جموں و کشمیر
کبوتر بازی کا گہوارہ، شہرخاص میں ہر جمعہ و اتوار لگتا ہے کشمیر کا منفرد کبوتر بازار
سری نگر، وادی کشمیر کے شہر سری نگر کے دل میں واقع تاریخی سرفواری گراؤنڈ آج بھی ایک ایسی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہے جو صدیوں پر محیط ہے۔
جمعہ اور اتوار کی صبح جیسے ہی سورج شہر کی چھتوں کو چھوتا ہے، اس میدان میں کشمیر کا مشہور کبوتر بازار لگ جاتا ہے، جسے اہلِ کشمیر محبت سے ’کوتَر گودری‘ کہتے ہیں۔ یہ صرف ایک مارکیٹ نہیں، ایک ثقافتی منظرنامہ ہے — جہاں شوق، روایت، خرید و فروخت، اور سماجی میل جول ایک ہی فضا میں گھل مل جاتے ہیں۔
کوتَر گودری کی روایت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دہائیوں سے نہیں، بلکہ نسل در نسل چلتی ایک پرانی روایت ہے جس کی جڑیں کشمیر کی تہذیبی تاریخ میں پیوست ہیں۔ مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ سرفواری گراؤنڈ میں کبوتر فروش اس دور میں بھی آتے تھے جب شہر خاص کے بیشتر راستے کچی گلیوں پر مشتمل تھے۔
ستر سالہ غلام رسول ڈار، جو گزشتہ پچاس برس سے بازار آ رہے ہیں، مسکراتے ہوئے کہتے ہیں:’یہ بازار ہمارے بچپن کا حصہ تھا، آج بھی اسی محبت سے اسے دیکھتا ہوں۔ کبوتر صرف پرندہ نہیں… یہ شوق، پہچان اور روایت ہے۔‘
بازار میں جمعہ اور اتوار کے دن دور دور سے لوگ آتے ہیں — کچھ خریداری کے لیے، کچھ بیچنے کے لیے، اور کئی تو محض اس شوق کی دلکشی دیکھنے کے لیے۔ نوجوان، بزرگ، بچے — سبھی کی آنکھوں میں کبوتر اڑانے اور پالنے کی ایک الگ چمک دکھائی دیتی ہے۔
پلوامہ سے آنے والے نوجوان کبوتر باز فیضان احمد کہتے ہیں:’میں ہر اتوار یہاں آتا ہوں۔ الگ الگ نسلیں دیکھنا، ان کی قیمت سننا، اور دوسروں سے تجربہ شیئر کرنا… یہ ہمارے لیے ہفتہ وار خوشی ہے۔‘
بازار میں ہر نسل کے کبوتر ملتے ہیں —ہندوستانی، ایرانی، لاہوری، ہائی فلائر، ٹپے باز، اور کچھ انتہائی نایاب مقامی اقسام بھی، جن کی قیمتیں بعض اوقات ہزاروں روپے تک پہنچ جاتی ہیں۔
کبوتر بیچنے والے مشتاق لالہ، جو اس کام سے پچھلے 25 سال سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں:’کچھ کبوتر صرف 300 روپے کے بھی ہوتے ہیں، اور کچھ ایسے کہ 15 ہزار میں بھی لوگ لینے کو تیار رہتے ہیں۔ نسل کی اڑان، جسمانی ساخت اور تربیت قیمت کا فیصلہ کرتی ہے۔‘
کوتَر گودری کی اصل خوبصورتی اس کے سماجی رنگ میں ہے۔ یہاں محفلیں جمتی ہیں، تجربے بانٹے جاتے ہیں، نئی نسل کو روایتی طریقوں سے کبوتر پالنے کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔
بزرگ کبوتر باز چھوٹے بچوں کو ہاتھ میں کبوتر پکڑانے کا صحیح طریقہ سکھاتے نظر آتے ہیں، تو کہیں دو شوقین افراد نسلوں پر بحث کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
نوہٹہ کے عرفان ملک کہتے ہیں:’یہ صرف خرید و فروخت کی جگہ نہیں، ایک خاندان جیسا ماحول ہے۔ یہاں آ کر ایسا لگتا ہے جیسے وقت پیچھے لوٹ گیا ہو۔‘
سرفواری گراؤنڈ میں ان دنوں خاص ہلچل ہوتی ہے۔ مختلف نسلوں کے کبوتر دیکھنے والوں کا رش، بیچنے والوں کی آوازیں، اور فضا میں پرواز بھرنے والے کبوتروں کی پھڑپھڑاہٹ — سب مل کر ایسا سماں باندھ دیتی ہیں جو شہر خاص کو ایک منفرد ثقافتی مرکز بنا دیتی ہے۔
بازار کے ایک گوشے میں دو بزرگ کبوتر فروش آپس میں نسلوں کے ملاپ پر بات کر رہے ہوتے ہیں، تو دوسرے جانب نوجوان موبائل پر کبوتر کی ’فلائیٹ ویڈیو‘ دکھا کر قیمت بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ سب کچھ ایک ہی وقت میں ہوتا ہے — اور یہی اس روایت کی خوبصورتی ہے۔
کوتَر گودری کو اہلِ کشمیر صرف ایک ہابی کا حصہ نہیں سمجھتے، بلکہ یہ ان کے سماجی ڈھانچے اور روایتی ورثے کا حصہ ہے۔ کبوتر بازی کو یہاں صدیوں سے عزت کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے، اور اب بھی یہ شوق پورے کشمیر میں اپنی جگہ قائم رکھے ہوئے ہے۔
ثقافتی محققین کا ماننا ہے کہ اس بازار نے شہر خاص کی قدیم شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔’کبوتروں کا یہ بازار اس بات کی علامت ہے کہ کشمیر کی روایات جدیدیت کے باوجود زندہ ہیں اور نسل در نسل منتقل ہو رہی ہیں۔‘
سری نگر کا ’کوتَر گودری‘ آج بھی ایک جیتی جاگتی روایت کی شکل میں قائم ہے۔ اگر آپ نے اسے قریب سے نہیں دیکھا، تو کسی جمعہ یا اتوار کی صبح سرفواری گراؤنڈ کا رخ ضرور کریں۔ممکن ہے
آپ بھی ایک کبوتر شوق سے گھر لے جائیں… یا پھر اسی روایت کا حصہ بن جائیں جو صدیوں سے شہر خاص کے دل میں دھڑک رہی ہے۔
یو این آئی، ارشید بٹ،
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
