جموں و کشمیر
کشمیر کی ثقافتی علامت: چرار شریف کی کانگڑی جدید دور میں بھی حرارت و روایت کی ضامن
سری نگر، وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کا تاریخی اور روحانی مرکز چرار شریف جہاں ایک طرف علمدارِ کشمیر حضرت شیخ نورالدین نورانی(رح) کے آستان عالیہ کی وجہ سے عقیدت و روحانیت کا محور مانا جاتا ہے وہیں یہ علاقہ کانگڑی سازی کی صدیوں پرانی صنعت کے سبب بھی وادی کے گوشہ و کنار میں مشہور ہے۔
وادی کشمیر میں درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے گرنے کے ساتھ ہی چرار شریف کی کانگڑی گھر گھر میں نمو دار ہوجاتی ہے اور لوگوں کو ٹھٹھرتی سردیوں سے بچانے کا باعث بن جاتی ہے۔
کشمیر میں کانگڑی محض ایک گرمی دینے والا سامان نہیں بلکہ ایک ثقافتی علامت ہے۔ مٹی کے کٹورے پر بنائی گئی لکڑی کی جھالر سے مزین یہ روایتی ہیٹر صدیوں سے کشمیری طرزِ زندگی کا حصہ رہا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ جدید ہیٹنگ آلات جیسے ہیٹر، بلوور اور الیکٹرک کمبل کی موجودگی کے باوجود کانگڑی کی مانگ اور وقار میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔
چرار شریف، پلوامہ، اننت ناگ، بانڈی پورہ اور شوپیاں جیسے اضلاع میں یہ فن آج بھی زندہ ہے، مگر چرار شریف کی کانگڑی اپنی خوبصورتی، مضبوطی اور ڈیزائن کے لحاظ سے الگ شناخت رکھتی ہے۔
چرار شریف کے معروف کاریگر علی محمد، جن کے خاندان نے تین نسلوں سے کانگڑی سازی کا فن زندہ رکھا ہے، نے یو این آئی کو بتایا: ‘میری زندگی اسی پیشے میں گزری ہے۔ میرے والد اور دادا بھی یہی کام کرتے تھے۔ آج میرا بیٹا بھی اسی فن سے روزی کماتا ہے’۔
انہوں نے بتایا کہ جدید دور کی چکاچوند ترقی کے باوجود چرار شریف کی کانگڑی کی مانگ میں کمی نہیں آئی ہے۔
علی محمد کے مطابق ایک کانگڑی بنانے میں تین سے چار گھنٹے لگتے ہیں، اور یہ مکمل طور پر ہاتھ سے تیار کی جاتی ہے۔
پہلے مرحلے میں مٹی کا کٹورا بھٹّی میں پکایا جاتا ہے، پھر مقامی بید کی ٹہنیوں سے اس کے گرد جالی بنائی جاتی ہے۔ آخر میں رنگ، ڈیزائن اور روایتی نقوش اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔
علی محمد کہتے ہیں کہ اگرچہ ان کی محنت میں کمی نہیں آئی، لیکن آمدنی ضرور کم ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا:’بید کی لکڑی اور مٹی دونوں مہنگے ہو گئے ہیں، جب کہ ہم کانگڑی کی قیمت زیادہ نہیں بڑھا سکتے۔ ایک اچھی کانگڑی بنانے پر ہمیں بمشکل 70 سے 80 روپے منافع ہوتا ہے’۔
چرار شریف میں قریب قریب چالیس فیصد خاندان براہِ راست کانگڑی سازی کے کام سے وابستہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کئی تاجر خود آتے ہیں اور سینکڑوں کانگڑیاں خرید کر بازاروں میں فروخت کرتے ہیں۔ شادیوں میں دلہن کو چرار شریف کی کانگڑی تحفے میں دینا آج بھی روایت ہے۔
موصوف نے بتایا کہ روایتی کانگڑی کی قیمت 300 سے 350 روپے ہے، جبکہ تحفے یا خصوصی ڈیزائن والی کانگڑیاں 800 سے 1200 روپے میں فروخت ہوتی ہیں۔
چرار شریف میں حضرت نورالدین نورانیؒ کے عرس کے موقع پر بھی زائرین کے لیے خصوصی طور پر مقامی کانگڑیاں فروخت کی جاتی ہیں جو نہ صرف گرمی کا ذریعہ بلکہ یادگار تحفہ سمجھی جاتی ہیں۔
اس فن سے وابستہ لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر حکومت اس فن کو ہنرمندی کی فہرست میں باضابطہ طور پر شامل کرے، تو یہ صنعت عالمی سطح پر شناخت حاصل کر سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے: ‘چرار شریف کی کانگڑی محض ایک گھریلو ضرورت نہیں بلکہ کشمیری شناخت کا حصہ ہے۔ اس کو یونیسکو کے ’غیر مادی ثقافتی ورثہ کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے’۔
یو این آئی ارشید بٹ،ایم افضل
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر5 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا7 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا7 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا7 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا7 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
