جموں و کشمیر
کتابوں پر پابندی کے خلاف سماعت 11 فروری تک ملتوی
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے کشمیر سے متعلق 25 کتابوں کی ضبطی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت 11 فروری 2026 تک ملتوی کر دی ہے۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ مخالف فریق مناسب وقت دئے جانے کے باوجود اپنا جواب داخل نہیں کر سکا۔
دسمبر کے پہلے ہفتے میں جاری کردہ حکم میں چیف جسٹس ارون پالی ، جسٹس راج نیش اوسوال اور جسٹس شہزاد عظیم پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے نوٹ کیا کہ یونین ٹریٹری انتظامیہ تاحال اس معاملے میں اپنا جواب جمع نہیں کر سکی۔
عدالت نے کہا کہ گرچہ کارروائی ملوتی کرنے کا ‘بمشکل ہی کوئی معقول وجہ’ موجود ہے تاہم سرکاری وکیل کی یقین دہانی پر کیس 11 فروری 2026 تک ملتوی کر دیا گیا کہ اگلی سماعت سے کم از کم تین دن پہلے اعتراضات داخل کر دئے جائیں گے۔
بینچ نے واضح کیا کہ اگر اس میں بھی کوتاہی ہوئی تو مناسب احکامات جاری کئے جائیں گے۔
یہ درخواستیں محکمہ داخلہ کے 5 اگست کی نوٹیفکیشن کو چلینج کرتی ہیں جس کے تحت ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 95 کے تحت کشمیر سے متعلق 25 مطبوعات ضبط کرنے کا حکم دیا گیا تھا کہ یہ کتابیں “غلط بیانی اور علاحدگی پسندی” کو فروغ دیتی ہیں۔
یہ چلینج چار علاحدہ درخواستوں کے ذریعے دائر کیا گیا ہے جن میں صحافی ڈیوڈ دیو داس، ریٹائڑد ایئر وائس مارشل کپل کاک،وکیل شاکر شبیر اور سواستک سنگھ شامل ہیں۔
درخواست گذاروں کا موقف ہے کہ یہ نوٹیفکیشن غیر آئینی اور آزادی اظہار کی خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ 5 اگست کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں جموں وکشمیر محکمہ داخلہ نے کشمیر سے متعلق 25 کتابوں پر پابندی عائد کی تھی۔
ان کتابوں کے مصنفین میں ارون دھتی رائے اور اے جی نورانی شامل ہیں۔ دیگر کتابوں میں سیاسی تبصرے اور تاریخی بیانات شامل ہیں جن میں معروف آئینی ماہر نورانی کی کشمیر ڈسپیوٹ 1947-2012، کشمیر ایٹ دی کراس روڈ اینڈ کنٹیسٹڈ لینڈز از سمنترا بوس، ان سرچ آف اے فیوچر: دی کشمیر سٹوری از ڈیوڈ دیوداس، ارون دھتی رائے کی آزادی اور اے ڈسمنٹلڈ اسٹیٹ: دی انٹولڈ سٹوری از انورادھا بھسین خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
قبل ازیں پابندی کو چلینج کرنے والی ایک عوامی مفاد کی عرضی عدالت عظمیٰ میں دائر کی گئی تھی تاہم عدالت عظمیٰ نے درخواست گذار کو جموں و کشمیر اور لداخ ہائی سے رجوع کرنے کامشورہ دیا جس کے بعد معاملہ فل بینچ کے سامنے آگیا۔
یو این آئی۔ ایم افضل
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان5 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا5 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
