تازہ ترین
حریت لیڈرشپ کیساتھ بامعنی مذاکرات شروع کئے جائیں:فاروق عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مسئلہ کشمیر کے بامعنی حل کے لیے حریت کانفرنس کے ساتھ مذاکرات کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ اگر فوجی سربراہ جنرل بپن راوت طالبان جنگجوؤں کے ساتھ افہام و تفہیم کی وکالت کرسکتے ہیں تو نئی دہلی کو بلاتاخیر حریت کانفرنس کو اعتماد میں لے کر بات چیت کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے۔انہوں نے صاف کردیا کہ کشمیر مسئلے کو کسی بھی صورت میں فوجی ذرائع، دھونس دباؤ یا طاقت سے حل نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے بات چیت ہی واحد راستہ ہے۔
نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کولکتہ میں کشمیر سے متعلق ایک مباحثے بعنوان ’جموں وکشمیر: آگے کا راستہ‘ میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے پرامن تصفیہ اور بامعنی حل کے لیے نئی دہلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ حریت کانفرنس کے ساتھ مذاکرات شروع کرے۔ ڈاکٹر فاروق نے دیرپا امن کے لیے مسئلہ کشمیر کے حل کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے بامعنی حل کے لئے کشمیری حریت رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کرے۔فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کے حالیہ بیان جس میں انہوں نے طالبان جنگجوؤں کے ساتھ مذاکرات کی وکالت کی تھی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر افغانستان میں مسائل کے حل کی خاطر فوجی سربراہ افہام و تفہیم کے راستے کی وکالت کرتے ہیں تو ایسے میں نئی دہلی کو بھی ٹھو س اور مؤثر اقدامات اُٹھاکر کشمیری حریت رہنماؤں کے ساتھ بات چیت شروع کرکے مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہیے۔’سنٹر فار پیس اینڈ پراگریس‘ کی طرف سے منعقدہ مباحثے میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ نئی دہلی کو اپنی انا ترک کرکے حریت کانفرنس کے ساتھ تاخیر کے بغیر مذاکرات شروع کرنے چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ حریت کانفرنس سے وابستہ لیڈران اور کارکنان بھارتی پاسپورٹ رکھتے ہیں اور اس طرح وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپائی نے کشمیر ی حریت رہنماؤں کے ساتھ ماضی قریب میں مذاکرات کئے۔این سی صدر ڈاکٹر فاروق نے مباحثے میں واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کو فوجی ذرائع اور طاقت سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ ’کشمیر معاملے کو کسی بھی صورت میں فوجی ذرائع یا طاقت کے ساتھ حل نہیں کیا جاسکتا اور اگر خطے میں امن کو یقینی بنایا ہے تو اس کے لیے مذاکرات کا سلسلہ انتہائی ناگزیر ہے۔انہوں نے دبے الفاظ میں ملک میں براجمان بھارتیہ جنتا پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں پراُمید ہوں کہ ملک میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے اختتام تک بات چیت کے حوالے سے کوئی مثبت قدم نہیں اُٹھایا جائے گا کیوں کہ بدقسمتی سے فی الوقت ملک کا عوام یک جٹ ہونے کے بجائے مختلف سطحوں پر بٹ چکا ہے۔’ملک میں آنے والے مہینوں میں لوک سبھا انتخابات تک مسئلہ کشمیر سے متعلق کوئی بریک تھرو ملنے کی کوئی اُمید دکھائی نہیں دیتی کیوں کہ ملک کی سیاسی جماعتوں نے لوگوں کو متحد کرنے کے بجائے انہیں منتشر کردیا ہے۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ لوک سبھا انتخابات ختم ہونے کے بعد ہی مسئلہ کشمیر پر کوئی سیاسی پہل ہوگی اور حریت کانفرنس کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع ہوگا‘۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں نئی دہلی اور کشمیری عوام کے درمیان بداعتمادی کی فضا پائی جارہی ہے اور ملک کے کونے کونے میں نفرت اور عداوت کا ماحول پیدا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اورپاکستان کے درمیان دشمنی اور عداوت کی جو دیوار کھڑی کی گئی تھی اس کی قیمت جموں و کشمیر کے عوام کو برداشت کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتیں ہیں جو دوونوں ممالک کو قریب نہیں آنے دیتے ہیں کیوں کہ اگر کشمیر میں امن و امان قائم ہوگیا تھا توان کی دوکانداری ختم ہوجائے گی۔ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کشمیر کے موجودہ حالات کیلئے مودی حکومت کو براہ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ حکومت عوامی پلیٹ فارم پر کشمیریوں کا دل جیتنے کی بات ضرورکرتی ہے مگر کشمیری عوام کو برابری کا درجہ دینے کو تیار نہیں ہے۔کشمیریوں کے ملک بھر میں بدسلوکی کے واقعات ہورہے ہیں،کشمیریوں کی حب الوطنی پر مسلسل سوالیہ نشان لگایا جاتاہے،کشمیریوں کوا پنا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹرفاروق عبد اللہ نے آرٹیکل370کو ختم کرنے کی وکالت کرنے والوں کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان اور کشمیر کے الحاق کی تاریخ اور اسباب کو نہیں جاننے والے ہی اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370اور 35اے کو ہندوستان کے آئین کا حصہ کشمیری مسلمانوں کی وجہ سے نہیں بلکہ حکومت ہند اور جموں و کشمیر کے مہاراجہ کے درمیان معاہدہ کے وقت ہی شامل کیا گیا تھا۔خیال رہے فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے گزشتہ دنوں افغانستان اور کشمیر کے حوالے سے سیاسی پہل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کا طریق کار اور پالیسی کشمیر میں عملائی نہیں جاسکتی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں مسئلہ کشمیر کے حل میں کسی تیسری فریق کی مداخلت کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مذاکرات بھارت کی طرف سے پیش کی جانے والے شرائط پر مبنی ہوں گے۔
فوجی سربراہ نے بتایا کہ جب تک نہ حریت کانفرنس تشدد کا راستہ ترک کرنے اور پاکستان کا راگ الاپنا بند نہیں کرتے تب تک بات چیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ادھر مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے سابق آرمی چیف شنکر رائے چودھری نے اپنی گفتگو میں سابق بیوروکریٹ شاہ فیصل کے استعفیٰ پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ شاہ فیصل کا بیوروکریسی سے مستعفی ہونا ہمارے لیے صدمے سے کم نہیں ہے۔ انہیں بیوروکریسی کو خیرباد نہیں کہنا چاہیے تھا تاہم انہوں نے اس بات اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں سے وادی کشمیر کی نوجوان نسل آرمی میں بھرتی ہورہے ہیں جو کہ ایک خوش آئندہ بات ہے۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
