جموں و کشمیر
سال 2025 : کشمیر میں شعبہ سیاحت کے لئے انتہائی کٹھن ثابت ہوا
سری نگر، دنیا بھر کے سیاحوں کی پہلی پسند اور دنیا کے گوشہ و کنار میں اپنے بے مثال قدرتی حسن و جمال کے لئے مشہور وادی کشمیر میں سال 2025 کے دوران شعبہ سیاحت کو انتہائی کٹھن صورتحال سے دوچار ہونا پڑا۔ گرچہ سال شروع ہونے کے ساتھ ہی وادی کے سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی بے تحاشا آمد ایک ریکارڈ سیاحتی سیزن کا عندیہ دے رہی تھی لیکن ماہ اپریل کے آخری ہفتے میں پہلگام کی بیسرن وادی میں پیش آنے والے بہیمانہ واقعے سے اس شعبے کے افق پر ایسی تاریکی سایہ فگن ہوئی جس اس شعبے وابستہ لوگ مایوسی کے صحرا میں گم ہوگئے۔
جنوبی کشمیر میں واقع مشہور سیاحتی مقام پہلگام کی بیسرن وادی میں 22 اپریل کی دوپہر کو ایک دہشت گردانہ حملے میں 25 سیاحوں اور ایک مقامی باشندے کی موت واقع ہوئی جس سے جہاں ایک طرف کشمیر کے ساتھ ساتھ پورے ملک پر ماتم کا ماحول چھا گیا وہیں یہ انسانیت سوز واقعہ شعبہ سیاحت کے لئے ایک ایسا کاری ضرب تھا جس سے یہ شعبہ ابھی بھی پوری طرح سے سنبھل نہیں پا رہا ہے۔
تاہم حکومت اور اس شعبہ سے وابستہ اداروں اور افراد کی مربوط اور متواتر کاوشوں کے نتیجے میں اس شعبہ کے پژ مردہ گلستان میں بہار نو کی ہوا دوبارہ چلنے لگی ہے جس کے پیش نظر موسم سرما میں اچھے سیزن کی امیدیں جاگزیں ہوئی ہیں۔
حکام کے مطابق وادی کے سیاحتی مقامات بالخصوص گلمرگ میں سال نو کی آمد اور متوقع برف باری کے پیش نظر بڑی تعداد میں سیاح آرہے ہیں جو اس شعبے کے لئے ایک امید افزا علامت ہے۔
سرکاری اعدا و شمار کے مطابق سال 2025 میں کل 10 لاکھ 68 ہزار سیاحوں نے کشمیر کے مختلف مقامات کی سیر کی جن میں 10.47 لاکھ ملکی جبکہ 21,361 غیر ملکی سیاح شامل ہیں۔.
سال 2024 کے دوران قریب 35 لاکھ سیاح کشمیر آئے تھے جن میں 5.12 لاکھ شری امرناتھ جی یاتری شامل تھے۔
کشمیر میں سال 2025 میں ماہ بہ ماہ آنے والے سیاحوں کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سال کے ابتدائی مہینوں میں سیاحوں کے آمد کی رفتار تیز گام تھی جو پہلگام حملے کے بعد مدھم ہونے لگی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ماہ جنوری میں 1.48 لاکھ ملکی اور 3,385 غیر ملکی سیاح کشمیر آئے جبکہ ماہ فروری میں 1.43 لاکھ ملکی اور 4,116 غیر ملکی سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔
ماہ مارچ میں 1.74 لاکھ ملکی اور 2,006 غیر ملکی سیاح جبکہ ماہ اپریل میں تقریباً 1.75 لاکھ ملکی اور 4,145 غیر ملکی سیاحوں کا اندراج ہوا۔
تاہم پہلگام کے بائسرن علاقے میں 22 اپریل کو پیش آنے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد وادی میں سیاحتی نقل و حرکت میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔
مئی وہ مہینہ تھا جس میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ ہوئی، اور صرف 18 ہزار سے زائد ملکی اور 607 غیر ملکی سیاح ہی وادی پہنچ سکے۔ جون اور جولائی میں صورتحال قدرے بہتر ہوئی، مگر بحالی کی رفتار سست رہی۔ اگست اور ستمبر میں سیاحتی آمد میں مزید اتار چڑھاؤ نظر آیا، جبکہ اکتوبر اور نومبر میں حالات نسبتاً بہتر رہے۔
اعداد و شمار کے مطابق دسمبر کے وسط تک وادی میں 22,829 ملکی اور 519 غیر ملکی سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔
اس دوران جموں خطے میں مذہبی سیاحت کا تسلسل سال بھر جاری رہا۔ ماتا ویشنو دیوی کی مقدس مندر تک اس سال 63 لاکھ سے زائد یاتریوں نے درشن کیے۔ شیو کھوری سمیت دیگر مذہبی مقامات نے بھی لاکھوں زائرین کو اپنی طرف متوجہ کیا، جس کے باعث جموں کا مجموعی سیاحتی تاثر نہ صرف برقرار رہا بلکہ کئی لحاظ سے مضبوط بھی ہوا۔ دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، دسمبر 26 تک جموں خطے میں کل 1,47,32,552 سیاحوں نے سفر کیا، جن میں 12,889 غیر ملکی بھی شامل تھے۔
جموں و کشمیرنے سال 2025 کے دوران مجموعی طور پر 1 کروڑ 58 لاکھ سے زائد سیاحوں اور یاتریوں کی میزبانی کی، تاہم یہ تعداد گزشتہ برس کے ریکارڈ 2.36 کروڑ کے مقابلے میں کچھ کم رہی۔
سیاحوں اور اس شعبہ سے وابستہ دیگر افراد کے تحفظ کے پیش نظر حکومت نے پہلگام واقعے کے فوراً بعد 29 اپریل کو وادی کے 87 میں سے 48 سیاحتی مقامات کو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بند کر دیاان میں کئی مقامات جیسے درنگ، دودھ پتھری، آرہ وادی، گلمرگ کے بالائی علاقے، یانر ریفٹنگ پوائنٹ، اکڑ پارک اور پادشاہی پارک شامل تھے، جنہیں اگلے کئی ماہ تک سیاحوں کے لیے بند رکھا گیا۔ تاہم، بڑے مراکز جیسے ڈل جھیل، گلمرگ، سونمرگ اور پہلگام ٹاؤن کو کھلا رکھا گیا۔
تاہم بعد ازاں حفاظتی جائزوں کے بعد جون سے مختلف مقامات کو مرحلہ وار کھولا گیا اور ستمبر تک 7 سے 12 مقامات کو مکمل طور پر دوبارہ سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا، تاہم بائسران جیسے مقامات ہنوز بند ہیں۔
سال 2025 کے آخری مہینے میں سیاحت کے لیے ایک بڑا موقع 17ویں ایڈونچر ٹور آپریٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا کنونشن کی میزبانی تھی، جو 17 سے 20 دسمبر تک سری نگر میں منعقد ہوا۔ اس کنونشن میں ہندوستان بھر سے ایڈونچر ٹور آپریٹرز نے شرکت کی اور کشمیر کے ایڈونچر ٹورازم کو ’انڈیا کا ایڈونچر کیپیٹل‘ قرار دیتے ہوئے نئی حکمت عملی وضع کی۔
یو این آئی ایم افضل، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر5 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا7 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا7 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا7 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا6 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
