ہندوستان
مسلم خواتین: ملک وسماج کے لیے کچھ کرگزرنے کا جذبہ کم نہیں
نئی دہلی، ہندوستان میں جب بھی ملک اور سماج کی تعمیروترقی کی بات ہوتی ہے تو سب سے بڑی اقلیت کے بارے میں تذکرہ مایوسی پر مبنی ہوتا ہے اور اگر اس کمیونٹی کی مسلم خواتین کا ذکر ہوتو بات مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے، لیکن خواتین کے تعلق سے غیر جانبدارانہ طریقہ سے جائزہ لیا جائے تو صورتحال اتنی مایوس کن نہیں، جتنی نظر آتی ہے یا جس کا شور ہے، مسلم خواتین نے گزشتہ برسوں کے دوران ہر شعبے میں اپنی نمایاں موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ ادب وثقافت، معیشت، کارپوریٹ اور سرکاری ملازمت، تحقیق و ترقی، اسپورٹس گویا کہ کوئی شعبہ ایسا نہیں، جہاں مسلم خواتین کی نمائندگی نہیں ہے ۔
اگر ادب کی بات کریں تو 2025 میں ایک کنڑ مصنفہ بانو مشتاق کو”ہارٹ لیمپ” کے لیے بین الاقوامی بکر انعام سے نوازاگیا۔ بانو مشتاق کی پیدائش 3 اپریل 1948 کرناٹک میں ہوئی۔ دیپا بھاستی نے ان کی مختصر کہانیوں کا ترجمہ کیا تھا ،جس پر انھیں یہ انعام ملا۔ انھوں نے چھ مختصر کہانی کے مجموعے، ایک ناول، ایک مضمون کا مجموعہ اور ایک شعری مجموعہ شائع کیا ہے۔ ان کی تصنیفات کا اردو، ہندی، تمل، ملیالم اور انگریزی میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
بانومشتاق کو چھوٹی عمر سے ہی لکھنے کا شوق تھا۔انھوں نے اپنے احساسات اور تجربات کو روبہ عمل لانے کے لیے تحریروں کا رخ کیا۔ ان کی زیادہ تر تحریر خواتین کے مسائل پر نظر آتی ہے۔ مجموعے کی کہانیاں ایک صحافی اور وکیل کے طور پر مشتاق کی زندگی کی عکاسی کرتی ہیں، جس میں خواتین کے حقوق اور ملک کے اس حصے میں ذات پات اور مذہبی ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت پر توجہ دی گئی ہے۔
ممتاز ادیبہ اور مترجم ارجمندآرا کے بقول “بے شک وہ کنڑ زبان میں کنڑ علاقے کی کہانیاں بیان کرتی ہیں لیکن ان کا اطلاق پورے برصغیر پر اور خصوصاً برِ صغیر کے مسلم معاشرے پر ہوتا ہے۔ یہ کہانیاں ہمیں غورو فکر پر مجبور کریں گی، قدرے حساس اور عقلمند اور نسبتاً بہتر انسان بننے پر مائل کریں گی۔”
بکر انٹرنیشنل ججوں کے سربراہ میکس پورٹر نے کہا کہ اگرچہ کہانیاں حقوق نسواں کی علم بردار ہیں اور ان میں پدرانہ نظام اور مزاحمت کے غیر معمولی بیانات ہیں، لیکن سب سے پہلے وہ ‘روزمرہ کی زندگی اور خاص طور پر خواتین کی زندگیوں کے خوبصورت بیانات ہیں۔’دی گارڈین نے تبصرہ کیا کہ ‘لہجہ خاموش سے مزاحیہ تک مختلف ہوتا ہے، لیکن نقطہ نظر میں استقلال ہے’ اور اس نے اسے ‘حیرت انگیز مجموعہ قرار دیا۔ بکر انعام کے علاوہ انھیں کرناٹک ساہتیہ اکیڈمی سمیت دیگر ایوارڈ سے بھی نوازاگیا ہے ۔
اس کے علاوہ ادیبہ انعم اشفاق احمد نے یواپی ایس سی 2024 کے امتحان میں 142 کا آل انڈیا رینک حاصل کرنے کے بعد مہاراشٹر کی پہلی مسلم خاتون آئی اے ایس (انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس) آفیسر بن کر تاریخ رقم کی۔ انھوں نے یہ کامیابی مالی مشکلات کے باوجود حاصل کی۔ مہاراشٹر کے ایوت محل ضلع کی طالبہ ادیبہ اشفاق احمد نے یونین پبلک سروس کمیشن(یوپی ایس سی ) کے نتائج میں اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔ ایک آٹو ڈرائیور کی بیٹی نے ایسا کارنامہ انجام دیا، جو ریاست میں اس سے پہلےکوئی مسلم طالبہ انجام نہیں دے سکی۔
یو پی ایس سی امتحانات کے لیے کلاسز اور سہولیات کی کمی کے باوجود ایوت محل کی اس ہونہار طالبہ نے اپنی محنت اور لگن سے مقصد کو حاصل کر لیا۔ ضلع کے بہت سے طلباء اپنے مقصد کو پورا کرنے اور امتحان کی تیاری کے لیے پونے، ممبئی اور دہلی جاتے ہیں۔
دوسری جانب جو طلباء غربت کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر ہیں، وہ آن لائن کورسز مکمل کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔
محترمہ ادیبہ نے اپنی ابتدائی تعلیم ظفر نگر ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول سے حاصل کی۔ انھوں نے یہاں پہلی سے ساتویں کلاس تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے آٹھویں سے دسویں جماعت تک کی تعلیم ضلع پریشد کے سابق گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سے حاصل کی۔
ادیبہ نے اپنی 11ویں اور 12ویں کی تعلیم ضلع پریشد سابق گورنمنٹ کالج، ایوت محل سے مکمل کی۔ اس کے بعد ادیبہ نے انعامدار سینئر کالج، پونے سے ریاضی میں بی ایس سی کیا۔
بعد ازاں، ادیبہ انعم نے پونے کی ایک اکیڈمی سے یو پی ایس سی فاؤنڈیشن کی کوچنگ لی۔ ان کو چوتھی کوشش میں کامیابی ملی۔ ادیبہ کے والد کی مالی حالت بہت خراب تھی، اس لیے انہیں اپنی بیٹی کی تعلیم کے لیے اپنا گھر فروخت کرنا پڑا۔ انھوں نے اپنی بیٹی کی تعلیم کے لیے اپنا رکشہ تک بیچ دیا۔ ادیبہ انعم کی داستان سن کر یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اگر انسان میں ہمت اور لگن ہوتو کوئی بھی چیز اسے اپنے مقصد کےحصول میں حائل نہیں ہوسکتی۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ کمپیوٹر انجینئرنگ سے حال ہی میں ایم ٹیک مکمل کرنے والی طالبہ تمکین فاطمہ کی وزارتِ دفاع، حکومتِ ہند کے تحت ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) میں بطور سائنس داں ‘بی’ تقرری عمل میں آئی ہے۔ ان کا انتخاب ایک مسابقتی عمل کے ذریعے ہوا، جس میں علمی کارکردگی، گیٹ اسکور اور انٹرویو شامل تھے۔
محترمہ تمکین فاطمہ نے 2025 میں ایم ٹیک (کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ) میں فرسٹ رینک حاصل کی۔ انہوں نے 2023 میں بی ٹیک بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے مکمل کیا تھا۔ علاوہ ازیں، انہوں نے 2024 میں اپنی پہلی ہی کوشش میں یو جی سی نیٹ (جے آر ایف) امتحان، کمپیوٹر سائنس میں آل انڈیا رینک 2 کے ساتھ پاس کیا۔
سیاست کی بات کی جائے تو اقراحسن چودھری جون، 2024 سے کیرانہ حلقے کی نمائندگی کرنے والی ہندوستان کی سب سے کم عمر مسلم رکن پارلیمنٹ (ایم پی) بن گئی ہیں۔ وہ کیرانہ کے سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے دادا چودھری اختر حسن ، والد منور حسن اور والدہ تبسم حسن، تینوں لوک سبھا سے رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں۔ جب کہ اقرا کے بھائی ناہید حسن کیرانہ سے رکن اسمبلی ہیں۔
اقرا حسن بتاتی ہیں کہ ان کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، شاید ان کے والد نے انہیں گھر سے دور تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا کیونکہ وہ انہیں گھر کے سیاسی ماحول سے دور رکھنا چاہتے تھے لیکن جب ان کے والد ایک حادثے میں انتقال کر گئے اور والدہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں تو ان سے قربت کی وجہ سےمجھے بھی سیاسی لوگوں سے ملاقات کرنے کا موقع ملا۔ اس طرح ان کے سیاسی سفر کا آغاز ہوا۔
ہندوستانی فوج کی کرنل صوفیہ قریشی اور ہندوستانی فضائیہ کی ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نمایاں شخصیات تھیں، جنہوں نے مئی، 2025 میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن سندور کے بارے میں دنیا کو بریف کیا، جو مسلح افواج میں خواتین کی قیادت کی علامت ہے۔ کرنل صوفیہ نے جہاں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیکر حکومت اور اعلی افسران کا اعتماد حاصل کیا، وہیں یہ ثابت بھی کیا کہ اگرخواتین کو موقع ملے تو مشکل ترین کام سے بھی پیچھے نہیں ہٹتیں ۔
ڈاکٹر شبنم شبیر شیخ مہاراشٹر کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والی ایک بین الاقوامی ریسلنگ کوچ ہیں۔ انھیں ہندوستان کی ایسی پہلی خاتون کے طور پر جانا جاتا ہے، جنہوں نے اسپورٹس اسٹڈیز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ انھوں نے متعدد ریاستی اور قومی تمغے جیتے ، جن میں 2010 میں ‘ویمن مہاراشٹر کیسری’ خطاب بھی شامل ہے۔ وہ دوسری لڑکیوں کو کھیلوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سرگرمی سے کام کرتی ہیں۔
فہرست یہیں ختم نہیں ہوتی، ایسی خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہے، جوکچھ کرگزرنے کا جذبہ رکھتی ہیں اور ملک وسماج کی تعمیروترقی میں تعاون کرنا چاہتی ہیں۔ ان خواتین نے اپنی ہمت،لگن اورجوش وجذبہ سے نہ صرف اپنے لیے خاص مقام حاصل کیا بلکہ ملک وملت کانام بھی روشن کیا۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ان خواتین کی زندگی ،جدوجہد اور حصولیابیاں لاتعداد مسلم لڑکیوں کے لیے باعث تحریک بنیں گی ۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
بحران میں کام آئیں پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں: وزیراعظم
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ حکومت نے پچھلے 12-10 سال میں ’ناگرک دیوو بھو‘ کے منتر کے ساتھ جو اصلاحات کیں اور جو پالیسیاں اپنائیں، اسی کا نتیجہ ہے کہ کورونا وبا اور مغربی ایشیا کے بحران کے باوجود ملک تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔
لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلے 12-10 سال میں دنیا میں کئی بحران آئے۔ کورونا نے پوری دنیا کو تشویش میں ڈال دیا۔ اس کے بعد یوکرین اور مغربی ایشیا کی جنگیں آئیں۔ ہر جگہ تناؤ کا ماحول تھا۔ ’پیش گوئی کرنے والوں‘ نے تو کہا کہ ویکسین نہیں ملے گی، کووڈ میں لوگ بچیں گے نہیں، پیٹرول ڈیژل نہیں ملے گا، گیس نہیں ملے گی۔ انہوں نے ملک کو ڈرانے کا کام کیا، اسی میں انہیں خوشی ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک نے دیکھ لیا کہ پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں رنگ لا رہی ہیں۔ ’ناگرک دیوو بھو‘ کے منتر کو لے کر جیتے ہوئے ہندوستان نے پچھلے 12-10 سال میں جو تیاریاں کی تھیں، ایک کے بعد ایک جو قدم اٹھائے تھے، …وہ سبھی چیزیں کام آ گئیں۔ آج ملک میں پیٹرول بھی ہے، ڈیژل بھی ہے، گیس بھی ہے، یوریا بھی ہے۔ ہم اپنی طاقت کے بل بوتے پر چل رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے اس بحران کا اثر ہر کسی پر ہوا ہے اور ہندوستان بھی اس سے الگ نہیں ہے۔ ایک بوری یوریا کی قیمت دنیا میں تین ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، لیکن ملک میں کسانوں پر وہ بوجھ نہ ڈال کر آج بھی انہیں صرف 300 روپے میں یوریا کی بوری دی جا رہی ہے۔ ڈی اے پی کی قیمت دنیا میں پانچ ہزار روپے ہے جو ملک کے کسانوں کو 1350 روپے میں دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وسائل کی وجہ سے ملک رکتا نہیں ہے، کئی بار اس کی وجہ سوچ ہوتی ہے۔ ملک کو آج خام تیل پر منحصر رہنا پڑ رہا ہے۔ ایسی سوچ کی وجہ سے سمندری ساحل کا ہمارا 90 فیصد حصہ ’نو گو ایریا‘ (ممنوعہ علاقہ) قرار دے دیا گیا تھا، یہ سوچ کی مفلسی تھی۔ ان کی حکومت نے اسے ’گو اہید ایریا‘ کے طور پر کھول دیا ہے۔ ہم سمندر کے اندر بھی نئے نئے ذخائر تلاش کرنے کی سمت میں کوششیں کر رہے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ گزشتہ برس حکومت کا مقصد رہا ہے کہ ہمیں اب دوسرے ملکوں پر منحصر رہ کر نہیں جینا ہے، ہمیں خودکفیل ہونا چاہیے۔ دنیا میں بہت کچھ ملتا ہے، سستا ملتا ہے، لیکن اس سے ہماری صلاحیت نہیں بنتی ہے۔ ہمیں بھی اپنی صلاحیت بڑھانی ہے۔ “میک ان انڈیا”، “ووکل فار لوکل” جیسے شعبوں میں آج ہر ہندوستانی کا دل جڑ چکا ہے۔
سیمی کنڈکٹر کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے سیمی کنڈکٹر کی باتیں ہوتی تھیں، لیکن ہم اس میں آگے نہیں بڑھ سکے۔ آج کی دنیا میں ہر الیکٹرانک، میڈیکل اور ٹرانسپورٹ کے سامان میں چپ ضروری ہے۔ ملک میں تین سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہو گئے ہیں اور وہاں سے برآمدات بھی شروع ہو چکی ہیں۔ آنے والے سات آٹھ سال میں مزید پانچ چھ سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کریٹیکل منرلز پر مبنی ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے کئی ملکوں کے ساتھ اس کے لیے معاہدے کیے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
نکسل انتہاپسندی ختم ہوئی لیکن ‘دماغی نکسلی’ ابھی ہے، پہچان تو کرنی پڑے گی: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک سے ہتھیاربند نکسل انتہاپسندی کا خاتمہ ہو چکا ہے لیکن ‘دماغی نکسلی’ اب بھی موجود ہیں اور ایسے لوگ موقع کی تلاش میں انارکی کی راہ تلاش کر رہے ہیں اس لیے ان کی پہچان کرنا اور انہیں الگ تھلگ کر کے نئی نسل کو ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کے اہم دھارے سے جوڑنا ہوگا۔
مسٹر مودی نے یوم آزادی پر لال قلعہ کی فصیل سے ہفتہ کو ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “برسوں تک ملک کی اقتدار کے راہداریوں میں ماؤ نواز سوچ کے لوگ اپنی جگہ بنا کر بیٹھے تھے۔ حکومت کی کمیٹیوں میں مشیر کے طور پر ماؤ نوازوں نے ملک کو متاثر کیا اور ان کے نظریات نے پالیسیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ جنگلوں میں ہتھیاربند نکسلیوں کے خاتمے اور اس بحران سے ملک کو نجات دلانے میں ملک کو کامیابی ملی ہے۔ اس کامیابی سے ہتھیاربند نکسلی تو چلے گئے، لیکن ‘دماغی نکسلی’ اور ‘قاتل نکسلی’ ابھی موجود ہیں۔ ایسے لوگ موقع کی تلاش میں انارکی کی راہ تلاش کر رہے ہیں اور معاشرے کو غلط راہ پر گھسیٹنے کے لیے طرح طرح کے داؤ چل رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ ملک کی خوشحالی کے لیے ان ‘نکسلی دماغ’ والے لوگوں کی پہچان کرنا ضروری ہے۔ پہچان کے بعد ان کو الگ تھلگ کرنا ہی ہوگا اور ملک کی ترقی کے لیے ملک کی نئی نسل کو ترقی یافتہ ملک کے اہم دھارے سے جوڑنا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ 21ویں صدی میں دہائیوں سے چلے آ رہے چیلنجوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔ نکسل انتہاپسندی اور ماؤ نوازی نے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل برباد کیا ہے۔ اس نکسلی سوچ نے ان نوجوانوں کو ان کی زندگی کے سب سے اچھے وقت میں ان کی ماؤں سے چھینا، انہیں برباد کیا اور ان کے ماں باپ کے خوابوں کو چکنا چور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکسل انہاپسندی نے آئین کا مذاق بنایا اور عام شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے 3500 سے زیادہ پولیس اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ 2014 میں ملک کے عوام نے ان کی حکومت کو موقع دیا تو انہوں نے ملک کو نکسل انتہاپسندی سے پاک کرنے کا عزم کیا۔ انہوں نے کہا کہ “آج مجھے خوشی ہے کہ نکسل انتہاپسندی-ماؤ نواز تشدد نے اپنی طاقت کھو دی ہے اور شاید اب وہ اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے۔ ہم اس کے مکمل خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں کبھی نکسلیوں کی گولیاں چلتی تھیں، گولیوں کی آواز سے جنگل گونجتے تھے اور سرزمین خون سے لال ہوتی تھی، آج انہی علاقوں میں ترقی، اعتماد اور اجتماعي کوششوں کا ترنگا بلند ہو کر لہرا رہا ہے۔ نکسل انتہاپسندی سے متاثرہ علاقے اب نکسل سے پاک ہو چکے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ نکسل انتہاپسندی اور ماؤ نوازی کے دہائیوں پرانے چیلنج کو 21ویں صدی میں ختم کرنا ضروری ہے اور ملک کی نئی نسل کو وکست بھارت کی تعمیر کی اہم دھارے سے جوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
آنے والے 10 سال میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کرنے کا ہدف: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ آنے والے 10 سال میں ملک میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کیے جائیں گے۔
تاریخی لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلی حکومتوں کی سوچ کی وجہ سے ملک توانائی کے لیے بیرونی ملکوں پر منحصر ہے۔ پچھلے 12 سال میں توانائی کے شعبے میں خودکفالت حاصل کرنے کے لیے ان کی حکومت نے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے ایٹمی توانائی کی پیداوار بڑھانے کے لیے ‘شانتی بل’ منظور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “سال 2047 تک ہم نے 100 گیگاواٹ کا ہدف رکھا ہے۔ اسی دہائی میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ کا ہدف لے کر چل رہے ہیں۔” بریڈر ری ایکٹر سے ایٹمی ایندھن میں خودکفالت کی سمت میں بڑی کامیابی ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سال 2014 سے پہلے ملک میں صرف 70 شہروں میں پائپ کے ذریعے گیس کا نظام تھا۔ بارہ سال میں ان کی حکومت نے اسے 700 شہروں تک پہنچا دیا ہے۔ یہ ہوتی ہے رفتار، یہ ہوتا ہے توسع۔ آج پونے دو کروڑ گھروں میں پائپ سے گیس کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ سال 2014 میں شمسی توانائی کی صلاحیت صرف دو گیگاواٹ تھی۔ آج 160 گیگاواٹ کا ہدف حاصل ہو چکا ہے۔ اس کا فائدہ غریبوں اور متوسط طبقے کو دینے کے لیے پی ایم سوریہ گھر یوجنا شروع کی گئی ہے، جس میں 50 لاکھ گھروں کا ہندسہ پار ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ سے ہزاروں گھروں کا بجلی کا بل صفر ہو گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں وہ اضافی بجلی بیچ کر کمائی بھی کر رہے ہیں۔ اس کام کے لیے ہر خاندان کو حکومت 80 ہزار روپے کی امداد دے رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کی برقی کاری کا کام 1925 میں شروع ہوا تھا۔ اگلے 90 سال میں صرف 30 فیصد ریل کی برقی کاری ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ “ہماری رفتار دیکھیے، ہم نے ایک دہائی کے اندر 100 فیصد کام مکمل کر دیا۔ یہ ہوتا ہے کام۔ اس کی وجہ سے ڈیژل جو ہمیں باہر سے لانا پڑتا ہے، اس کی بچت ہوئی، ماحولیات کو فائدہ ہوا۔” انہوں نے کہا کہ حکومت یہی نہیں رکی۔ ملک نے ہائیڈروجن سے چلنے والی پہلی ٹرین شروع کر دی ہے۔ یہ سب سے لمبی، سب سے طاقتور ٹرین ہے۔ ہندوستان نے ہائیڈروجن ٹرین کے شعبے میں بھی اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
