کی تیاری تاکہ ریاست کے دو دہائیوں کے دوران ریاست کی پیش رفت کا حقیقت پر مبنی جائزہ پیش کیا جا سکے۔
2020 سے 2025 تک نتیش کمار نے تین مخلوط حکومتوں کی قیادت کی- دو نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے ) کے تحت اور ایک مہاگٹھ بندھن (ایم جی بی) کے تحت – بار بار سیاسی صف بندی کے لیے “پلٹورام” کا لقب حاصل کیا۔ 2020 کے بعد جونیئر پارٹنر ہونے کے باوجود (جے ڈی یو 43 سیٹیں، بی جے پی 74)، وہ این ڈی اے کے تحت سی ایم بنے، بعد میں 2022 میں ایم جی بی میں شفٹ ہوگئے اور جنوری 2024 میں این ڈی اے میں دوبارہ شامل ہو گئے، نویں بار وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا۔
اب کوئی مسلمان پسندیدہ نہیں ہے۔نتیش کمار کے بدلتے ہوئے اتحاد نے بہار کی 17.7 فیصد مسلم آبادی میں ان کی حمایت کو ختم کر دیا ہے۔
● جے ڈی (یو) نے 2025 میں صرف 4 مسلم امیدوار (101 میں سے) کھڑے کیے، جو 2020 میں 9 سے کم ہیں- جن میں سے کوئی بھی نہیں جیت سکا۔●اس کے برعکس آر جے ڈی اور کانگریس نے مل کر 28 مسلم امیدوار کھڑے کیے ہیں۔●60 حلقوں میں مسلم اثر و رسوخ اب بھی فیصلہ کن ہے، پھر بھی این ڈی اے کے تحت نمائندگی ریکارڈ کم ہے۔
وائٹ پیپر 2025 یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ نتیش کمار کی دو دہائیوں کی حکمرانی – جسے کبھی “سوشاسن” (اچھی حکمرانی) کے طور پر سراہا جاتا تھا – اب تقریباً ہر محاذ پر سوالیہ نشان کے نرغے میں ہے۔
معاشی ترقی اور سماجی انصاف سے لے کر تعلیم، روزگار اور قانون کے نفاذ تک، ریاست گہری نظامی ناکامی کے آثار دکھاتی ہے۔
اس وائٹ پیپر کا مقصد سیاسی نہیں بلکہ شہری ہے- بہار میں 20 سال کی حکمرانی پر باخبر ووٹنگ اور شواہد پر مبنی عکاسی کو قابل بنانا۔
رپورٹ شہریوں، سول سوسائٹی اور سیاسی رہنماؤں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ احتساب اور شمولیت کو ترجیح دیں کیونکہ بہار ایک نئے سیاسی مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
بحران میں کام آئیں پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں: وزیراعظم
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ حکومت نے پچھلے 12-10 سال میں ’ناگرک دیوو بھو‘ کے منتر کے ساتھ جو اصلاحات کیں اور جو پالیسیاں اپنائیں، اسی کا نتیجہ ہے کہ کورونا وبا اور مغربی ایشیا کے بحران کے باوجود ملک تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔
لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلے 12-10 سال میں دنیا میں کئی بحران آئے۔ کورونا نے پوری دنیا کو تشویش میں ڈال دیا۔ اس کے بعد یوکرین اور مغربی ایشیا کی جنگیں آئیں۔ ہر جگہ تناؤ کا ماحول تھا۔ ’پیش گوئی کرنے والوں‘ نے تو کہا کہ ویکسین نہیں ملے گی، کووڈ میں لوگ بچیں گے نہیں، پیٹرول ڈیژل نہیں ملے گا، گیس نہیں ملے گی۔ انہوں نے ملک کو ڈرانے کا کام کیا، اسی میں انہیں خوشی ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک نے دیکھ لیا کہ پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں رنگ لا رہی ہیں۔ ’ناگرک دیوو بھو‘ کے منتر کو لے کر جیتے ہوئے ہندوستان نے پچھلے 12-10 سال میں جو تیاریاں کی تھیں، ایک کے بعد ایک جو قدم اٹھائے تھے، …وہ سبھی چیزیں کام آ گئیں۔ آج ملک میں پیٹرول بھی ہے، ڈیژل بھی ہے، گیس بھی ہے، یوریا بھی ہے۔ ہم اپنی طاقت کے بل بوتے پر چل رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے اس بحران کا اثر ہر کسی پر ہوا ہے اور ہندوستان بھی اس سے الگ نہیں ہے۔ ایک بوری یوریا کی قیمت دنیا میں تین ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، لیکن ملک میں کسانوں پر وہ بوجھ نہ ڈال کر آج بھی انہیں صرف 300 روپے میں یوریا کی بوری دی جا رہی ہے۔ ڈی اے پی کی قیمت دنیا میں پانچ ہزار روپے ہے جو ملک کے کسانوں کو 1350 روپے میں دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وسائل کی وجہ سے ملک رکتا نہیں ہے، کئی بار اس کی وجہ سوچ ہوتی ہے۔ ملک کو آج خام تیل پر منحصر رہنا پڑ رہا ہے۔ ایسی سوچ کی وجہ سے سمندری ساحل کا ہمارا 90 فیصد حصہ ’نو گو ایریا‘ (ممنوعہ علاقہ) قرار دے دیا گیا تھا، یہ سوچ کی مفلسی تھی۔ ان کی حکومت نے اسے ’گو اہید ایریا‘ کے طور پر کھول دیا ہے۔ ہم سمندر کے اندر بھی نئے نئے ذخائر تلاش کرنے کی سمت میں کوششیں کر رہے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ گزشتہ برس حکومت کا مقصد رہا ہے کہ ہمیں اب دوسرے ملکوں پر منحصر رہ کر نہیں جینا ہے، ہمیں خودکفیل ہونا چاہیے۔ دنیا میں بہت کچھ ملتا ہے، سستا ملتا ہے، لیکن اس سے ہماری صلاحیت نہیں بنتی ہے۔ ہمیں بھی اپنی صلاحیت بڑھانی ہے۔ “میک ان انڈیا”، “ووکل فار لوکل” جیسے شعبوں میں آج ہر ہندوستانی کا دل جڑ چکا ہے۔
سیمی کنڈکٹر کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے سیمی کنڈکٹر کی باتیں ہوتی تھیں، لیکن ہم اس میں آگے نہیں بڑھ سکے۔ آج کی دنیا میں ہر الیکٹرانک، میڈیکل اور ٹرانسپورٹ کے سامان میں چپ ضروری ہے۔ ملک میں تین سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہو گئے ہیں اور وہاں سے برآمدات بھی شروع ہو چکی ہیں۔ آنے والے سات آٹھ سال میں مزید پانچ چھ سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کریٹیکل منرلز پر مبنی ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے کئی ملکوں کے ساتھ اس کے لیے معاہدے کیے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
نکسل انتہاپسندی ختم ہوئی لیکن ‘دماغی نکسلی’ ابھی ہے، پہچان تو کرنی پڑے گی: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک سے ہتھیاربند نکسل انتہاپسندی کا خاتمہ ہو چکا ہے لیکن ‘دماغی نکسلی’ اب بھی موجود ہیں اور ایسے لوگ موقع کی تلاش میں انارکی کی راہ تلاش کر رہے ہیں اس لیے ان کی پہچان کرنا اور انہیں الگ تھلگ کر کے نئی نسل کو ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کے اہم دھارے سے جوڑنا ہوگا۔
مسٹر مودی نے یوم آزادی پر لال قلعہ کی فصیل سے ہفتہ کو ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “برسوں تک ملک کی اقتدار کے راہداریوں میں ماؤ نواز سوچ کے لوگ اپنی جگہ بنا کر بیٹھے تھے۔ حکومت کی کمیٹیوں میں مشیر کے طور پر ماؤ نوازوں نے ملک کو متاثر کیا اور ان کے نظریات نے پالیسیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ جنگلوں میں ہتھیاربند نکسلیوں کے خاتمے اور اس بحران سے ملک کو نجات دلانے میں ملک کو کامیابی ملی ہے۔ اس کامیابی سے ہتھیاربند نکسلی تو چلے گئے، لیکن ‘دماغی نکسلی’ اور ‘قاتل نکسلی’ ابھی موجود ہیں۔ ایسے لوگ موقع کی تلاش میں انارکی کی راہ تلاش کر رہے ہیں اور معاشرے کو غلط راہ پر گھسیٹنے کے لیے طرح طرح کے داؤ چل رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ ملک کی خوشحالی کے لیے ان ‘نکسلی دماغ’ والے لوگوں کی پہچان کرنا ضروری ہے۔ پہچان کے بعد ان کو الگ تھلگ کرنا ہی ہوگا اور ملک کی ترقی کے لیے ملک کی نئی نسل کو ترقی یافتہ ملک کے اہم دھارے سے جوڑنا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ 21ویں صدی میں دہائیوں سے چلے آ رہے چیلنجوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔ نکسل انتہاپسندی اور ماؤ نوازی نے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل برباد کیا ہے۔ اس نکسلی سوچ نے ان نوجوانوں کو ان کی زندگی کے سب سے اچھے وقت میں ان کی ماؤں سے چھینا، انہیں برباد کیا اور ان کے ماں باپ کے خوابوں کو چکنا چور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکسل انہاپسندی نے آئین کا مذاق بنایا اور عام شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے 3500 سے زیادہ پولیس اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ 2014 میں ملک کے عوام نے ان کی حکومت کو موقع دیا تو انہوں نے ملک کو نکسل انتہاپسندی سے پاک کرنے کا عزم کیا۔ انہوں نے کہا کہ “آج مجھے خوشی ہے کہ نکسل انتہاپسندی-ماؤ نواز تشدد نے اپنی طاقت کھو دی ہے اور شاید اب وہ اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے۔ ہم اس کے مکمل خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں کبھی نکسلیوں کی گولیاں چلتی تھیں، گولیوں کی آواز سے جنگل گونجتے تھے اور سرزمین خون سے لال ہوتی تھی، آج انہی علاقوں میں ترقی، اعتماد اور اجتماعي کوششوں کا ترنگا بلند ہو کر لہرا رہا ہے۔ نکسل انتہاپسندی سے متاثرہ علاقے اب نکسل سے پاک ہو چکے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ نکسل انتہاپسندی اور ماؤ نوازی کے دہائیوں پرانے چیلنج کو 21ویں صدی میں ختم کرنا ضروری ہے اور ملک کی نئی نسل کو وکست بھارت کی تعمیر کی اہم دھارے سے جوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
آنے والے 10 سال میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کرنے کا ہدف: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ آنے والے 10 سال میں ملک میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کیے جائیں گے۔
تاریخی لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلی حکومتوں کی سوچ کی وجہ سے ملک توانائی کے لیے بیرونی ملکوں پر منحصر ہے۔ پچھلے 12 سال میں توانائی کے شعبے میں خودکفالت حاصل کرنے کے لیے ان کی حکومت نے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے ایٹمی توانائی کی پیداوار بڑھانے کے لیے ‘شانتی بل’ منظور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “سال 2047 تک ہم نے 100 گیگاواٹ کا ہدف رکھا ہے۔ اسی دہائی میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ کا ہدف لے کر چل رہے ہیں۔” بریڈر ری ایکٹر سے ایٹمی ایندھن میں خودکفالت کی سمت میں بڑی کامیابی ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سال 2014 سے پہلے ملک میں صرف 70 شہروں میں پائپ کے ذریعے گیس کا نظام تھا۔ بارہ سال میں ان کی حکومت نے اسے 700 شہروں تک پہنچا دیا ہے۔ یہ ہوتی ہے رفتار، یہ ہوتا ہے توسع۔ آج پونے دو کروڑ گھروں میں پائپ سے گیس کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ سال 2014 میں شمسی توانائی کی صلاحیت صرف دو گیگاواٹ تھی۔ آج 160 گیگاواٹ کا ہدف حاصل ہو چکا ہے۔ اس کا فائدہ غریبوں اور متوسط طبقے کو دینے کے لیے پی ایم سوریہ گھر یوجنا شروع کی گئی ہے، جس میں 50 لاکھ گھروں کا ہندسہ پار ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ سے ہزاروں گھروں کا بجلی کا بل صفر ہو گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں وہ اضافی بجلی بیچ کر کمائی بھی کر رہے ہیں۔ اس کام کے لیے ہر خاندان کو حکومت 80 ہزار روپے کی امداد دے رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کی برقی کاری کا کام 1925 میں شروع ہوا تھا۔ اگلے 90 سال میں صرف 30 فیصد ریل کی برقی کاری ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ “ہماری رفتار دیکھیے، ہم نے ایک دہائی کے اندر 100 فیصد کام مکمل کر دیا۔ یہ ہوتا ہے کام۔ اس کی وجہ سے ڈیژل جو ہمیں باہر سے لانا پڑتا ہے، اس کی بچت ہوئی، ماحولیات کو فائدہ ہوا۔” انہوں نے کہا کہ حکومت یہی نہیں رکی۔ ملک نے ہائیڈروجن سے چلنے والی پہلی ٹرین شروع کر دی ہے۔ یہ سب سے لمبی، سب سے طاقتور ٹرین ہے۔ ہندوستان نے ہائیڈروجن ٹرین کے شعبے میں بھی اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
